سیاستہندوستان

کانگریس زیادہ خوش فہمی کا شکار نہ ہو

حفیظ نعمانی

کانگریس ورکنگ کمیٹی نے 21 جولائی کی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا تھا کہ عام انتخابات سے پہلے مختلف ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات بھی یکساں خیالات رکھنے والی پارٹیوں کے ساتھ مل کر لڑنے اور ان سے تال میل کرنے کی ذمہ داری صدر مسٹر راہل گاندھی کے سپرد کردی گئی ہے۔

بعد میں پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ ملک کی 12 ریاستوں میں کانگریس کو 150 سیٹیں مل سکتی ہیں اور پچاس سیٹیں ان صوبوں سے مل سکتی ہیں جہاں اتحاد کرکے پارٹی الیکشن لڑے گی۔ اس کے بعد یہ کہا کہ کانگریس الیکشن میں راہل گاندھی کے چہرہ کو وزیراعظم کا چہرہ بناکر الیکشن لڑے گی۔ میٹنگ کے بعد اگر یہ بے وقوفی کے جملے نہ کہے جاتے تو اچھا تھا۔ راہل گاندھی گجرات کے الیکشن میں ایک سوال کے جواب میں کہہ چکے ہیں کہ اگر کانگریس کو اتنی سیٹیں مل گئیں کہ حکومت بن سکے تو وہ وزیراعظم بن سکتے ہیں۔ کانگریس کے سب سے بزرگ اور کل کے آئے ہوئے سب یہ بات ہمیشہ سے جانتے ہیں کہ اگر کانگریس حکومت بنانے کی پوزیشن میں کبھی آئے گی تو وزیراعظم راہل گاندھی ہوں گے اور سارا ملک بھی یہ بات تسلیم کرتا ہے اور جانتا ہے۔

یہ بات بار بار کہی جاچکی ہے کہ آنے والا الیکشن وزیراعظم کے چہرہ پر نہیں لڑا جائے گا، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے 1977 ء میں صرف اس بات پر الیکشن لڑا گیا تھا کہ اندرا گاندھی کو اور کانگریس کو ہرانا ہے۔ 2014 ء میں بھی پہلا نعرہ کانگریس کو ہرانا تھا دوسرا مودی کو وزیراعظم بنانا تھا اگر بی جے پی کی لگام آر ایس ایس کے ہاتھوں میں نہ ہوتی تب بھی الیکشن کانگریس کو ہرانے پر ہی لڑا جاتا۔ یہ ہوسکتا ہے کہ جو 280 سیٹیں آئیں وہ نہ آتیں کیونکہ بڑی تعداد ان کی بھی ہے جن کو 15 لاکھ روپئے کی بات پر اس لئے یقین آگیا تھا کہ نریندر مودی نے اعداد و شمار کے ساتھ کہا تھا کہ 80 لاکھ کروڑ روپئے سوئزر لینڈ اور دوسرے ملکوں میں کانگریس کے وزیروں کے جمع ہیں۔ یہ بات ہر آدمی کے حلق سے اس لئے اتر گئی کہ ہر محفل میں یہ تذکرہ ہوتا تھا کہ راجیو گاندھی کے زمانہ میں اور ان کے بعد سونیا گاندھی کے اقتدار کے دس برسوں میں رات کو 12 بجے سے 2 بجے تک صرف صوبوں کے وزیراعلیٰ اور مرکزی وزیر نوٹوں سے بھرے سوٹ کیس لاتے تھے پھر دو بجے کے بعد اہم لوگوں کو دربار میں بلایا جاتا تھا۔ یہ بات مسلمانوں کو اس لئے معلوم تھی کہ شاہ بانو والے مقدمہ میں راجیو گاندھی نے مولانا علی میاں اور مولانا منت اللہ رحمانی کو رات کے دو بجے ملنے کا وقت دیا تھا۔ اور آنکھ بند کرکے بھروسہ کرنے والی بات یہ تھی کہ جو رام دیو یادو تھا مگر مودی کو وزیراعظم بنوانے کے لئے دو برس سے بابا اور سنیاسی بنا ہوا تھا اور اب ایک لاکھ کروڑ کا بزنس کررہا ہے وہ ہر بات کی تائید کررہا تھا۔

