وہ نیچ جس کا سارے فسانے میں ذکر نہ تھا

ڈاکٹر سلیم خان

گجرات کی انتخابی مہم کو دیکھ کر یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہاں  وزیراعلیٰ کی ذمہ داری کس پر ہے اور  ملک کا وزیر اعظم کون ہے؟  پردھان سیوک نے ازخود اپنے آپ کو وزیراعلیٰ بنا  لیا ہے اور اس طرح ہاتھ پیر مار رہے ہیں گویا ان کی کرسی خطرے میں  ہے۔  پنجاب میں کانگریسی وزیراعلیٰ سےجس طرح کوئی فرق نہیں پڑا اسی طرح گجرات میں بھی کانگریس کے  اقتدار سنبھال لینے پر بھی  ان کی کرسی محفوظ رہے گی لیکن مودی جی جانتے ہیں کہ اگر گجرات میں راہل نے پٹخنی دے دی تو ؁۲۰۱۹ میں وہ بہ آسانی چت ہو جائیں گے۔  یہی سبب ہے کہ پہلے تو گجرات کا وکاس پاگل ہوا اور اب اس کے باپ پر جنون سوار ہوگیا۔ ہندوستان کے سیدھے سادے رائے دہندگان کو کبھی کبھار اس طرح کی ہذیانی کیفیت پر رحم آجاتا ہے جیسا کہ اترپردیش میں ہوا لیکن نہیں بھی آتا جیسا کہ بہار میں ہوا تھا۔ گجرات میں کیا ہوگا کوئی نہیں جانتا لیکن مودی جی کی حالت  پتلی ہے یہ بچہ بچہ جانتا ہے۔اس کا ایک ثبوت تو یہ ہے کہ بی جے پی اس بار ہاردک کی فلمیں بنانے میں اس قدر غرق رہی  کہ مینی فیسٹو بنانا بھول گئی اور ووٹنگ کے ایک دن قبل اسے جاری کیا۔ جگنیش میوانی پر پے درپے چار حملے ہوئے اور پھر دہشت گردی سے اس کا نام جوڑ دیا گیا۔ ان واقعات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بی جے پی کس قدربد حواس ہے۔

بولیٹ ٹرین کی ترقی سے شروع ہونے والاترقی کا سفر یہاں تک پہنچا کہ مودی جی نے کہہ دیا پنڈت نہرو نے ڈاکٹر امبیڈکر کی راہوں میں  سب سے زیادہ رکاوٹیں کھڑی کیں۔ اس پر کانگریسی رہنما منی شنکر ائیر نے کہہ کہ ’’وہ (مودی) بہت نیچ آدمی ہے‘‘۔ مودی جی نے اس کے جواب میں کہہ دیا کہ ’’میں نیچ ذات سے ضرور ہوں مگر کام اونچے کرتا ہوں  اور صوبے کے پسماندگان کانگریس کو اپنے ووٹ سے جواب دیں گے‘‘۔ ہندوستان کے اندر  ذات پات کی بنیاد پر اونچ نیچ ہے لیکن بہت یا کم  نیچ نام کی کوئی شئے پائی نہیں جاتی۔ منی شنکر ائیر نے یہ اعتراف  کیا کہ تمل ہونے کے باعث ان کی ہندی کمزور ہے۔ ان کا اشارہ مودی کی طبقاتی شناخت کی جانب  نہیں تھا بلکہ ذاتی حرکات کی طرف تھا۔ دراصل منی شنکر یہ کہنا چاہتے تھے کہ مودی جی بہت ہی گھٹیا آدمی ہیں۔  ڈاکٹر امبیڈکر کو پنڈت نہرو نے خوب مواقع دیئےجبکہ  مودی اسے رکاوٹ  بتارہے ہیں۔  ویسے ائیر کا گھٹیا کہنا بھی مودی بھکتوں کو ناگوار گذرتا لیکن مودی جی نے اپنی تقاریر سے ثابت کردیا کہ منی شنکر ائیر کا موقف صد فیصد درست ہے اور کانگریس نے ان پر بلا وجہ کارروائی کی ہے۔ بقول شاعر؎

