چڑھتے سورج کو ڈوبنا ہی ہے!

منصور قاسمی

   گجرات اور ہماچل پردیش کی اسمبلیوں کے انتخابی نتائج آگئے، دونوں جگہیں بھگوا پرچم بلند ہوا۔ اب بی جے پی کو تو جشن منانا بنتا ہے سو وہ پٹاخے پھوڑنے اوررقص کرنے میں مشغول ہو گئی ہے۔ کانگریس میں تھوڑی خوشی بھی ہے اور تھوڑا غم بھی کیوں کہ اس کے ہاتھ سے ہماچل چلا گیا اور سیاسی پنڈتوں کی پیش قیاسی کے باوجوگجرات ہاتھ نہ آسکا۔ کہنے کو تو ہاردک پٹیل سمیت دوسرے لوگ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ بی جے پی کی نہیں ، ای وی ایم کی جیت ہے اور میں خود بہت حد تک اس سے متفق بھی ہوں مگر ہار جیت تو تسلیم کرنی ہی پڑے گی کہ بظاہر یہ الیکشن بھی جمہوری طریقہ سے ہوا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ بی جے پی گرچہ جیت گئی ہے لیکن وہ جیت کر بھی ہار گئی جبکہ کانگریس ہار کر بھی جیت گیا کیونکہ کانگریس کے پاس کھونے کو کچھ بھی نہیں تھا۔ کانگریس کے نو منتخب صدر راہل گاندھے تن تنہا چند لولہے لنگڑے نیتائوں کو لے کر میدان میں تھے جبکہ بی جے پی نے گجرات فتح کے لئے بیسوں ممبر پارلیامنٹ، کئی صوبے کے وزرائے اعلیٰ کو انتخابی مشن میں لگا دیا تھا، خودوزیر اعظم کے طوفانی دورے اور طوفانی تقریریں ہوتی رہیں ، قریہ قریہ، بستی بستی، شہر شہر بی جے پی کے لیڈران ووٹ کی بھیک مانگتے اور گڑگڑتے نظر آئے۔

 آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد نے بھی اپنی پوری طاقت جھونک دی اس کے باوجود اس کو یقین ہو چکا تھا کہ گجرات ہمارے ہاتھ سے سرک گیا ہے کہ اسی درمیان کانگریسی لیڈر کپل سبل نے بابری مسجدرام جنم بھومی کی ملکیت کی سماعت ۲۰۱۹ کے لوک سبھا الیکشن کے بعد سپریم کورٹ سے کرنے کی درخواست کی۔ بس پھر کیا تھا !فرقہ پرست بلی تھیلے سے باہر آ گئی اور شروع ہوگئی بی جے پی کی گھٹیا سیاست۔ وزیر اعظم نے اخلاق اور عہدہء وزارت عظمیٰ کی عظمت کو بالائے طاق رکھ کر جلسوں میں اپنے خاص اسٹائل میں پوچھنے لگے۔  بھائیو اور بہنو !مندر چاہئے یا مسجد ؟بی جے پی نے انتخابی جلسوں میں اس کو لپک کر اہم مدعا بنا ڈالا۔ اس پر بھی بات نہیں بنی  تو اس نے  دو قدم آگے بڑھ کر کہا : اگر کانگریس جیت گیا تو وہ ایک مسلمان احمد پٹیل کو وزیر اعلیٰ بنائے گا۔  کانگریسی لیڈر منی شنکر ایئر کے گھر میں ایک عام سی میٹنگ کو مسٹر مودی نے پراسرار اور خفیہ میٹنگ قرار دے کر سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری اور سابق فوجی سربراہ کی حب الوطنی پر ہی نشانہ لگا دیا۔ اتفاق سے منی شنکر ایئر نے مودی کے لئے لفظ ’’نیچ، ، استعمال کردیا (جو واقعی غلط تھا) لیکن یہاں سے شروع ہوگئی ایموشنل سیاست۔ نریندر مودی اور اس کے حواریین نے اس کو گجرات میں خصوصاسورت کے انتخابی اجلاس میں اہل گجرات کی بے عزتی سے جوڑ دیا، اس کوسارے گجراتیوں کی بے عزتی قرار دیااور کانگریس سے بدلہ لینے کی درخواست کرنے لگے، چشم زدن نے دیکھا جو سورت جی ایس ٹی اور نوٹ بندی کی وجہ سب سے زیادہ مودی اور بی جے پی سے خفا تھی وہاں کی سولہ سیٹوں میں سے پندرہ بی جے پی نے جیت لی، تاہم مندر مسجد مسلمان پاکستان جیسی اوچھی سیاست کے باوجو د بی جے پی ۱۰۰ سے بھی کم سیٹوں پرآ گئی۔

