سیاست

وہ وعدے، جن کا پورا کرنا ضروری نہیں

انتخابی منشور میں کہا گیا ہے کہ 75  میڈیکل کالج کھولے جائیں گے۔ میڈیکل کالج نہ ہوئے پان کی دُکان ہوگئی۔

حفیظ نعمانی

اب تک انتخابی منشور اس پارٹی کا چھپا کرتا تھا جس کی حکومت ہوتی تھی یا اس کا جو حکومت پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کرتی تھی۔ اس وقت جو باشعور لوگ تھے ان کو یاد ہوگا کہ بے چینی سے انتظار ہوا کرتا تھا اور جب منشور آجاتے تھے تو گھنٹوں اس پر تبصرے ہوتے تھے اس لئے کہ حکمراں پارٹی نے جو کیا ہوتا تھا اس کا ذکر ہوتا تھا اور جو آئندہ کرنے کا ارادہ ہوتا تھا اس کی تفصیل ہوتی تھی۔ لیکن جب سے حکمراں پارٹیوں نے یہ طریقہ اپنالیا کہ منشور تو ایسی غزل بنادی جسے سن سن کر اور پڑھ پڑھ کر ہر کوئی واہ واہ کہے اور حکومت کے کاموں سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔ جیسے بی جے پی کا 2014 ء کا منشور کہ اگر پانچ سال کے بعد جائزہ لیا جائے تو اور بہت سے کام سامنے آئیں گے لیکن ان میں سے جن کا وعدہ کیا تھا دو چار بھی نہیں۔

اس روش سے یہ چلن ہوگیا کہ حکومت الگ چیز ہے اور منشور الگ۔ اور یہ اس کا ہی نتیجہ ہے کہ سماج وادی پارٹی جو کل 37  سیٹوں پر لڑرہی ہے وہ اگر ہر سیٹ پر جیت جائے تب بھی 543  سیٹوں میں اس کی کیا حقیقت ہے لیکن اس نے بھی اپنا انتخابی منشور چھاپ دیا ہے اور بہار کا راشٹریہ جنتا دل جو بہار میں صرف 19  سیٹوں پر لڑرہا ہے ۔ اس نے بھی منشور چھاپ دیا اب اگر ان لوگوں سے معلوم کیا جائے کہ یہ کیا مذاق ہے تو جواب ہنسی کے علاوہ اور کیا ہوگا؟

کانگریس نے اس سال بار بار کہا ہے کہ اگر ہماری حکومت بنی اگر کانگریس کی حکومت بنی یعنی وہ اُمید کررہے ہیں کہ ان کی بھی حکومت بن سکتی ہے تو ان کا منشور حق بجانب ہے لیکن یہ اندر کی بات ہے کہ وہ جانتی ہے کہ اس کی حکومت نہیں بننے دی جائے گی اس لئے اس نے وہ سب کہہ دیا جسے دیکھ کر مودی جی پریشان ہوگئے اور انہوں نے چوے چھکے مار دیئے انجام چاہے جو ہو۔

نریندر مودی نے 2014 ء میں اور اس کے بعد کالے دن کو جتنا گھسا اور رگڑا اور اس معاملے میں منھ کی کھائی اب اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے نزدیک سب سے اہم کام یہ کیا کہ ایک ہزار اور پانچ سو کے نوٹ بند کرکے دو ہزار اور پانچ سو کے نئے نوٹ جاری کردیئے۔ انہیں کوئی اندازہ نہیںتھا کہ وہ کتنا خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں اور جب اس کے نتیجہ میں سو سے زیادہ مرگئے اور سیکڑوں مرنے کے قریب ہوگئے تو انہوں نے کہا کہ مجھے صرف پچاس دن دے دو اگر ہندوستان کندن بن کر نہ نکلے تو جس چوراہے پر چاہو کھڑا کرکے سزا دے دینا۔ اور یہ حقیقت ہے کہ کندن تو کیا بنتا ہندوستان پیتل اور تانبہ کا بھی نہیں رہا جس کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ وہ خود قوم سے معافی مانگ کر الگ ہوجاتے کیونکہ یہی ان کی سزا تھی لیکن انہوں نے یہ تاثر دیا کہ اب ہندوئوں کی حکومت ہے اور اقتدار کے بھوکے ہندو گردن ڈالنا جانتے ہیں اٹھانا نہیں اس کا فائدہ اٹھاکر وہ پھر حکومت پر سوار ہوگئے۔

