سیاستہندوستان

پرینکا گاندھی کا ذکر خیر سیاسی گلیاروں میں  

  یوں  تو بہت دنوں  سے پرینکا گاندھی کا ذکر خیر کانگریس کے اندر اور باہر ہوتا رہا۔ کانگریس کے اندر کے بہت سے لوگ کانگریس کے ہائی کمان سے بار بار مطالبہ کرتے رہے کہ پرینکا گاندھی کو سیاسی سرگرمیوں  (Active Politics) میں  لایا جائے اور انھیں  کانگریس کے اندر نمایاں  مقام دیا جائے۔ خاص طور سے اتر پردیش کے لوگوں  میں  تو پرینکا گاندھی کو لانے کا جوش وجذبہ دوسری ریاستوں  سے کہیں  زیادہ تھا۔ بہار کے الیکشن کے موقع پر بھی کانگریسیوں  کا مطالبہ تھا کہ ان کو الیکشن میں  Involve(شامل)کیا جائے مگر کانگریس کے لوگوں  کے مطالبہ پر نہ تو سونیا گاندھی نے کوئی Response  ٹھیک طور پر دیا اور نہ ہی راہل گاندھی نے اسے لائق اعتنا سمجھا۔ بات آئی گئی رہ گئی۔

 سونیا گاندھی اور راہل گاندھی سے اخباری نامہ نگار جب بھی سوال کرتے تو دونوں  کی طرف سے یہی جواب آتا ہے کہ یہ پرینکا گاندھی کی خواہش پر منحصر  ہے۔ جب وہ عملی سیاست میں  آنا چاہیں  گی تو انھیں  روکا نہیں  جائے گا‘‘۔ اس طرح کے جوابوں  سے یہی اندازہ ہوتا تھا کہ اہل خاندان پرینکا گاندھی کی عملی سیاست میں  لانے سے کوئی خاص دلچسپی نہیں  رکھتے۔ یہ ایسی بات تھی جو خاندان کے اندر کے ہی لوگ زیادہ سمجھتے تھے لیکن جب کانگریس کے بڑے ذمہ داروں  کی زبان سے پرینکا گاندھی کو لانے کی بات کہی جاتی تھی تو بات بہت حد تک سمجھ میں  آجاتی تھی کہ خاندان کے مربی پرینکا گاندھی کو رائے بریلی اور امیٹھی کے محدود دائرہ میں  ہی رکھنا پسند کرتے ہیں ۔ بات یہ سمجھ میں  آتی تھی کہ سونیا گاندھی بیٹے کے آگے بیٹی کو جانے کو بہتر نہیں  سمجھتی تھیں  یا تو راہل گاندھی کے اندار اور اسٹائل سے پرینکا گاندھی کو ٹکراؤ اور تصادم کا خطرہ تھا۔ کانگریس کے باہر کے لوگوں  کی طرف سے بھی اخباروں  یا ٹی وی نیوز چینلوں  میں  یہ بات خاص طور سے آتی تھی کہ پرینکا گاندھی میں  اندرا گاندھی کی ہی طرح قائدانہ صلاحیت ہے۔ اگر ان کو کانگریس کی کمان سونپی جاتی ہے تو کانگریس کے احیا میں  مدد مل سکتی ہے۔

 بہر حال اب پردہ کے پیچھے ہی سے سہی پنجاب اور اتر پردیش میں  پرینکا گاندھی کا کردار ابھر کر سامنے آگیا ہے۔ پہلی بار کانگریسی لیڈروں  کی طرف سے پرینکا گاندھی کی خدمات کا زبردست اعتراف بھی کیا گیا۔ غلام نبی آزاد اور احمد پٹیل جیسے کانگریسی لیڈروں  نے برملا کہا کہ سدھو کو کانگریس کے اندر لانے میں  پرینکا گاندھی نے اہم رول ادا کیا جس سے کانگریس کو پنجاب میں  نئی قوت ملی اور نوجوانوں  میں  جوش و جذبہ بڑھا۔ پنجاب سے کہیں  زیادہ اتر پردیش کی سیاست میں  پرینکا گاندھی کا چرچا زور و شور سے کیا جارہا ہے۔ کانگریسی لیڈروں  نے اعتراف کیا کہ کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے اتحاد کے معاملے میں  پرینکا گاندھی نے نمایاں  رول ادا کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اکھلیش یادو اور ان کی بیوی ڈمپل یادو سے رابطہ بنائے رکھنے میں  پرینکا گاندھی اپنی طاقت جھونک دی جس کی وجہ سے اتحاد عمل میں  آیا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اتحاد ختم پر تھا کہ اسے پرینکا گاندھی نے اپنی قابلیت سے بچایا۔ اسی طرح پنجاب کے بارے میں  کہا جاتا ہے کہ سدھو اپنے حمایتیوں  کیلئے کئی سیٹیں  چاہ رہے تھے۔ اس مسئلہ کو پرینکا گاندھی نے آخری وقت میں  حکمت سے سلجھایا۔

