سیاست

چیف الیکشن کمشنر مختار ہیں یا مجبور؟

حفیظ نعمانی

پہلے یہ بات صاف ہونا چاہئے کہ الیکشن کمیشن فریق ہے یا جج؟ جب سے چیف الیکشن کمشنر اروڑہ آئے ہیں ہر پارٹی نے ان سے کہا ہے کہ ووٹنگ مشین کے بجائے بیلٹ پیپر سے کرادیجئے اور اس کی صاف وجہ یہ ہے کہ 2017 ء کے اترپردیش کے اسمبلی الیکشن میں جگہ جگہ سے یہ شکایت آئی کہ بٹن کوئی دبائو ووٹ کمل کے حساب میں جائے گا۔ ابتدا میں ہم نے اسے نہیں مانا اس کے بعد بہت ذمہ دار اور بزرگ سیاست داں بھی اسی نتیجہ پر پہونچے کہ ایسا ہوا تھا۔ الیکشن کے فوراً بعد مس مایاوتی نے زور شور سے کہنا شروع کیا تھا کہ میرے ووٹ بی جے پی نے چھین لئے۔ لیکن اس وقت کے چیف صاحب نے اعلان کردیا کہ مشینیں رکھی ہیں کوئی ان میں یہ کام کرکے دکھادے تو ہم مان لیں گے۔ یہ مطالبہ ہندوستان میں نیا نہیں تھا نہ جانے کتنے ملکوں نے مشینوں کا تجربہ کیا اور انہیں ردّ کردیا۔

یہ جواب منھ بند کرنے کے لئے تو ٹھیک تھا ورنہ یہ غلط تھا دنیا کی اہم ایجادات کی تاریخ یہ ہے کہ وہ کسی ایک دماغ کی اُپج ہوتی ہے پھر اس کے بعد اس میں کلی پھند نے دوسرے دماغ لگاتے ہیں جیسے میزائل ڈاکٹر عبدالکلام کے اکیلے دماغ کی ایجاد ہے اب اس کی رفتار بڑھائو فاصلہ بڑھائو اور اسے چاند پر بھیج دو میزائل مین عبدالکلام ہی رہیں گے اس لئے یہ کہنا کہ آکر مشین میں کرکے دکھائو۔ ایسا ہی جواب ہے۔ اسے اتفاق کہا جائے گا کہ سید شجاع نام کے ایک آدمی نے جس کا کوئی تعلق کسی پارٹی سے نہیں معلوم ہوسکا بھانڈا پھوڑا کہ ہاں ایسا ہوا اور بتایا کہ 2014 ء اور اس کے بعد اُترپردیش اور گجرات میں ہم نے مشین کو نچایا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اروڑہ صاحب اسے دعوت دیتے اور کہتے کہ ایک لاکھ روپئے ملیں گے یہ کرکے دکھادو کہ ہاتھی کے لئے بٹن دبائو اور ووٹ کمل کو چلا جائے۔ اس کے بجائے انہوں نے پکڑو پکڑو مارو مارو یہ افواہیں پھیلا رہا ہے۔ ہمیں حیرت ہوئی تھی کہ اتنے ذمہ دار عہدہ پر بیٹھنے والا کیسے ایسے سنہرے موقع کو ضائع کرسکتا ہے۔ اور ان کے اس فیصلہ نے انہیں بھی شک کے دائرے میں کھڑا کردیا۔

