سیاست

وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے، ہم اپنی وضع کیوں بدلیں

حفیظ نعمانی

کسی بھی حکومت میں وزیر داخلہ کا منصب بہت اہم ہوتا ہے۔ اپنے ملک کے وزیر داخلہ کے بارے میں عام شہرت یہ ہوگئی ہے کہ ان کو وزارت داخلہ کے فیصلوں کی خبر دوسرے دن اخبار سے ہوتی ہے۔ اس وقت پارلیمنٹ میں جو شاید موجودہ حکومت کی آخری نشست ہو ہنسی خوشی ایک دوسرے سے رخصت ہونے کے ماحول کے بجائے اختلاف عروج پر ہے۔ اختلاف کی وجہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ یہ اختلاف اس دن سے ہوا ہے جب سے وزیراعظم نے ذاتی طور پر فرانس سے اس کے بنائے ہوئے رافیل نام کے 36  جنگی جہاز کا سودا کیا ہے۔

اس خبر کے عام ہوتے ہی راہل گاندھی نے جو بڑی مخالف پارٹی کے صدر ہیں اس سودے پر شبہات ظاہر کرنا شروع کردیئے تھے اور تفصیل سب کی نظر میں ہوگی کہ راہل گاندھی کا کہنا یہ تھا کہ یہی جہاز کانگریس کی حکومت خرید رہی تھی تو قیمت بہت کم تھی اور اس جہاز کو دوگنی قیمت پر وزیراعظم کیوں خرید رہے ہیں؟ اسی طرح ایک اختلاف یہ تھا کہ ان جہازوں کی دیکھ بھال ہندوستان کی پرانی ایجنسی جس میں اپنے جہاز بھی بن رہے ہیں سے کرانے کے بجائے انل انبانی کی اس کمپنی سے کرانے کا فیصلہ کیوں کیا ہے جو صرف دو چار دن پہلے بنی ہے۔

یہ اختلاف اتنا بڑھا کہ ملک کے ہر اس لیڈر نے جو بی جے پی اور مودی سرکار سے اختلاف رکھتا تھا اسے اپنا لیا ان میں سے ہی بی جے پی کے ایک بزرگ لیڈر یشونت سنہا بھی سامنے آگئے ان کے علاوہ دوسرے لیڈر بھی آئے اور مشہور وکیل پرشانت بھوشن نے اس سودے کے بارے میں سپریم کورٹ سے فریاد کی اور درخواست کی کہ اسے منسوخ کردیا جائے۔ اہم بات یہ ہے کہ جس لیڈر راہل گاندھی نے اس مسئلہ کو اٹھایا تھا وہ یا کانگریس کا کوئی دوسرا لیڈر سپریم کورٹ نہیں گیا۔ کانگریس کے ایک ممتاز لیڈر اور نامی گرامی وکیل کپل سبل نے کہا کہ یہ سپریم کورٹ کے دائرۂ کار کا سودا نہیں ہے اور یہی ہوا کہ سپریم کورٹ نے جب اندر سے دیکھا تو کئی معاملات کے بارے میں لکھ دیا کہ یہ ہمارے دائرئہ کار میں نہیں ہے اور دو چار باتوں کے متعلق کہہ دیا کہ ہمیں اس میں کوئی غلط بات نظر نہیں آئی۔

سپریم کورٹ کا یہ بے ضرر فیصلہ اس وقت آیا جب ملک کی پانچ ریاستوں کے الیکشن میں بی جے پی نے ایک بھی نہیں جیتا تھا اور دو صوبوں میں اسے ایک ایک سیٹ ملی تھی۔ زخموں سے بدحال وزیراعظم اور بی جے پی کے صدر نے اس فیصلہ کو کلین چٹ اور راہل گاندھی کی شکست کے طور پر اٹھا لیا اور ہر طرف سے آواز آنے لگی کہ راہل معافی مانگو اور ایسے معاملات کی باریکیوں کو نہ سمجھنے والے بھی یہ کہنے لگے کہ مودی جی کو کلین چٹ مل گئی۔ یہ تو شور تھمنے کے بعد بات سامنے آئی کہ کانگریس سپریم کورٹ جانے والوں میں نہیں تھی اور اس لئے نہیں تھی کہ اس کے بڑے وکیلوں نے کہہ دیا تھا کہ یہ سپریم کورٹ کے دائرئہ کار میں نہیں ہے۔ اس کا فیصلہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی ہی کرسکتی ہے۔

راہل گاندھی ان پانچ ریاستوں میں سے تین اہم ریاستوں میں کامیاب ہوکر اور چوڑے ہوگئے تھے انہوں نے اور زور سے کہا کہ ہم پہلے دن سے جے پی سی سے اس مسئلہ کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کررہے تھے اور اب اور زیادہ زور سے کریں گے اور پارلیمنٹ کو اس وقت تک نہیں چلنے دیں گے جب تک حکومت ہمارا مطالبہ پورا نہیں کرتی۔ اب تک وزیراعظم کی طرف سے دوسرے وزیر ایک ہی بات کہتے رہے کہ آجائو بحث کرلو اور دو دن پہلے وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ سے بھی کہلا دیا گیا کہ رافیل کے سودے پر ہم ایوان میں بحث کے لئے تیار ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے قیام کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ سپریم کورٹ نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا ہے۔ راج ناتھ سنگھ برسوں سے سرگرم سیاست میں ہیں ہم نہیں جانتے کہ یہ بیان دیتے وقت ان کے اوپر کیا گذری ہوگی۔ عام آدمی کے لئے پارلیمنٹ میں حکومت کا بحث کرانے پر تیار ہونا بڑی بات ہوگی لیکن حقیقت میں یہ خار ہے اسے اس طرح آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ایک بالٹی میں دودھ ہے جس پر ایک فریق کو اعتراض ہے کہ اس میں پانی ملا ہے۔ جس گائوں کا یہ واقعہ ہے وہاں کے 280  آدمی دودھ والے کے اپنے ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ خالص دودھ ہے اور 100  آدمی ہیں جو کہہ رہے ہیں اس میں پانی ملایا گیا ہے۔ بحث کا مطالبہ یہ ہے کہ دونوں طرف سے تقریروں کے ذریعہ اپنی بات کو سچ ثابت کیا جائے اور بعد میں ہاتھ اٹھوائے جائیں۔ جو جیت جائے وہ سچا۔ ظاہر ہے کہ جیت اس کی ہوگی جس کے ساتھ 280  آدمی ہیں۔ اور مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی حیثیت اس آلہ کی ہے جسے بالٹی میں ڈالتے ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ اس میں دودھ کتنا ہے اور پانی کتنا راہل گاندھی کا مطالبہ ہے کہ تقریر اور ہاتھ اٹھانے کے بجائے وہ آلہ بالٹی میں ڈال کر دیکھ لیا جائے اس کا فیصلہ ہمیں منظور ہے اور مودی جی اس کے لئے ہرگز تیار نہیں ہوں گے اور راہل گاندھی یہی کہتے رہیں گے کہ چوکیدار چور ہے اور اب فیصلہ پانچ مہینے کے بعد ہوگا کہ بالٹی میں کتنا دودھ تھا اور کتنا پانی۔ اب بی جے پی کی حمایت کرنے والا جو جے پی سی کی حمایت کرے گا وہ راہل کی طرف آجائے گا اور جو بحث پر اڑا رہے گا وہ بی جے پی کا ٹکٹ پائے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close