سیاستہندوستان

ڈاکٹر کفیل خان: اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

دراصل بات یہ ہے کہ جن مجرموں کے ساتھ کفیل کو جیل میں بند کیا گیا تھا ان کا اس نے کچھ نہیں بگاڑا  تھا لیکن یوگی جی کا معاملہ مختلف ہے۔ ان کے کئی دوست اور دشمن جیل میں ہیں اور وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔

ڈاکٹر سلیم خان

للن  خان نے کلن سنگھ  کو بنگلور کے پولس گیسٹ ہاوس میں دیکھا تو سوال کیا ، کیوں بے تو یہاں کیا کررہا ہے ؟

کلن مسکرا کر بولا وہی جو تو کررہا ہے۔

للن نے حیرت سے سوال کیا مجھے تو ایک خفیہ مشن پر یہاں بھیجا گیا ہے۔ تجھے کیسے پتہ چل گیا کہ میں کیا کررہا ہوں ؟

کلن نے دل لگی کی ارے بھائی  میں یوگی جی کا رکشک ہوں مجھے یوگ ودیاّ سے سب پتہ چل جاتا ہے۔

للن کو پھر بھی یقین نہیں آیا اس نے پوچھا اچھا چل بتا میں کیا کررہا ہوں؟

تو ۰۰۰۰۰تو ڈیوٹی کررہا ہے،  جیسے میں۰۰۰۰۰میں  ڈیوٹی کررہا ہوں ۔ کلن ہنس کر بولا

بات صد فیصد درست تھی للن لاجواب ہوگیا اور سوال کردیا لیکن تو کس کام پر تعینات ہے۔

ارے بھائی آج یہاں بنگلور اس کے آس پاس یوگی جی پرچار کرنے کے لیے آئے ہوئے ہیں اور ہم لوگ ان کی سرکشا کے لیےلائے گئے ہیں۔

اتر پردیش سے تم لوگوں کو لانے کی کیا ضرورت پڑی ؟ کیا یہاں پولس کرمیوں کا اکال  پڑا ہے ؟

ارے بھائی ایسا ہے کہ یوگی جی کوتو اپنی پارٹی کے لوگوں پر بھی  پر وشواس نہیں کرتے اوریہاں کی  کانگریسی پولس سے تو انہیں  بہت ڈر لگتا ہے ؟

پولس بھی کہیں کانگریسی اور بھاجپائی ہوتی ہے؟ وہ تو پولس ہوتی ہے۔

للن !یہ اس سمئے کی بات ہے جب ہم پولس فورس میں آئے تھے آج کل تو ایسا ہے’  پردیش (صوبے) میں جس پارٹی کی  سرکار، پولس  اس کی وفادار ‘۔

ہاں یہ بھی سہی ہے لیکن یوگی جی کے ڈر والی بات سمجھ میں نہیں آئی ؟

ارے بھائی ان کے دشمن کہاں نہیں ہیں۔ پارٹی کے اندر اور باہر ہر جگہ انہوں نے پنگا لے رکھا ہے۔  اسی لیے ڈرتے رہتے ہیں۔ تو یہ بتا کہ یہاں کس لیے آ دھمکا ؟

للن بولا مجھے ڈاکٹر کفیل کے پیچھے لگا دیا گیا ہے ۔ وہ جہاں بھی جاتے ہیں مجھے جانا پڑتا ہے ۔  پہلے تو میں گورکھپور میں سائے کی طرح ان کے پیچھے لگا رہا اور  محکمے کوان کے نقل و حرکت  کی خبر دیتا رہا لیکن  پھر وہ دہلی پہنچ گئے اس لیے مجھے دہلی جانا پڑا ۔ اب وہ بنگلور چلے آئے تو مجھے یہاں بھیج دیا گیا۔

لیکن وہ ڈاکٹر اسپتال چھوڑ کر اِدھراُدھر مارا مارا کیوں پھرِرہا ہے ؟

اس لیے کہ اپنے یوگی جی نے اس کو معطل کردیا ہے۔

تو گھر میں شانتی   سے بیٹھا رہے ۔ دہلی جانے اور بنگلور آنے کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی؟

