سیاست

پارلیمانی انتخابات: اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں

مفتی محمد صادق حسین قاسمی

        پارلیمانی انتخابات کا وقت اب بالکل قریب آچکا ہے، چند دنوں بعد الیکشن ہوگا، اورلوگ اپنے حق ِ رائے دہی کا استعمال کرکے ایک نئی تاریخ رقم کریں گے۔ انتخابات اس سے قبل بھی ہوئے اور لوگوں نے اپنے ووٹ کو استعمال کیا لیکن2019کے یہ انتخابات ملک کے لئے انتہائی فیصلہ کن ہوں گے، ملک کی باشعور عوام کی فراست و دوراندیشی کاامتحان ہوگا، ملک کی سالمیت اور اس کے جمہوری نظام کے بقا کی فکر کرنے والوں کے لئے یہ الیکشن اہم ترین ہے۔ زبانی نفر ت کااظہار تو بہت لوگوں نے کیا، چار سالہ دور ِ حکومت کی خامیوں کو ڈھونڈڈھونڈکر زبان وقلم کے ذریعہ بیان کیا اور زیادتیوں پر ہر شہری پریشان ضروررہا، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ صرف زبانی شکوہ وشکایت کے بجائے ملک کی سلامتی اور امن وآشتی کے لئے اور یہاں کی محبتوں بھری فضاکی حفاظت اور گنگاجمنی تہذیب کے تحفظ کے لئے میدان ِ عمل میں جدوجہدکریں۔

    ہمار املک بھارت امن ومحبت کا گہوارہ ہے اور یہاں مختلف مذاہب کے ماننے، الگ الگ رنگ ونسل سے تعلق رکھنے والے، جدا جدا زبان بولنے والے، متنوع تہذیبوں کے حامل لوگ بستے ہیں، اس ملک میں تقریبااناسی مذاہب اور سات سو تین قبائل اور برادری کے لوگ آباد ہیں، جن کی اپنی سیکڑوں زبانیں ہیں، یقینا یہ اس ملک کا امتیاز اور اس کی خوبصورتی ہے۔ لیکن گذشتہ چند سالوں سے اس ملک میں نفرت کا زہر گھولنے اور امن ومحبت کے ماحول کو خراب کرنے کی پوری کوشش کی گئی، اس ملک کی تہذیب وثقافت کو ختم کرکے ایک ہی رنگ میں سب کو رنگنے اور ایک ہی قانون میں سب کو باندھنے کے لئے بہت کوششیں ہوئی ہیں، او ر اب ہمارا یہ پیار املک پھر ایک مرتبہ دوراہے پر کھڑا ہے، اسے بچانا ہے، اس کی سلامتی کی فکر کرنا ہے، ظلم وتشدد کے ہاتھوں سے اسے محفوظ رکھنا، نفرت وتعصب کے سوداگروں کے حوالے ہونے سے بچاناہے، اور پیار ومحبت کے ماحو ل کو برقراررکھنے، ہندومسلم، سکھ عیسائی اتحاد کو باقی رکھنے کی فکر کرنا ہے۔

    آپ اگر ایک نظر ڈالیں تو معلوم ہوگاکہ بطور خاص گزشتہ چار سالوں سے ہمارا ملک کن سنگین حالات کا شکار رہا تو معلوم ہوگا کہ مہنگائی نے ہر ایک شہر ی کو پریشان کر رکھا ہے، تعلیم یافتہ نوجوان روز گار کے لئے در بدر پھررہے ہیں لیکن ان کا کوئی پرسال حال نہیں، گاؤ رکھشا کے نام پر بے قصور مسلمانوں کو ظلم وبربریت کا نشانہ بنایاگیااور سرعام پر پیٹ پیٹ کر قتل کردیاگیا لیکن اب تک ان خاطیوں اور مجرموں کے خلاف مضبوط کاروائی نہیں ہوئی، ملک کے لٹیرے ہمار ی جمع پونجی لوٹ کر راہ ِ فرار اختیارکرتے گئے اور تمام شہریوں کا پیسہ، ان کی محنت کی کمائی ملک غداروں کے حوالے ہوگئی۔ موب لنچنگ کے ذریعہ مردوں، عورتوں، نوجوانوں اور بوڑھوں پر مظالم ڈھائے گئے، بنیادی مسائل اور ضروری چیزوں کی یکسوئی کے بجائے غیر ضروری اور فضول چیزوں پر قومی خزانہ بربادکیاگیا۔ مذہب کے نام پر سیاست کو فروغ دیاگیا، یکساں سول کوڈ جیسے مسائل کو اٹھاکر رنگارنگی کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی، شریعت اسلامی اور مسلم پرسنل لا بے جا مداخلت کرکے نظام ِ طلاق وغیر ہ پر حملہ کیا گیا، مسلم عورتوں کے ساتھ ہمدردی کے نام پرمسلم پرسنل لامیں ترمیم کی ناپاک کوشش کی گئی، بابری مسجد کے مسئلہ کو باربار اٹھاکر ملک کو خانوں میں تقسیم کرنے اور ہندومسلم یکجہتی کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی، سکولوں میں نصاب ِ تعلیم میں تبدیلی کو بھی بروئے کار لایاگیا، مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے والے اور ملک کی سالمیت کو تہس نہس کرنے والوں پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں کی گئی، میڈیا کے ذریعہ جھوٹے پروپیگنڈوں کوفروغ دیاگیا، سچ کو جھوٹ اور غلط کو صحیح بتانے کے لئے میڈیا کا بھرپو استعمال ہوا، اور میڈیا کی حالت یہ ہے کہ ضروری مسائل کونظرانداز اور غیر ضروری پر شوروہنگامہ برپاکیاجاتا ہے۔ اور نہ ہی اس طرح کی بیان بازیوں سے باز رکھا گیایہ اور اس جیسے بہت سے حالات سے گزشتہ چار سالوں سے پورا ملک اور بالخصوص مسلمان گزرے ہیں۔

