سیاست

پیپلز مہا گٹھبندھن

اسٹریٹجک ووٹنگ گائڈ برائے 2019

جاری کردہ: اریب رضوی

ہم بھارت کے لوگ، جنہوں نے دستور ہند کی حفاظت کے لئے اور عام لوگوں کو انصاف دلانے کے لئے پیپلز مہا گٹھبندھن بنانے کا حلف اٹھا یا ہے ، کے سامنے سر دست یہ مسئلہ ہے کہ فاشسٹ طاقتوں کو 2019 کے انتخاب میں کیسے ہرا یا جائے۔

 پیپلز مہا گٹھبندھن کیوں؟

ہمیں پیپلز مہا گٹھبندھن کی ضرورت اس لئے ہےکیونکہ ہماری بیشتر سیاسی پارٹیاں متحد ہونے میں ناکام ثابت ہوی ہیں۔ انہوں نے ہمیں مایوس کیا ہے۔ مگر ہم انہیں سنگھ پریوار جیسی خونی طاقتوں   کے ہاتھوں ہارنے نہیں دیں گے۔ 2019 کے لو ک سبھا الیکشن میں پوری انسانیت کے 6/1 حصہ کی قسمت کا فیصلہ ہونا ہے، جن کے سر پر نسل کشی کی تلوار لٹک رہی ہے۔

ہمارا پیپلز مہا گٹھبندھن، اصولوں پر مبنی  بہوجن محنت کش لوگوں کا ایک سماجی اتحا د ہے۔ ہم اس اصول کی بنیاد پر متحد ہوے ہیں کہ ہمارے سیاسی اختلافات انسانیت کے دشمن کو ہرانے میں آڑے نہیں آئیں گے۔ فاشسٹ ہم سب کے مشترکہ دشمن ہیں، لہذا سیاسی اختلافات کے باوجود ہمیں متحد ہو کر ان سے لڑنا ہوگا۔ یہی وہ طریقئہ کار ہے جس کے ذریعہ پیپلز مہا گٹھبندھن کو سچ ثابت کیا جا سکتا ہے۔ یعنی ‘لوگوں کا مہا گٹھبندھن’ تب سچ ثابت ہوگا جب لوگ ووٹ کرتے وقت حکمت عملی سے کام لیں گے۔

 پیپلز مہا گٹھبندھن کی طاقت

ہندوستان میں فسطائی طاقت، اعلی ذات کے سامراجیوں اور انکے ووٹ کو متحد کرکے ریاست پر قابض ہو پا ئی ہے۔ لہذا انہیں ہرانے کے لئے تمام مظلوم لوگوں کو ایک ساتھ  کھڑا ہونا ہوگا—کشمیر سے تملناڈو تک، پنجاب سے بنگال تک اور ناگا لینڈ سے کیرالہ تک۔ پیپلز مہا گٹھبندھن در اصل اکثریت کا نمائندہ ہے، کیونکہ اس میں دلت، آدیواسی، او بی سی، خواتین، مذہبی اقلیت،

 سماج، معزور افراد اور بر صغیر کے تمام LGBTQ+  مظلوم لوگ  شامل ہیں— یعنی’بہوجن اکثریت’ اور انکی سیاسی تنظیمیں۔ سامراجی پارٹیوں کے برعکس، جنہیں ہم علاقائی پارٹی سمجھتے ہیں، وہی در اصل راشٹریہ پارٹی ہیں، کیوںکہ یہی وہ جماعتیں ہیں جو عام لوگوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ‘بہوجن اکثریت’ ایک واحد سیاسی طاقت ہے جواعلی ذات (جو کہ اقلیت میں ہیں) کی آمریت کو شکست دے سکتی ہے۔

ہم کہا ں ہیں؟

فاشسٹ مخالف مہا گٹھبندھن ایک ایسا آئیڈیا ہے جسے بہوجن نیتا لالو پرشاد نے حقیقت میں تبدیل کیا تھا۔ مگر بد قسمتی سے یہ آئیڈیا ملکی پیمانہ پر ایک طاقت کی شکل میں وجود میں نہیں آ پا یا۔  دوسری طرف، المیہ یہ ہیکہ اسی مہا گٹھبندھن کےتصور کو فسطائی طاقتوں نے نہ صرف ہتھیا لیا بلکہ کامیا بی کے ساتھ زمین پربھی اتار لیا ہے۔

بی جے پی نے تقریبا ملک کی تمام ریاستوں سے تعلق رکھنے والی  مو قع پرست پارٹیوں سے گٹھ جوڑ کر کے  ایک مہا گٹھبندھن بنانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ لہذا ہمیں اب اس مہا گٹھبندھن  کو ہرا نا پڑیگا۔ یہ ممکن تب ہی ہو گا جب ہم حکمت کے ساتھ لوگوں کا مہا گٹھبندھن یعنی ‘پیپلز مہا گٹھبندھن’ بنا ئیں گے۔ کانگریس، جو کہ خود ایک اعلی ذات کے سامراجی لوگوں کی پارٹی ہے، نے فاشسٹ مخالف طاقتوں کو متحد کرنے کے مہم سے خود کو خاموشی کے ساتھ الگ کر لیا ہے۔

