سیاست

کانگریس مسلمانوں کے لئے کچھ کرے تو معلوم کرکے کرے

حفیظ نعمانی

مآب لنچنگ نہ کانگریس کا معاملہ ہے نہ کانگریسی ہندوئوں کا۔ بلکہ یہ صرف ان مسلمانوں کا معاملہ ہے جو دور سے مسلمان نظر آتے ہیں اور مودی جی کے تیار کئے ہوئے نئی قسم کے ہندوئوں کو ان کا وجود برداشت نہیں۔ ورنہ اس سے پہلے اور ان وارداتوں کے بعد بھی ہندوئوں کا اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ وہی برتاؤ ہے کہ اُترپردیش کے گریٹر نوئیڈا کی نئی آبادی میں ایک مسجد بھی نہیں ہے اور غیرملکی کمپنیوں کے اتنے آفس کھل گئے ہیں اور ان میں کام کرنے والے اُترپردیش اور دہلی کے ہزاروں مسلمان مل جل کر کسی پارک میں دوپہر ظہر کی نماز پڑھ لیا کرتے تھے جس میں مشکل سے پندرہ یا بیس منٹ لگتے تھے اور باقی وقت میں وہ لنچ کرلیتے تھے۔ اُترپردیش کی یوگی سرکار کو کسی پارک میں نماز پڑھنا گوارہ نہیں ہوا۔ اور پہلے تو انہوں نے آفسوں کے بڑے افسروں کو لکھ کر بھیجا کہ اپنے آفس میں کام کرنے والے مسلمانوں سے کہئے کہ وہ پارکوں میں نماز پڑھ کر پارک خراب نہ کریں کوئی اور انتظام کریں۔

معقول افسروں نے جواب دیا کہ نماز میں جو اُٹھنا بیٹھنا ہوتا ہے اور جتنی سنجیدگی ہوتی ہے اس سے پارک خراب ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے اور پارک تو ہوتے ہی اس لئے ہیں کہ کوئی تفریح کرے کوئی پکنک کرے کوئی سستائے۔ اس خشک جواب کے بعد کارپوریشن کو حکم دیا کہ دوپہر کو پارکوں میں پانی بھردیا کرو تاکہ کوئی آہی نہ سکے۔ کتنی مسرت کی بات ہے کہ نہ جانے کتنے ہندو بھائیوں نے جن کی بڑی بڑی چھتیں تھیں انہوں نے کہا کہ آپ لوگ ہماری چھت پر آکر نماز پڑھ لیا کیجئے۔ اس سے برکت ہوگی۔

مدھیہ پردیش کی نئی کانگریسی حکومت نے بڑے فخر کے ساتھ کہا ہے کہ مآب لنچنگ پر قدغن لگانے کا کمل ناتھ سرکار نے راستہ نکالا ہے۔ ہجومی تشدد کے ملزمین کو پانچ سے دس سال کی سزا ہوگی گئورکشا کے نام پر تشدد برپا کرنے والوں کے لئے قانون بنا لیا۔ کمل ناتھ سفید بال والے کانگریسی ہندو ہیں جن کی 70  برس کی تربیت یہ ہے کہ مسلمانوں کی حمایت میں کچھ ایسا کرو کہ حمایت نظر آئے اور جب ہندو مسلمانوں کی منھ بھرائی کا شور اٹھائیں تو خاموش ہوجائو۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ مسئلہ صرف گائے کا نہیں ہے۔ اخلاق سے یہ کہانی شروع ہوتی ہے وہاں سب نے دیکھ لیا کہ نہ گائے تھی اور نہ گائے کی دُم اصل مسئلہ یہ تھا کہ ایک ہندوئوں کے محلہ میں ایک عام سا آدمی اپنے بیٹوں کو پڑھا رہا ہے جن میں ایک ہوائی فوج میں افسر ہوگیا اور دوسرا آئی اے ایس یا پی سی ایس بننے کی تیاری کررہا ہے اور آثار ہیں کہ بن بھی جائے گا یہ ان کو کیسے برداشت ہو جو ملک کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں۔ ان کو ختم کرنے کی سازش تیار کی جاتی ہے مندر سے پجاری اعلان کرتا ہے اس اعلان پر ہزار سے زیادہ آدمیوں کا حملہ بغیر پہلے سے تیاری کے ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ اور انہوں نے اخلاق کے بعد لڑکے کو بھی مارنے کی پوری کوشش کی مگر خدا نے رحم کیا۔

