سیاستہندوستان

وزیر اعلیٰ لیڈر ہوتا ہے جیلر نہیں!

حفیظ نعمانی

اُترپردیش جیسی بڑی ریاست کا کسی دھرم گرو کو وزیر اعلیٰ بنانے کا فیصلہ ہی غلط تھا۔ یہ غلطی نریندر مودی نے کی یا موہن بھاگوت نے ان سے کرائی بہرحال غلطی ہے۔ مذہبی رہنما وہ ہندو ہو، مسلمان ہو یا عیسائی فادر اختلاف برداشت نہیں کرسکتا۔ اس کی زندگی اس طرح گذرتی ہے کہ سامنے 100  آدمی بھی بیٹھتے ہیں اور وہ گروہ یا پیر یا فادر جو کہتا ہے سب گردن ہلاکر اسے مانتے ہیں اور کوئی نہیں ہوتا جو کہے کہ وہ غلط ہے جو آپ کہہ رہے ہیں صحیح یہ ہے۔ ایسے لوگوں کی زندگی صرف ایسی گذرتی ہے کہ جو اُن کے منھ سے نکل گیا وہ ٹھیک ہے۔

سیاست کی دنیا بالکل مختلف ہے سیاست کے ذریعہ جو حکومت ملتی ہے اس میں اب تو گندی گالیاں بھی سننا پڑتی ہیں اور پہلے تو ذراسی بات پر جب یونیورسٹی کے لڑکے خفا ہوگئے تو پورے شہر کی ہر گلی میں ہفتوں یہ نعرے گونجا کرتے تھے کہ یوپی میں تین چور منشی گپتا جگل کشور۔ (گورنر، وزیر اعلیٰ اور وزیر تعلیم)

آدتیہ ناتھ یوگی بابا گورکھ ناتھ کے مندر کے بڑے گروہ ہیں برسوں سے لوگ فریاد لے کر آتے ہیں اور وہ انہیں بتاتے ہیں کہ کیا کرو۔ یہی مسلمان پیروں کا حال ہے کہ ان کے سامنے ہر کوئی گردن جھکاکر بیٹھا رہے پیر صاحب جو کہیں وہ سن لے۔ سمجھ میں نہ آئے تو پھر پوچھ لے لیکن یہ نہ کہے کہ یہ غلط ہے۔ اگر اختلاف کردیا تو دھکے مارکر نکال دیا جائے گا۔ ایسے لوگوں کو یہ کہاں برداشت ہے کہ ان کی ہر بات کو غلط کہا جائے اور وہ خاموش رہیں یا مان لیں ؟

ہر پانچ سال کے بعد حکومت بدلی ہے دو بار بی جے پی کی بھی حکومت رہی ہے ان سے پہلے کانگریس کی تھی۔ یا کانگریس کے بعد ملائم سنگھ آئے یا مایاوتی آئیں یا پھر اکھلیش آئے۔ الیکشن میں ہر لیڈر کہتا ہوا آیا کہ میری حکومت بن جائے تو ایک ایک گھوٹالے کا حساب لوں گا اور جتنی لوٹ مچائی ہے سب حلق میں ہاتھ ڈال کر نکالوں گا۔ 2007 ء میں جب مایاوتی بڑھتی نظر آئیں تو ٹی وی دکھا رہا تھا کہ اعظم خاں ایک کمرہ میں  کاغذ پھاڑ رہے تھے اور پھاڑ پھاڑکر ڈھیر لگا دیا تھا۔ مس مایاوتی نے کہا کہ میں کوڑے میں سے کاغذ نکالوں گی اور اعظم خاں کو جیل بھیجوں گی۔ 2014 ء میں مودی کانگریس کے ایک ایک گھوٹالے کو گناتے تھے اور کوئلہ کی دلالی میں ہاتھ کالے کرنے و الے وزیر اعظم کو بھی جیل بھیجنے کی باتیں کرتے تھے۔ لیکن ہوا یہ کہ حکومت بن گئی تو ہر بات ختم ہوگئی صرف ایک بات ضرور سنی کہ خزانہ خالی ملا۔

