Golden scales of justice, gavel and books isolated on white

وقت ہر ظلم تمہارا تمہیں لوٹا دے گا

حفیظ نعمانی

پورے ملک میں عظیم صحافی گوری لنکیش کے قتل کے خلاف احتجاج ہورہا ہے اور عدالت عظمیٰ نے ریاستی حکومتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ جلد از جلد اپنی ریاست میں گئو رکشکوں کے خلاف ٹاسک فورس بنائیں اور سینئر پولیس افسروں کو اس میں لگائیں ۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو بھی یاد دلایا ہے کہ وہ تشدد کے واقعات کو صرف نظم و نسق کا معاملہ کہہ کر اپنا دامن نہیں بچاسکتی کیونکہ مرکزی حکومت کو آئین کی دفعہ 356  کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ریاستی حکومتوں کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے ہدایت دے سکے۔

جس وقت دستور بنا تھا اس وقت اور اس کے 18  سال بعد تک وہی تھا جس کا سپریم کورٹ نے حوالہ دیا ہے لیکن پنڈت نہرو کے بعد سے خاص طور پر مسز اندرا گاندھی کے دَورِ اقتدار میں  اور اب نریندر بھائی مودی کے دَور میں ریاستوں کو مرکز صرف ہدایت نہیں دے سکتا۔ بلکہ ان ریاستوں میں تھانیدار کا تقرر بھی مرکزی حکومت کرتی ہے۔ اور یہ جو اب گئو رکشکوں کی خاموشی اور عیدقرباں میں پورے ملک میں سکون سامنے آیا ہے وہ سپریم کورٹ کے ہی اس حکم کا اثر ہے جو اس نے 21  جولائی کو دیا تھا اور کہا تھا کہ 7 اپریل کو سماعت کرتے وقت مرکزی حکومت اور 6  ریاستوں کو نوٹس جاری کیا تھا اور ان سے بھیڑ کے حملوں کے لئے جواب طلب کیا تھا۔

ایک بات کہ قانون ہاتھ میں نہ لیا جائے وزیر اعظم بار بار کہہ چکے ہیں اور صوبوں کے وزیر اعلیٰ بھی کہہ دیتے ہیں ۔ لیکن جو قانون صرف ہاتھ میں نہیں لیتے بلکہ قانون ہاتھ میں لے کر خود عدالت بن جاتے ہیں اور سزائے موت کا فیصلہ سناکر موت پر عمل بھی کرتے ہیں ان کے خلاف بھی حکومتوں کی خاموشی نے ملک میں جنگل راج قائم کردیا ہے۔ ہمارے نزدیک دو سال پہلے جو کچھ دادری میں ایک شریف مسلمان خاندان اخلاق احمد اور ان کے لڑکے ساتھ ہوا تھا وہ بیشک صرف ایک آدمی کی موت اور ایک کی آدھی موت اور گھر کی خواتین کی بے عزتی کا معاملہ تھا۔ لیکن اس کی نوعیت ان حادثوں سے بالکل الگ تھی جن میں ایک مرجائے ایک ادھمرا ہوجائے اور گھر کے دروازے کھڑکیاں اور ہر چیز چور چور کردی جائے۔ وہ اس لئے اپنی نوعیت کا الگ واقعہ تھا کہ مندر سے پجاری نے اعلان کیا تھا کہ اخلاق کے گھر میں گائے کا گوشت رکھا ہے اور پکایا جارہا ہے۔ اس اعلان پر ایک ہزار سے زیادہ ہندوئوں کا گھر پر ٹوٹ پڑنا کسی طرح عام واقعہ نہیں کہا جائے گا اور بعد میں جب لوگ ان سے ہمدردی کرنے اور ان کی مدد کرنے گئے تو مودی سرکار کے وزیر جاکر کھڑے ہوگئے کہ اب کوئی ان کے پاس نہیں آئے گا۔