بائیں بازو کی پارٹیوں نے بھی ہوشمندی کا ثبوت نہیں دیا ہے۔ بہوجن نیشنل پارٹیاں نہ صرف منتشر ہیں بلکہ بہت کمزور بھی ہیں۔ لہذا وہ اپنے بل بوتے سامراجی پارٹیوں کو  نہیں ہرا سکتیں۔ اس کے باوجو، اگر ہم (عوام)  حکمت عملی کے ساتھ ووٹنگ کر تے ہیں تو ہماری پارٹیاں نہ صرف مضبوط بن سکتی ہیں بلکہ وہ فاشسٹ طاقتوں کے ہاتھ سے ریاست کی باگ ڈور بھی چھین سکتی ہیں۔

 اسٹریٹجک ووٹنگ:  عوام کا ہنر

ہر پارٹی کے پاس الیکشن کے لئے اپنی حکمت عملی ہو تی ہے۔ اسی طرح عوام کے  پا س بھی ووٹنگ کے لئے اپنی حکمت عملی ہونی چاہئے۔ ہم بی جے پی کو ہرانے کے لئے ضرور ووٹ کریں مگر ساتھ ہی یہ بھی کوشش کریں کہ ہمارے ووٹ سے بہوجن پارٹیاں (نہ کہ کانگریس) بھی مضبوط ہوں۔ تاہم یہ     کانگریس اور لفٹ کی مدد کے بغیر ممکن بھی نہیں ہے۔ بہوجن نیشنل پارٹیوں کی طاقت کے حقیقت پسندانہ اسیسمنٹ کی بنیاد پر ہمیں کانگریس اور لفٹ کے ساتھ نہایت ہوشمندی کے ساتھ نبٹنے کی ضرورت ہے۔

ہر ووٹ کا شمار ہوتا ہے، مگر غیر یکساں طور پر۔

دوسرے حلقوں کی بنسبت بعض حلقوں میں چند ووٹ بہت فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، خاص طو پر تب جب ہم انسانیت کے دشمن کو ہرانے کے لئے ووٹوں کو متحد کرنے کوشش کر رہے ہیں۔

فاشسٹ مخالف ایک ایک ووٹ کی اہمیت کوسمجھنے کی ضرورت ہے۔ تمام حلقوں میں حکمت عملی کے ساتھ بہوجن ووٹ کو متحد کرنا ہوگا۔ لہذا خونی فاشسٹوں کے خلاف ایک تاریخی اتحاد بن کر ووٹ کریں۔ موت کے سوداگر مودی کے خلاف پڑنے والا ایک بھی ووٹ ضائع نہ ہو نے پائے۔

ووٹوں کو اگر حلقہ وار متحد کیا جائے تو ہم اعلی ذات کے چنگل سے اپنے آئین کو بچا سکتے ہیں۔ نتیجہ ہمارے (عوام) حق میں آئے اس کے لئے ہمیں یہ ممکن بنانا ہوگا کہ ہمارا ووٹ بہوجن سماج کے حق میں ہی پڑے۔

کیا کرنا ہے؟

جہا ں کہیں بھی ہم فاشسٹ امیدوار کو ہرانے کی پوزیشن میں ہیں، ہم بہوجن نیشنل پارٹیوں کو اپنا ووٹ دیکر انہیں ہرائیں گے۔

اگر لفٹ اور گانگریس کا امیدوار جیتنے کی پوزیشن میں ہے، تو ہم انہیں اپنا ووٹ دیکر فاشسٹ طاقت کو ہرائیں گے۔

خواہ وہ کسی بھی پارٹی کا ہو، ہم ایسے امیدوار کو با لکل بھی ووٹ نہیں کریں گے جس نے بہوجن سماج کے خلا ف زہر اگلا ہے۔

 وہ امیدوار جو ہمیشہ بہوجن نیشنل کے حق کے لئے کام کرتے رہا ہے، ہم اسے خاص طور پر ووٹ دینگے، خواہ وہ کسی بھی پارٹی کا ہو(این ڈے اے کے علاوہ)

این ڈی اے میں شامل بہوجن نیشنل پارٹیوں سے ہم اپیل کریں گے کہ وہ اتحاد میں شامل رہتے ہوے بی جے پی کی شکست کو یقینی بنانے کی کوشش کریں، وہ یہ بھی کوشش کریں کہ بہو جن کا ووٹ بی جے پی کو ٹرانسفر نہ ہونے پائے۔

ہم گانگریس اور لفٹ پارٹیوں سے بھی یہ اپیل کریں گے کہ وہ بی جے پی کے اعلی ذات کے ووٹ بینک

( سیکولراور روشن خیال افراد کو اپیل کر کے) میں سیندھ لگائیں۔

برائے ‘بہوجن فرنٹ گوورمنٹ’

جب تک ایک ‘بہوجن فرنٹ گوورمنٹ’ نہیں بنتی ہے، ہم ہندوستان کو ‘بہوجن ڈیموکریٹک یونین’ میں تبدیل نہیں کر سکتے۔ بہوجن فرنٹ در اصل مختلف کولیشنز کا کولیشن ہوگا، جو سماج کے تمام لوگوں کی نمائندگی کریگا۔ 2019 میں فاشسٹ کی شکست کے بعد، ‘بہوجن فرنٹ گوورمنٹ’ حکومت کریگی، جسے عوام کی حمایت حاصل ہوگی، اور اس طرح ملک ایک حقیقی جمہوریت بن کر ابھرے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close