سیاست

پھر کمل کھل اٹھا، سیکولر طاقتیں بے بس

احساس نایاب

ہندوستان میں ہورہے 2019 لوک سبھا انتخابات کے نتائج کے انتظار میں ملک کے علاوہ تمام بیرونی ممالک کی نگاہیں ٹکی ہوئی تھیں۔ حالانکہ ایک بڑا طبقہ اس کے نتائج سے باخبر تھا لیکن بھولی بھالی عوام کو انتخابی فریب میں رکھ کر ہندوستان بھر میں دہشت کا ماحول بنایا گیا خاص کر مسلمانوں کے اندر اور نادان مسلمانوں نے اس وبا سے بچنے کے خاطر وظائف و دعاؤں کا سلسلہ جاری کردیا حتیٰ کہ ہر واٹس اپ گروپ، فیس، انسٹاگرام و ٹیلی گرام سبھی کے سبھی مدرسہ و درسگاہیں لگ رہے تھے۔

لیکن افسوس نہ کوئی وظیفہ کام آیا نہ کوئی دعا کام آئی ساری کی ساری تدابیر دھری کی دھری رہ گئی جب صبح ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی تو 9:30 بجے 6 راؤنڈ میں ہی بی جے پی 94 فیصد ووٹ سے آگے نظر آئی اور اس کامیابی کی دوڑ کا سلسلہ لگاتار چلتا رہا اور دیکھتے ہی دیکھتے 11:20 کو ” انچولی، باگلکوٹ، بیجاپور، گلبرگہ، رائچور، کوپل، بلاری، ہاویری، دھارواڑ، شمالی کینرا، چترادرگہ، ٹمکور، بنگلور، نارتھ، بینگلور، ساوتھ، چکبالاپور، کولار میں بی جے پی ہی آگے رہی۔ شیموگہ کے آس پاس کے علاقوں میں بھی بی جے پی کا پلڑا بھاری رہا جن میں ساگر، سورب، تیرتھ ہلی، شکاری پور، بھدراوتی شامل ہے۔

ووٹ کی گنتی تقریبا 3 بجے ختم ہوئی تو 7،29،051 ووٹ حاصل کر جیت کا سہرا سجا بی جے پی کے امیدوار ” بی. وائی. راگھویندرا کے سر جس کی شان میں انتخابات سے قبل کچھ یوں کہا گیا تھا کہ ہمارا ووٹ مودی کو ہے اگر راگھویندرا کی جگہ کسی گدھے کو بھی امیدوار بنایا جاتا تو ہم آنکھ موندھ کر اُس کی تائید کرتے جو آج سچ ثابت ہوچکا ہے۔ اسی کے ساتھ مخلوط پارٹی کے امیدوار مدھو بنگارپا نے 5،06،345 ووٹ حاصل کر ہار کا سامنا کیا۔

بہرحال انتخابات کے قبل ہی بھاجپا کی جیت یقینی نظر آرہی تھی لیکن سیکولر کہلانے والی مخلوط جماعتیں اتنی بری طرح سے پٹینگی اس حد تک سوچا نہ تھا ویسے جس انداز میں ہندوستان کی قدیم اور بڑی جماعت کہلانے والی کانگریس کو شکست کا حاصل ہوئی ہے اُس میں کوئی دورائے نہیں کہ آنے والے دنوں میں ہندوستان سے کانگریس اور گاندھی خاندان کے دھاگ کے خاتمہ کی علامت ہے اور یہ ہونا بھی لازمی تھا کیونکہ کانگریس نے مسلمانوں کا پورے ستر سال تک استحصال کیا ہے اور آج مسلمانوں کو جو حالت ہے اُس کی ذمہ دار بی جے پی کے ساتھ ساتھ کانگریس بھی ہے کیونکہ کانگریس نے مسلمانوں کو ووٹ بینک سے بڑھ کر کچھ سمجھا ہی نہیں یہاں تک آج جس مظبوطی سے آر ایس ایس اور اُس کی تمام شاخیں ہندوستان بھر میں پیر پسارے ہوئے ہیں اس کی ذمہ دار کانگریس ہی ہے کیونکہ کانگریس نے ہمیشہ اوروں کے کندھوں پہ بندوق رکھ کر نشانہ لگایا بی جے پی اگر مسلمانوں کی کھلی دشمن ہے تو کانگریس چھپی ہوئی دشمن باوجود اس کے مسلمان ہمیشہ سے اس کے لئے حکم کے اِکّے کی طرح رہے اور آج جب کانگریس نے حکم کے اِکّے سے نظر پھیرلی تو شطرنج پہ بچھے تمام پیادے خود بہ خود ڈھیر ہوگئے کیونکہ وفا کا بدلا جفا سے دینگے تو خود اپنی قبر آپ کھلے گی۔

