سیاست

ووٹ اور شریعت

ممتاز میر

خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں؍ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق، ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب؍کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق۔ آج موجودہ انتخابات کے ماحول میں علامہ کے تجربات ؍ فرمودات وطن عزیز کے کونے کونے میں دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ گذشتہ ایک ماہ سے ہمارے شہر کے خطبات جمعہ میں یہ سننے کو مل رہا ہے کہ ووٹ نہ ڈالنے والا گنہگار ہوگا۔ جلسے جلوسوں میں یہی صدائیں بلند ہورہی ہیں ۔ اخبارات کے صفحات پر بھی یہی فتوے بکھرے ہوئے ہیں۔

ابھی کل ایک اخبار میں قاضی محمد فیاض عالم قاسمی کا ایک مضمون بعنوان ’جمہوری ملک میں ووٹ کی شرعی حیثیت‘ اسی موضوع پر پڑھا۔ ڈر، خوف مسلمان کو کافر اور کافر کو مسلمان بنا دیتا ہے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے نہیں پھیلا۔ اس کے باوجود مولانا مودودی ؒ نے الجہاد فی الاسلام میں لکھا ہے دنیا میں وہ فلسفے بہت آسانی سے قبولیت عامہ حاصل کرتے ہیں جو تلوار بند ہاتھوں سے پیش کئے جاتے ہیں۔ احادیث یہ کہتی ہیں کہ آخری زمانے میں صبح کا مومن شام کا کافر ہوگا اور شام کا مومن صبح کا کافر ہوگا۔ ممکن ہے کہ یہاں بھی یہ کام خوف کے تحت ہی ہو۔ علامہؒ نے کہا تھا کہ ملا کی اذاں اور مجاہد کی اذاں اور۔ ہم اس سے آگے بڑھ کے کہتے ہیں کہ بزدل کی شریعت اورہے اور دلاور کی اور۔ یہ چشم گنہگار دیکھ رہی ہیں کہ بزدل بڑے پیار سے دلار، مروت سے لحاظ سے بچتے بچاتے شریعت کو تبدیل کر رہے ہیں۔ ہمارے یہاں ایسے لوگ کل بھی تھے اور آج بھی ہیں جو طالبان کو دہشت گرد کہتے تھے اورہیں۔ جبکہ اب وہ چشم سر سے دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ ان سے محفوظ راستے کی بھیک مانگ رہا ہے۔ غزوہء بدر ۳۱۳ نے نہیں جیتا تھا۔ اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتوں نے جیتا تھا۔ پھر ۳۱۳ کی خاص بات کیا تھی؟خاص بات یہ تھی کہ وہ اپنے جسم و جاں سے بے نیاز ہوکر میدان بدر میں ’فی سبیل للہ ‘ جا کھڑے ہوئے تھے ہمارے علماء کرام، رہنمایان جان لیں کہ اللہ بزدلوں کی مدد نہیں کرتا۔

مولانا قاضی محمد فیاض عالم قاسمی صاحب(نام بہت لمبا ہے ہم آئندہ مولانا ہی لکھیں گے)نے اپنے مضمون میں ووٹ کو شرعاً فرض قرار دیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ جسارت بے جا ہے۔ ایسی باتوں کے لئے علامہ اقبال نے کہا تھا خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں۔ پھر یہ بھی ایک افسانہ ہے کہ دنیا میں کہیں جمہوریت باقی ہے۔ ارے، دنیا کا جو سب سے بڑا ادارہ ہے جسے بڑے چاؤ سے قائم کیا گیا تھا بڑے پیار سے، عزت و احترام سے جسے اقوام متحدہ یا یونائٹیڈ نیشنس آرگنائزیشن کہا جاتا ہے وہاں بھی وہ ہوتا ہے جودنیا کے ۵ بڑے ممالک چاہتے ہیں اور بقیہ ۴۰ گنا اکثریت دیکھتی رہ جاتی ہے۔ اگر واقعتاً وہاں جمہوریت کا وجود ہوتا تو مسئلہ فلسطین کب کا حل ہوجاتا۔ افسوس یہ نہیں، افسوس اس بات کا ہے ایسی مکار و غدار دنیا کو ہمارے سادہ لوح کہیں یا فراست مومنانہ سے عاری علماء جمہوری سمجھتے ہیں۔

۵۰ سالوں سے ہم یہ سنتے اور سمجھتے آئے ہیں کہ جدید دور کا ووٹ کل کی ’بیعت‘ کے مترادف ہے۔ آج ووٹ دیا جاتا ہے، کل بیعت کی جاتی تھی مگر اس میں بھی فرق ہے بہت بڑا فرق۔ کل کے امیدواروں کے پاس ڈکلیئر کرنے کو کچھ نہیں ہوتا تھا۔ نہ جرائم کی فہرست نہ کالے دھن کا کچا چٹھا۔ وہ تو امیدوار بننے کو بھی تیار نہ ہوتے تھے۔ آج جو ڈکلیئر کیا جاتا ہے اس میں سے کچھ جرائم چھپا لئے جاتے ہیں اورکچھ کالا دھن۔ اور تو اور اپنی تعلیمی اسناد کی حقیقت تک کی ہوا نہیں لگنے دی جاتی۔ اگر ایسے لوگوں کوووٹ دینا شرعاً فرض قرار دے دیا جائے توسوچئے لوگوں کے سامنے اسلام کی کیا تصویر جائے گی۔ اللہ رحم کرے ہم اپنے عارضی مفادات کی خاطر، زرا سے ڈر کی خاطر کتنی بڑی بڑی جسارتیں کر رہے ہیں۔

