سیاست

پولس فورس کی تفتیش پر سوالیہ نشان

عبدالعزیز

جلد بازی کا کام شیطان کا کام کہا جاتا ہے اور جلد بازی کے کام سے مثبت نتائج کے بجائے منفی نتائج ہی نکلتے ہیں اور اکثر اس سے مسئلہ پیچیدہ اور سنگین ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ملک کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی اس حقیقت کو بار بار نظر انداز کرتی ہے اور اس سے کوئی سبق لینا نہیں چاہتی۔ ہریانہ کے گڑگاؤں ریان انٹرنیشنل اسکول کے سات سالہ معصوم طالب علم پرادیومن جس کا قتل ظالم نے اسکول کے غسل خانے میں کیا اس معاملے میں ہریانہ پولس نے محض چند گھنٹوں میں قاتل کا پتہ لگالیا اور اسکول بس کے کنڈکٹر اشوک کمار کو حراست میں لے لیا اور اس سے زور زبردست اعتراف جرم بھی کرالیا۔ کہا جاتا ہے کہ سیاستدانوں کے دباؤ کا بھی پولس پر اثر تھا جس کی وجہ سے سخت چھان بین اور تفتیش کے بغیر ایک غریب کنڈکٹر کو مجرم کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا۔ اس پر یہ  الزام تھوپ دیا گیا کہ اس نے پہلے معصوم طالب علم کے ساتھ جنسی بربریت کا مظاہرہ کیا اور پھر اس کا کام تمام کر دیا۔ عوام اور مقتول طالب علم کے والدین نے پرزور مطالبہ کے بعد ہریانہ گورنمنٹ نے معاملہ کو سی بی آئی کے حوالہ کیا۔ ٹھیک دو ہفتے کے بعد سی بی آئی نے اپنی تفتیش سے کنڈکٹر کو بے قصور بتایا اور ریان انٹرنیشنل اسکول کے 16سالہ لڑکا جو درجہ نہم کا طالب علم ہے اسے گرفتار کرلیا اور اس کی مدد سے وہ چھری بھی دریافت کرلی جس سے معصوم طالب علم کی جان لی گئی تھی۔

دہلی کے قریب واقع نوئیڈا کے اروشی تلوار کے قتل معاملے میں پولس فورس نے یہی جلد بازی دکھائی تھی اور گھر کے ایک غریب ملازم ہیم راج بنجارے کو گرفتار کرلیا تھا۔ بعد میں سی بی آئی نے قتل کا الزام اروشی تلوار کے والدین پر لگایا اور ان کی گرفتاری عمل میں آئی۔

 اس طرح بہت سے معاملات میں دیکھا گیا ہے کہ پولس غریب اور کمزور لوگوں کو فوراً بغیر کسی تفتیش اور چھان بین کے دبوچ لیتی ہے اورمہینوں اور کبھی کبھی برسوں اسے بغیر کسی قصور کے جیل کی مشقت اٹھانی پڑتی ہے۔ پورے ملک میں پولس ایسا لگتا ہے کہ کمزوروں کو ہی دھڑ پکڑ کرنے میں جواب دہی سے بچ جاتی ہے۔ اس لئے اس عمل کو بار بار دہراتی ہے۔

 عشرت جہاں اِنکاؤنٹر کیس کے معاملہ میں تفتیشی ایجنسی نے جو کچھ کیا ہے وہ سب کو معلوم ہے۔ اس کیس میں پولس فورس خود ملوث تھی، اس لئے نیچے سے اوپر تک ایجنسیاں آج تک پولس کے بڑے اہلکاروں کو بچانے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔ سابق ایم پی احسان جعفری اور ان کے ساتھ کئی بے گناہوں کا 2002ء میں قتل ہوا۔ ذکیہ جعفری اور کئی غیر سرکاری اداروں کی رات دن کی کوشش کے باوجود تفتیشی ایجنسیاں بڑے عہدیداروں کو بار بار کلین چٹ دے دیتی ہیں جس کی وجہ سے عدالتیں مجرم یا ملزم کو کلین چٹ دینے کا راستہ ہموار کر دیتی ہیں ۔

ملک میں جہاں بھی دہشت گردی ہوتی ہے سب سے پہلے مسلمانوں پر پولس فورس یا این آئی اے کی نظر جاتی ہے اور چند گھنٹے بھی نہیں گزرتے کہ بے قصور مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرلیا جاتا ہے، خواہ مالی گاؤں بلاسٹ ہو یا مکہ مسجد کا دھماکہ ہو یا سمجھوتہ ایکسپریس کا بلاسٹ ہو۔ مالی گاؤں دھماکہ کی چھان بین مہاراشٹر پولس محکمہ اے ٹی ایس کے انسپکٹر ہیمنت کرکرے نے جب از سر نو تفتیش شروع کی تو زعفرانی جماعت آر ایس ایس کے کئی لوگ اس میں ملوث پائے گئے۔ سب کی گرفتاریاں بھی ہوئیں لیکن 2014ء کے بعد مرکزی حکومت نے کرکرے کی تفتیش کو رد کرکے دوبارہ چھان بین کا حکم دیا جس کی وجہ سے اصل مجرم آہستہ آہستہ ضمانت پر رہا ہورہے ہیں یا انھیں پولس یا عدالت کلین چٹ دے رہی ہے۔

 ہیمنت کرکرے جیسے پولس افسر پر بھی دباؤ تھا مگر اس نے کسی دباؤ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا جس کہ وجہ سے اسے جان دے ہاتھ دھونا پڑا۔ آج 99فیصد افسران حکومت کا منہ دیکھ کر چھان بین کرتے ہیں ۔ حکومت جس کو مجرم ٹھہرانا چاہتی ہے پولس اس کو بیسیوں معاملات میں آناً فاناً ملوث کر دیتی ہے۔ کسی کو ماسٹر مائنڈ قرار دیتی ہے۔ کسی کو اصل مجرم (Main Culprit) بتاکر سالوں جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ پکڑے گئے مسلم نوجوانوں کے جب دس دس بیس بیس سال زندگی کے قیمتی دن گزر جاتے ہیں تو ان کی رہائی یہ کہہ کر کی جاتی ہے کہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے۔ یہ بے قصور ہیں ان کو باعزت طریقے سے رہا کیا جاتا ہے۔

پولس فورس کی اصلاح کیلئے کئی کمیشن بھی بنے۔ اصلاحات بھی حکومت کو پیش کئے گئے مگر کچھ ہوا نہیں ۔ آج کی پولس برطانیہ کے راج سے بھی زیادہ خراب اور ظالم ہے۔ بہت سے ججوں نے پولس فورس پر سخت ریمارک دیا ہے کہ ان کا کردار مجرمانہ ہوتا ہے۔ ظاہر ہے ایسے لوگ جو جرائم میں ملوث ہوں وہ کیسے غیر جانبدارانہ تفتیش یا چھان بین کا کام انجام دے سکتے ہیں ۔ ان کے ہاتھ تو خون سے رنگے ہوتے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close