سیاست

ووٹروں کو پھر زخموں کے مرہم کا انتظار

حفیظ نعمانی

اب تک ملک پر جن پارٹیوں اور لیڈروں نے حکومت کی ان کے پیش نظر اپنے نقطہ نظر سے ملک کی تعمیر تھی۔ ابتدا میں وزیراعظم نریندر مودی نے بھی نعرہ تعمیر کا ہی دیا اور ہرچند جملوں کے بعد سب کا ساتھ سب کا وکاس کہتے نہیں تھکتے تھے۔ ہم دعوے کے ساتھ تو نہیں کہہ سکتے مگر خیال یہ ہے کہ ان کو اپنے نوٹ بندی کے فیصلہ کے بعد سے ہی یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ انہوں نے غلط فیصلہ کرلیا۔ مودی کیا کوئی بھی انسان نہیں سوچ سکتا تھا کہ صرف وزیراعظم کی کسی غلطی کی وجہ سے سو سے زیادہ آدمی مرجائیں گے۔ اور وہ بھی وہ جو وزیراعظم کے حکم کی تعمیل میں ان کے ہی بینک سے اپنے روپئے نکالنے میں ناکام رہیں گے۔

پورا ملک نہیں پوری دنیا یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ جس وزیراعظم کے ایک فیصلہ کے نتیجہ میں بغیر کوئی لڑائی لڑے اس کی قوم کے سو سے زیادہ آدمی مرجائیں اور وہ برف کی سل کی طرح ٹس سے مس نہ ہو نہ ان کے گھروں میں جائے نہ ان کی موت کے معاوضہ کا اعلان کرے نہ ان سے ہمدردی جتائے اور نہ اپنی غلطی تسلیم کرے اور ملک کے 127 کروڑ انسان اس لئے دم سادھے بیٹھے رہیں کہ وہ سب اور ان میں کا ہر بڑا اور چھوٹا بھکاری ہوگیا تھا۔

دیش پتا مہاتما گاندھی جن کا ادب سے نام لینے پر مودی ابھی مجبور ہیں انہوں نے اپنی آزادی کی تحریک کے سلسلہ کی چوری چورا کی تحریک صرف ایک آدمی کی موت کی وجہ سے واپس لے لی تھی۔ اور مودی جی نے آخری درجہ کے بے رحم وزیراعظم کا کردار ادا کیا جبکہ دوچار کے مرنے کی خبر پر ہی ان کو قوم سے معافی مانگتے ہوئے نوٹ بندی کا فیصلہ واپس لے لینا چاہئے تھا۔ اور جن کی موت ہوگئی تھی ان کو سرکاری طرف سے نہیں اپنی جیب سے پچاس پچاس لاکھ روپئے دینے چاہئے تھے۔ لیکن انہوں نے ایک ایکٹر کی طرح قوم کے سامنے دامن پھیلا دیا کہ مجھے پچاس دن صرف پچاس دن دے دیجئے اس کے بعد ملک کندن کی طرح دمکتا ہوا نکلے گا۔ آج ایسے ایسے نہ جانے کتنے پچاس دن گذر گئے اور وہ ہورہا ہے کہ ہر طرف تخریب بربادی بے کاری بے روزگاری اور تباہی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

سنا ہے کہ اگر بریانی باسمتی چاول کی بگڑ جائے تو اسے جتنا بھی سنبھالنے کی کوشش کی جائے وہ بگڑتی ہی جاتی ہے۔ یہی مودی جی کا ہوا کہ وہ نوٹ بندی جو بلیک منی کا بہانہ لے کر کی گئی تھی اور سچائی یہ ہے کہ وہ صرف کانگریس اور مخالف پارٹیوں سے نوٹوں کا ہتھیار چھین لینے کیلئے تھی تاکہ آنے والے صوبائی الیکشنوں میں صرف مودی کے پاس دولت ہو باقی مخالف فقیر اور ہر صوبہ فتح کرتے چلے جائیں۔ بلکہ مخالف پارٹیوں کا وجود ہی ختم کردیا جائے۔

