سیاست

پکوڑوں کے بعد پان کی دُکان کا مشورہ

تری پورہ کا وزیراعلیٰ کہہ رہا ہے کہ برسوں نوکری کے پیچھے بھاگنے سے اچھا یہ ہے کہ پان کی دُکان کھول لو یا گائے پال لو پانچ دس لاکھ روپئے بینک میں جمع ہوجائیں گے۔

حفیظ نعمانی

ملک میں تری پورہ شاید سب سے چھوٹی ریاست ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی کل آبادی 50  لاکھ بھی نہیں ہے۔ اس کے سابق وزیراعلیٰ برسہابرس سے ایک کمیونسٹ تھے جن کی شہرت تھی کہ پورے ملک میں ان سے زیادہ سادہ زندگی کوئی نہیں گذارتا۔ سی پی ایم بھی اس پر فخر کرتی تھی کہ ان کے وزیراعلیٰ ایک نمونہ ہیں ان کے وزیروں کے لئے جن کا خرچ کروڑوں میں بھی پورا نہیں ہوتا۔ وزیراعظم نے اس چھوٹی سی چڑیا کو مارنے کے لئے بھی اپنی ساری توپیں لگادیں اور اس بھولی معصوم اور غریب ریاست کو فتح کرکے اس کی نمائش بھی کی اڈوانی جی اور دوسرے دن شکستہ لیڈروں کو بلاکر دکھایا کہ دیکھئے اس طرح ملک پر ملک فتح کئے جاتے ہیں؟

مگر یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ اس ریاست کی قیادت کے لئے ایک ایسے لڑکے کو بھیج دیا جس کے بالوں میں ابھی ایک بال بھی سفید نہیں ہوا ہے۔ اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کی کسی طرح کی تربیت بھی نہیں ہوئی ہے۔ اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ وسائل کی کمی اور غربت ہی کا نتیجہ تو تھا کہ تری پوری میں لوگ بھوکے اور بے روزگار تھے۔ یہ ان کی غلطی ہے کہ انہوں نے وزیراعظم مودی جی کی تقریر سن کر اس پر بھروسہ کرلیا۔ یہ سب جانتے ہیں کہ تری پورہ میں سب تعلیم یافتہ ہیں تو انہوں نے یہ کیوں نہیں دیکھا کہ مودی جی نے جن صوبوں کو فتح کیا ہے بلکہ ملک کو 2014 ء میں فتح کیا ہے تو انہوں نے کتنے کروڑ بچوں کو روزگار اور سرکاری نوکری دی جو وہ یہاں دے دیں گے؟

مودی جی نے نہ جانے کیا سوچا کہ ایک گرم خون والے نوجوان کو اس ریاست کا وزیراعلیٰ بناکر بھیج دیا جس کی قیادت ایک صوفی منش کمیونسٹ کررہے تھے اور جب وزیراعلیٰ کو ان کے وزیراعظم کی باتیں یاد دلائیں اور نوکری یا روٹی مانگی تب انہیں معلوم ہوا کہ وہ خود ہی پیٹ بھرکر کھالیں تو غنیمت ہے۔ انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ نوکری تلاش کرنے میں وقت خراب نہ کرو اچھا یہ ہے کہ پان کی دُکان کھول لو انہوں نے مزید کہا کہ اگر گائے پال لیتے تو پانچ دس لاکھ روپئے اب تک بینک میں جمع ہوچکے ہوتے۔ اور اس پر جو کامریڈ لڑکوں نے تیور دکھائے تو ان سے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر حکومت کے کاموں میں مداخلت کی تو ناخن کھینچ لوں گا۔ کیا ان باتوں کے بعد بھی مودی جی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اسے جتنی جلد ہوسکے وہاں سے نکال لیں وزیر لینن کی مورتیاں گرانے والے اس جیتی جاگتی لینن کی مورتی کو گرادیں گے۔

حیرت اس انتخاب پر ہے جو کچھ دن پہلے کہہ چکے تھے کہ انٹرنیٹ قدیم ہندوستان کی ایجاد ہے جسے ہزاروں سال پہلے نشریات کے لئے استعمال کیا جاتا تھا انہوں نے یہ بھی کہا کہ مہابھارت کی جنگ کا آنکھوں دیکھا حال سنجے نے سنایا تھا۔ بعض شاطروں نے نہ جانے کتنی باتیں نوجوانوں کے دماغ میں بھردی ہیں اور انہیں یہ نہیں بتایا کہ ہزاروں سال میں ہم نے کیا ترقی کی ہزاروں سال سے جب انٹرنیٹ لئے بیٹھے ہیں تو اب تو ہمیں بہت آگے نکل جانا چاہئے تھا۔ تری پورہ ایک صوبہ نہیں ایک بھولی سی چڑیا ہے جسے 30 برس ایک کامریڈ نے پیار سے پالا ہے اس ریاست کو جذباتی ہٹلر کی نہیں محبت کرنے والے کی ضرورت ہے۔ اچھا تو یہ ہے کہ مودی جی نے یہ ریاست جس سے لی ہے اسی کو واپس کردیں پان کی دُکان اور گائے کا مشورہ تو اسے بھی معلوم ہے۔ انہوں نے اگر ناخن نوچنا شروع کردیئے تو چڑیا مرجائے گی۔

کس قدر مضحکہ خیز بات ہے کہ دونوں جگہ وزیراعلیٰ بی جے پی کے ہیں اترپردیش کے وزیراعلیٰ ہاتھ میں ڈنڈا لئے کھڑے ہیں کہ ہر بچہ اسکول جائے گا ہر بچہ کو تعلیم یافتہ بنائیں گے تاکہ کل کو وہ ملک اور قوم کی خدمت کرسکے اور تری پورہ کا وزیراعلیٰ کہہ رہا ہے کہ برسوں نوکری کے پیچھے بھاگنے سے اچھا یہ ہے کہ پان کی دُکان کھول لو یا گائے پال لو پانچ دس لاکھ روپئے بینک میں جمع ہوجائیں گے۔ تری پورہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں 100  فیصدی تعلیم ہے۔ تو وہاں پان اور گائے پالن کے مشورہ کے بجائے وزیراعلیٰ کو اسکولوں میں تالے ڈلوا دینا چاہئیں تاکہ نہ تعلیم ہوگی نہ نوکری مانگیں گے جب تری پورہ کا ہر بچہ گائے پال لے اور پان کی دُکانیں رکھ لے اور اس وقت تک جتنے پڑھے لکھے ہیں سب کو نوکری مل جائے تو دس سال کے بعد اسکولوں کے تالے کھولے جائیں اور بچوں سے معلوم کیا جائے کہ تعلیم حاصل کرکے نوکری کروگے یا پان بیچ کر اور گائے پال کر لاکھوں روپیہ بینک میں رکھو گے؟ اس وقت تک وزیراعلیٰ کی جوانی کی گرمی بھی ٹھنڈی ہوچکی ہوگی اور وہ جب جاہلوں کو انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ رام للا کی پیدائش کا آنکھوں دیکھا حال اور سیتا میا کی رسوئی میں کھانا بنانے کی تفصیل کا آنکھوں دیکھا حال سنائیں گے تو سب مان جائیں گے کہ مکھ منتری بڑے بدھیمان ہیں۔ انہیں مودی اور امت شاہ وہیں پڑا رہنے دیں تو ایک صوبہ اپنی مثال آپ ہوگا۔ ہوسکتا ہے بعد میں یوگی جی بھی اسی راستہ کو اپنالیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close