سیاستطنزو مزاح

چار باغ کے دو متوالے

ڈاکٹر سلیم خان

لکھنو کے چار باغ  میں چہل قدمیکرنا للن مشرا اور کلن مرزا کا  معمول تھا۔ آندھی آئے یا طوفان ٹہلتے ہوئے ان    کی سیاسی گفتگو کبھی موقوف  نہیں ہوتی۔ جمعرات کی صبح للن مشرا نے بڑے پرجوش انداز میں کہا بھئی مبارک ہو مرزا صاحب، بہت بہت مبارک۔

کلن مرزا نے چونک کر پوچھا کس بات کی مبارکباد دے رہے ہیں مشرا جی۔ ہمیں بھی تو پتہ چلے؟

لگتا ہے آپ نے آج کا اخبار نہیں دیکھا۔

جی ہاں نکلتے ہوئے ایک سرسری نگاہ سرِ ورق پر ڈال دی تھی لیکن اس پر تو کوئی خاص بات نظر نہیں آئی۔ وہی مودی جی  کا راگ اور یوگی جی  کےبھجن۔

یہی تو مسئلہ ہے۔ آج کل  سرِ ورق پر سیاسی آقاوں کو خوش کرنے والی  تو اشتہاری خبریں لگانی پڑتی ہیں۔ خاص خبر تو اندرونی صفحات پر ہوتی ہے۔

یہ اشتہاری خبر والی اصطلاح سمجھ میں نہیں آئی پنڈت جی۔

کیا بات کرتے ہیں مرزا صاحب۔ اشتہار کی مانند بنی بنائی ملنے اور ادائیگی کے بعد شائع ہو نے والی خبر کو آخر کیا کہا جائے؟

جی ہاں چلیے واپس جاکر اندر کی خبر پڑھوں گا لیکن آپ نے دیکھ لی ہے تو ہمیں بھی وہ خوشخبری سنا دیں۔

ارے بھائی کل جینوا دھاری  راہل گاندھی نے مسلم رہنماوں سے مل کر  ان سے دوگھنٹہ گفتگو کی۔  اب  آپ لوگوں کواور کیا چاہیے؟

ان باتوں سے کیا ہوتا ہے۔ ابھی بی جے پی والے شور کریں گے  تو اس کی ہوا نکل جائے گی  اور تلک لگا کر مندروں کی پریکر ما کرنے لگیں  گے۔

کل راہل بابا سے یہ سوال کیا گیا  تو اس نے بتایا وہ تو مندروں کے علاوہ گرجا گھر اور مساجد کی بھی زیارت کر تا رہا ہے لیکن ذرائع ابلاغ میں صرف  مندروں  میں جانے کی تشہیر ہوتی ہے۔ اب اِس میں اُس  بیچارے کا کیا قصور؟

کلن مرزا نے کہا کیوں ابھی جو آپ نے اشتہاری خبروں کا ذکر کیا تھا  تو   کیاوہ مفروضہ کانگریس پر لاگو نہیں ہوتا ؟

للن مشرا خود اپنے  دام میں پھنس گئے۔ انہوں نے کہا بھائی بی جے پی کا توڑ کرنے کے لیے ایسا کرنا پڑتا ہے۔ آپ سمجھتے کیوں نہیں ؟

ٹھیک ہے تو  کیا کل بی جے پیپنڈت راہل گاندھی پر  مسلمانوں کی دلجوئی کا الزام لگائے گی تو اس کے  خوف سے وہ ہمارے خلاف  کھڑے ہوجائیں گے ؟

نہیں ایسی بات نہیں اب وہ خاصہ دلیر اور بیباک ہوگیا۔

اچھا یہ آپ کو کیسے پتہ چل گیا ؟ مرزا صاحب نے استفسار کیا۔

بھئی اس ملاقات میں پروفیسرعرفان حبیب نے انہیں مشورہ دیا کہ  کانگریس کو علی گڑھ اور جامعہ  وغیرہ کے مسائل پر کانگریس کونہیں بولنا چاہیے ۰۰۰

مرزا صاحب بیچ میں بول پڑے۔ ارے اس قدر بزدلی ! تو پھر یہ لوگ ملاقات کے لیے گئے ہی کیوں تھے؟  کیا صرف فیس بک کے لیے تصویر کھنچوانا مقصود تھا؟

