سیاست

پانچ سو بمقابلہ پانچ کروڑ

حفیظ نعمانی

تین طلاق آرڈی نینس کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ میں ایک عرضی داخل ہوگئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ آرڈی نینس غیرقانونی طریقہ سے لایا گیا ہے جس میں مسلم مردوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو اُن کے بنیادی حقوق پر ایک ضرب ہے۔ ہندوستان کے وزیر قانون روی شنکر پرساد نے آرڈی نینس پر ان کا شکریہ ادا کرنے کے لئے آنے والی بے غیرت خواتین سے کہا تھا کہ تین طلاق کا مسئلہ سیاست کا موضوع ہے اور نہ ووٹ کا۔ وزیر موصوف نے کہا تھا کہ یہ عبادت اور مذہب کا بھی موضوع نہیں ہے۔ یہ صرف خواتین کا احترام اور تحفظ سے متعلق معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی چاہتی ہے کہ مسلم خواتین کامیابی کی ہر اونچائی کو چھوئے کیونکہ ان کی پارٹی ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ کی پالیسی پر چل رہی ہے۔ مرکز کے کسی بھی محکمہ کے وزیر کو ایسا ہونا چاہئے کہ اس جیسے ملک میں دوچار ہی اور ہوں لیکن مودی جی نے وزیر بناتے وقت جو کچھ بھی دیکھا ہو معیار نہیں دیکھا۔ شری روی شنکر پرساد کو ہم نے سب سے پہلے اس وقت دیکھا تھا جب وہ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ میں بابری مسجد رام مندر مقدمہ کا فیصلہ سن کر باہر آرہے تھے اور انگلی سے فتح کا نشان V  بناکر باہر نکلے تھے جبکہ فیصلہ یہ ہوا تھا کہ زمین کا ایک تہائی ان کو ملا تھا اور ایک تہائی ہی سنی وقف بورڈ کو ملا تھا پھر فتح کیسے ہوگئی؟

اب وہ وزیر قانون ہیں تو ایسے ہی قانون بھی بنا رہے ہیں اور ایسے ہی بیان دے رہے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ تین طلاق نہ عبادت ہے نہ مزہب عبادت تو ظاہر ہے کہ نہیں ہے لیکن مذہب کیوں نہیں ہے۔ جبکہ یہ صرف مذہب ہے اور اسی لئے مسلمانوں کا مطالبہ ہے کہ ہمارے مذہبی معاملات میں پرساد جی کو دخل دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اور جب وہ بل راجیہ سبھا میں ہے تو ان کے اوپر کس کا دبائو تھا کہ اگر آرڈی نینس نہیں آیا تو ملک ڈانواڈول ہوجائے گا؟

وزیر قانون روی شنکر پرساد نے مشہور اخبار تہلکہ کی خصوصی نمائندہ رعنا ایوب کی کتاب ’’گجرات فائلس‘‘ ضرور پڑھی ہوگی اس میں رعنا ایوب نے 2007 ء کے گجرات الیکشن کے بارے میں لکھا ہے کہ (وہ ایک ریلی کے موقع پر وہاں جانے میں کامیاب ہوگئیں۔ مودی تقریر کررہے تھے کہ سہراب الدین جیسے آتنک وادیوں کے ساتھ میںکیا کروں؟ ہجوم جھوم اُٹھا اور کہا مار ڈالو مار ڈالو۔ اگلی قطار میں موجود عورتیں تالیاں بجانے لگیں۔ پہلی قطار ہمیشہ عورتوں کے لئے خاص رکھی جاتی تھی کیونکہ ایسا مانا جاتا تھا کہ گجراتی خواتین کے درمیان مودی زیادہ مقبول ہے۔ کالم نگار آکار پٹیل نے ایک کالم میں لکھا ہے کہ گجراتی خواتین کے لئے مودی جنسی علامت (Sex Symbol)  کی حیثیت رکھتا ہے۔)

ہم کیسے مان لیں کہ یہ خصوصیت گجراتی خواتین تک محدود ہے شمالی ہندوستان کی ان مسلم عورتوں میں کیوں نہیں ہے جو نام کے لئے تو تین طلاق کی ماری ہیں لیکن پوری نئی دہلی میں اس طرح گھومتی نظر آتی ہیں جیسے مقابلہ حسن میں شرکت کے لئے بلائی گئی ہیں۔ شریعت نے عورت کو حکم دیا ہے کہ وہ جسم کے کن حصوں کو پوری طرح چھپائے اور کس حصہ کو اہم ضرورت کے وقت کھلا رہنے دے اور ان میں سے اکثر وہ ہوتی ہیں جن کو طلاق اس لئے دی جاتی ہے کہ کوئی غیرمرد ان کے لئے جنسی علامت تھا۔ وزیرقانون بھی مرد ہیں اور انہوں نے بھی ضرور سنا ہوگا کہ جیسے مردوں میں بعض عیاش ہوتے ہیں اسی طرح عورتوں میں بھی کچھ عورتیں عیاش ہوتی ہیں اور ان کی یہی عیاشی اکثر طلاق کا سبب بنتی ہے۔

وزیر قانون اور ان کی حکومت کے ساتھی وزیروں کو یہ سوچنا چاہئے کہ یہ کیسا عجیب فیصلہ ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد جب ایک بار میں تین طلاق دینے سے طلاق نہیں ہوئی تو صرف کہہ دینے کی سزا تین سال کیا جائز ہے؟ یہ تو ہر وکیل جانتا ہے کہ اگر کسی کو اتنا مارا جائے کہ اس کا چلنا پھرنا مشکل ہوجائے مگر کوئی ہڈی نہ ٹوٹے تو دفعہ 324  نافذ نہیں ہوگی اور مارنے والے کو کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔ لیکن اس آرڈی نینس کے بعد تین بار طلاق دینا مارپیٹ سے بھی بڑا جرم ہوگیا؟ اس بات کو روی شنکر پرساد بار بار کہہ چکے ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد اتنے لوگوں نے طلاق دی۔ ہم مانے لیتے ہیں کہ طلاق دی تو اس کا کیا بگڑ گیا جو شوہر کو تین سال کی سزا دے دی جائے گی؟ ٹی وی کے ہر مذاکرے میں ہر بڑا وکیل اس بات پر روتا ہے کہ حکومت نے گینگ ریپ کی اور قتل کی سزا پھانسی کی تو ہے مگر مقدمہ کا فیصلہ اسی رفتار سے سفر کرتا ہے کہ دس برس لگ جاتے ہیں مگر پھانسی نہیں ہوتی۔ لیکن طلاق کے لفظ کو زبان سے کہنا ہر جرم سے زیادہ سخت جرم ہوگیا۔ یہی ہیں وہ عنایتیں جو وزیراعظم اور وزیر قانون ان آزاد فطرت گنتی کی مسلم کہی جانے والی حسن فروشوں پر کررہے ہیں۔

مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ویمنس وِنگ کی صدر ڈاکٹر اسماء زہرا نے طلاق دینے والے شوہر کو سزا دینا سراسر غیرانسانی اور ظالمانہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے پانچ کروڑ سے زیادہ مسلم باپردہ دیندار خواتین کے دستخط کے ساتھ لاء کمیشن کو محضر پیش کیا ہے جس میں مطالبہ کیا ہے کہ تین طلاق کے خلاف نہ قانون بنایا جائے نہ آرڈی نینس لایا جائے۔ ڈاکٹر زہرا نے بتایا کہ ملک میں 250  سے زیادہ ریلیاں مسلم خواتین نے نکالیں اور حکومت کے فیصلہ کے خلاف احتجاج کیا۔ وزیراعظم اور وزیر قانون کے نزدیک ان پانچ کروڑ کی حیثیت اس لئے نہیں ہے کہ وہ سج بن کر میک اپ کرکے سینہ تانے ہوئے مسکراتی ہوئی ان کے سامنے نہیں آئیں اس لئے کہ وہ مسلمان ہیں اور شریعت کے حکم کے مطابق پردہ کرتی ہیں۔

وزیراعظم اور وزیر قانون شوق سے جو چاہیں قانون بنائیں لیکن ان کتابوں کا مطالعہ کرلیں جن میں مسلمان عورت کو یہ بتایا گیا ہے کہ وہ بالغ ہونے کے بعد کیا کرے اور کیا نہ کرے؟ جو حضرات ان کتابوں کو پڑھیں گے تو انہیں نظر آئے گا کہ اگر کوئی عورت گھر میں اکیلی ہے اور کوئی دروازہ پر آیا ہے وہ چاہے اس کے شوہر کا دوست ہی ہو اس سے بھی روکھے انداز میں سوال جواب کرے نہ آواز میں کشش ہو اور نہ لہجہ میں اپنائیت وہ اگر بھابھی کہہ کر مزید بات کرنا چاہے تو کہہ دے کہ آپ شام کو پانچ بجے کے بعد آئیں۔ اگر مسلمان عورتوں کے احترام اور تحفظ کی فکر ہے تو ان پانچ کروڑ کی کریں۔ ان کی کیا فکر جو اپنی بات منوانے کے لئے اپنے جسم کے ہر عضو کو دکھاکر اپنا مطلب نکال لیتی ہیں اور جو رکاوٹ بنے اسے تین سال کی سزا کرادینے پر آمادہ ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close