سیاست

چھلنی بھی بولی جس میں 72  چھید

حفیظ نعمانی

گورکھ پور میڈیکل کالج میں ایک ہفتہ پہلے جو کچھ ہوا اور اس کا سلسلہ برابر جاری ہے اس کے متعلق حکومت اور اپوزیشن وہی کررہی ہیں جو ہمیشہ ہوتا رہا ہے کہ حکومت کہتی ہے کہ اس کی کوئی غلطی نہیں ہے اور حزب مخالف کی ہر پارٹی کا دعویٰ ہے کہ صرف حکومت کی غلطی ہے۔ گورکھ پور کے معاملہ میں ہم جیسوں کا خیال تھا کہ شاید وہ نہ ہو جو ہر حکومت کرتی رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ کلف دار سفید کرتہ اور دودھ کی طرح سفید دھوتی پہنے ہوئے نہیں ہیں بلکہ وہ کپڑے اور اسی رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے جن کے پہننے کے بعد نہ جھوٹ بولا جاتا ہے اور نہ عام آدمی یہ سمجھتا ہے کہ وہ جھوٹ بول سکتے ہیں۔

گورکھ پور میں اگر میڈیکل کالج میں آکسیجن کی کوئی کمی نہیں تھی اور ڈاکٹر کفیل جیسے ڈاکٹر رات میں شہر کے دوسرے پرائیویٹ اسپتالوں سے سلنڈر مانگتے پھر رہے تھے اور اپنی کار میں لادکر لارہے تھے تو کیا وہ مسلمان ہونے کی وجہ سے حکومت کو بدنام کرنے کے لئے یہ ڈرامہ کررہے تھے؟ اور اگر 36  گھنٹے میں 30  بچے مرگئے تو پھر وہ کس وجہ سے مرگئے۔ کیا کوئی غلط دوا تھی جو سب کو دی گئی اور سب مرگئے؟ جب پورا گورکھ پور، پورا اُترپردیش اور پورا ملک یہ کہے کہ آکسیجن کے نہ ہونے سے بچے مرگئے اور حکومت بلکہ زعفرانی کپڑوں میں ملبوس یوگی آدتیہ ناتھ بھی کہیں کہ آکسیجن کی کوئی کمی نہیں تھی تو کیوں نہیں بتایا جاتا کہ پھر کیوں مرگئے؟

بی جے پی کے صدر امت شاہ جن کے فرائض میں وزیر اعلیٰ کے کپڑے دھونا نہیں ہے وہ کہہ رہے ہیں کہ ملک میں پہلی بار نہیں ہوا ہے گورکھ پور جیسا حادثہ۔ اور شاید یہ تو کسی نے بھی نہیں کہا ہے کہ یہ ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا حادثہ ہے۔ بات صرف یہ ہے کہ جن کی حکومت میں ایسے حادثے ہوتے رہے ہیں ان کو عوام نے اسی لئے ہٹایا ہے کہ وہ نااہل تھے اور نریندر مودی کی ایسی یقین دہانیوں پر کہ اب ایسے حادثے نہیں ہوں گے بی جے پی کو حکومت دی ہے۔ اب اگر اس کے دَور میں بھی ایسے حادثے ہونے لگیں تو دونوں میں فرق کیا رہا؟

امت شاہ نے فخر سے کہا ہے کہ جانچ بٹھا دی ہے یہ جانچ نہیں بے وقوف بنانا ہے۔ اور سب کو چپ کرنا ہے کہ سب خاموش رہو جانچ ہورہی ہے۔ یہ کیسی عجیب جانچ ہے کہ نوکر مالک کی جانچ کررہے ہیں ؟ اور یہ دیکھ رہے ہیں کہ اُترپردیش کے ہندی اخبارا بھی ڈاکٹر کفیل کی فرض شناسی سے بھرے ہوئے تھے اسی کفیل کو لاپروائی کا الزام لگاکر ہٹا دیا گیا کیونکہ اس نے رات کے دو بجے گیس سلنڈر کے لئے دوڑ بھاگ کرکے ثابت کردیا کہ اسپتال میں آکسیجن بند ہونے سے بچے دم توڑ رہے تھے۔ اور حکومت یہ ماننے پر تیار نہیں ہے کہ آکسیجن ایک منٹ کے لئے بھی بند ہوئی۔