اُترپردیش میں ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے اسمبلی نہیں ہے بلکہ بابا بھوت ناتھ کا مندر ہے اور وزیر اعلیٰ نہیں بلکہ بابا براجمان ہیں کسی کو گردن اٹھاکر جواب دینے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ کانگریس، ایس پی، بی ایس پی اور ایل ڈی سب چور ہیں اور سب کی چوری کا مال برآمد ہوگیا ہے اور صرف سزا سنانا باقی ہے۔ یوگی کو چار مہینے ہونے والے ہیں انہیں ناتجربہ کار سمجھ کر پولیس کے شاطر اور غنڈے آزاد ہوگئے ہیں ۔ پورا میڈیا چیخ رہا ہے کہ حالات بدسے بدتر ہوتے جارہے ہیں غنڈوں کو پولیس کا ڈر نہیں اور پولیس کو حکومت کا ڈر نہیں ۔ وزیر اعلیٰ کا صرف ایک جواب ہے کہ 100  فیصدی رپورٹ لکھی جارہی ہیں اس لئے جرائم زیادہ نظر آرہے ہیں اور ہر دن کے اخبارات میں نہ جانے کتنی خبریں ہوتی ہیں کہ پولیس نے نہ رپورٹ لکھی نہ کارروائی کی۔ اور یہ 100  فیصدی والی بات ہر وزیر اعلیٰ نے کہی ہے۔ جبکہ کوئی یہ نہیں بتا سکتا کہ آپ کو کیسے معلوم کہ 100  فیصدی رپورٹ لکھی جارہی ہے؟

کل ہی کرنیل گنج کی خبر ہے کہ ایک داروغہ افسروں اور وزیر پر بھاری پڑرہا ہے 14  سال کی نابالغ لڑکی کھیت سے اٹھالی گئی اور دس دن ہوگئے اٹھانے والے داروغہ کے دلال ہیں ماں روتی گھوم رہی ہے اور لڑکی غائب ہے۔ پٹی پٹائی باتوں سے حکومت نہیں چلتی اور نہ سب کو بے ایمان سمجھ کر چلتی ہے۔

رام گووند چودھری حزب مخالف کے لیڈر ہیں وہ یہ کہیں کہ چالیس سال سے ہم سیاست میں ہیں۔ یہ پہلی بار دیکھا ہے کہ حکومت دھمکا رہی ہے اور جیل بھیجنے کی دھمکی دے رہی ہے۔ پوری اپوزیشن کا ہائوس سے باہر آجانا یہ ڈر کی وجہ سے نہیں اس رویہ کی بناء پر ہے کہ ہریانہ اور چوٹالہ کا انجام یاد دلایا جارہا ہے۔ حکومت کا کیا ہوگا یہ تو مودی جی جانیں لیکن اپوزیشن کے لئے یہ رویہ نعمت ہے اور اگر سب کے متحد ہونے میں دو سال لگتے تو اب دو مہینے نہیں لگیں گے۔

بہار میں لالو یادو کے بعد جب نتیش کمار نے پہلے حکومت بنائی تھی تو انہوں نے بھی ایسے ہی رنگ دکھائے تھے اور اعلان کردیا تھا کہ کسی پرانے ٹھیکیدار کو ٹھیکہ نہیں دیا جائے گا۔ پھر جب انہوں نے سڑک کا ٹنڈر نکالا تو کوئی ٹھیکیدار سامنے نہیں آیا اور بار بار اشتہار دینے کے بعد بھی ٹنڈر نہیں آئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ہر کام کے کرنے والے الگ الگ ہیں اور جو اب تک سڑک بناتے رہے ہیں ان کے علاوہ نئے آدمی نہیں بنائیں گے۔ یوگی جی کے نزدیک بھی سب بے ایمان اور چور ہیں ہر کام میں اکھلیش اور وزیروں نے کھایا ہے اب وہ ایسی حکومت کرکے دکھائیں گے کہ جس میں کسی کے حلق میں حرام کا نوالہ نہیں جائے گا۔

کیا وزیر اعلیٰ کوئی ایک بھی ایسا کام بتا سکتے ہیں جس کی رشوت بند ہوئی ہو؟ وہ بھیس بدل کر ایک دن صرف امین آباد آجائیں اور سڑکوں پر لگی سیکڑوں دُکانوں کو دیکھ لیں ۔ جو لاکھوں روپئے تھانے کو دیتی ہیں ۔ کسی بھی عدالت میں جاکر دیکھ لیں کیا کوئی عدالت ہے جہاں پیش کار کو ہر مقدمہ کی فائل نکالنے پر بند مٹھی میں نوٹ نہ دیا جاتا ہو؟ وہ سڑک کے گڈھے بھرنے کو بڑا کارنامہ سمجھ رہے ہیں ۔ انہیں خبر ہے کہ اس میں کتنا کمیشن دیا گیا ہے؟ کسی بھی طرح کا کوئی کام حرام کا حصہ نکالے بغیر نہیں ہوسکتا وہ بھی اگر پانچ سال حکومت کرلیں گے تو ہر سال پچاس ہزار کروڑ سے زیادہ کمیشن دیں گے اور نہیں دیں گے تو کام نہیں ہوگا۔ یوگی جی نے حکومت بنتے ہی حکم دیا تھا کہ ہر افسر اور ہر وزیر 15  دن میں بتائے کہ اس کے پاس کیا کیا ہے؟ ایک بار یہ تو سنا تھا کہ دوبارہ پھر وزیر اعلیٰ نے کہا ہے۔ پھر نہیں معلوم ہوا کہ انجام کیا ہوا؟ ہر افسر اپنا کمیشن طے کرتا ہے اور وزیر کو بغیر مانگے ملتا ہے۔