اور آخری معاملہ بھی تبریز انصاری کا یا ٹرین سے نیچے پھینکنے کا جو ہوا ان میں کہیں گائے نہیںتھی۔ بلند شہر میں انسپکٹر نے گائے نہیں ماری تھی ہاپوڑ میں بھی گائے نہیں تھی۔ وہ صرف بہانہ ہونا چاہئے۔ دوسری بات یہ کہ کسی کی پیٹ پیٹ کر جان لینے کی سزا صرف پانچ سال یا دس سال۔ اور ہندوستان میں سزا کا حشر یہ ہوتا ہے کہ ڈیرہ سچا سودا کے بابا رام رحیم جو ایک مقدمہ میں 20  سال اور ایک میں عمرقید کی سزا کاٹ رہے ہیں اور ابھی سماعت چل رہی ہے انہیں حکومت کی سفارش پر ضمانت دی جارہی ہے کہ وہ جائیں اور اپنی کھیتی کو پانی دیں۔ یعنی ہمیں پھر ووٹ دلوادیں۔

وزیراعلیٰ کمل ناتھ کو اگر مسلمانوں کے دل کی آگ بجھانا تھی تو سب سے اہم مسئلہ وہ تھا کہ سی می کے جوان مسلمان جن کو مقدمہ میں رہائی ہونے والی تھی انہیں اس بے ایمان وزیراعلیٰ نے ایک سازش کرکے جیل سے نکالا اور پولیس سے انکائونٹر کرادیا۔ بعد میں خریدے ہوئے ریٹائرڈ جج سے فرضی انکوائری کرائی اور الزام صحیح قرار دیا اگر مسلمانوں کے دل کو ٹھنڈک پہنچانا ہے تو اس کی نئے سرے سے تحقیقات کرائی جائے۔ آٹھ لڑکوں سے لکڑی کی چابی بنواکر بیرک کا تالا کھلوایا جائے تو ان سے ہیڈ سپاہی کو قتل کرایا جائے اور چادروں کی مدد سے انہیں جیل سے فرار کرایا جائے اور ان کے کپڑے تبدیل کرکے ان کو ہتھیار دیئے جائیں اور پھر پولیس سے مقابلہ میں سب کی موت ہوجائے۔ اس معاملہ کو ہاتھ میں لیجئے اور دودھ کا دودھ پانی کا پانی کرادیجئے۔ ہم مان لیں گے کہ مسلم نواز حکومت آگئی۔

اور جان لینے کی سزا پانچ یا دس سال نہیں پھانسی یا عمرقید ہوتی ہے اور گائے چھوڑکر جے شری رام کے نعرے لگوائے جائیں یا جے ہنومان کے۔ اس کا حق کسی کو نہیں ہے جس کا جی چاہے بندر کی پوجا کرے جس کی چاہے پتھر کی اور جس کی چاہے پانی کی کرے۔ اور اگر مسلمان ان سب کے بنانے والے کی جے کرتے ہیں تو ان کا راستہ نہ روکا جائے۔

بل بنانے سے کچھ نہیں ہوتا یہ مسلمان کا منھ بند کرنے کی پرانی ترکیبیں ہیں۔ اور یہ پرانے کانگریسیوں کے کھلونے ہیں۔ ان سے بچے بھی نہیں کھیلتے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close