جو کمپنی آکسیجن سپلائی کررہی تھی اس کا بل بھی جھوٹا ہے، اس کا تقاضہ بھی جھوٹا ہے، اس کا نوٹس بھی جھوٹا ہے، اس کی دھمکی بھی جھوٹی ہے اور یہ بھی جھوٹ ہے کہ اس نے سپلائی بند کردی تھی۔ پرائم ٹائم میں روش کمار نے جو بتایا کہ کئی ڈاکٹر آٹھ مہینے سے تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے نوکری چھوڑکر چلے گئے۔ اور اب ان کے کمرے خالی پڑے ہیں شاید یہ سبھی جھوٹ ہے؟ امت شاہ نے کہا کہ جنم اشٹمی اور 15  اگست کے پروگراموں پر اس حادثہ کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ شاید شیوسینا کے ترجمان سامنا میں اسی لئے لکھا ہے کہ غریبوں کے دُکھ سے سیاست دانوں کا من دُکھی نہیں ہوتا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک میں ہر طرف غریب ہی غریب ہیں اور ان کی حقیقت میں دُکھ ہی دُکھ ہیں ۔ اگر سیاست داں اُن کے دُکھ سے دُکھی ہونے لگیں تو وہ خود سوکھ کر کانٹا ہوجائیں گے۔

لکھنؤ کا نظیر آباد بازار اب چکن بازار ہوگیا ہے۔ ہمارے ایک دوست نے اپنے لڑکے کے لئے ایک دُکان کرایہ پر لی اور چکن کے کپڑوں سے دُکان بھردی۔ اس دُکان کے داہنے اور بائیں بھی چکن کی ہی دُکان تھی جن کے کائونٹر پر جوان لڑکے ہی بیٹھے تھے۔ ہمارے دوست کے لڑکے نے اپنے باپ سے کچھ دنوں کے بعد شکایت کی کہ نہ جانے کیا بات ہے کہ داہنی دُکان سے اگر گاہک مطمئن نہیں ہوتا تو میری دُکان چھوڑکر بائیں دُکان پر رُک جاتا ہے ہماری دُکان پر نہیں آتا۔ باپ نے معلوم کیا کہ کیا وہ زیادہ خوبصورت ہیں یا وہ زیادہ اچھے کپڑے پہنتے ہیں ؟ آخر تم میں اور ان میں کیا فرق ہے؟ بیٹے نے کہا کہ دونوں کے داڑھی ہے اور دُکان پر ٹوپی پہنے بیٹھے رہتے ہیں ۔

ہمارے دوست سمجھ گئے کہ معاملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تم شیومت کرنا ان سے بڑی داڑھی رکھو اور ان سے زیادہ اونچی ٹوپی پہنو۔ خریدار یہ سمجھتے ہیں کہ جن کے چہرے پر داڑھی اور سر پر ٹوپی ہوتی ہے وہ دن میں بار بار مسجد جاتے ہیں اور اپنے اللہ سے یہ عہد کرکے آتے ہیں کہ جھوٹ نہیں بولیں گے، دھوکہ نہیں دیں گے اور تیرے بندوں کے ساتھ فریب نہیں کریں گے۔ اور پھر اس نے بھی مقابلہ پر داڑھی رکھ لی مگر نماز ان میں سے کوئی نہیں پڑھتا تھا۔

وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا معاملہ دوسرا ہے ان کی زندگی کی جو تفصیل پہلے پہل آئی تھی اس میں سب سے زیادہ رات کے آخری حصہ میں پوجا کی تفصیل ہے وہ بے زبان گایوں کو اپنے ہاتھ سے کھلاتے ہیں  عوام کے مسائل سن کر ان کی مدد کرتے ہیں ۔ انہوں نے جو بیان دیا اسے مخالفوں نے جھوٹ کہا۔ ہمارا خیال ہے کہ ابھی وہ اس مقام پر نہیں آئے ہیں کہ فائل سکریٹری کے منھ پر مارکر کہیں کہ تم مجھ سے جھوٹ بلوائوگے؟ ہر وزیر اعلیٰ اور ہر وزیر وہی بولتا ہے جو افسر لکھ کر دیتے ہیں ۔ اب ان کی زندگی کے معمولات پوجا پاٹ اور لباس کا افسروں کی شاطرانہ چالوں سے ٹکرائو ہے۔ اب یہ فیصلہ یوگی جی کریں گے کہ دھرم زیادہ ہے یا حکومت؟ قصور تو ریل کے حادثہ میں لال بہادر شاستری کا بھی نہیں تھا مگر…

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close