سنیل اروڑہ صاحب چیف ہیں انہوں نے کیوں شجاع کو جانے دیا اور وہ کیوں اس بات پر اَڑے ہیں جو مودی جی چاہتے ہیں وہ ہو سپریم کورٹ کے حکم کے بعد بس اتنا ہوا کہ بٹن دباکر نشان کی تصویر تین سکنڈ کے لئے آتی ہے شجاع جیسے فتنہ پرور اور نہ جانے کیا کیا کرسکتے ہیں اس لئے جب ہمارے ملک میں جمہوریت ہے اور ملک کے 70  فیصدی آدمی کہہ رہے ہیں کہ مشین پر اعتماد نہیں رہا تو آپ کو کیا ضد ہے کہ مشین ہی استعمال ہوگی۔ یا تو آپ اعلان کیجئے کہ میں مودی سرکار کا نوکر ہوں تو ہم دوسرا راستہ سوچیں گے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ افسروں کا تبادلہ ہو یا معطل کرنا، ہر کام کیلئے آپ سے اجازت لی جاتی ہے گویا آپ نریندر مودی سے زیادہ بااختیار ہیں تو پھر مودی کے 30  فیصدی سے بھی کم کی خواہش کیوں پوری کررہے ہیں؟

خدا خدا کرکے آپ کو فرض یاد آیا اور آپ نے بے لگام گھوڑوں کے منھ میں لگا دی اور ان کی بولتی بند کردی لیکن اس کا اعلان کیوں نہیں کیا کہ وزیراعظم کو سو خون معاف ہیں، وہ تو پانچ سال آنکھوں پر پٹی باندھے رہے ایک بار بھی نہیں پڑھا کہ 2014 ء میںوہ کیا کیا سنہرے خواب دکھاکر آئے تھے۔ اور اب جب وہ امتحان ہال میں بیٹھے ہیں تو یہ لکھنے کے بجائے کہ کتنے روزگار دیئے کتنی مہنگائی کم کی کتنی روپئے کی حیثیت بڑھائی پھانسی پر آمادہ کتنے کسانوں کو ہنستی کھیلتی زندگی لوٹادی کتنا کالا دھن برآمد کیا اور اچھے دنوں کا ڈھیر لگادیا وغیرہ صرف ایک سبق دن رات سنا رہے ہیں کہ ہوائی فورس نے بالاکوٹ میں گھس کر دہشت گردوں کو سزا دے دی اور یہ صرف میری بہادری کی وجہ سے ہوا۔

انہیں یہ حق کس نے دیا کہ وہ پہلی بار ووٹ دینے والے نوجوانوں سے کہیں کہ تمہارا ووٹ پلوامہ کے شہیدوں کے نام ہونا چاہئے اور ان ہواباز جانبازوں کے نام جنہوں نے بالاکوٹ میں تباہی مچادی۔ چیف کو بھی معلوم ہے کہ یہ جھوٹ ہے مودی جی کے وزیروں نے خود کہا ہے کہ ہمارا پروگرام مارنا نہیں تھا بس یہ تھا کہ ہم اندر گھس کر بھی مار سکتے ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ پروگرام تو یہی تھا کہ سارے تربیتی کیمپ اُڑادیئے جائیں لیکن عین وقت پر چین سے فون آگیا کہ مارکاٹ مت کرنا شوں شاں کرکے آجانا اور وزیراعظم کی ہمت نے جواب دے دیا۔ اب یہ فیصلہ چیف صاحب کریں کہ کیا ہر تقریر میں اتنا سفید جھوٹ بولنا اور صرف اسی کو گانے پر کوئی پابندی نہیں ہے؟

نریندر مودی پلوامہ کے شہیدوں کے نام تو کنوارے ووٹ ڈلوا رہے ہیں لیکن ان کی روحوں کے سکون کیلئے کیا کیا جو 2016 ء میں بینک کی لائن میں کھڑے کھڑے مرگئے اور ان کی موت کے ذمہ دار نوٹ بندی کا اعلان کرنے والے وزیر اعظم ہیں۔ کیا خبر ان بے گناہوں کی موت نے ہی وزیراعظم کو اتنا کمزور کردیا ہو کہ وہ چور ہے کا لفظ سن رہے ہیں اور دانت کٹکٹانے کے علاوہ کچھ نہیں کرپارہے چیف صاحب کا فرض ہے کہ ان کی بھی حد مقرر کریں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close