سیاست

پرینکا، راہل کا نہیں سونیا کا پتہ ّ ہیں

حفیظ نعمانی

پرینکا گاندھی کی انتخابی جنگ میں تلوار باندھ کر شرکت کو جس نظر سے بھی جو کوئی دیکھے اور نتیجہ جو بھی نکالے اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ لیکن ہمارا خیال ہے کہ یہ کارنامہ راہل گاندھی کا نہیں ان کی ماں سونیا گاندھی کا ہے۔ جو برسوں سے راہل گاندھی کو مل مل کر لیڈر بنا رہی تھیں اور راہل بابا کبھی دائیں بھاگ جاتے تھے کبھی بائیں کبھی نامعلوم جگہ چلے جاتے تھے کبھی بتاکر جاتے تھے کہ کہاں جارہے ہیں لیکن ذمہ داری لینے پر آمادہ نہیں ہوتے تھے۔

پرینکا گاندھی اس وقت سے جب وہ صرف 26  برس کی تھیں عوام کے لئے اندرا گاندھی کی کاربن کاپی تھیں اور رہ رہ کر مختلف شہروں میں مطالبہ ہوتا تھا کہ پرینکا جی کو لائو۔ سونیا گاندھی اعصاب کی اتنی مضبوط نکلیں کہ انہوں نے کانگریس کو لوک سبھا میں 44  سیٹوں پر اترتا دیکھا اور اترپردیش میں سات سیٹوں پر سمٹتا دیکھا لیکن پرینکا کا پردہ نہیں توڑا اور راہل کو ہی لڑاتی رہیں آخرکار انہوں نے 15  برس میں مل مل کر راہل کو ایسا لیڈر بنالیا کہ آدھے سے زیادہ ملک مودی کے مقابلہ پر راہل کو ماننے لگا اور یہ صرف سونیا گاندھی کی محنت تھی کہ راہل نے بی جے پی کے حلق میں ہاتھ ڈال کر تین صوبے نکال لئے اور کرناٹک میں بی جے پی کے شاطر اُمیدوار یدورپا سے ان کے حلف لینے کے بعد بھی ان سے حکومت لے لی۔

ان فتوحات کے بعد سونیا کو اطمینان ہوگیا کہ اب اگر پرینکا عوام کے دل کی ملکہ بن بھی گئی تو اوپر ہاتھ راہل کا ہی ہوگا اور ان کو جو ڈر رابرٹ وڈیرا کی طرف سے ہے اس کا مقابلہ راہل آسانی سے کرلے گا۔ پرینکا کو ترپ کے پتہ کے طور پر راہل نے نہیں سونیا نے پھینکا ہے اب ان کی کوشش ہے کہ وہ اپنی زندگی میں پارٹی کا وہ نقصان جو انہوں نے بیٹے کی محبت میں کیا ہے اپنی قربانی اور بیٹی کے ذریعہ پورا کردیں۔ جن تین صوبوں میں راہل نے حکومت بنوائی ہے ان میں ایک بھی وزیراعلیٰ کالے بال والا نہیں ہے۔ اس کے بارے میں بھی ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ سونیا گاندھی کا مشورہ ہے۔ کیونکہ اسی گھر میں جب سنجے گاندھی کا اقتدار تھا تو ان کے تمام وزیر کالے بال والے تھے سجن کمار، کمل ناتھ، اکبر ڈمپی وغیرہ وغیرہ یہ سب سنجے کی فوج ہے۔ پھر جب راجیو گاندھی کا زمانہ آیا تو ارون نہرو، ویر بہادر اور ددن اسکول میں ان کے ساتھ پڑھنے والے دوستوں کو اقتدار سونپا۔ یہ سونیا کی دور اندیشی ہے کہ انہوں نے راہل کے ہاتھوں سفید بال والوں کو وزیراعلیٰ بنواکر پوری کانگریس کو یہ پیغام دے دیا کہ جو راجیو گاندھی کے زمانہ میں کانگریس میں تھے ان کو پوری عزت دی جائے گی۔