جب مودی جی نے اُلٹے قدموں چلنا شروع کردیا تو پھر ان کا ہر قدم اُلٹا ہی پڑرہا ہے۔ ہماری عمر اتنی ہے کہ ملک کی آزادی کی تقریبات اور 1952 ء کے الیکشن سے اترپردیش کے 2017 ء کے الیکشن تک ہم نے دلچسپی لی اور جب ووٹ کے قابل ہوئے تو ووٹ بھی دیئے۔ ایک اچھے پریس والے کی وجہ سے ہر سیاسی پارٹی کے چھوٹے بڑے لیڈروں سے تعارف بھی ہوا اور تعلق بھی رہا۔ لکھنے پڑھنے کی پروردگار کی دی ہوئی صلاحیت کی وجہ سے پڑھنا تو بچپن سے رہا اور لکھتے لکھتے 50 برس سے زیادہ ہوگئے۔ اندرا گاندھی اور سنجے گاندھی کی رعونت بھی قریب سے دیکھی اور ان کی تعمیری سوچ بھی دیکھی لال بہادر شاستری اور شری چھاگلا سے لڑکر جیل میں بھی 9 مہینے گذارے اور مرار جی ڈیسائی کی حکومت بھی دیکھی اور اٹل جی کی بھی دیکھی لیکن نہ ایسی حکومت دیکھی اور نہ ایسا وزیراعظم جو بنانے کے نام سے بھی ناواقف ہے اور صرف اس کا ایک کے بعد ایک کو مٹانا منصوبہ ہے۔

گذشتہ برسوں میں کیسے کیسے مفکر اور دانشوروں کو بائک سواروں نے ان کے گھروں میں گھس کر بھون دیا اور کسی ایک کے قاتل کو اب تک نہ سزا ہوئی نہ پھانسی اور وہ تمام جو حکومت کی پالیسیوں پر تعمیری تنقید کررہے ہیں وہ جیل میں ہیں۔ یہ بات پوری دنیا میں تسلیم کی جاتی ہے کہ بھوک انسان کو آدم خور بناتی ہے اچھی حکومت کی تعریف یہ ہے کہ اس کے اقتدار میں رات کو کوئی بھوکا نہیں سوتا مودی جی نے کانگریس سے جب حکومت لی تھی تو اگر رات کو سو میں پانچ آدمی بھوکے سوتے تھے تو اب 25 آدمی بھوکے سوتے ہیں اور اگر بے روزگاروں کی فوج اسی طرح بڑھتی رہی تو 50 فیصدی بھوکے سوکر بھوکے اٹھیں گے اور پھر ملک میں جو ہوگا اس کا تصور ابھی نہیں کیا جاسکتا۔

حکومت کے اشارہ پر مہاراشٹر کی حکومت نے انسانی حقوق کے لئے لڑنے والے جن لیڈروں کو یہ کہہ کر گرفتار کیا ہے کہ یہ مودی جی کو مارنا چاہتے تھے۔ گذشتہ 18 برس سے یہ نہیں سنا تھا کہ کوئی پھر وزیراعظم نریندر مودی کو مارنے آرہا تھا۔ اس سے پہلے نہ جانے کتنے مسلمان نوجوانوں کو وزیروں اور ونجارہ نے بے رحمی سے یہ کہہ کر مروا دیا کہ وہ مودی جی کو مارنے آرہے تھے۔ ملک میں اگر گنا جائے تو سیکڑوں کسی نہ کسی صوبہ کے وزیراعلیٰ ہوچکے ہیں۔ کسی نے نہیں کہا کہ کوئی ان کو مارنے آرہا تھا۔ اور یہ بھی آج تک کسی نے نہیں بتایا کہ مودی جب گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو مسلمان لڑکے ان کو کیوں مارنا چاہتے تھے؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب پھر انہیں یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ کوئی ان سے ہمدردی کرے۔ اٹل جی کے بعد انہیں یہ محسوس ہوگیا ہے کہ انہوں نے کمایا کچھ نہیں صرف گنوایا ہے۔

اگر انہوں نے وہ سب یا اس کا آدھا بھی کردیا ہوتا جو چار سال پہلے کہا تھا تو وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھے ہوتے اور 300 سیٹیں کسی سنیاسی بابا کی مدد کے بغیر مل جاتیں۔ لیکن انہیں اندازہ ہوگیا ہے کہ 2014 ء میں جتنی بیتابی سے ووٹروں کو کانگریس حکومت ختم کرنے کا انتظار تھا اس سے زیادہ بے چینی سے وہ انتظار کررہے ہیں کہ کب الیکشن آئے اور کب ہم دل کا بخار نکالیں؟

ملک میں حکومت بے شک ہر کمزور کا خون چوس رہی ہے لیکن دنیا میں ہمیشہ ایسے لوگ رہے ہیں جو بغیر کسی لالچ کے غریبوں کی مدد کرتے ہیں مہاراشٹر حکومت نے ان لیڈروں کو گرفتار کیا تو چوٹی کے وکیل سنگھوی اور پرشانت بھوشن کھڑے ہوگئے اور سپریم کورٹ نے آناً فاناً حکومت کے خلاف فیصلہ دے دیا کہ ان محترم کارکنوں کو ان کے گھروں میں رکھا جائے۔ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو منھ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ خدا سپریم کورٹ کو سلامت رکھے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close