سیاست

وکاس کہاں ہے صاحب ؟

راحت علی صدیقی قـاسمی

 2014اسمبلی انتخاب میں ’’لوہ پرش‘‘ نریندر مودی نے ’’وکاس‘‘ نامی ایک ہوائی شئے تخلیق کی ، جو نہایت ہی سبک رفتار انداز میں عالم شباب کی جانب گامزن ہوئی ،اس کی طاقت و توانائی نے پارلیمنٹ انتخاب میں بی جے پی کو سرخ روئی عطا کی ،اسی کا دم تھا مردہ جماعت زندہ ہی نہیں توانا اور تندرست ہوگئی اور صورت حال ایسی تبدیل ہوئی جیسے ویرانہ پل بھر میں آشیانے میں بدل جائے اور دیکھتے ہی دیکھتے  لاغری توانائی کا روپ دھار لے ، گرگٹ سے بھی تیز منظرنامے نے اپنا رنگ تبدیل کیا اور پل بھر میں پورا ہندوستان کیسریا رنگ میں رنگا ہوا محسوس ہونے لگا ۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی زبان سے ہمیشہ یہی ’’وکاس‘‘ درد میں مبتلا شخص کی آہ کی طرح ابلا پڑ رہا تھا ،ہر محفل ہر مجلس اور انتخابی تشہیر میں اسی کی جلوہ نمائی تھی، کوئی ریلی ایسی نہیں جس میں اس نام کو الگ الگ پیرائے اور انداز میں نہ پیش کیا گیا ہو اور اس کی دہائی نہ دی گئی ہو ،اسی کی خوبصورتی اور دیدہ زیبی نے عوام کی عقلوں پر پردہ ڈال دیا،وہ دیوانے اور پاگل محسوس ہونے لگے تھے ،ہر شخص کی زبان پر یہی جملے تھے ،’’اب کی بار وکاس کے لئے ووٹ کریں گے ‘‘ اس آہ نے پورے ہندوستان کو بی جے پی کا ہمدرد خیر خواہ بنادیا تھااور ہندوستان ایک تماش گاہ محسوس ہورہا تھا ،جسے گڑگڑی بجا کر اپنے بس میں کر لیا گیا ہو ،ہر تماش بیں کی نظریں وہی دیکھ رہیں تھیں جو اسے دکھایا جاررہا ،اگر چہ یہ حقائق نہیں تھے ، کامیابی کے ذرائع اور اسباب و علل نہیں تھے اور نہ کوئی ذی شعور انہیں کامیابی کی کلید گردان سکتا تھا ، حقائق کسی اور سمت اشارہ کررہے تھے ، دلائل کچھ اور ہی  باور کرارہے تھے۔

اس فتح کی عبارت تو مظفرنگر کے بے قصور نوجوانوں کے خون سے لکھی گئی تھی ،اس فتح کے  شادیانے تو معصوم دوشیزاؤں کی چیخ و پکار کی آوازوں اور ان کے آنسوؤں کا نتیجہ تھے ،اس فتح کا جشن تو بوڑھوں کی آہ و بکا کا ثمرہ تھا،یہ فتح ترقی رفعت و بلندی کی کہانی نہیں تھی ،بلکہ اندوہناک قصہ تھا ،نفرت،تعصب ،فرقہ واریت کا جسے مظفرنگر کی تاریخی سرزمین پر چند سنگ دلوں نے بیٹھ کر لکھا تھا اور کرسی کے پائے مضبوط کئے تھے ، انتہائی خوبصورت مکھوٹا لگاکر عوام کے جذبات سے کھیلا گیا اور اسے ’’وکاس‘‘ کانام دیا گیا،آج بھی امت شاہ کے وہ الفاظ کانوں میں گونجتے ہیں ،جو شاملی کی مقدس سرزمین پر انہوں نے کہے تھے،جس میں انہوں نے کہا تھا ،یہ انتخاب ہماری آن بان اور عزت کا ہے ،نہ وکاس ان کی زبان پر تھا، زبان پر نفرت کے بول، آنکھوں میں لالچ کی ابھرتی تصویریں اور سینے میں کرسی پانے کی خواہش کے سوا کچھ بھی تو نہیں تھا، جسے ملک کی فلاح کا ذریعہ مان لیا جاتا ،ہندوستان کی ترقی کا زینہ سمجھ لیا جاتا ،بہرحال بعد کی کہانی سب کے ذہنوں میں ابھی تازہ ہے ،بی جے پی نے بہار میں قدم رکھا ،ترقی اور وکاس کے نام پر لوگوں کا من موہنے کی کوشش کی ۔