     کانگریس کی جہاں تک بات ہے تو میرا ماننا ہے کہ یہ پے در پے شکست اس کے کردہ گناہوں کی سزا ہے۔ آزادی کے بعد سے کانگریس کو یہ زعم تھا کہ ہمیں کوئی ہرا نہیں سکتا، مگر آج پورے ہندوستان میں یہ نیشنل پارٹی صرف چار ریاستوں تک محدود ہوگئی ہے۔ کانگریس جس کو مسلمانان ہند آزادی کے بعد سے اپنی پارٹی سمجھتی رہی اس نے ہمیشہ ہی پس پشت ان پرمسلسل وار کیا ہے۔  سینکڑوں فساد ہوئے جس میں ہزاروں مسلمان تہ تیغ کر دیئے گئے،  باہنر مسلم نوجوانوں کا مختلف بہانوں سے انکائونٹرکیا گیا، بلا جواز کال کوٹھریوں میں دھکیلا گیا اور یہ سارے تماشے و ظلم و ستم کانگریس کے دوراقتدار میں ہوتے رہے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ بی جے پی کو پھلنے پھولنے کا موقع بلکہ جنم داتا یہی کانگریس ہے۔ بابری مسجد کو فرقہ پرستی اور مذہب پرستی کا تختہء مشق بنانے والا کانگریس ہی ہے۔  بابری مسجد میں مورتی استھاپنا کانگریس کی حکومت میں ہوئی، ہندوتوا وادیوں نے ۱۹۸۴ میں بابری مسجد کھلوانے کامطالبہ کیا اور ’’مندر وہیں (جہاں بابری مسجد ہے ) بنے گا، ، کا جذباتی نعرہ دیا۔ یکم فروری ۱۹۸۶ کو ڈسٹرکٹ فیض آباد نے بابری مسجد کا تا لا کھلوا کر عام ہندوئوں کو پوجا پاٹ کی اجازت دی مگر کانگریس سرکار نے مسلمانوں کی رائے تک لینے کو زحمت نہیں کی۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو جنونی ہندوئوں نے بالآخر بابری مسجد ڈھادی اوراس میں کانگریس سرکار کے وزیر اعظم نرسمہا رائوکی مکمل حمایت تھی، یہ انکشاف ۲۰۰۵ میں انٹلی جنس بیورو کے جوائنٹ ڈائرکٹرملولے دھر کرشنا نے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بابری مسجد کے انہدام سے دس ماہ قبل وشو ہندو پریشد، آر ایس ایس اور بجرنگ دل نے اس کی منصوبہ بندی کی تھی جس کی ٹیپ وزیر اعظم نرسمہا رائو کو بھیج دی گئی تھی مگر وہ گونگا اور بہرا بنے رہے۔ یعنی بابری مسجد کی مسماری کانگریس نے ہی کی ہے۔ آخر اللہ تو حاکم و عادل ہے، اس کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں چنانچہ اس نے کانگریس کو اس مقام پر پہونچا دیا ہے جہاں اس کو اب اپنی بقا کی جنگ لڑنی پڑ رہی ہے، اقتدار تو دور حزب مخالف کے لائق بھی نہیں رکھا ۔

       بی جے پی آج اقتدار کے نشے میں چور ہے، بد مست ہاتھی کی طرح چال چل رہی ہے، لو جہاد اور گئو کشی کے نام پر درجنوں بے گناہ افراد قتل کئے جانے کے باوجود قاتل کو سزا نہیں دی جا رہی ہے بلکہ شمبھولال جیسے حیوانوں کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے لیکن بی جے پی کو جان لینا چاہیے کا کہ نگریس کا سورج بھی ماضی میں غروب نہیں ہوتا تھا مگر آج طلوع ہونے کو مطلع نہیں مل رہا ہے۔ نریندر مودی جو خود کو اعلیٰ و ارفع بلکہ قانون سے بالاتر سمجھ رہیں ان کی بھی آن بان شان کا سورج  ایک دن ڈوب جائے گا۔ کبھی بی جے پی کے ہی سینئر لیڈر، بی جے پی کے مکھ درشن اور نریندر مودی کے گرو لال کرشن اڈوانی بھی یہی سمجھتے تھے کہ بی جے پی کا مطلب’’ میں ، ،۔ ایک وقت تھا سارے فیصلے وہ خود لیتے تھے کسی کو مطلق نہیں گردانتے تھے، اس نے روایت سے بغاوت کر کے نا ئب وزیر اعظم کے لئے اپنے نام کا اعلان کروایا مگر آج گجرات اور ہماچل فتح کرنے کے بعد بھی وہ منظر نامے میں کہیں نہیں ہیں ۔ اب تو بی جے پی کا کوئی ادنی ٰ لیڈر بھی مودی اینڈ کمپنی کے خوف سے ان کی خبر گیری تک نہیں کرتا ہے۔ در اصل رتھ یاترا نکال کر فساد مچانے اور بابری مسجد گرانے کی اللہ نے ان کو یہ سزا دی ہے کہ وہ اپنی ہی پارٹی میں اچھوت بن گئے ہیں ۔ یاد رہے ! چڑھتے سورج کو ایک دن ڈوبنا  ہی ہوتا ہے سو بی جے پی اور مودی کا سورج بھی ایک دن کانگریس اور اڈوانی کی طرح غروب ہوجائے گا، بس صبر اور انتظار کیجئے۔

؎  وقت کی شاخ سے پتے سبھی جھڑ جائیں گے

   وقت ٹھہرا ہو کہیں پر تو دکھائو  یارو



⋆ منصور عالم قاسمی 

منصور عالم قاسمی 

مدیر اعزازی بصیرت میڈیا گروپ 

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

حمدیہ و نعتیہ مشاعرہ

آئی ایف سی ادبی فورم ریاض کی زیر اہتمام۸؍دسمبر کو ہوٹل نیاگرا میں ایک شاندار حمدیہ و نعتیہ مشاعرہ اور نثری نششت ہوئی، جس کی صدارت حیدرآباد سے تشریف لائے مشہور و معروف علمی و عبقری شخصیت محترم ڈاکٹر و مفتی محمد کاظم حسین صاحب نے کی، جب کہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے تنظیم ’ہم ہندوستانی، کے صدر عالی وقار محمد قیصر صاحب اسٹیج پر جلوہ افروز تھے۔ آئی ایف سی ادبی فورم ریاض کی روایات کے مطابق یہ نشست بھی نثر اور نظم دو حصوں پر مشتمل تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے