سیاستہندوستان

پھر گوشت کی سیاست!

مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی

جب بھی بی جے پی نے اکثریت کے ساتھ الیکشن جیتا ہے ، مسلمانوں کی شامت آئی ہے اور خصوصا گوشت پر سیاست شروع ہوگئی ہے ، جب بی جے پی نے2014 لوک سبھا کا الیکن جیتا تھا تب بقرعید کے موقع سے تلنگانہ میں صرف بیلوں کی ذبیحہ کی اجازت دی گئی اور گائیوں کے لانے اور اس کے ذبیحہ کے حوالے سے سختی برتی گئی،اور بیوپاریوں سے گائے چھینے گئے ، تب سے تلنگانہ کے مسلمانوں نے بیل کے گوشت کی قربانی شروع کی، پھر جب بی جے پی نے2015 مہاراشٹر ا میں اکثریت سے جیت حاصل کی تب بھی وہاں گوشت پر سیاست چلی اور جینیوں کے تہوار کے موقع سے 10دنوں کے لئے ہرطرح کے گوشت پر بابندی کی بات کہی اور اس موقع سے مہاراشٹرا سے شروع ہوا یہ گوشت کی سیاست کا سلسلہ دراز ہو کر راجستھان، جموں کشمیر اور احمد آباد تک پہنچا، اور ہاں بھی اسی طرح کے فرامین جاری کئے گئے ، وہاں پر بھی مذہبی تہواروں کے موقع سے ہر طرح کے گوشت پر پابندی کی بات کہی گئی ، اب پھر بی جے پی نے یوپی اور اتراکھنڈ میں اکثریت سے اپنی جیت درج کرائی ہے ، اور گوا اور منی پور میں اپنی اکثریت نہ ہونے کے باوجود گٹھ جوڑ کے ذریعے حکومت سازی کرلی ہے اور خصوصا یوپی میں جیسا کہ بی جے پی انتخابات سے قبل وعدہ کیا تھا وہ غیر قانونی سلاٹر ہاؤزس پر پابندی لگائی گی۔

چنانچہ اسی طرح ہوا جہاں یوگی آدھتیہ ناتھ کی تاج پوشی کی گئی ، اسی رات سے سلاٹر ہاؤس پر تالے لگ گئے ، جس کے بعد لاکھوں لوگوں کا روزگار متاثر ہوااور بڑے کے گوشت کے ساتھ جب بکری اور چکن والے بھی ہڑتال پر آگئے تو ترکاری کی قیمتیں بھی آسمانوں سے باتیں کرنے لگیں ، اس دوران جب بڑے کے گوشت پر پابندی لگائی گئیتو زو کے شیر گوشت کے عدمِ فراہمی یا مٹن یا چکن کی فراہمی پر برہم ہو کر دھاڑیں مارنے لگیں ، ایک رپورٹ کے مطابق غیر قانوی سلاٹر ہاؤس پر پابندی کے ایک دو ہفتہ کے بعد کانپور سے یہ خبر آئی کہ وہاں گوشت کی دکانوں کے اطراف مٹر گشتی کرنے والے کتے چھوٹے چھوٹے بچوں پر حملہ آور ہور ہیں اور لیکن کا جینا دوبھر کر رہے ہیں ، انسانوں کی گوشت خوری کی عادت تو آپ ڈنڈے کی زور پر رکوا سکتے ہیں ، جانوروں کا کیا ہوگا؟

گائے کے مذہبی احترام اور ہندو مذہب میں تقدس کے پیش نظر اس کے گوشت کے استعمال پر پابندی لگائی ، لیکن بڑے اور بھینس وغیرہ کے گوشت پر پابندی چہ معنی دارد؟ کیا یہ مسلمانوں کو ہراساں کر کے ہندتو ا کی سیاست پر رواں دواں ہونا نہیں ہے ، جب یوپی میں غیر قانونی سلاٹر ہاوس پر پابندی کی بات چلی تو پھر پورے ملک میں گوشت کی سیاست سرگرم ہوگئی ، کتھولی کے رکن اسمبلی وکرم سینی جنہوں نے کچھ روز قبل یہ کہا تھا کہ جو لوگ گائے ذبح کریں گے ان کی ٹانگیں توڑ دی جائے گی، ان کے اس تبصرہ پر اپوزیشن نے سخت تنقید کی تھی، اس کے بعد کچھ دن قبل بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نے راجیہ سبھاا میں گؤ کشی پر موت کی سزا کا قانون والا بل ’’گؤ تحفظ بل ‘‘ پیش کیاتھا، پھر اسکے بعد چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی رمن سنگھ نے گئو کشی کرنے والوں کو پھانسی دینے کی بات کہی، پھر گجرات اسمبلی میں گئو گشی پر عمر قید کی سزا والا بل پاس کیا گیا، لیکن گاؤ کشی اور بڑے کے گوشت پر پابندی اور اس کے قانونی یا غیرقانونی قرار دینے میں اس وقت نفاق نظر آتا ہے جب بی جے پی چند ایک ریاستیں جہاں یا تو بی جے پی اقتدار میں ہے جیسے منی پور اور اروناچل پردیش وہاں پر وہا گؤ کشی پر پابندی کی بات نہیں کہتی اور مشرقی ریاستوں جن میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں وہاں بی جے پی نے صاف کہا ہے وہاں گاؤ کشی پر پابندی نہیں لگائی جائے گی ۔ اور کیرالا کے ضمنی الیکن والے حلقے میں بی جے کے امیدوار صاف کہتے ہیں نظر آتے ہیں وہ الیکن اگر جیت جاتے ہیں تو صاف گوشت فراہم کریں گے ۔

گئو کشی پر اس سیاست کے دوران 2؍ اپر یل کو بمبیء ہائی کورٹ کے بیف پر مہاراشٹر سرکار کے پابندی کو جائز قرار دینے سے متعلق ایک آرڈر کے خلاف عرضداشتوں پر سماعت دس روز کے ملتوی کیا، چونکہ مارچ 2015 میں ایک قانون کے ذریعے ریاست مہاراشٹر میں گائے کے علاوہ بیلوں اور بچھڑوں کے ذبیحہ پر پابندی لگائی تھی، پھر اس کے بعد الہ بعد ہائی کورٹ نے یوپی حکومت پر پھٹکار لگائی کہ وہ غیر قانونی ذبیحہ کی آڑ میں گوشت پر بابندی نہیں لگاسکتی ، جس میں ججوں نے3؍اپریل کو یہ حکم صادر کیا کہ صوبے کی حکومت اشیائے خورد ونوش میں کسی کی پسند کو غلط نہیں قرار دے سکتی، اور بھی کہا کہ حکومت یہ فریضہ بنتا ہے کہ وہ لوگوں کو قانونی طور پر صحبت بخش گوشت فراہم کرے ۔

بہرحال بیف اور گوشت کے سلسلے میں بی جے پی سیاست مختلف علاقوں میں مختلف ہے ، گوا ، میگھالیہ ، میزورم ، ناگالینڈ میں یہ بیف پالیسی کچھ اور تو مہاراشٹرا، گجرات، یوپی ، کرناٹک اور راجستھان میں کچھ اور ہے ، ایک رپورٹ کے مطابق ماہرین کو یقین ہوچلا ہے کہ اترپردیش میں یوگی سرکار کے برسر اقتدار آنے کے بعد بڑے پیمانے پر سلاٹر ہاؤس کے خلاف جو کاروائی شروع ہوئی ہے ، یہ دراصل بیف کی تجارت کرنے والے بڑے بڑے ایکسپورٹ ہاؤس اور کمپنیوں کے اشارہ پر کریک ڈاؤ ن ہے ، بیف اکسپورٹ جس کے ذریعے سالانہ پچاس ہزار کروڑ روپیوں کی اس تجارت پر کچھ خاص کمپنیوں اور ایکسپورٹ ہاؤس کی اجارہ قائم کرنا مقصود ہے ، جس کے فرقہ وارانہ ماحول اور کشیدہ حالات کو بطور ہتھیا ر کے استعمال کیا جارہا ہے ۔