مگر وکاس میں اب وہ جاذبیت اور جان باقی نہیں رہی تھی ،اس کا احساس نریندر مودی کو بھی ہوا اور انہوں ہندوستان پاکستان اور ہولی کی گفتگو کرکے انتخاب کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی تھی ،مگر نتیجہ ہاتھ ملنے اور افسوس کرنے کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوا اور بہار کے ذی شعور عوام نے بی جے پی کو اس کی اوقات بتادی ۔یہی صورت حال دہلی میں رہی ،مگر یہاں کیجریوال کی مخالفت زیادہ تھی اور وکاس بوڑھا، کمزور، لاغر، محسوس ہورہا تھا ،نتیجہ تاریخی ثابت ہوا ۔چند دنوں قبل سیاست میں قدم رکھنے والے ایک نوآموز نے بی جے پی پر جھاڑو پھیر دی اور اپوزیشن میں بیٹھنے لائق بھی نہیں چھوڑا، حالانکہ بہت سے صوبائی انتخابات میں بی جے پی اپنی تدبیر بروئے کار لانے میں کامیاب رہی،اسی طرح ممبئی کے بلدیاتی انتخاب میں بھی بی جے پی  اپنا پرچم بلند کرنے میں کامیاب رہی ،جو یقینا اس کے لئے حوصلہ بخش ہے ،مگر جب ہم بات کرتے ہیں ،ہندوستان کی سب سے عظیم ریاست اترپردیش کے تعلق سے تو یہاں صورت کچھ اور ہے ،نوشتۂ دیوار کچھ مختلف ہے اور وزیراعظم بھی اس کو شدت سے محسوس کررہے ہیں ۔ چنانچہ جب وہ انتخابی دنگل میں اترے تو دفاعی انداز میں نظر آرہے تھے ۔

ہر جلسہ ہر ریلی اس دعویٰ کی دلیل ہے ،جب وہ نوٹ بندی کے فوائد شمار کرا رہے تھے ،اس کی خوبیاں گنوا رہے تھے اور اپنے اس فیصلہ کا بھرپور دفاع کررہے تھے ،اگر چہ اس دوران ان کی زبان پر لوگوں کا غم، ان کا درد، ان کی تکلیف بھی آئی، مگر 100سے زائد لوگوں کی جانوں پر وہ ہمیشہ چپی ہی سادھے رہے اور ترقی کے بھی کچھ جملے انہوں نے ادا کئے ،وعدہ اور ارادہ بھی نظر آئے، لیکن جیسے جیسے انتخابی سفر آگے بڑھتا رہا ،ان کے تیور بدلتے رہے ،آج کچھ کل کچھ چند مراحل کے بعد وہ پوری طرح اسی روش پر آگئے جس کے لیے وہ مشہور ہیں اور اب گویا وکاس کی وفات ہوگئی ،جس کی پیدائش ہوائی تھی اور ہر طرف انتخابی دنگل میں فرقہ وارانہ جملے گونجنے لگے ،بی جے کے بڑے لیڈران مذہبی گفتگو کرنے لگے، کہیں کرفیو کی بات کہی گئی ،کہیں مسلمانوں کو جلانے کا راگ الاپا گیا ،اس سے بھی بڑھ کر زبانیں دراز ہوئیں ، اور انتخاب انتخاب نہیں ، جنگل راج کی طرف بڑھتا محسوس ہونے لگا ۔جس میں ذات اور مذہب پر رکیک حملہ ہی گفتگو کا مرکز رہے ، وکاس کی بات کرنے والا اب شمشان کی گفتگو کررہا تھا۔ ایسا محسوس ہورہا تھا ،جیسے وکاس کی وفات کے بعد اس کے ہندو مسلم ہونے اور اسے جلائے یا دفنائے جانے کا مددعا زیر بحث ہو۔ ڈیجٹل انڈیا کی باتیں کرنے والا ہولی دیوالی پر روشنی کی بھیک مانگ رہا تھا ، احساس قلب پر دستک دے رہا تھا اور جھنجھوڑ کرکہہ رہا تھا ،اس طرز کی گفتگو اور وزیراعظم کی زبان چہ بوالعجبی است! ایسی زبان مجبور، مفلس، غریب دیہاتی بول سکتا ہے۔

