سیاستہندوستان

چت بھی میری پٹ بھی میری، میں ہوں ملائم سنگھ

حفیظ نعمانی

جیسے بھی ہوئی سماج وادی پارٹی کی سلور جبلی تمام ہوگئی۔ دوسرے لیڈروں میں کرناٹک کے دیو گوڑا، بہار کے شرد یادو اور لالو، میرٹھ کے ا جیت سنگھ اور دوچار دوسرے لیڈر بھی آئے اور ملائم سنگھ یادو کی قیادت میں سیکولر محاذ بنانے پر اتفاق ظاہر کر گئے۔ لیکن ملائم سنگھ سے اختلاف رکھنے والے پورا دن ملائم سنگھ کی کج ادائیاں اور بے وفائیاں بھی گناتے رہے اور یہ حقیقت ہے کہ اس معاملہ میں ان کی تاریخ پر کئی داغ ہیں۔ شرد یادو اور لالو یادو نے شاید صرف یادو ہونے کی وجہ سے شرکت کو ضروری سمجھا ورنہ بہار کے الیکشن میں ملائم نے باقاعدہ ایک محاذ بنا کر ان دونوں کی مخالفت میں امیدوار کھڑے کیے تھے جبکہ کوئی ان کا پوچھنے والا بھی نہیں تھا۔
شیوپال یادو باوجود میزبان ہونے کے پوری طرح ریاست کے صدر ہونے کا ثبوت دے رہے تھے، شاید انہیں سب سے زیادہ تکلیف اس کی تھی کہ صرف دو دن پہلے اسی لکھنؤ میں ان کے بھتیجے کی آواز میں آواز ملانے والوں کا سیلاب نظر آرہا تھا۔ لا مائونینئراسکول کے بہت بڑے گرائونڈ میں گردن کو جس طرف گھمائے آدمی ہی آدمی نظر آرہے تھے اور ٹی وی کیمرے بھی بار بار دکھا رہے تھے کہ انسانوں کا سمندر لہریں ماررہا ہے اور شیو پال کی سرپرستی میں سماج وادی پارٹی کی سلور جبلی جس میں پا رٹی کے بڑے اور ملک کے وہ بڑے جو ملائم سنگھ کو نظر انداز نہیں کرپاتے، ان سب کے باوجود ۵ لاکھ سرخ کرسیوں پر بیٹھنے والے اتنے نہیں تھے کہ کیمرے انھیں ایک بار سے زیادہ دکھاتے۔ وہ بھی اس انداز میں کہ کوئی صحیح صورت حال نہ سمجھ سکے۔ ظاہر ہے کہ بھتیجے کے مقابلہ میں یہ صورت حال چچا کے لیے کیسے قابل برداشت ہوسکتی تھی؟ اس لیے انھوں نے جو بات 3؍ تاریخ کو کہی تھی وہ اسے بار بار دہراتے رہے کہ کچھ لوگوں کو وراثت میں حکومت مل جاتی ہے۔ لیکن کچھ وہ ہوتے ہیں کہ جو زندگی بھر جد و جہد کرتے رہتے ہیں اور انھیں کچھ نہیںملتا۔
جس کسی نے بھی شیو پال کو یہ سبق پڑھایا تھا وہ ان کا دوست نہیں تھا۔ اس لیے کہ وہ خود بھی جب جب نمبر دو وزیر بنے اور آج صوبائی صدر بنے ہیں تووہ بھی صرف وراثت ہے کہ وہ نیتا جی کے سگے بھائی ہیں۔ ورنہ صلاحیت، قابلیت، اہلیت اور تجربہ میں ان سے بڑے بڑے پارٹی میں موجود ہیں لیکن وہ بھائی نہ ہونے کی وجہ سے دور سے تماشہ دیکھتے ہیں۔
ملائم سنگھ منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں اور ان کاموں کے ماہر ہیں کہ بھائی اور بیٹا ایک دوسرے کے مقابلہ میں تلواریںسونتے کھڑے ہیں اور وہ سکون سے بیٹھے ہیں۔ کیونکہ اکھلیش بہرحال ان کا بیٹا ہے۔ وہ اگر لاکھوں کی آواز بنا ہے تو وہ بھی ملائم سنگھ سے جڑا ہوا ہے۔ اور شیو پال بھائی ہے۔ اس کی آواز پر لوگ کم آئے تو بھی انھیں کیا فکر، پارٹی ان کی مٹھی میں ہے اور انھوں نے یہ دیکھ لیا کہ اکھلیش پارٹی ان سے نہیں چھینے گا۔ اور ملائم سنگھ اس سے اتنا دور نہیں ہوںگے کہ وہ الگ پارٹی بنانے کے بارے میں سوچے یا دوسروں کی مانے۔
تجربہ کار اور بزرگ یادو لالو نے شیو پال اور اکھلیش کو ایک دوسرے سے ملانے کی بہت کوشش کی۔ شیوپال کا ہاتھ پکڑ کر اکھلیش کے سر پر رکھا جواب میں اکھلیش نے پھرتی دکھائی اور گلے ملنے کے بجائے پائوں کی طرف ہاتھ جھکاکر ’’پائی لاگ‘‘ کا ناٹک کردیا، مگر دونوں کے ہاتھوں میں المونیم کی تلواریں بدستور چمکتی رہیں جس کا صاف مطلب یہ تھا کہ دونوں اپنی اپنی جگہ ؎
جس طرح عاشق و معشوق ناراضی کے بعد
تنہا تنہا راہ میںچلتے ہیں، پر ملتے نہیں
مسئلہ اکھلیش کا ہے اس لیے ہم چھیڑرہے ہیں، ملائم سنگھ کا ہوتا تو ہرگز نہ چھیڑتے کہ جیسے دوکروڑ کی ہر نئی چیز سے آراستہ بس کو رتھ کہنا مذاق ہے۔ اسی طرح جمہوری سیکولر سیاست میں تلوار اور تیر کمان کی جگہ کہاں ہے؟ ایک سیکولر پارٹی جس میں مذہب کو الگ رکھا جاتا ہے اس میں یہ دھارمک نشانیاں کیسے داخل ہوگئیں؟ یہ رام چندر جی اور رامو دن کی جنگوں کی سواری اور ہتھیار، تلوار اور تیر کمان اگر ان سب کو ایڈانی جی اور مودی جی کے لیے چھوڑ دیا جائے تو کیا مضائقہ ہے؟
صرف 15 سو برس پہلے قرآن و حدیث کاغذ سے زیادہ چمڑے اور ہڈیوں ، پتھروںپر لکھا گیا تھا۔ جب پورے کلام پاک کو یکجا کرنے کی کوشش کی گئی تو درجنوں صحابہ کرامؓ کو مہینے لگے تھے۔ رتھ تلوار اور تیر کمان کے دور کو تو لاکھوں برس ہوگئے۔ اس وقت کی تاریخ کے بارے میں کون بتا سکتا ہے کہ رتھ کی شکل کیا تھی اور ہتھیار کیسے تھے؟ اگر مودی جی ان ہتھیاروں کی نمائش ضروری سمجھتے ہیں تو وہ کمان اور تیر لائیں جو دہلی سے مارا جائے اور اسلام آباد میں جا کر نواز شریف کے سینے میں گھس جائے۔ کم از کم اکھلیش تو یہ سب نہ کریں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close