خیر کرناٹک کے علاوہ کئی ریاستوں میں این ڈی اے نے جیت کا بگل بجایا اسی کے ساتھ ہندوستان میں ایک بار پھر سے بی جے پی اقتدار پہ پہنچ گئی اور مٹھی بھر سیکولر جماعتیں ہاتھ ملتے ہی رہ گئے۔

ویسے دوران انتخابات کا گہرائی سے جائزہ لینگے تو بی جے پی کی جیت اور کانگریس کی ہار کا کھیل سمجھ آئے گا کہ اس بار کانگریس نے خود سے ووٹ کاٹنے کا کردار ادا کر کے خود اپنے ہی پیروں پہ کلہاڑی ماری ہے اب اس کے پس منظر میں اس کا کیا مقصد ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن یہ بات تو واضح ہوگئی ہے کہ یہاں پہ دو پارٹیوں کے بیچ کوئی ٹکر کی لڑائی نہیں ہوئی بلکہ یہ سب کچھ جان بوجھ کر ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔

جس سے عقل والوں کو یہ بات صاف سمجھ آگئی ہے کہ ہندوستانی سیاست میں انتخابات کے نام پہ جو بھی ڈرامہ چل رہا ہے وہ محض فریب ہے۔

دراصل 2014 سے ہی یہ طئے ہے کہ مستقل کئے جانے والے انتخابات، انتخابات نہیں ہونگے بلکہ کرکٹ کی طرح یہ بھی کھُلی میچ فکسنگ ہوگی جس میں پہلے سے ہی ہار جیت طئے ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ بھاجپائیوں نے 2014 سے لیکر 2022 تک کی پوری منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ لیکن افسوس یہاں پہ عوام جان بوجھ کر بیوقوف بن رہی ہے۔

جبکہ ہندوستان کے ساتھ ساتھ ساری دنیا دیکھ رہی تھی کہ کس طرح ملک بھر میں جگہ جگہ ای وی ایم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی، راتوں رات لاکھوں ای وی ایم غائب کردئے گئے، ووٹر لسٹ سے جان بوجھ کر سیکولر ووٹرس کا نام ہٹادیا گیا، کئی علاقوں میں ووٹ ڈالنے گئے عقلیتوں خاص کر مسلمانوں کو بوت میں ووٹ ڈالنے سے روکا گیا اُن کے ساتھ ہاتھا پائی بھی کی گئی، مسلم خواتین کو ڈرا دھمکا کر جبراً کمل کے نشان پہ ووٹ ڈلوایا گیا اور پولس، سکیورٹی فورس بس کھڑی کی کھڑی دیکھتی رہی یہاں تک کہ الیکشن کمیشن خود بی جے پی کے اشاروں پہ کٹھ پتلی بن کر ناچتا رہا اور گودی میڈیا نے ایگزٹ پول کے سروے کو عوام کے آگے پیش کرکے سبھی کے ذہنوں میں بی جے پی کی جیت کی بٹھادی تاکہ نتیجہ آنے کے بعد ہر ایک کی بولتی بند رہے اور یہ بات سچ بھی ثابت کردی کہ جھوٹ کو بار بار لگاتار چلا چلا کر کہنے سے ایک دن جھوٹ سچ لگنے لگتا ہے آج یہی سب کچھ ہوا ہے ہمارے یہاں جس کی لاٹھی اُسی کی بھینس والا معاملا ہے اور ان حالات سے باخبر دیگر اپوزیشن جماعتیں تماشبین بنی رہیں جس سے اس بات کا پکا یقین ہوچکا ہے کہ ہندوستانی سیاست میں جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ بیشک کسی بہت بڑی سازش کا حصہ ہے اور یہاں پہ ہم پھر سے یہی کہینگے کہ بی جے پی اور کانگریس کی ملی بھگت ہے ان دونوں کی سانٹھ گانٹھ ہی کا نتیجہ ہے جس کو نکارا نہیں جاسکتا ہے کیونکہ آنکھ کان رکھنے والوں کے لئے یہاں کھلا ثبوت ہے کہ کیسے پورے انتخابات کے دوران کانگریس نے مسلمانوں کو اچھوت کی طرح سرے سے خارج کردیا تھا اور بی جے پی مخالف اتحاد میں مسلم قیادت والی جماعتوں سے دوری اختیار کر لی تھی، اسلئے حالات کو دیکھتے ہوئے کسی کی جیت اور کسی کے ہار کا ماتم منانے کے بجائے مسلمانوں کو چاہئیے کہ آنے والے دنوں میں اپنی خود کی سیاسی جماعت منائیں اوروں کا سہارا تلاش کرنے کے بجائے خود کو مظبوط کریں جس کے لئے ہمیں ہوش کے ناخن استعمال کرنے ہونگے کیونکہ 2019 کے نتائج مسلمانوں کے ساتھ اُن تمام سیکولر سوچ رکھنے والوں کے لئے سبق آموز ہیں جو 70 سالوں سے کانگریس کی تائید کرتے ہوئے اُس کے نام کی مالا جپتے نہیں تھک رہے تھے۔