اس موقع پر وزیر اعظم کی خاموشی اور ان کی ٹیم کے وزیروں کی بے رحمی اور مداخلت نے وزیراعظم کو کٹہرے میں کھڑا کردیا تھا۔ اگر اخلاق مرحوم کے گھر میں گائے کا گوشت موجود بھی ہوتا تب بھی اس سے زیادہ ہر قدم گھنائونا جرم ہے کہ گوشت ضبط کرلیا جاتا اور اخلاق کاٹنے کے نہیں اس کا گوشت رکھنے کے مجرم بنتے۔ اس واقعہ کے بعد جتنے بھی واقعات ہوئے ان سب میں سب سے اہم بات قانون ہی اپنے ہاتھ میں لینا نہیں ہے بلکہ پیٹ پیٹ کر شہید کردینا ہے۔

ایک موت گولی سے ہوتی ہے ایک تلوار کے وار سے ہوتی ہے جو بہرحال موت ہے لیکن  کہا جاتا ہے کہ اس میں تکلیف کم ہوتی ہے۔ لیکن پیٹ پیٹ کر مارنے اور جلانے سے جیسی تکلیف کے بعد موت ہوتی ہے اسے وہی جانتے ہیں جن پر گذرتی ہے۔ ہم یا آپ کہہ سکتے ہیں کہ جس پولیس کے ہوتے ہوئے یہ سب ہوتا ہے اس کے تار مرکزی حکومت سے ملے ہوئے ہوتے ہیں ۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ اتنے بڑے ہندوستان میں جس میں لاکھوں پڑوے اور بکرے کٹے ہوں گے اور جہاں کی پولیس قصائیوں سے ملی ہوئی ہوگی اور وہاں کے ہندو گائے کو جانور مانتے ہوں گے وہاں نہ جانے کتنی گائیں اور کتنے بیل کٹ گئے ہوں گے ان کی کوئی گنتی نہیں لیکن کہیں سے یہ خبر نہیں آئی کہ گائے کی قربانی کرنے کی وجہ سے اتنے مسلمان ماردیئے گئے اتنے گھر جلا دیئے گئے اور جانور کی کھال اور پائے برآمد کرلئے گئے۔

لکھنؤ میں تو ہم خود تھے۔ سنبھل ہمارا مسکن ہے مراد آباد میں بیٹی کی سسرال ہے۔ ہمارے داماد عید کے دوسرے دن مراد آباد گئے اور کل واپس آکر بتایا کہ ہر سال کے مقابلہ میں  دوگنی قربانی ہوئی اور حلقہ کے انسپکٹر نے بتایا کہ آج سکون کی نیند آئے گی آپ لوگوں کا تہوار خیریت سے گذر گیا۔ ہم بتا نہیں سکتے کہ ہمارے اوپر کتنا دبائو تھا کہ کہیں کوئی چھوٹی واردات بھی نہ ہونے پائے۔ ہمیں  یقین ہے کہ یہ مرکزی حکومت کی پالیسی تھی اور صرف سپریم کورٹ کی مداخلت کا نتیجہ تھی جس کی ابتدا اپریل میں ہوگئی تھی اور کل اس پر مہر لگادی گئی۔

اب اگر تجزیہ کیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ جو دو سال سے ہورہا تھا وہ مرکزی حکومت کے اشارہ پر ہورہا تھا اور پولیس کے معمولی سپاہی کو بھی معلوم تھا کہ بھیڑ جب کسی کو پیٹ پیٹ کر مار رہی ہو تو صرف تماشہ دیکھنا ہے۔ اور بعد میں دکھانے کے لئے گرفتاری کرنا ہے اور ہلکے پھلکے جھگڑے کی دفعات لگاکر ضمانت دے دینا ہے۔ اور اب یہ معلوم ہوگیا ہے کہ نہ بھیڑ جمع ہونا ہے نہ گئو رکشکوں کے سینٹر بنوانا ہے اور نہ گائے لے جاتے ہوئے کسی مسلمان کو روکنا ہے۔ لیکن اب ہمارا مشورہ یہ ہے کہ جب گائے کی رسّی پکڑنے کی سزا میں مسلمانوں کی جان لے لی گئی ہے تو اب گائے سے اپنا رشتہ ہمیشہ کے لئے توڑلینا چاہئے۔ کیا خبر حکومت کی پالیسی کب بدل جائے۔ رہی سپریم کورٹ کی مداخلت تو وہ ہر دن نہیں ہوسکتی۔



⋆ حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی
حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے