سیاستطنزو مزاح

پرنب مکھرجی اور اڈوانی جی

زندگی بھر مخالفت کرنے کے بعد  اس عمر میں سنگھ  کے مرکز ناگپور پہنچ جانا ،جس تھالی میں کھایا اب اسی میں سوراخ کردیناکوئی معمولی بات ہے۔

ڈاکٹر سلیم خان

یار للن دیکھا تم نے مجھے  پرنب دا سے  اس  طرح  مکر نے کی توقع نہیں تھی۔

ان کا تو نام ہی مکرجی  ہے۔ اب اگر انہوں نے اسم بالمسمیٰ کوئی کام کردیا تو تمہیں حیرت کیوں ہے ؟

زندگی بھر مخالفت کرنے کے بعد  اس عمر میں سنگھ  کے مرکز ناگپور پہنچ جانا ،جس تھالی میں کھایا اب اسی میں سوراخ کردیناکوئی معمولی بات ہے۔

ارے اس میں کون سی بڑی بات ہے ؟ وہ تو بلانے پر گئے ہیں ورنہ ہمارے پردھان سیوک تو بن بلائے پاکستان پہنچ جاتے ہیں۔

پاکستان کی بات الگ  ہے۔ وہ ہمارا سیاسی حریف تھوڑی نا ہے۔یہ تو سیدھے ہاتھ جھٹک کر کمل تھامنے والی بات ہوگئی۔

ہاں ہاں تو اس میں حرج کیا ہے۔ کانگریس نے دو مرتبہ  انہیں محروم رکھا اور تیسری مرتبہ سے قبل پتہ ہی کاٹ دیا۔

میں سمجھا نہیں للن بھیا۔

ارے بھائی اندرا گاندھی کے بعد پرنب دا کو امید تھی کہ کم ازکم انہیں انتخاب تک کارگذار وزیراعظم ہی بنادیا جائے گا لیکن کانگریس نے راجیوگاندھی کو آشیرواد دے دیا۔ اس کے بعد جب اکثریت سے محروم رہی  تو منموہن جیسے ناتجربہ کار سیاستداں  کو وزارت عظمیٰ کی باگ ڈور سونپ دی  اور پرنب دا ہاتھ ملتے رہ گئے۔  اس ناراضگی کا انتقام پرنب دا نے ہیڈگیوار کے چرنوں کو چھو کر لے لیا۔

یہ تم سے کس نے کہہ دیا کہ پرنب دا کو وزیراعظم نہیں بننے کا قلق تھا  ؟

بھائی کلن اس حقیقت کا ا عتراف خود منموہن نے اپنی کتاب میں کیا کہ پرنب دا مجھ سے زیادہ اس عہدے کے مستحق تھے۔

اچھا تو سونیا  جی نے کیوں ان کو محروم رکھا ؟

بھئی وفاداری کا معاملہ تھا انہیں شبہ رہا ہوگا کہ  راہل کی خاطر پرنب دا کرسی خالی نہیں کریں گے اسی لیےصدر بناکر وہ کانٹا مستقل  نکال دیا گیا۔

کلن بولا لیکن جو ہوچکا سو ہوچکا اب آخری عمر میں قلابازی کھانے سے کیا حاصل؟

دیکھو کلن یہ  بھی  توہوسکتا ہے آئندہ سال اگر بی جے پی کو اکثریت نہ ملے۔ یو پی اے پر شب خون مارنے کے لیے ممکن ہے سنگھ  پرنب کو آگے بڑھائے۔کم ازکم علاقائی عصبیت کے چلتے ممتا بنرجی اپنے ۳۰ ارکان کے ساتھ آہی جائیں گی۔ ہوسکتا ہے کچھ اور موقع پرست بھی اپنا چولا بدل لیں۔

لیکن اس کے جواب  میں اگر این ڈی اے کے اندرسیندھ لگانے کے لیے یو پی اے والے اڈوانی جی کو اپنا امیدوار بنا لیں تو کیا ہوگا؟

ارے یہ تو نہایت خطرناک امکان ہے اس لیے کہ اڈوانی جی نام پر تو بی جے پی کے اندر پھوٹ بھی پڑ سکتی ہے۔ مارگ درشک منڈل کے سارے ستائے ہوئے لوگ ان کی آڑ میں مودی  جی اور شاہ جی پر اپنی بھڑاس نکا لیں گے۔ نتیش کمار  ادھو ٹھاکرے جیسے حلیف تو پلک جھپکتے پالا بدل لیں گے۔

یار مجھے تو یہ سب خیالی باتیں لگتی ہیں۔ اپنی عمر کے اس حصے میں یہ بوڑھے گھوڑے کیا قوم کا رتھ کھینچ پائیں گے ؟

۹۲ سالہ مہاتیر محمداگر ملیشیا کے وزیراعظم بن سکتے ہیں تو مکرجی اور اڈوانی جی کے لیے کیا مشکل ہے؟ عیش ہی تو کرنا ہے حکومت تو افسر شاہی چلاتی ہے۔

مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close