شاید وزیر اعظم پورے ہندوستان کو جاہل گنوار سمجھنے کی بھول کر بیٹھے ہیں ،اسی لیے انہوں نے اس طرز کی گفتگو کی ،نتیجہ چاہے جو ہو ،یہ تو چودہویں کے چاند کی طرح روشن ہے ،وکاس اس الیکشن کا مدعا نہیں تھا ،چونکہ تقریبا 3سالوں میں عوام نے جو وکاس کا معنی اور مفہوم سمجھا ہے ،اب انہیں اس نام سے نہیں چھلا جاسکتا ،وکاس کے نام پر اشیائے خوردنی آسمان چھونے لگی ہیں ،سبزیاں مہنگی ہوگئیں ہیں ،رسوئی گیس 440سے 700سے اوپر ہوگیاہے ،دالوں کی قیمت دوگنی ہوگئی ہے ،لوگ بھوک سے لڑنے پر مجبور ہیں ،کسان قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں ،دوائیں بیج ہر شئے پر گرانی ہے ،گنے کی قیمت وقت پر دستیاب نہیں ہوتی ،سود دینے پر مجبور ہوتے ہیں ،لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہوئے زمین میں گڑھ جاتے ہیں ،ضروریات کی چکی اپنے پاٹوں میں ان کی انا کو پیس کررکھ دیتی ہے ،دھرتی کا سینہ چیر کر ، انسانیت کی رگوں میں خون بن کر دوڑنے والی غذاؤں کو مہیا کرنے والا کسان اس کسم پرسی کے دور سے گذر رہا ہے۔

کیا یہی ترقی ہے ؟کیا اسی کا نام وکاس ہے ؟ کیا اسی طرز پر ہندوستان دنیا میں اپنا بلند مقام ثابت کرے گا ؟کیا آپ کے جملوں کے معانی اس ڈگر پر ملیں گے ؟بے روزگاری عام ہے ،تعلیم یافتہ نوجوان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ،کیا اس طرح انڈیا ڈیجیٹل ہوگا ؟ترقی کی شرح گھٹ رہی ہے ،کیا اسی طرح میک ان انڈیا کا سپنا حقیقت میں بدلے گا ؟کیا ملک صرف جملوں سے چل سکتا ہے ؟کیا زبانی ترقی ہندوستان کی تقدیر بدل سکتی ہے ؟کیا وکاس لفظ میں جادو ہے جو پل بھر میں ہندوستان کو ترقی یافتہ بنادے گا ؟تمام سوالات تشنۂ جواب ہیں ،ہاں اتنا یقینی طور سے کہا جاسکتا ہے کہ وکاس کا جنم ایک خاص مقصد کے تحت کیا گیا تھا جو اب وفات پا چکا، نہ لفظوں میں کہیں موجود ہے اور نہ کہیں حقیقت میں نظر آتا ہے ،جمہوریت کے لئے انتہائی تکلیف دہ مرحلہ ہے ،کانگریس کا محل زمین بوس ہوچکا ہے ،بی جے پی جس راہ پر چل رہی ہے ،اس کا انجام خدا جانے، فرقہ پرستی کی حکمرانی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا ،وکاس کا چولا تو اس انتخاب میں انہوں نے اپنے چہرے سے اتار ہی پھینکا اور  وکاس کو بھی بھول بیٹھے ہیں ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close