    اس ملک کو جمہوری طرز پر تعمیر کرنے کے لئے بڑی جدوجہد کی گئی، کیوں کہ یہاں مختلف قسم کے لوگ بستے ہیں، یہ ملک سب کی ترجمانی کرتا ہے، اسی لئے اس ملک کو جمہوری بنانے کے لئے قانون سازوں نے بہت محنتیں کی ہیں اوراس ملک کے آئین میں لکھا ہوا ہے کہ:’’ہندوستان خود کو آزاد، سماج وادی اور جمہوری قراردیتا ہے، اس کے ذریعہ تمام شہریوں کے لئے معاشی، سماجی اور سیاسی انصاف بروئے کار لایاجائے گا، اظہارِ خیال کی آزادی، عقیدہ، مذہب اور عبادت کی آزادی دی جائے گی، مواقع او ر معیار میں مساوات قائم کی جائے گی، انفرادی تشخص اور احترام کو یقینی بنایاجائے گااور ملک کی سالمیت اور یک جہتی کو باقی رکھا جائے گا۔ ‘‘ اس کے باوجود ہم دیکھ رہے ہیں کہ ملک کو ہندوراشٹر بنانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ ان حالات کے درمیان پارلیمانی انتخاب کا آنا نہایت حساس اور نازک معاملہ ہے، اس سلسلہ میں ہر شہری کو بیداری اور اپنی بھرپور سمجھ داری کا ثبوت پیش کرنا ضروری ہے۔

     بقول ایک قلم کار ’’اس وقت ملک میں مجموعی طور پر تقریبا 1703سیاسی پارٹیاں ہیں، جن میں 6 قومی اور54صوبائی مشہور سیاسی پارٹیاں ہیں، ان کے علاوہ رجسٹرڈغیر معروف سیاسی پارٹیوں کی تعداد تقریبا 1643ہے۔ ‘‘ہر پارٹی اپنے مفاد اور اغراض کے تحت کام کرتی ہے، اس میں کوئی بالکل مخلص اور ہمدردتو نہیں ہے، کسی میں کچھ شدت کم ہے تو کسی میں کچھ زیادہ، کچھ مضر ہے تو کسی میں ؤضررکم ہے، کسی کا شر بڑھاہواہے تو کسی کا کم۔ اس طرح ملک کی سیاست چل رہی ہے اور دو مشہور پارٹیاں اقتدارپر فائز رہی ہیں۔ اب ان حالات میں ہمارے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ملک کے دستورکو بچایا جائے، اس کی سالمیت کی فکر کی جائے اور یہاں کے امن وامان کو محفوظ رکھنے کے لئے مؤثر اقدام کیاجائے۔ ظلم وتشدد کے عادی اور نفرت کے سوداگروں سے ملک کو بچانا اس وقت کا سب سے بڑا چیلنج ہے، اور یہ چیلنج صرف مسلمانوں ہی کے سامنے نہیں ہے بلکہ تمام اقلیتوں کو درپیش ہے اگر انہیں اپنا تحفظ اور اپنی بقامقصود ہے اور اس ملک کے جمہوری سانچے کو برقرار رکھنا ہے تو پھر نفرت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا ہوگا۔