مولانا نے ایک جگہ لکھا ہے’شفاعت سیۂ۔ یعنی کسی برے کام میں سفارش کرنا۔ اس صورت میں سفارش کرنے والا سفارش کئے جانے والے شخص کے جرم میں برابر کا شریک ہوگا اور اللہ کے یہاں اس پر مواخذہ ہوگا‘۔ پورے مضمون میں اس قسم کی باتیں ہیں جن کا آج کے ماحول پر انطباق ممکن نہیں۔ ہم ان سے نہیں بلکہ ان کی قبیل کے سارے علماء کرام سے پوچھتے ہیں کہ ملک کی تمام نشستوں کی فہرست فراہم کریں اور کہیں کہ ہمارے تجویز کردہ امیدوار کو ووٹ نہ دینا شرعاً گناہ ہوگا۔ یہ نہ کرسکیں تو اپنی ریاست کی فہرست فراہم کردیں۔ یہ بھی نہ کرسکیں تو اپنے ضلع کے غیر متنازعہ امیدواروں کو دے دیں۔ اور یہ بھی نہ کر سکیں تو کم سے کم یہ تو بتا دیں کہ فلاں پارٹی انسانیت پہ چلنے والی اورعدل و انصاف فراہم کرنے والی ہے۔

دور جدید کی بات کیا، آئیے کچھ اپنی تاریخ کو بھی دیکھ لیں۔ آج کے حکمراں کیا ہیں اور ہمارے حکمراں کیا تھے اس کے موازنے کے تعلق سے سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ انبیاء کرام کے بعد ان سے بہتر انسان و حکمراں دنیا نے نہ دیکھا ہے نہ دیکھے گی۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ خلیفہ بنا دیئے گئے ہیں اورحضرت علیؓ داماد رسول ﷺصدیق رسول کی قریب چھ ماہ تک بیعت نہیں کرتے۔ چھ ماہ تک انھوں نے بیعت کیوں نہ کی اور بعد میں کیوں کی، ان تفصیلات میں جانے کا یہاں موقع نہیں ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا حضرت علی گنہگار تھے ؟ حضرت علی کی خلافت کے وقت بھی حضرت ابو طلحۃؓ اور حضرت زبیرؓ نے پہلے قاتلین عثمانؓ کے فیصلے کی شرط رکھ دی تھی۔ یزید ہماری تاریخ میں کتنا ہی بدنام کیوں نہ ہو موجودہ حکمرانوں سے کروڑوں درجے بہتر تھا۔ مگر حضرت عبداللہ ابن زبیرؓ، عبداللہ ابن عمرؓ، حسین بن علی اور دیگر بہت سے اس وقت کے اکابرین نے یزید کی بیعت نہ کی تھی۔ کیا یہ حضرات گنہگار تھے ؟ اگر بیعت نہ کرنے یا ووٹ نہ دینے کا معاملہ اتنا نازک بنا دیا جائے تو پھر خروج کا معاملہ تو اس سے زیادہ سیریس گردانا جائے گا۔

محترم ! ہمارے آج کے جو مسائل ہیں وہ صد فیصد ہمارے اعمال کے نتائج ہیں۔ اب ہماری قوم کا یہ حال ہے کہ اصلاح کی کوششیں صدیوں سے جاری ہیں اور سدھار تو دور ہر نیا دن اس کے زوال میں کچھ نہ کچھ اضافہ ہی کرتا ہے۔ اب بوکھلاہٹ میں ہم ووٹ کو شرعی حیثیت دے رہے ہیں، جبکہ یہ صورتحال عارضی ہے۔ آج نہیں تو کل اس میں تبدیلی آئے گی۔ بہت ممکن ہے ہم کچھ نہ کرپائیں۔ مہدی کی فوج تو آئے گی ہی۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے اسی لئے تو ہو رہا ہے کہ آپ کو موم کی ناک بنا دیا جائے۔ سوچئے آپ کا یہ فتویٰ مستقبل میں آپ کی اور آپ کی قوم کی کیا تصویر پیش کرے گا۔ آئندہ نسل آپ کی بوکھلاہٹ پر ہنسے گی۔ ورنہ بتائیے کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ آنے تک مسلمانوں کی حالت کی ذمے داری کس پارٹی کے سر ہے ؟ سچر کمیٹی رپورٹ آنے کے بعد مسلمانوں کی حالت میں کیا فرق پڑا ؟ نہیں پڑا تو کیوں نہیں پڑا ؟

مسلمانوں کو نہیں ملک کے ہر فرد کو اپنے ووٹ کا پوری ایمانداری، نیک نیتی کے ساتھ استعمال کرنا چاہئے۔ ہم اس میں شریعت کو گھسیڑنے کے خلاف ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close