 اب یہ بات ابھر کر سامنے آگئی ہے کہ پرینکا گاندھی میں  راہل گاندھی سے زیادہ سوجھ بوجھ ہے۔ اسے پھر کانگریسی ترجمان لیپ پوت رہے ہیں  کہ راہل گاندھی نے غلام نبی آزاد اور پرینکا گاندھی کو سماج وادی پارٹی سے رابطہ بنائے رکھنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ اب یہ چرچا چل نکلا ہے کہ اتر پردیش میں  پرینکا گاندھی انتخابی مہم میں  اہم رول ادا کریں  گی جس کا اثر اتر پردیش میں  اچھا خاصہ پڑے گا۔یوں  تو اتحاد سے ہی دو بڑی پارٹیاں  بی جے پی اور بی ایس پی کو خطرہ دکھائی دینے لگا ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ اس کا اظہار مثبت میں  کرنے کے بجائے دونوں  پارٹیوں  کے ترجمان منفی انداز سے کر رہے ہیں  کہ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کا کوئی اثر نہیں  پڑے گا کیونکہ دونوں  جز وقتی سیاست داں  ہیں ۔

پرینکا گاندھی کے عملی سیاست میں  آنے سے یقینا اثر پڑے گا مگر راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کو انھیں  اتر پردیش کی انتخابی مہم کی کمان سونپنی پڑے گی۔ اگر راہل گاندھی، اکھلیش یادو، پرینکا گاندھی اور ڈمپل یادو مل کر الیکشن مہم کو تال میل کے ساتھ جاری رکھتے ہیں  تو اس اتحاد کو بھاری اکثریت سے جیت مل سکتی ہے۔ اس اتحاد میں  اگر اجیت سنگھ کی پارٹی کو بھی کسی طرح شامل کرلیا جاتا تو اتحاد کو مزید تقویت پہنچ جاتی۔ ایک خبر یہ ہے کہ کانگریس پارٹی اجیت سنگھ کی پارٹی کو 18 سیٹیں  دے رہی تھی مگر ان کا مطالبہ ہے 32/30 سیٹوں  کا، جسے کانگریس نے نامنظور کر دیا۔ اب وہ اس قدر ناراض ہیں  کہ اے آئی ایم آئی ایم کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں ۔ اس سے ممکن ہے کہ دونوں  پارٹیوں  کو کچھ سیٹیں  مل جائیں  گی مگر ایس پی- کانگریس کے اتحاد کو نقصان پہنچے گا اور بی جے پی کو فائدہ ہوگا۔ جس اتحاد یا پارٹی سے بی جے پی کو فائدہ ہو مسلمانوں  کو ان پارٹیوں  سے دور رہنے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں  کا اصل مقصد تو یہ ہونا چاہئے کہ فرقہ پرست طاقتوں  کو ہر قیمت پر روکنے کی کوشش کی جائے۔ اے آئی ایم آئی ایم نے بہار کے ا لیکشن کے موقع پر ضد اور ہٹ دھرمی دکھائی تھی جس کی وجہ سے تمام مسلم جماعتوں  اور تنظیموں  نے مل کر بہار میں  ایسی کوشش کی کہ ایم آئی ایم کو منہ کی کھانی پڑی۔ اتر پردیش کا الیکشن بہار کے الیکشن سے بھی اہم ہے کیونکہ اتر پردیش کے الیکشن میں  ہار اور جیت سے نریندر مودی کی طاقت کا اندازہ ہوجائے گا۔ اگر مودی کی رہنمائی میں  بی جے پی کی جیت ہوتی ہے تو 2019ء کے الیکشن میں  دہلی جانے کا راستہ مودی کیلئے پھر قریب ہوجائے گا اور اگر ہار ہوتی ہے تو پھر ان کیلئے دلی دور ہوجائے گی۔ اس لحاظ سے اتر پردیش کا الیکشن 2019ء کے لوک سبھا الیکشن کی تمہید یا شروعات ہے۔ اس الیکشن کو اچھی طرح لڑنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سماجوادی پارٹی اور کانگریس اتحاد کو ہر حال میں  کامیاب بنانے کی کوشش کرنی چاہئے جہاں  بی ایس پی کے امیدوار بھاجپا کو شکست دے سکتے ہوں  وہاں  بی ایس پی کو کامیاب بنانے کی ہر ممکن کوشش کرنی ہوگی۔ جب ہی فرقہ پرستوں  کو شکست فاش ہوسکتی ہے۔ جیسے بہار اور دہلی میں  ہوئی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close