اس نتائج سے مسلمانوں کو مایوس یا ناامید ہونے کی کوئی ضرورت نہیں. آج بھلے بی جے پی کی جیت ہوئی ہو لیکن انشاءاللہ عنقریب ہی مسلمانوں کی جیت یقینی ہے۔ کیونکہ

گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں

وہ طفل کیا گریں جو گھٹنوں کے بل چلے

ویسے بھی اے مسلمان !

تو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا

تیرے آگے آسمان اور بھی ہیں

اس لئے اپنے حوصلوں کو پست ہونے نہ دیں اللہ کے سوا کسی اور سے ڈر کر خود کو بزدل نہ بنائیں بلکہ باتوں سے ہٹ کر میدان عمل میں اپنے قدم مظبوطی سے جمائیں اور سیاست کے ساتھ ہر شعبے میں اپنے نام کی مہر لگاتے ہوئے اپنے کردار اپنے عمل سے خودی کو ثابت کریں کسی اور کے محتاج بن کر غلامی کے اسیر نہ بنیں۔

کیونکہ اللہ سبحان تعالیٰ بھی انہیں کی مدد فرماتے ہیں جو اپنی مدد آپ کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں اس لئے

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندہ سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

ویسے بھی موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے وہ نظر آرہا ہے جس کے بارے میں اللہ کے رسول فرما چکے ہیں کہ کیسے قیامت کے عنقریب نیکی پہ بدی غالب ہوگی، مومنوں کے لئے ہر دن ہر رات آزمائش کے سائے میں گزرے گی، دنیا بھر میں ظالم حکمرانوں کا قلبہ ہوگا، ظلم و زیادتیان، قتل و غارتگری عروج پہ ہونگی ایمان مومن کے ہتھیلی پہ جلتے ہوئے دئے کہ مانند ہوگا پھر وہ سورج بھی طلوع ہوگا جو پوری دنیا میں اسلام کا سر بلند کریگا کیونکہ عنقریب غزوہ ہند بھی تو ہونی ہے جس کے لئے آج اور ابھی سے ہم مسلمانوں کو خوف سے نکل کر خود کو ایک بہادر جانباز سپاہی کی طرح ڈھالنا ہوگا اور خدارا صبر کے نام پہ بزدلی کا چولا نکال کا پھیکیں، جانباز سپاہی کی طرح اپنی اور اپنے قوم کی دفع میں لڑنا سیکھیں اور ظالم کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر کہیں۔

سر فروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے جوش کتنا بازوئے قاتل میں ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

احساس نایاب

ایڈیٹر گوشہ خواتین واطفال بصیرت آن لائن، سب ایڈیٹر روزنامہ آجکا انقلاب

متعلقہ

Close