نہیں ایسی بات نہیں۔ پروفیسر صاحب بہت بڑے مؤرخ ہیں۔ وہ ہندوستان کی قدیم و جدید تاریخ کے ساتھ ساتھ سوویت یونین کے بننے بگڑنے کے حالات سے بھی واقف ہیں۔ اس لیے انہوں نے کہا ایسا کرنے سے پولرائزیش ہوتا ہے جو بی جے پی کے لیے نفع بخش  ہے۔

بات تو درست ہے لیکن دوسرے کو نقصان پہنچانے کے لیے خود اپنا نقصان کرلینا، عقلمندی  نہیں بزدلی ہے؟

آپ نے بالکل درست   کہا  مرزا صاحب لیکن  آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ راہل نے بھی یہی بات  کہی۔

مرزا صاحب چونک کر بولے واقعی ؟ یا آپ دل لگی کررہے ہیں۔

ارے میاں آپ خود گھر جاکر اخبار دیکھ لیں۔ اس نے کہا  اب آپ لوگ  یہ ڈر نکال دیجیے۔ اگر بی جے پی کہتی ہے کہ کانگریس مسلمانوں کی پارٹی ہے تو  ہاں میں کہتا ہوں کانگریس مسلمانوں کی پارٹی ہے کیونکہ ہندوستان کا مسلمان کمزور ہے اور کانگریس ہمیشہ سے کمزوروں کے ساتھ رہی ہے۔

یہ تو اس انٹونی رپورٹ کے خلاف موقف ہے جس میں کہا گیا تھا کہ بی جے پی نے کانگریس کو مسلمانوں کی پارٹی کہہ کر ہندو اکثریت کو ورغلایا تھا۔ اس لیے کانگریس پارٹی کو اپنی شبیہ سدھارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ارے بھائی یہ اس وقت کی بات ہے جب بی جے پی کا سورج نصف النہار پر تھا اور کانگریس احساس کمتری کا شکار ہوگئی تھی۔ لوگ راہل گاندھی کو پپو کے لقب سے یاد کرتے  تھے۔

اچھا تو اب کون سا انقلاب آچکا ہے ؟  مرزا صاحب نے سوال کیا۔

مشرا جی بولے آیا تو نہیں آرہا ہے۔ اب راہل گاندھی  کے بجائے  ہر کوئی مودی جی کو فیکو کے لقب سے نواز رہا ہے۔

کلن مرزا  خوش ہوکر بولےاگر ایسا ہے تو لگتا ہے پھر سے اچھے دن آنے ہی والے ہیں۔

مشرا جی نے سرد آہ بھر کے کہا ہوسکتا ہے آپ لوگوں کے اچھے دن آجائیں لیکن ہمارے  لیےمشکل ہے۔

یہ کیسی مایوسی کی باتیں کررہے ہیں مشراجی اگرآئے تو سبھی کے اچھے دن ہوں گے۔

جی نہیں،  ایس پی اور بی ایس پی تو آپ لوگوں کو پہلے بھی مکھن لگاتی تھی اور اب کانگریس کے بعد آرایس ایس بھی اس دوڑ میں شامل ہوگئی ہے۔

میں جانتا تھا کہ آپ مذاق کررہے ہیں۔ اب بس بھی کیجیے۔

نہیں بھائی سنگھ پریوار کے مسلم راشٹریہ منچ نے ۱۵۰۰ مسلمانوں کے ساتھ سریو ندی کے کنارے رام کی پیڑھی گھاٹ پر ایک تقریب منعقد کرکے نماز باجماعت اور قرآن خوانی کا اہتمام کیا ہے۔ ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ اس موقع پر ۵ لاکھ آیات کی تلاوت کی جائے گی۔ اب اور کیا چاہیے ؟

مرزا صاحب بولے ان پاکھنڈیوں  کا کیا کل کو مودی جی  کی وارانسی آمد کے   موقع پر سارے پنڈوں کو جمع کرکے ہون کردیں گے۔ یہ سب اداکاری ہے۔

جی ہاں مرزا صاحب لگتا ہے  وہ اپنے پرانے سہانے  دن کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔

مرزا صاحب نے ہنس کر کہا بقول یوسفی انسان کو اگر حال سے زیادہ  ماضی اچھا لگنے لگے تو سمجھ لو کہ وہ بوڑھا ہوگیا ہے۔

للن مشرا نے جواب دیا بوڑھے ہوں ہمارے دشمن۔ میں تو کہتا ہوں’ابھی تومیں جوان ہوں، ابھی تو دل جوان ہے‘۔

یار یہ بتاو  کہ آخر دل کے جوان ہونے کا احساس جسم کے بوڑھا ہوجانے کے بعدہی کیوں ہوتا ہے؟ یہ خیال پہلے کیوں نہیں  آتا؟