یہ تھا وہ سبب کہ ووٹ دینے والوں کی بہت بڑی تعداد ان کی تھی جو سو دن کے اندر لکھ پتی بننے والے تھے۔ اگر مودی چہرہ نہ ہوتے تو بی جے پی 180 پر رہ جاتی۔ اب مودی جی کی کمائی صرف وہ ہندو ہیں جن کو انہوں نے نئے سرے سے وہ ہندو بنا دیا جو سامنے سے دلت کو گذرتا دیکھ لے تو آنکھوں کو دھوئے یا جن کے سامنے سے دلت لڑکی سائیکل پر بیٹھ کر نہیں گذر سکتی اور جو ذرا ذراسی بات پر دلت عورتوں کو ننگا کرکے گاؤں میں گھماتے اور اسے بہادری سمجھتے ہیں۔ یا ان کی ہے جن سے روزگار کا وعدہ کیا تھا اور انہیں یہ روزگار دیا ہے کہ جس مسلمان کو گائے لے جاتا ہوا دیکھ لو اس کا روپیہ موبائل سب چھین لو اور اسے مارکر گائے بھی لے لو جسے دس پندرہ ہزار میں بیچ دینا۔ اور اگر غنڈہ گردی نہ کرسکو تو سڑک کے کنارے پکوڑے بناکر بیچا کرو یا پان کی دکان رکھ لو۔ پولیس تم سے کچھ نہیں کہے گی اور پکڑے گی تو فوراً ضمانت ہوجائے گی پھر تم سینانی ہوجاؤ گے۔

کانگریس کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ حقیقت اور خواب الگ الگ ہوتے ہیں ابھی 50 سیٹیں جیب میں نہیں ہیں اور 200 سیٹوں کی بات کرنے لگے۔ ان کے لئے سب سے اہم یہ بات ہے کہ وہ ان صوبوں سے کتنی سیٹیں لاتے ہیں جہاں صرف وہ اور بی جے پی ہیں؟ اسی کے ساتھ انہیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ وزیراعظم کی کرسی سے مودی جی کو ہٹانا وزیراعظم بننے سے کم اہم نہیں ہے۔ راہل کو یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ مودی جی بھی اس پر آمادہ ہوسکتے ہیں جو راہل نے کرناٹک میں کیا ہے کہ کسی ایسی پارٹی کو وزیراعظم کا عہدہ دے دیں جو کانگریس کو نہ آنے دینے پر سودا کرے۔ کانگریس کے لئے بہت نازک وقت ہے وہ اگر اپنی زندگی چاہتے ہیں تو اکھلیش یادو، مایاوتی، ممتا بنرجی، سیتا رام یچوری، لالو یادو، شرد یادو، اجیت سنگھ جیسے لوگوں کو ہر فیصلہ میں شریک کریں۔ اور جن صوبوں میں کانگریس نہیں ہے یا دوسروں کے رحم و کرم پر ہے ان سے معاملہ کرتے وقت اپنی شرطیں نہ رکھیں وہ جتنی سیٹیں دے دیں وہ لے لیں اور ایک بات ضرور کہہ دیں کہ جہاں کانگریس لڑرہی ہو اُن کے اُمیدوار کی بھی مدد کردیں۔

اور جن ریاستوں میں لوک سبھا سے پہلے الیکشن ہونے والے ہیں ان میں مایاوتی کو زیادہ سے زیادہ سیٹیں دے دیں۔ کانگریس کو ایک بہت بڑی لڑائی دلتوں کے لئے لڑنا ہے کہ وہ بی جے پی کی گود میں نہ جائیں اور یہ تب ہی ہوسکتا ہے کہ گجرات سے دلت لیڈروں اور کنہیا کمار کو اعزاز و اکرام کے ساتھ پورے ملک کا دورہ کرائیں۔ دلتوں اور مسلمانوں کے معاملہ میں اونچے طبقہ کے ہندوؤں کا قانون کو ہاتھ میں لینا اور خود ہی عدالت بن کر فیصلہ کرکے سزا دینا۔ یا سنجے کی بارات کے نکلنے پر خوش نہ ہونا بلکہ صرف بگھی یا گھوڑی پر بیٹھنے کیلئے جو اس نے چار مہینے کا وقت اور ہزاروں خرچ کئے ہیں اس کی مثال دے کر اسے موضوع بنانا۔

مسٹر راہل گاندھی اور ہر کانگریسی لیڈر کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جو کوئی مودی جی سے ناراض ہوا ہے وہ کانگریس کو لانے پر تیار نہیں ہے۔ یہ ایسی صورت حال نہیں ہے جیسی 2014 ء میں تھی کہ کانگریس ہٹاؤ بی جے پی لاؤ۔ کانگریس چار برسوں میں دودھ سے نہیں دھوئی گئی ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ مسلمانوں نے اپنا سب کچھ اسے دے دیا اور اس نے صرف دینے کی بات ہی کی کہ بی جے پی نے شور کردیا کہ مسلمانوں کی منھ بھرائی ہورہی ہے اور کانگریس ڈرکر چوہے کی طرح بل میں گھس گئی۔ مسلمان اس کی خوبیوں کی وجہ سے اس کے ساتھ نہیں ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ جہاں متبادل ہے وہاں مسلمان کانگریس کے ساتھ نہیں ہیں۔ ہمارا مشورہ ہے کہ اب آیئے تو بہادر بن کر آیئے اور مسلمانوں سے معاہدہ کرکے آیئے۔ یہ بعد میں بتائیں گے کہ پھر کیا کیا کریں؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close