ہم نے پنت جی کی اور سمپورنا نند کی حکومت دور سے دیکھی تھی اس کے بعد ہر حکومت میں کسی نہ کسی سے تعلق رہا۔ چودھری چرن سنگھ جیسا ایماندار وزیراعلیٰ بھی دیکھا اور ویر بہادر جیسا بے ایمان بھی چودھری کا جیسا ایماندار نہیں دیکھا اور…… لیکن چودھری صاحب کے زمانہ میں وزیروں نے بھی کمایا اور افسروں نے بھی اپنا حصہ لیا۔ اور ہم نے بہت قریب رہ کر دیکھا کہ وزیراعلیٰ کچھ نہیں کرسکتا یہ ڈھانچہ جو کام کا بنا ہے وہ انگریزوں کی حکومت میں ہم غلام ہندوستانیوں نے بنایا ہے اور اب اس کی جڑیں اتنی اندر تک پھیل گئی ہیں کہ مودی جی جو کالے دھن اور بھرشٹاچار کی سیڑھی پر چڑھ کر وزیر اعظم بنے تھے وہ بھی سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ بھرشٹاچار ختم ہوگیا اور اب سب ٹھیک ہے۔ اور اسی پارلیمنٹ میں ریل کے اندر کھانوں کی رپورٹ پیش ہورہی ہے اور ٹی وی گندے برتن اور گندہ پانی دکھاکر بتارہا ہے کہ مودی کے پربھو یہ کھلا رہے ہیں ۔

یوگی جی نے بجلی کی تقسیم چوبیس گھنٹے، بیس گھنٹے اور اٹھارہ گھنٹے کی تھی۔ جگہ جگہ سے آواز آرہی ہے کہ یا تو اندھیرا ہے یا آرہی ہے تو ٹارچ سے دیکھنا پڑتا ہے کہ بلب جل رہا ہے یا نہیں ؟ اور افسر کہہ رہے ہیں کہ جو چیز موجود نہیں ہے اسے تقسیم کیسے کریں ؟ جبکہ الیکشن سے پہلے یوگی کی ہر تقریر میں دیویٰ میں چوبیس گھنٹے بجلی… مندر میں چار گھنٹے بجلی اور ہر طرف اندھیرے کا ذکر ہوتا تھا۔ یوگی وزیر اعلیٰ بننے سے پہلے وزیر یا ایم ایل اے رہے ہوتے تو وہ خواب نہ دکھاتے۔ پارلیمنٹ کے ممبر عوامی لیڈر نہیں ہوتے اور نہ انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ صوبہ میں کیا ہورہا ہے؟ وہ دور سے دیکھتے ہیں کہ وزیر کھارہے ہیں ۔ وزیر اس لئے کھاتے ہیں کہ جب  وزیر 100  روپئے کا بل پاس کرتے ہیں تو اس میں کام 40  روپئے کا ہوتا ہے 60  روپئے انجینئر، چیف انجینئر اور وزیر کی خدمت میں چلے جاتے ہیں ۔ اگر وزیر اعلیٰ یہ چاہے کہ 100  روپئے کا کام ہوجائے تو پھر کام ہی نہیں ہوگا۔ انہیں اگر حکومت کرنا ہے تو وہی کرنا پڑے گا جو سب نے کیا ہے ورنہ وہ حکومت کسی اور کو دے دیں اور خود گورکھ پور میں جاکر پوجا کریں ۔

اور کیا یہ واقعہ وزیر اعلیٰ کی مجبوری کا گواہ نہیں ہے کہ ایک ایم ایل اے کا گنر اور ایک ملازم ایک 18  سال کی لڑکی کو کام کے بہانے بلاتے ہیں اور دونوں اس طرح اس کے ساتھ منھ کالا کرتے ہیں کہ ایک منھ دبائے بیٹھا رہتا ہے۔ اور جب معاملہ پولیس کے پاس آتا ہے تو صرف چھیڑچھاڑ رہ جاتا ہے صرف اس لئے کہ جو کچھ ہوا ایک بھگوا ایم ایل اے کے گھر میں ہوا اور انہوں نے اسے چھیڑچھاڑ بنایا اس لئے کہ وہ لڑکی غریب تھی۔ یا اس کے بعد بھی 100  فیصدی رپورٹ کا بہانہ بنایا جائے گا؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close