سیاست

کانگریس کو حیاتِ نو بھی مودی دے رہے ہیں

حفیظ نعمانی

2015-16 ء میں کون سوچ سکتا تھا کہ گجرات یا کسی بھی بی جے پی حکومت والی ریاست میں امت شاہ اور پارٹی کے خلاف کوئی کانوں میں بات بھی کرسکتا ہے۔ پورے ملک پر وزیر اعظم نریندر مودی کا سایہ تھا اور دوسرا چہرہ امت شاہ کا سمجھا جاتا تھا جن کو بی جے پی کے بزرگ لیڈر اور نامور صحافی ارون شوری نے بھی پورا آدمی تسلیم کیا تھا۔ گجرات کے الیکشن کے بارے میں خیال یہ تھا کہ وزیر اعظم تو دہلی میں بیٹھے رہیں گے اور امت شاہ گجرات کے دو تین چکر لگاکر دفتر میں بیٹھ کر اُمیدواروں کی لسٹ بنا دیں گے اور وزیر اعظم کی آخری نظر کے بعد وہ میڈیا کو دے دی جائے گی۔

مسئلہ اس لئے آسان تھا کہ مشکل وہاں ہوتی ہے جہاں مقابلہ ہوتا ہے۔ گجرات میں برسوں سے کانگریس ہے مگر کوئی اس کا مقامی لیڈر نہیں ہے۔ احمد پٹیل پرانے ورکر ہیں لیکن وہ مشیر کے عہدے سے کبھی آگے نہیں بڑھتے شنکر سنگھ واگھیلا کانگریس میں تھے مگر وہ جو اندرا گاندھی اپنے بچوں کو سبق پڑھا گئی ہیں کہ کسی بھی صوبہ میں کسی کو لیڈر نہ بننے دینا اس ہدایت نے ہر جگہ میدان صاف کردیا ہے اور ہر صوبہ کی لیڈر بھی پہلے سونیا گاندھی ہوا کرتی تھیں اب راہل گاندھی ہوتے ہیں اس لئے گجرات میں عام اندازہ یہ تھا کہ بی جے پی کی لسٹ آئے گی مقابلہ پر راہل گاندھی حکومت سے ناراض افراد میں سے جو ملے گا اسے ٹکٹ دے دیں گے اور الیکشن کی رسم ادا کردی جائے گی۔ رہا نتیجہ تو اگر کانگریس کو اتنے بھی مل جائیں جو ایک راجیہ سبھا کا ممبر بناسکیں تو راہل شکریہ ادا کرکے بیٹھ جائیں گے۔

اس بات کو ضدی فطرت ہونے کی وجہ سے مودی جی نہ مانیں لیکن ہوا یہی کہ انہوں نے مخالف پیدا کرکے اپنے الیکشن کو مقابلہ کا الیکشن بنا لیا۔ اب کانگریس کے پاس ہاردِک پٹیل اور دلت سماج اپنی پوری طاقت سے آگیا ہے اسے کانگریس سے محبت نہیں ہے بلکہ بی جے پی اور مودی جی کی حکومت سے شکایت ہے جس نے سارا کاروبار تباہ کردیا اور لاکھوں کو بے روزگار بنا دیا۔ 2016 ء میں جب نوٹ بندی کی تو ملک کو کانگریس کے چنگل سے آزاد کرائے ہوئے صرف ڈھائی برس ہوئے تھے۔ اس فیصلہ سے عوام کو جس قدر تکلیف ہوئی اس کا اظہار آدھا بھی اس لئے نہیں ہوا کہ مودی جی کی سرکار بنانے والے بھی وہی تھے جن کے زخموں سے خون بہہ رہا تھا۔ لیکن مودی جی ہر دن سنہرے خواب دکھا رہے تھے کہ ذرا صبر کرو پھر دیکھو گے کہ سونے کی طرح کندن بن کر نکلے گا اور غربت کا لفظ لوگ بھول جائیں گے۔ مودی جی اکیلے نہیں تھے سرکار کا ہر وزیر یہ سمجھے بغیر کہ وہ کیا کہہ رہا ہے وہی ٹیپ بجا رہا تھا جس کا اسے حکم دیا گیا تھا۔ ہم دعوے کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اگر دو چار برس کا عرصہ اور گذر چکا ہوتا تو نوٹ بندی کا انتقام لینے کے لئے خونی انقلاب آجاتا۔

کہتے ہیں کہ جب برے دن آتے ہیں تو سب سے پہلے عقل سلب کرلی جاتی ہے۔ شاید یہی قدرت نے کیا کہ نوٹ بندی کا انتقام لینے کے بجائے صبر کو مودی نے اپنی فتح سمجھا اور جی ایس ٹی کا وہ دھماکہ کردیا جس نے ادب لحاظ سب طاق پر رکھوا دیئے اور سارا کاروباری طبقہ تلواریں لے کر سامنے آگیا کہ اب برداشت کی حدیں ختم ہوگئیں اب یا تم نہیں یا ہم نہیں ۔ اور یہ وہی جی ایس ٹی ہے ایک ہفتہ کی رات دن کی ماتھا پچی کے بعد بھی امت شاہ یعنی مودی جی گجرات کی پوری لسٹ نہ بنا سکے اور ہائے ہائے توڑ پھوڑ پارٹی چھوڑ اور بغاوت کی خبروں سے اخبار بھر گئے ہیں ۔