وہ نیچ سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا

وہ نیچ ان کو بہت ناگوار گزرا ہے

مودی جی نے دیکھا کہ ذات پات کا کارڈ بھی نہیں چلا تو مذہب کو لے آئے۔ انہوں نےگجرات کے سارے  انتخابات مسلمانوں کی نفرت پر جیتے ہیں۔ ؁۲۰۰۲ میں سابرمتی کے رام بھکتوں پر نام نہاد حملہ، ؁۲۰۰۷ میں سہراب الدین، میاں مشرف  اور اکشردھام پر حملہ  ؁۲۰۱۲ میں عشرت جہاں اور کشمیری دہشت گردی نے ان نیا پار لگائی ہے  اس  لیے اپنےپرانے گھسے پٹے راگ  پر لوٹ آئے۔ گجرات کے ہندو علاقوں میں اچانک پوسٹر نمودار ہوگئے کہ کانگریس احمد پٹیل کو وزیراعلیٰ بنانا چاہتی ہے۔ اس میں کیا برائی ہے؟ بی جے پی نے  اگر ایک غیر ہندو  جین کو وزیراعلیٰ بنا سکتی ہے تو ایک مسلم کے وزیراعلیٰ بن جانے میں کیا قباحت ہے ؟ سچ تو یہ ہے کہ یہ گھٹیا جھوٹ ہندووں کو گمراہ کرنے کے لیے  گھڑا گیا۔

احمد پٹیل والا کھیل نہیں چلا تو مودی جی نے سلمان نظامی نامی ایک کانگریسی کو تلاش کرلیا اور اس کے بارے میں کہا کہ وہ کشمیر کی آزادی کا خواہاں ہے۔ اس کا نعرہ ہے کہ ہر گھر سے افضل گرو نکلے گا نیز وہ ہندوستانی فوجیوں پر زنا بالجبر کے الزام لگاتا ہے۔ اس کے بعد بی جے پی والوں نے سلمان نظامی کو کانگریس کا ترجمان قرار دے دیا۔ سچ یہ ہے کہ سلمان تین سال قبل وہ یوتھ کانگریس میں شامل ہوا تھا۔ اس کے دادا کانگریسی رکن اسمبلی تھےاور اس کے خاندان میں  تین لوگ علٰحیدگی پسندوں کے ہاتھوں ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس نے کشمیر کی آزادی کی یافوج پر کوئی تبصرہ  نہیں کیا ہے جبکہ  کنا اور پسپورہ میں عالمی ادارے فوجیوں پر عصمت دری کا الزام لگا چکے ہیں اور حال میں  آزادی کا نعرہ لگاتے ہوئے فوج پر سنگباری کرنے  والے نوجوانوں کے لیے  مودی سرکار عام معافی کا اعلان کر چکی ہے۔

 سلمان نظامی اپنے ٹوئٹر اکاونٹ کے ہیک ہونے کی شکایت ؁۲۰۱۵ کے اندر پولس تھانے میں لکھوا چکے ہیں اس کے باوجود مودی جی نے ان کے نام سے شائع ہونے والے ایک ٹوئیٹر پیغام کا سہارا لے لیا  جس میں کہا گیا تھا کہ راہل گاندھی کے والد اور دادی نے قوم کے لیے جان قربان اور اور پردادا فریڈم فائٹر تھے۔ مودی تو بتا تیرے  ماں باپ کون تھے؟ اس سوال کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ ان  کےوالدین نے قوم کی کون سی خدمت کی؟ لیکن مودی جی نے اس کو گھمادیا اور لوگوں سے کہا کہ یہ کانگریسی  پوچھتا ہے میرے  ماں باپ کون تھے؟ کیایہ  لب و لہجہ درست ہے اور پھر کہا کہ میرے باں باپ بھارت ہے، ملک ہے اور یہاں کے لوگ ہیں۔ اس بیان سے مودی جی کو ووٹ تو ملیں گے لیکن ان کی والدہ کے دل پر کیا گزری ہو گی جس نے نوماہ ان کو پیٹ میں رکھا اور پال پوس کر بڑا کیا؟یہ تو سراسر والدین کی احسان فراموشی ہے لیکن آج کل  ووٹ کے لیے سیاستدان کچھ بھی کرسکتا ہے۔ مودی جی کے والدین کی توہین سلمان نظامی کے نام سے شائع ہونے والے ٹوئیٹر سے نہیں ان کے اپنے بیان سے ہوئی ہے۔