کارن وہی ہے  جو یوگی جی کے در بدر بھٹکنے کا ہے؟

کیا مطلب میں نہیں سمجھا ؟

بھئی یوگی جی ہر جگہ اپنی پارٹی کا پرچار کرتے پھرتے ہیں۔

اور وہ ان کی مخالفت کرتا پھرتا ہے۔

اچھا یہ مجال !  کیا  اس کو ڈر نہیں لگتا ؟ کلن سنگھ نے حیرت سے پوچھا

یہی سوال کل ایک صحافی نے ان سے پریس کانفرنس میں پوچھا تھا۔

اچھا تو اس نے کیا کہا ؟

وہ بولے مجھے پہلے  گرفتاری سے بہت  ڈرلگتا تھا لیکن یوگی جی نے جیل بھیج کر نڈر بنادیا ۔ اب میں کسی یوگی ٹھاکر سے نہیں ڈرتا۔

یار عجیب بات ہے۔ یوگی جی نے اس کو ڈرانے کے لیے جیل بھیجا تو وہ نڈر بن گیا ۔ اب یوگی جی کو کیسے بے خوف بنایا جائے ؟

اس کے لیے ان کو بھی جیل جانا ہوگا؟

لیکن وہ جیل نہیں جائیں گے ۔ وہ جیل کبھی نہیں جائیں گے۔

کیوں ۔ ان کو کیا پریشانی ہے؟

دراصل بات یہ ہے کہ جن مجرموں کے ساتھ کفیل کو جیل میں بند کیا گیا تھا ان کا اس نے کچھ نہیں بگاڑا  تھا لیکن یوگی جی کا معاملہ مختلف ہے۔ ان کے کئی دوست اور دشمن جیل میں ہیں اور وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ یاد ہےملائم  نے۲۰۰۷ ؁ انہیں  جیل  بھیجا تھا تو وہ پارلیمان میں پھوٹ پھوٹ کرروئے تھے۔

جی ہاں  یو ٹیوب پر وہ ویڈیو  میں نے دیکھی ہے۔ انہوں نے کہا اگر ایوان پارلیمان مجھے تحفظ نہیں دے سکتا تو میں ابھی اسی وقت اسے چھوڑ کر جانے کے لیے تیار ہوں۔ اس وقت ایوان کے صدرسومناتھ دا نے انہیں دلاسہ بھی دیا تھا۔

یار اگر ایسا ہے  تو کفیل کو بہت زیادہ ڈرنا چاہیے ۔

میرا بھی یہی خیال تھا لیکن دہلی  میں  جب میں نے ایک صحافی کے بھیس میں ان سے یہ سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا ؟ ’جو انسانوں سے ڈرتاہےاسے اپنے سائے سے بھی ڈر لگتا ہے لیکن  جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ کسی سے نہیں ڈرتا‘۔

یار للن ایک اور بات مجھے پریشان کررہی ہے۔ یوگی جی تو چناو جیتنے کے لیے پاپڑ بیل رہے ہیں مگر وہ ڈاکٹر یہ سب کیوں کررہا ہے؟

میں یہ سوال بھی ان سے کیا تھا تو انہوں نے کسی ظفر فاروقی کا ایک شعر سنا دیا ؎

ظلمتوں میں جلارہے ہیں چراغ  

ورنہ ظلمت سے لوگ ڈر جاتے

یہ آسان سا شعر بھی کلن کے سر سے اوپر گذر گیا اور وہ سردھنتا رہ گیا ۔ للن بولا اب مجھے کیرالہ جانا ہے ۔

کلن نے پوچھا کیوں؟ وہاں بھی الیکشن ہے کیا ؟

نہیں وہاں پر کو سالیڈارٹی فورم  ہے جس نے ڈاکٹر کفیل کے اعزاز میں جلسۂ  تہنیت منعقد کیا ہے اس لیے ان کے تعاقب میں مجھے جانا ہی پڑے گا ۔   پتہ نہیں یہ ڈاکٹر  صاحب مجھے کہاں کہاں کی سیر کرائیں گے ؟

لیکن مجھے پتہ ہے کہ یوگی جی کے ساتھ  مجھےان سبھی صوبوں میں جانا پڑے گا جہاں چناو ہونے والے ہیں  اور وہی سب سننا پڑے گا مجھے یاد ہوگیا ہے۔

 للن نے کہا میرا بھی یہی حال ہے لیکن ایک فرق کے ساتھ کہ میں جو بار بار سن  رہا ہوں وہ’آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی‘ ہے۔

 کلن بولا یارمگر  ہر روز  ایک سے  جھوٹ سنتے سنتے میرے کان پک گئے ہیں۔

    للن  خان کو اپنے دوست  کلن  سنگھ پر اور کلن کو  ڈاکٹرکفیل پر رحم آرہا تھا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close