للن نے موضوع بدلتے ہوئے کہا میں سیاست وثقافت  کی بات کررہا تھا آپ اسے  عمر و صحت کی جانب لے گئے۔

ہاں بھائی میں بھول گیا تھا ہمارا ماضی، حال اور مستقبل صرف اور صرف سیاست ہی تو ہے، خیر بتاو کہ پہلے کیا اچھا تھا؟

یہی کہ سب لوگ ہمیں ووٹ دیتے تھے اور ہم راج کرتے تھے۔ براہمن اور مسلمان  بیلوں کی جوڑی لا جواب تھی۔

کلن مرزا نے تائید میں سر ہلا کر کہا جی ہاں  پنڈت جی مگر رام منوہر لوہیا نے ساری گڑ بڑ کردی۔

للن مشرا نے چونک کر پوچھا کیوں انہوں نے کیا کردیا ؟ وہ تو بہت اصول پسند آدمی تھے۔

اس  کی تو میں  قسم کھاتا ہوں مگرانہوں نے ہی پسماندہ طبقات میں یہ بیداری پیدا کی کہ دوسروں کو ووٹ دینے کے بجائے دوسروں سے ووٹ لیں ۔ اس کے بعد جاٹ، یادو اور نہ جانے کون کون اقتدار پر چھا گئے۔

جی ہاں اور رہی سہی کسر کانشی رام نے پوری کردی۔ انہوں نے دلتوں کو ہاتھی پر کچھ اس طرح سوار کیا کہ وہ اترنے کا نام ہی نہیں لیتے۔

کلن مرزا تائید میں کہاجی ہاں اب  تو صوبے کی ساری سیاست ہاتھی اور سائیکل کی نذر  ہوگئی ہے۔

ان کی لڑائی کا فائدہ اٹھا کر کمل کھل جاتا ہے۔ ہمارے ہاتھ تو کچھ  نہیں آتا۔ بڑا برا وقت آگیا ہے۔

جی ہاں پنڈت جی کون جانےیہ اجڑ ٹھاکر صوبے کا کیا حال کریں گے ؟

صوبے کا جو بھی کریں لیکن براہمنوں کی حالت ان لوگوں نے خراب کررکھی ہے لگتا ہے۔ پھر سے ہمیں  ہاتھی کو پرنام کرنا پڑے گا۔

یار ہمارے لیے بھی یہی دھرم سنکٹ ہے۔ اب آپ ہی بتائیں کہ اگر سائیکل اور ہاتھی ساتھ نہیں ہوتے تو مسلمان کس کا ساتھ دیں؟

مسلمانوں کے لیے چونکہ دو نوں پر سواری کاموقع ہے  اس لیے دونوں پچکارتے ہیں لیکن اگر یہ ساتھ ہوگئے تو براہمن  کہیں کے نہیں رہیں گے۔

کیا مطلب بہن جی ناراض ہیں کیا؟

ناراض تو نہیں لیکن  بوا بھتیجے کے ساتھ آجانے پر ہاتھی کی سیٹیں نصف سے کم ہوجائیں گی اس لیے کہ جاٹ تاو اور ہاتھ پر بھی کچھ نہ کچھ رکھنا ہی ہوگا۔

جی ہاں  اس کے بغیر کمل مرجھانہیں سکتا ہے۔ یہ اتحاد  ناگزیر ہوگیا ہے۔

سو تو ہے لیکن آپ لوگ تو سائیکل اور ہاتھی دونوں پر سواری کروگے لیکن ہمارے   لیے ہاتھی کی چھوٹی سے دم کے سوا  کیا  بچے گا؟

کلن مرزا نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہایار براہمنوادی سنگھ کے اقتدار میں آجانے پر بھی براہمنوں کا ایسی درگت بنے گی  یہ تو کسی سوچا ہی نہیں تھا۔

للن مشرا نے تائید میں سر ہلا کر کہا ان بیوقوفوں نے بھی نہیں سوچا ہوگا لیکن اس دنیا میں وہی سب تو نہیں ہوتا جو انسان سوچتا ہے۔ ان  سنگھیوں کے ساتھ ساتھ ہم براہمن سماج  پر  شکیل بدایونی کا یہ شعر صادق  آتا ہے؎

میں نظر سے پی رہا تھا کہ یہ دل نے بددعا دی

تیرا ہاتھ زندگی بھر کبھی جام تک نہ پہنچے

مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close