سیاست

ووٹوں کی بھوک کا علاج

حفیظ نعمانی

لوک سبھا میں ضرورت سے زیادہ اکثریت کے بل پر تین طلاق بل پیش ہوکر پاس بھی ہوگیا۔ بی جے پی کے علاوہ ہر طرف سے ایک ہی بات کہی جارہی ہے کہ آخر اتنی جلدی کیا تھی؟ اور یاد دلایا جارہا ہے کہ خواتین ریزرویشن بل جو راجیو گاندھی کے زمانہ میں بنا تھا اور جس میں ہندو مسلمان اور سکھ ہر مذہب کی خواتین کی بھلائی تھی وہ خواتین سے اتنی محبت ہونے کے باوجود کیوں معلق ہے؟ مسلمانوں میں تین طلاق کا شکار عورتوں کی تعداد سیکڑوں میں ہوگی وزیراعظم نریندر مودی کی ووٹ کی بھوک اب اس مقام پر پہونچ گئی ہے کہ وہ سیکڑوں کے لئے تو کیا دہائیوں کے لئے بھی بل بنا سکتے ہیں۔

مودی جی نے ساڑھے تین سال کی حکمرانی کے بعد اپنا جائزہ لیا تو دس مہینے پہلے اُترپردیش میں اور اس مہینے گجرات میں انہیں اندازہ ہوا کہ وہ تیزی کے ساتھ نیچے آرہے ہیں 2014 ء میں اُترپردیش میں مودی کو 80  میں 73  سیٹیں ملی تھیں اور گجرات میں 100  فیصدی ساڑھے تین سال کے بعد اُترپردیش میں بلدیاتی الیکشن میں میئر کی سیٹیں تو کاریگری سے مرضی کے مطابق جیت لیں لیکن میونسپل بورڈ بڑے اور چھوٹے زیادہ تر اُن کے ہاتھ سے نکل گئے۔ وہ گجرات جہاں کسی کا دِیہ بھی نہیں جلتا تھا وہاں مودی جی نے خون بھی تھوک دیا تب بھی ان کو 99  سیٹیں ملیں یعنی 83  اُن کے خلاف گئیں اور ان کے دو بدترین مخالف جن کو ہرانے میں خود انہوں نے امت شاہ نے اور گیروے کپڑوں والے آدتیہ ناتھ یوگی نے جان کی بازی لگادی مگر وہ جیت گئے اور اب پانچ برس تک قدم قدم پر ان سے حساب لیں گے۔

ان دو صوبوں کی حالت دیکھنے کے بعد اب مودی جی کو ایک ایک ووٹ سونے کا  بسکٹ نظر آرہا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ ایم جے اکبر جیسے مسلمانوں کے علاوہ کوئی مسلمان انہیں ووٹ دینے سے رہا اس لئے انہوں نے شائستہ عنبر اور سائرہ بانو جیسی عورتوں کو جنہیں سب مسلمان سمجھتے ہیں ان پر ڈورے ڈالنے کا فیصلہ کیا اور لنگڑا لولا بل پیش کرکے اکثریت کے بل پر پاس کرالیا۔

وزیر قانون جب بل پیش کررہے تھے تو ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے وہ اپنی رشتہ دار بچیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف تقریر کررہے ہیں آنکھیں بھی نچا رہے تھے گردن کو بھی جھٹکے دے رہے تھے اور ہاتھ بھی پھینک رہے تھے۔ ان کی تقریر سے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے اس سے بڑا ظلم نہ ہوا ہے اور نہ ہوسکتا ہے اور ہم سوچ رہے تھے کہ 2002 ء کو گذرے ہوئے تو 15  برس ہوگئے اس کا کیا ذکر کریں لیکن گئو رکشکوں کے ہاتھوں جو دادری، جھارکھنڈ اور راجستھان میں قتل کردینے سے جو مسلمان عورتیں بیوہ ہوئی ہیں اور جن کا ذکر بھی وزیراعظم کو کرنے کی توفیق نہیں ہوئی کیا وہ اس قابل نہیں ہیں کہ حکومت ان کے بارے میں کچھ سوچے؟

جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہے وہ ضروری نہیں کہ مردوں کے ظلم کا شکار ہوئی ہوں بہت سی عورتیں بھی ایسی ہوتی ہیں جو مردوں کی زندگی حرام کردیتی ہیں اور نوبت وہ آجاتی ہے جو ہمارے ملک کے وزیراعظم اور خاتون اوّل کے درمیان ہے کہ صرف یہ ملک کو معلوم ہے کہ ہمارے وزیراعظم شادی شدہ ہیں اس کے آگے نہ کوئی معلوم کرسکتا ہے اور نہ بتا سکتا ہے؟ طلاق شدہ ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے ماں باپ اور بھائی انہیں اپنے پاس بلا لیتے ہیں اور وہ بھی ہوتی ہیں جو دردر کی ٹھوکریں کھاتی ہیں اور بیوہ ہوجانے والی تو اتنی مظلوم ہیں کہ ان کا کوئی قصور ہی نہیں ہوتا وہ تو اپنے گائوں میں اپنے گھر ہوتی ہیں اور شوہر کا جنازہ دیکھ کر یا خبر سن کر بیوہ ہوجاتی ہیں اور انہیں بیوہ بنانے والے ان کے پروردہ ہیں جنہوں نے مودی کو وزیراعظم بنایا ہے تو مودی جی کو ان کی فکر کیوں نہیں ہوئی۔

دو سال پہلے دادری میں ایک بڑے مندر کے لائوڈ اسپیکر سے اعلان ہوا تھا کہ اخلاق احمد کے گھر گائے کا گوشت رکھا ہے اور پکایا جارہا ہے۔ دو دن کے بعد جب ایک رپورٹر نے مندر کے بوڑھے پجاری سے معلوم کیا کہ آپ نے کیوں اعلان کیا؟ تو ان کا جواب تھا کہ میرے پاس دو لڑکے آئے تھے انہوں نے کہا کہ اعلان کردو میں اعلان نہ کرتا تو کیا کرتا؟ انصاف کا تقاضہ تو یہ تھا کہ وہ پجاری آج بھی جیل میں ہوتا اور وہیں سے مرکر نکلتا لیکن مودی جی کے زمانہ میں مندروں اور پجاریوں کی جو حیثیت ہوگئی ہے اس کے بعد کس کی ہمت ہے کہ پجاری یا کسی بھی بابا کی طرف انگلی اٹھائے؟

ایک بات ہر طرف سے کہی جارہی ہے کہ سپریم کورٹ کے اکثریت کے فیصلہ میں کہہ دیا گیا تھا کہ ایک وقت میں تین طلاق دیں تو وہ طلاق نہیں ہوگی۔ اس فیصلہ کے بعد اگر کچھ جاہلوں نے طلاق طلاق طلاق کہہ دیا تو یہ مہمل الفاظ ہوں گے طلاق نہیں ہوگی۔ یہ الگ بات ہے کہ شرعی نقطہ نظر سے طلاق ہوئی یا نہیں؟ حکومت نے جو بل پاس کیا ہے وہ یہ مان کر کیا ہے کہ طلاق دینے سے طلاق ہوگئی تو سپریم کورٹ کے فیصلہ کی کیا حیثیت رہ گئی؟ یہ کیوں نہیں مانا گیا کہ تین بار طلاق کہہ دینا مجذوب کی بڑ ہے۔ بی جے پی کے گود لئے صحافی ایم جے اکبر نے مسلم پرسنل لاء بورڈ پر سوال کھڑا کیا کہ اسے کون منتخب کرتا ہے؟ وہ بھی ان مسلمانوں میں ہیں جو نہ عالموں کا مقام سمجھیں نہ مفتیان عظام کا وہ صرف اس الزام کو دھونے کیلئے ہیں کہ مودی سرکار میٰں مسلمان وزیر نہیں ہیں۔

اب مودی جی کے سامنے مدھیہ پردیش اور 2018 ء میں ہونے والے انتخابات اور 2019 ء کا پارلیمنٹ کا الیکشن ہے اور انہوں نے جو ہیرو بننے کے لئے نوٹ بندی کی اور جی ایس ٹی نافذ کیا وہ یہ سوچ کر کیا تھا کہ اگر پنڈت نہرو سے نہیں تو مسز اندرا گاندھی سے زیادہ مقبول وزیراعظم بن جائوں گا لیکن گجرات نے ان کے ہوش اُڑا دیئے اور ان کی حالت اس بھوکے کی ہوگئی ہے جس سے کسی نے معلوم کیا تھا کہ بتائو دو اور دو کتنے ہوتے ہیں؟ اور اس نے کہا تھا کہ چار روٹی مودی جی کو دوبارہ وزیراعظم بننے کے لئے صرف ووٹ چاہئیں۔

؎    جس سے ملیں جہاں سے ملیں جس قدر ملیں

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close