     اس کے لئے ووٹ ہماری طاقت ہے، ووٹ ہماری قوت ہے اور ووٹ کے ذریعہ ہی ہم انقلاب برپاکرسکتے ہیں، جمہوری ملک میں ووٹ ہی کے ذریعہ اپنے لیڈر کا انتخاب کیاجاسکتاہے۔ اس لئے الیکشن کے دن کسی بھی طرح ہم اپنے ووٹ کا ضرور استعمال کریں، اور متحدہ طور پر اپنے ووٹ کو ڈالیں، ایسا نہ ہو کہ ہمارے ووٹ بکھر جائیں اور اس کا فائدہ ایسے لوگوں کو ہوجائے جو ملک کے حق میں مفید نہیں بلکہ نقصان دہ ہیں، اورسیکولرجماعتوں کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کریں۔ ووٹ ڈالنا جس کو عام طور پر صرف ایک دنیوی کام اور سیاسی عمل سمجھاجاتا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ووٹ کا صحیح استعمال کرنا شریعت کی روشنی میں ایک دینی عمل بھی ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ:شرعی نقطہ ٔ نظر سے ووٹ کی حیثیت شہادت اور گواہی کی سی ہے، اور جس طرح جھوٹی گواہی دینا حرام اورناجائز ہے، اسی طرح ضرورت کے موقع پر شہادت کو چھپانا بھی حرام ہے۔ سرورکونین ﷺ نے ارشاد فرمایا:الناس اذاراؤوالظالم فلم یاخذواعلی یدیہ اوشک ان یعمھم اللہ بعقاب۔ ( جمع الفوائد:۲/۵۱)’’اگرلوگ ظالم کو دیکھ کر اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعالی ان سب پر اپنا عذاب ِ عام نازل فرمائیں۔ ‘‘اگر آپ کھلی آنکھوں دیکھ رہے ہیں کہ ظلم ہورہا ہے، اورانتخابات میں سرگرم حصہ لے کر اس ظلم کو کسی نہ کسی درجے میں مٹانا آپ کی قدرت میں ہے تو اس حدیث کی رو سے یہ آپ کا فرض ہے کہ خاموش بیٹھنے کے بجائے ظالم کا ہاتھ پکڑ کراس ظلم کوروکنے کی مقدور بھر کوشش کریں۔ ووٹ ڈالنے کے سلسلہ میں بہت سارے لوگ غفلت برتتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ صرف میرے ایک کے ووٹ نہیں ڈالنے سے کیا ہوگا؟مفتی محمد تقی عثمانی اس بارے میں لکھتے ہیں : بعض لوگ یہ بھی سوچتے ہیں کہ لاکھوں ووٹوں کے مقابلے میں ایک شخص کے ووٹ کی کیا حیثیت ہے؟اگر وہ غلط استعمال بھی ہوجائے توملک وقوم کے مستقبل پر کیااثر انداز ہوسکتا ہے؟لیکن خوب سمجھ لیجیے کہ اول تو اگر ہرشخص ووٹ ڈالتے وقت یہی سوچنے لگے تو ظاہر ہے کہ پوری آبادی میں کوئی ایک ووٹ بھی صحیح استعمال نہیں ہوسکے گا، پھر دوسری بات یہ ہے کہ ووٹوں کی گنتی کا جو نظام ہمارے یہاں رائج ہے اس میں صرف ایک ان پڑھ، جاہل شخص کا ووٹ بھی ملک وملت کے لئے فیصلہ کن ہوسکتا ہے، اگر ایک بے دین، بدعقیدہ اوربدکردار امیدوار کے بیلٹ بکس میں صرف ایک ووٹ دوسرے سے زیادہ چلاجائے تو وہ کامیاب ہوکر پوری قوم پر مسلط ہوجائے گا۔ اسی طرح بعض اوقات صرف ایک جاہل اوران پڑھ انسان کی معمولی غفلت، بھول چوک یابددیانتی بھی پورے ملک کو تباہ کرسکتی ہے۔ اس لئے مروجہ نظام میں ایک ایک ووٹ قیمتی ہے اور یہ ہر فرد کا شرعی، اخلاقی، قومی اور ملکی فریضہ ہے کہ وہ اپنے ووٹ کوا تنی ہی توجہ اوراہمیت کے ساتھ استعمال کرے جس کاوہ فی الواقع مستحق ہے۔

          اپنی مکمل محنت اور کوشش کے ساتھ اللہ تعالی سے دعا بھی کرتے رہناچاہیے کہ وہ امن پسند، انسانیت نواز، ملک وقوم کے ہمدرد افراد کو تختۂ حکومت پر فائز کرے۔ ہر چیز اللہ ہی کے قبضہ ٔ قدرت میں ہے، ظاہری کوشش، فکر اور عمل کے ساتھ ان شاء اللہ دعائیں اور التجائیں اس ملک کی سلامتی کے لئے ایک نیا انقلاب برپاکرے گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close