2014 ء میں ملک میں پہلی بار کانگریس کو ختم کرنے کا مودی جی نے جب نعرہ دیا تھا تو نئی بات اس لئے لگی تھی کہ اب تک ملک میں کسی پارٹی نے مخالف پارٹی کو ہرانے یا ضمانت ضبط کرانے سے زیادہ بڑی بات زبان سے نہیں نکالی تھی مودی جی نے کانگریس مکت بھارت کا صرف نعرہ ہی نہیں دیا بلکہ اپنا پورا الیکشن اس پر ہی لڑایا۔ اب یہ بات سمجھ میں آئی ہے کہ وہ جانتے تھے کہ کانگریس اگر نام کی بھی رہی تو وہی رسّی سے سانپ بن کر کھڑی ہوجائے گی اور اس کا نمونہ سامنے ہے کہ وہ گجرات جہاں سے مرغی کے بچوں کی طرح اپنے ممبروں کو لے کر احمد پٹیل کرناٹک میں جاکر چھپے تھے وہی گجرات ہے جہاں راہل گاندھی نے اس طرح ڈیرہ ڈال رکھا ہے جیسے ان کا سب کچھ گجرات میں ہے اور وہ اکیلے پورا الیکشن لڑا رہے ہیں ۔

راہل گاندھی کے بارے میں بی جے پی کے لیڈروں کو شکایت ہے کہ وہ اب جہاں جاتے ہیں وہاں کے بڑے اور مشہور مندر میں بھی جاکر ماتھا ٹیکتے ہیں بی جے پی والے ہر مندر کو اپنا سمجھتے تھے اور یہ حق صرف مودی کو دیتے تھے کہ وہ دنیا کے جس ملک میں جائیں وہاں کے مندروں میں بھی ماتھا ٹیکنے جائیں ۔ اب انہوں نے نہ صرف یہ دیکھا کہ ہر مندر میں راہل جارہے ہیں بلکہ یہ بھی دیکھا کہ 700  سیڑھیاں ایک سانس میں چڑھ کر بھگوان کے سامنے جاکر منت مانگنے لگتے ہیں اب بی جے پی کو شکایت ہے کہ جو ریزرو ووٹ تھے اس میں بھی راہل حصہ بٹا رہے ہیں اور مودی جو کانگریس کو صفحہ ہستی سے مٹانے چلے تھے ان کے سامنے سب سے بڑا دشمن کانگریس ہی بن کر سامنے آرہی ہے۔

نوٹ بندی سے تو جو نقصان جس کو ہونا تھا وہ ہوچکا اور صبر کرنے والوں نے جب مرنے والوں کو صبر کرلیا تو نوٹوں کے لئے کیا جان دینا لیکن جی ایس ٹی کا نقصان اس وقت تک ہے جب تک آپ کاروبار کریں گے۔ اگر برداشت کرسکتے ہیں تو کریں ورنہ کاروبار بند کردیں ۔ اس لڑائی میں وزیر اعظم کئی بار قدم پیچھے ہٹا چکے لیکن زبان بند نہیں ہوتی۔ اب گجرات کے الیکشن کی خاطر انہوں نے اپنے نزدیک سب سے بڑی تبدیلی کردی اور یہ چاہا کہ زندہ باد کے نعرے لگیں لیکن جن کے منھ ٹیڑھے تھے وہ سیدھے نہیں ہوئے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مودی جی جب تک جی ایس ٹی کو واپس نہیں لیں گے غصہ ختم نہیں ہوگا اور اسے واپس لینے کا مطلب یہ ہے کہ مودی جی حکومت چھوڑیں اور جن کے مشوروں پر انہوں نے یہ خطرناک کھیل کھیلا ہے حکومت ان کو دے دیں کہ تم چلاکر دکھائو۔ وہ جی ایس ٹی جسے آزادی کی شب اوّل کی طرح روشناس کرایا تھا اس نے ثابت کردیا کہ اس سے زیادہ مہلک فیصلہ دوسرا نہیں ہوسکتا اور اب پورے ملک میں یہی جی ایس ٹی ہے جو مودی کی سب سے بڑی دشمن ہے اور ایسی ہڈی ہے جو حلق میں پھنس گئی ہے ۔ 2019 ء تک مودی جی کو اب اسی ہڈی سے زور آزمائی کرنا ہے جس کا انجام  ؎

’’یا تش مرسد بجنا ناں یا جاں زتن برآید‘‘

  کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close