بظاہر سلاٹر ہاؤسز کے خلاف کاروائی کو مسلم دشمن کاروائی سمجھا جارہا ہے ، حالانکہ اترپردیش کے بڑے بیف ایکسپورٹرس میں چالیس سے زائد غیر مسلم ہیں ، جو عربی ناموں کی کمپنیاں بنا گلف میں بیف ایکسپورٹ کرتے ہیں ، اس کے علاوہ یوپی میں بیف ، مٹن اور چکن کی تجارت سے پچاس لاکھ افراد کا روزگار وابستہ ہے ، ان میں مسلمانوں کا تناسب صرف تیس فیصد ہے ، یعنی مٹن ، بیف اور چکن کے کاروبار سے اترپردیش میں جن لوگوں کو روزگا مل رہا ہے ، ان میں پندرہ لاکھ مسلمان ہیں تو 35؍ لاکھ ہندو ہیں ۔

سلاٹرہائوس اورگوشت خوری کے حوالے سے کیاگیاتجزیہ بتاتاہے کہ اگرملک میں گوشت پرپابندی لگی تواس کاخمیازہ مسلمانوں سے زیادہ حکومت کوبھگتنا پڑے گاکیو ں کہ اس کوسالانہ ہزاروں کروڑ روپے کی خطیررقم کانقصان برداشت کرناہوگا۔ اس وقت پورے ملک میں سلاٹرہائوس حکومت سے منظورشدہ ہیں وران میں صرف یوپی میں ہیں ۔ ان سلاٹرہائوسوں سے گوشت ایکسپورٹ ہوتاہے ۔ خاص طورپرعرب ممالک میں ان سلاٹرہائوسوں کے گوشت کی بہت مانگ ہے ۔ سروے رپورٹ کے مطابق یوپی کے سلاٹرہائوس پندرہ ہزارکروڑروپے کی انڈسٹری ہے جس میں لاکھ لوگ ملازمت سے وابستہ ہیں ۔ ان سلاٹرہائوسوں میں روزانہ سے لے کرتک جانورذبح کیے جاتے ہیں ۔ سلاٹرچاہے بھینس کے ہوں یابکری یابھیڑکے ان کے مالکان زیادہ ترہندوہیں ۔ اترپردیش ملک میں گوشت ایکسپورٹ کرنے والی سب سے بڑی ریاست ہے۔ یہا ں غیرقانونی مذابح کتنے ہیں اس کاکوئی ریکارڈنہیں ہے۔ اندازے کے مطابق گوشت ایکسپورٹ کرنے والے سالانہ ہزار کروڑروپے کماتے ہیں ،اوراگراس پرپابندی لگی توریاست کوہزارکروڑکاسالانہ نقصان ہوگااوراگریوگی حکومت نے یوں ہی پابندی جاری رکھی توان کی پانچ سال کی حکومت میں ہزار کروڑ روپے کانقصان یوپی کوہوگا۔ یہ صرف یوپی کے اعدادوشمارہیں دیگرریاستوں کے اعداوشمارکابھی احاطہ کرلیاجائے توکئی اربوں کروڑکانقصان حکومت کو اس فیصلے سے برداشت کرناہوگی جوحکومت کبھی نہیں کرسکتی ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ میٹ کی اتنی بڑی انڈسٹری کومرکزی حکومت ہی فروغ دیتی ہے ۔ فوڈپروسیسنگ منسٹری میٹ انڈسٹری کاایک یونٹ ڈالنے کے لیے پچاس فیصدتک امدادفراہم کرتی ہے۔

مسلم مررکے اکتوبرکی ایک رپورٹ کے مطابق انڈیامیں چھ سب سے بڑی کمپنیاں جوبیرون ممالک گوشت سپلائی کرتی ہیں اورہرسال حکومت کوکروڑوں کاٹیکس دیتی ہیں ۔ ان میں سے چارکمپنیاں ہندوئوں کی ہیں ۔ (1)الکبیرایکسپورٹ پرائیویٹ لمیٹیڈاس کے مالکان کانام ستیش اوراتل سبھروال ہے ۔ یہ جولی میکرس ،چمبورممبئی میں واقع ہے۔ (2)عربین ایکسپورٹ پرائیویٹ لمیٹیڈکے مالک کانام سنیل کپورہے اس کاپتہ یہ ہے :رشین مینشن ،اوورسیز،ممبئی(3)ایم کے آرفروزین فوڈایکسپورٹ پرائیویٹ لمیٹیڈکے مالک کانام مدن ابوٹ ہے ،یہ کمپنی ایم جی روڈ،جن پتھ نئی دہلی میں واقع ہے۔ (4)پی ایم ایل انڈسٹریزپرائیویٹ لمیٹیڈکے مالک کانام اے ایس بندراہے ،یہ کمپنی سی او۔ ،سیکٹرنمبراے ،چنڈی گڑھ پنجاب میں ہے۔ (بحوالہ بصیرت نیوز)