 مودی جی کو جب محسوس ہوا کہ یہ دشنام طرازی  بھی کافی نہیں ہے تو پاکستان کو لے آئے اور کہا پاکستانی فوج  کے سابق ڈائرکٹر جنرل ارشد رفیق  چاہتے ہیں کہ   احمد پٹیل  گجرات  کے وزیراعلیٰ بنیں۔ اس مقصد کے لیے کانگریسی رہنماوں نےمنی شنکر ائیر کے گھر پر پاکستانیوں کے ساتھ تختہ پلٹنے کی سازش کی ہے۔ اگر یہ الزام  سچ ہے تو دہلی میں بیٹھی مودی سرکار انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا؟  ان پاکستانیوں کو تختۂ دار پر کیوں نہیں لٹکایا ؟ یہ کیسے دیش بھکت ہیں  جو اپنے دارالخلافہ میں بھی پاکستانیوں پر ہاتھ ڈالنے سے خوف کھاتےہیں ؟ اس بچکانہ بیان پر معمولی عقل کا آدمی بھی یقین نہیں کرسکتا لیکن مودی جی جانتے ہیں کہ انتخابی جنون میں مبتلاء لوگ عقل سے کام لینا بند کردیتے ہیں۔ کیا ہندوستان کی حکومت پاکستان کے صوبہ سندھ یا بلوچستان میں سازش کرکے اپنی  پسند کا وزیراعلیٰ بنواسکتی ہے اگر ہاں تو مودی جی ایسا کیوں نہیں کرتے؟ اور اگر نہ تو پاکستان یہ کیسے کرسکتا ہے؟ پاکستان تو دور مودی جی نیپال میں بھی اپنی پسند کے آدمی کو وزیراعظم نہ بنوا سکے اور ان کے کٹرّ مخالف کے پی اولی بڑے آرام سے پھر انتخاب جیت گئے۔

منی شنکر ائیر کے گھر پر ہونے والی نشست کی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے سابق وزیرخارجہ  خورشید محمود قصوری کو ہندوستان کی ایک تنظیم نے ایک تقریب میں خطاب کی  دعوت دی۔ ان کی آمد کے موقع پر ائیر نے پاکستان کے اندر ہندی سفارتخانے میں کام  کرنے والے کچھ سابق افسران کو دعوت دی جس میں ایک سابق فوجی جنرل اورمنموہن سنگھ  بھی شریک تھے لیکن مودی جی  نےاس ملاقات کو ایک الگ رنگ میں پیش کر کے ثابت کردیا کہ منی شنکر ائیر نے ان کے بارے میں جو کچھ کہا تھا وہ بالکل  درست تھا۔ راہل نے اس کے جواب میں کہا ہے ہم گاندھی وادی ہیں۔ گاندھی جی  دشمن کے ساتھ بھی محبت کا سلوک کرتے تھے اور ہم  بھی پیار سےآپ کو گجرات میں اقتدار  سےبے دخل کرنے جارہے ہیں۔ مودی جی کو یاد رکھنا چاہیے کہ انتخاب آتے جاتے رہتے ہیں لیکن ان میں اپنائے جانے والے گھٹیا ہتھکنڈے ہمیشہ کے لیے ماتھے کا کلنک بن جاتے ہیں۔



⋆ سلیم خان

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

قدم قدم پہ ہے بستی میں وحشیوں کا ہجوم

عصر حاضر کی یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ وطن عزیز میں  ہندو بہنوں کو خود اپنے سماج سے خطرہ لاحق ہے اس لیے وہ باہر پناہ ڈھونڈتی ہیں۔ شمبھو کی نام نہاد بہن کو مثال سامنے ہے۔ شمبھو تو اس کو بنک منیجر کے پاس چھوڑ آیا لیکن اس نے بنک منیجر کو خوش کرنے کے بجائے ناراض کردیا۔ وہ گھر کی چابی دینے کا بہانہ بناکر بھاگ بھاگ کھڑی ہوئی۔ چارج شیٹ میں یہ بھی درج ہے کہ اس حرکت پر شمبھو آگ بگولہ ہوگیا اور اس نے برا بھلا کہا یا مارا پیٹا۔ اس سے ظاہر ہے کہ اگر اس عورت کو قرض درکار ہوتا یا قرض کو وہ  اپنی عصمت سے قیمتی سمجھتی تو وہاں سے فرار نہ ہوتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے