سیاست

وطن کی فکر کر ناداں

شیخ فاطمہ بشیر

     کل 11 اپریل سے پورے ملک میں سات مراحل میں عام انتخابات شروع ہوجائیں گے۔ 2014 میں دکھائے گئے خوشنما باغ کے بعد گذشتہ پانچ سالوں نے چمن کو ریگزار بنا دیا۔ اچھے دن کے نام پر پٹرول ڈیزل کے بڑھتے دام، آسمان چھوتی مہنگائی، ڈالر کے مقابلے روپے میں گراوٹ، نوٹ بندی، GST، جنسی درندگی کی وارداتیں، کسانوں میں خودکشی کی بڑھتی شرح، روزگار میں 8٪ کمی، 100 شہروں کو اسمارٹ بنانے کی مکمل فلاپ اسکیم جیسے بہلاؤں نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کر دیا۔ بےروزگاری نے گذشتہ 45 سالوں کا ریکارڈ توڑتے ہوئے 2018 میں ایک کروڑ 10 لاکھ افراد کی نوکریاں چھین لیں۔ سالانہ دو کروڑ روزگار کے وعدے نے تعلیم یافتہ نوجوانوں کا مستقبل پوری طرح برباد کر دیا۔ یوپی حکومت کی لاپرواہی نے گنا کسانوں کے 10 ہزار کروڑ روپے ہڑپ لیے۔

2019 کے الیکشن میں سیاسی صفحات پر اشتہارات کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے خرچ کرنے والی حکومت میں ملک مسرور ترین ممالک کی فہرست میں مسرت کی سیڑھی پر 30 درجہ نیچے گر کر 140 نمبر پر پہنچ گیا۔ بھکمری نے ہر طرف ڈیرے ڈال دیے اور ملک 104 مقام پر آگیا۔ ماحولیاتی آلودگی میں دنیا کا تیسرا سب سے آلودہ ملک بن گیا۔ غرض حالیہ حکومت وعدے نبھانے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی۔ ؀ دیکھا ہے سب وعدے وعدے ووٹوں پہ جمے رہ جاتے ہیں۔

     ایچ جیکسن براؤن جونیئر کا قول ہے، "آنے والے کل کے لئے بہترین تیاری یہ ہے کہ آپ آج اپنی طرف سے کوئی کمی نہ چھوڑے۔” ہم ماضی کو تبدیل نہیں کرسکتے، لیکن ہمارا مستقبل ہنوز ہماری دسترس میں ہے۔ اس الیکشن میں 13کروڑ نوجوان پہلی بار ووٹ دیں گے۔ ڈی موستھن کے مطابق، "مستقبل کس کروٹ بیٹھے گا اس بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا”، لیکن عقلمندی، ہوشمندی، سنجیدگی اور دانشمندی سے دیا گیا ایک ووٹ انشاء اللہ ہمارا کل بدل سکتا ہے۔ اپنے ووٹوں کو تقسیم ہونے سے بچائے، قابل امیدوار کو چُنے۔ سیاسی بے وزنی سے اُبھرنے اور قومی مفاد کی خاطر ملک کے ایوانوں میں ایسی نمائندگی پہنچانا ضروری ہے جو ہماری آواز بے باکی سے بلند کرسکے۔

اقتدار میں حصہ داری ہمارا حق ہے اور سیاست سے کنارہ کشی اپنے حقوق سے دستبرداری ہیں، یعنی زندگی بھر کی غلامی کی سمت ایک قدم۔ ایک نئی سوچ کے ساتھ نئے سیاسی متبادل کا قیام وقت کا اہم تقاضہ ہے۔ ہر امانت کے متعلق ربِّ کائنات کے حضور جواب دہی کے لیے ہمیں کھڑے ہونا ہے۔ اور ووٹ بھی مظلوم کی مدد اور ظالم کا ہاتھ روکنے میں، اچھائی کے فروغ اور برائی کے خاتمے میں، دین و شریعت کی حفاظت میں، اقلیتوں و کمزوروں کے تحفظ میں اور ظلم و ستم کی چکی میں پستی ہر قوم کے لئے بطورِ امانت ہمارے پاس ہے۔

لہٰذا اس ایک ووٹ کی قیمت جانیے۔ یاد رہے۔۔۔ اچھے دن  ذہنی، جسمانی، معاشی، معاشرتی، قومی وہ ملّی امن و سکون کے ہوتے ہیں۔۔۔ تشدد، خونریزی، مہنگائی اور جنگ کے نہیں۔

ہے یہی وقت کہ پھر بعد میں پچھتاؤگے

 گر نہ بیدار ہوئے اب بھی تو مر جاؤ گے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close