ایک سبق شاید وہ آر ایس ایس کلاس سے پڑھ کر آئے ہیں کہ ایک ملک ایک الیکشن ایک ملک ایک دھرم ایک ملک ایک ٹیکس اور انہوں نے پورے ملک میں ایک ٹیکس کے شوق میں جی ایس ٹی لگا دیا اور اس کے لئے ایسی تقریب کی جیسی آزادی کے لئے کی تھی لیکن وہ نوٹ بندی سے بدتر ثابت ہوئی۔ ان دونوں باتوں میں سے کسی کا ذکر منشور میں نہیں تھا۔ اور اس ٹیکس نے چھوٹے کاروباریوں کو اس جگہ پہونچا دیا کہ موجودہ منشور میں ان کے لئے پینشن کی تجویز رکھی ہے۔

ملک میں تعداد تو ہندوئوں کی زیادہ تھی ہی کاروبار بھی ان کے ہاتھ میں ہی زیادہ ہے اور نوکریاں بھی زیادہ ان کے لئے ہی ہیں۔ اس الیکشن میں اگر ہندو نے پھر مودی کو وزیراعظم بنایا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اپنی ہڈی بوٹی کٹوانے کیلئے اپنی چھری مودی کو دے گا۔ حیرت ہے کہ 100  کروڑ ہندوئوں میں سے ایک کروڑ بھی ایسے نہیںنکلے جو کہتے کہ حکومت ان ہاتھوں میں دو جن کو تجربہ ہو اور جو غلطی پر قوم سے معافی مانگیں اور جو فیصلے کئے ہیں وہ واپس لئے جائیں۔

انتخابی منشور میں کہا گیا ہے کہ 75  میڈیکل کالج کھولے جائیں گے۔ میڈیکل کالج نہ ہوئے پان کی دُکان ہوگئی۔ ہم نے صرف ایک میڈیکل کالج اور کینسر اسپتال کے بننے کی کہانی پڑھی ہے وہ عمران خان نے اس وقت بنایا تھا جب وہ ملک کے محبوب کھلاڑی تھے انہوں نے لکھا ہے کہ بار بار سوچتا تھا کہ ارادہ ملتوی کردوں اور لوگوں کے چندے واپس کردوں پھر ماں کا تڑپ تڑپ کر مرنا یاد آتا تھا۔ برسوں کی محنت کے نتیجہ میں ایک کینسر اسپتال بن سکا لکھنؤ میں دیکھتے دیکھتے کئی یونیورسٹیاں بن گئیں اور کئی میڈیکل کالج مگر سب مل کر کیا ایک کنگ جارج میڈیکل کالج بن سکے؟

منشور جاری ہونے کے بعد وزیر مالیات جیٹلی نے کہا کہ یہ پہلی حکومت ہے جس نے متوسط طبقہ کو مضبوط کیا ہے اور غربت سب سے زیادہ تیزی سے کم ہوئی ہے۔ مودی جی نے اصل میں ان کو جھوٹ پر تالی بجانے کے لئے وزیر بنایا ہے۔ تاریخ یہ ہے کہ 1952 ء سے اب تک ایسی حکومت نہیں آئی جس نے اس بری طرح ملک کو تباہ کیا ہو یہ اس کا کارنامہ ہے کہ بے روزگاری 45  فیصدی ہوگئی ہے کسانوں نے جتنی خودکشی 20  سال میںنہیںکی اتنی مودی سرکار کے زمانہ میں کیں اور یہ صرف مودی کی حکومت میں ہوا ہے کہ ہر دن پیٹ پیٹ کر مار ڈالنے کی وارداتوں میں روز اضافہ ہورہا ہے۔ پانچ سال میں ملک جس قدر برباد ہوا ہے اگر اسے سنبھالنے کیلئے تجربہ کار ہاتھ نہ آئے تو ہر گھر میں خودکشی کی وارداتوں کی خبر سن لیجئے گا۔ اس لئے کہ ممبر پارلیمنٹ ہیمامالنی کو نوٹ بندی کے سال میں تین کروڑ بارہ لاکھ کا منافع ہوا جو فلم سے نہیں سیاست سے تھا اور ہر ممبر کروڑپتی ہوگیا یہ مودی جی بتائیں گے کہ کیوں؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close