لیکن اس گوشت کی سیاست کا ایک منفی پہلو یہ ہے کہ گئو رکھشکوں کے نام پر یہ لوگ مسلمانوں کو ہراساں کئے دے رہے ہیں ، ویچ ایچ پی اور بجرنگ دل کے خودساختہ گاؤرکھشکوں نے ابھی کچھ روز قبل دودھ کے لئے گائے خرید کر لے جارہے افراد کو مار پیٹ کر بری طرح زدوکوب کیا جس میں ایک 50سالہ ایک بزرگ مسلم پہلو خان کی موت واقع ہوگئی ، حالانکہ یہ لوگ در اصل بھینس خریدنے گئے ـتھے ، زیادہ دددھ دینے والی اور کم پیسوں میں حاصل ہونے والے گائے خریدی اور ہر گائے کے کاغذ بھی بنوائے؛ لیکن شرپسند عناصر نے ا ن کا پیچھا کر کے ان کو زدوکوب کیا، بیلٹ ، ڈنڈو ں ا ور پتھروں سے انہیں مارا، پولیس نے انہیں آکر بچالیا ، ورنہ یہ گاڑیوں سے پٹرول نکا کر ان کو جلانے پر آمادہ تھے ، اس واقعہ میں قومی حقوق کمیشن نے حکومت راجستھان کو نوٹس جاری کیا ہے ، اور کہا ہے کہ جو نام ونہاد رضاکار اس حوالے سے قانون کو اپنے ہاتھوں لے رہے ہیں ان کو سختی سے نمٹا جائے ، اسی طرح وزرات داخلہ کو بھی اس معاملہ میں رپورٹ بھیجی گئی ہے ، اس پہلو خان کے قتل کے تناظر میں عدالت عظمی سے درخواست کی گئی ہے کہ گئو رکھشکوں پر سیمی کی طرح پابندی لگائی جائے ، جس کے سپریم کورٹ نے راجستھان اور دیگر پانچ ریاستوں اترپردیش ، گجرات ، مہاراشٹر، کرناٹک اور جھارکھنڈ حکومتوں کے نام نوٹس جاری کیا اور معاملے کی اگلی سماعت ۳؍مئی کو رکھی ہے ۔

بہرحال یہ گئو کشی یا قانونی وغیر قانونی بیف سپلائی اور گئو رکھشک اور رضاکار کارندے وغیرہ در اصل یہ مسلمانوں کا نام لے کر ہندو مسلم برادری میں تفریق کے ذریعے گوشت کی سیاست ہیں ؛ بلکہ اس کے درپردہ گوشت کا بڑا کاروبار اس ساری ناٹنگی اور ڈھونگ کے پیچھے کارفرما ہے ، لیکن اس میں پیساجاتا بے جارا مسلمان ہے ، مسلمان کے گوشت کھانے کے نام پر فائدہ تو سیاست دانوں اور گوشت کے کاربایوں کو پہنچنے والا ہے ، لیکن ملک کی عوام اس گوشت کی سیاست کی بناء ایک طرف بے روگار ہور ہی ہے اور دوسری طرف مذہب کے نام پر ایک دوسرے سے دست وگریباں ہیں اور اس طرح سیاست دانوں کی سیاسی دکان چمک رہی ہے ۔ شرپسند اور غنڈہ عناصر قانون کو اپنے ہاتھوں میں لے رہے ہیں اور ملک کی بدنامی ان واقعات کے ذریعے ہورہی ہے ۔ مسلمانوں کو یہ سوچنا ہے کہ وہ وقتیہ طور پر گوشت کھانے سے محروم ہوجائے گے ، لیکن یہ گوشت کی سیاست زیادہ دن تک چلنے والی نہیں ، اس لئے اس سے غیر مسلم بھی بڑی تعداد میں متأثر ہوں گے ، مسلمان بیوپاریوں کو اس سلسلے قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہئے جیسا کہ بڑ ی بڑی کمپنیاں جس کے مالک ہندو ہیں اور وہ قانونی طور وہ بیف ایکسپورٹ کا کاروبار کرتے  ہیں ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close