اترپردیش میں 2017 ء میں جو غلام نبی آزاد نے اور راج ببر نے کیا اس کا یہ انجام تو پہلے ہونا چاہئے تھا لیکن سیاست کا تقاضہ یہی تھا کہ سانپ مرجائے اور لاٹھی نہ ٹوٹے۔ اب غلام نبی آزاد ہریانہ میں آرام کریں اور دو نوجوانوں کو اترپردیش میں کانگریس کو دوبارہ زندہ کرنے دیں۔ یہ بات اکھلیش یادو اور مایاوتی سے کرنے کی ہے کہ جو لوگ واقعی لوک سبھا کا الیکشن لڑنے کی حیثیت رکھتے ہیں اور اپنے حلقے میں جانے بھی جاتے ہیں ان میں ایسے بہت ہیں جن کو آپ دونوں ٹکٹ نہیں دیں گے اور وہ ہمارے پاس آئیں گے۔ اگر ہم نے مایوس کیا تو شیوپال، اویسی اور راجہ بھیا سے ٹکٹ لے لیں گے لیکن لڑیں گے ضرور۔ اب اگر آپ دونوں دوبارہ غور کرلیں اور کانگریس کو اس کا معقول حصہ دے دیں تو جب ایک اُمیدوار کو تین بڑی پارٹیوں کی حمایت حاصل ہوجائے گی تو ایسے شوقین حضرات کی لاکھوں روپیہ پھونکنے کی ہمت نہیں ہوگی۔

یہ بات سب جانتے ہیں کہ آتش بازی ڈھول نگاڑے بجاکر آگئی آگئی رانی بٹیا آگئی کا شور مچانے کے لئے سو دو سو آدمی کافی ہیں لیکن 15  لاکھ ووٹروں کے دل میں بیٹھے چہروں کو وہاں سے کھرچ کر نئے چہرے کو اس کی جگہ جمانا ہنسی کھیل نہیں ہے۔ یہ تو ہوگا کہ 2014 ء میں کانگریس کے جس اُمیدوار کو پچاس ہزار ووٹ ملے تھے پرینکا بی بی کے مانگنے سے دو لاکھ مل جائیں لیکن پانچ لاکھ مل جائیں یہ ممکن نہیں ہے۔ راہل گاندھی نے پرینکا بی بی کے سپرد 47  سیٹیں کی ہیں اور 40  جواں سال قائد سندھیا دیکھیں گے پرینکا کو انہوں نے بنارس اور گورکھ پور بھی دیا ہے۔ راہل کی کوشش یہ ہے کہ بی جے پی کے مودی اور یوگی کو اترپردیش میں اتنا الجھائے رہیں کہ ملک کے دوسرے حصوں میں وہ زیادہ وقت نہ دے سکیں۔ ابھی یہ بھی فیصلہ نہیں ہوا ہے کہ سونیا جی ہمت کریں گی یا خود رائے بریلی سے لڑنے اور پرینکا کو جذباتی سیٹ اس پھول پور سے لڑائیں گی جس سے ان کے بڑے بزرگ پنڈت نہرو زندگی بھر لڑتے رہے اس کے بعد ان کی بہن نے الیکشن جیتا اور بعد میں سیٹ چھوڑ دی۔

اترپردیش سے کانگریس کو گئے ہوئے 30  سال ہوگئے اگر حساب لگایا جائے تو دو نسلیں بدل گئیں اور یہ تیسری نسل ہے جو پہلی بار ووٹ دے گی۔ اگر کوئی طبقہ کانگریس کو کھڑا کرسکتا ہے تو وہ نوجوان ہے جو پوری طرح بے روزگار ہے۔ اگر اس خبر میں کوئی صداقت ہے کہ ورون گاندھی اب بی جے پی میں گھٹن محسوس کررہے ہیں اور اپنی بہن کے ساتھ آکر اپنے خاندان کی پارٹی کو زندہ کرنا چاہتے ہیں تو نوجوانوں کے لئے کوئی پروگرام سامنے لاکر ان سے اپیل کریں یہ وہ طبقہ ہے جسے کانگریس کے بارے میں کچھ نہیں معلوم اور وہ اگر لگ گیا تو کچھ ہو نہ ہو کانگریس زندہ ہوجائے گی۔

پرینکا گاندھی رائے بریلی اور امیٹھی کے چپہ چپہ سے واقف ہیں الہ آباد ان کا نانہال ہے۔ اور سب سے زیادہ الہ آباد سے ہی ان کو سیاست میں لانے کا شور ہوتا رہا ہے اس لئے پھول پور کی سیٹ سے اگر پرینکا نہیں تو ورون گاندھی کو لڑایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بی جے پی سے ہٹ کر اپنی اچھی تصویر بنائی ہے۔ بہرحال 2014 ء کے الیکشن کو کئی اعتبار سے یاد رکھا جائے گا اور ابھی وہ بھی ہونا ہے جس کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close