سیاست

پھولوں کی بارش اور گالیوں کی بوچھار

حفیظ نعمانی

2014ء میں نریندر مودی نے دو جگہ سے نامزدگی کرائی تو اس کی وجہ ڈر یا خوف نہیں تھی بلکہ اُترپردیش ان کے لئے نئی جگہ تھی اور انہیں خطرہ تھا کہ یوپی مودی کو قبول کرے یا نہ کرے۔ لیکن راہل گاندھی نے کیرالہ کے وائناڈ سے اس لئے نامزدگی کرائی ہے کہ وہ امیٹھی کے بارے میں مطمئن نہیں تھے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ مرکز اور اُترپردیش دونوں جگہ بی جے پی کی حکومت تھی دوسری وجہ یہ تھی کہ کانگریس کے علاوہ سماج وادی پارٹی اور بی ایس پی دونوں کے اُمیدواروں کے مقابلہ پر انہوں نے اُمیدوار کھڑے کرکے ان کو مخالف بنا لیا تھا اور تیسری وجہ یہ تھی کہ 2014 ء میں وہ جیتنے کے بعد اتنی بار امیٹھی نہیں آئے جتنی بار ہارنے کے باوجود اسمرتی ایرانی دورہ کرنے آئیں اور کبھی کسی تہوار میں ساڑیاں بانٹیں اور ان کی ہر پریشانی میں ان کی مدد میں آگے آئیں۔

یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ انہوں نے اس امیٹھی کے بارے میں یہ سوچا جس کو اندرا گاندھی خاندان کی مضبوط سیٹ مانا جاتا تھا اور یہ پسپائی صرف ایک سیٹ کی نہیں ہے بلکہ اس ہمت کی ہے جس کا اقتدار کی جنگ میں اہم کردار ہوتا ہے۔ مشہور شعر ہے   ؎

مجھے یہ ڈر ہے دلِ زندہ تو نہ مرجائے

کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے

کیرالہ سے آنے والی خبروں سے یہ سب کو معلوم ہوگیا ہوگا کہ وائناڈ میں راہل گاندھی اور پرینکا کا جیسا استقبال ہوا ایسا نہال قدوائی کے بقول اب تک کسی کا نہیں ہوا تھا صرف شہر سے نہیں دور دراز کے دیہاتوں سے راہل کی بات سننے اور پرینکا کو دیکھنے کے لئے ہزاروں کا مجمع ہوگیا تھا اس حلقہ کے لوگوں کی زبان پر تھا کہ راہل جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں اور انہوں نے اب تک جو کہا وہ کرکے دکھا دیا۔ بھائی بہن کے روڈشو میں سڑک کے دونوں طرف انسانی زنجیر بنی ہوئی تھی۔ راہل نے خطاب میں کہا کہ وہ کسی کے خلاف ایک لفظ نہیں بولیں گے اور جو اُن کے خلاف کہے گا اسے جواب بھی نہیں دیں گے۔ سی پی ایم کی حکومت کو بھی ان کا آنا اچھا نہیں لگا اور سی پی آئی یہ سمجھتی تھی کہ یہ سیٹ اس بار وہ جیت لے گی اس لئے بایاں بازو پورا ناراض ہے۔

راہل گاندھی جتنی دیر وائناڈ میں پھولوں کی بارش میں نہاتے رہے اس سے زیادہ وقت تک ان کی مخالف اسمرتی ایرانی امیٹھی میں ان کے خلاف زہر اگلتی رہیں۔ راہل کو ہار کے ڈر سے بھاگنے والا تو کہنا ہی تھا انہوں نے امیٹھی والوں کو دھوکہ دینے والا اور ان سے غداری کرنے والا بھی کہا اور اب تک جو کچھ راہل اور ان کے خاندان نے امیٹھی کیلئے کیا اس کا تو ذکر کیا کرتی انہوں نے ہر خرابی اور بربادی کو راہل کے نامہ اعمال میں لکھ دیا۔

کل جو کچھ ہم نے ٹی وی پر دیکھا اور جو کیرالہ اور کرناٹک کے لوگوں سے سنا اس کا حاصل یہ ہے کہ وہ صرف دو چار بار جانے کے بعد ہی وہاں کی سیٹ جیت لیں گے اس لئے یہ ان کی سیاسی زندگی کے لئے ضروری ہے کہ وہ امیٹھی بھی لڑکر جیتیں اور اتنی ہی سنجیدگی سے لڑیں جیسے لڑا کرتے تھے۔

ایک بات پیش نظر رکھیں کہ اسمرتی ایرانی سونیا گاندھی نہیں ہیں انہوں نے اعلان کردیا ہے کہ اگر مودی جی سیاست سے کنارہ کش ہوئے تو وہ بھی سیاست چھوڑ دیں گی۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ سونیا اور پرینکا کی طرح سیاست کے میدان میں ہمیشہ نہیں رہیں گی۔ مودی جی نے راہل کو ہرانے کے لئے انہیں امیٹھی بھیجا تو وہ فرض ادا کررہی ہیں لیکن امیٹھی اندرا خاندان کی ہی ہے۔ اور راہل کو یہ بھی دکھانا ہے کہ جس بل بوتہ پر انہوں نے اترپردیش میں 80  اُمیدوار لڑانے کا فیصلہ کیا ہے اس کا یہ بھی تقاضہ ہے کہ وہ امیٹھی اور رائے بریلی کو جب تک اپنے قبضہ میں رکھ سکیں رکھیں وہ اگر ڈرکر ان سیٹوں کو چھوڑیں گے تو آخری جنگ کس بل بوتہ پر لڑیں گے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close