سیاستہندوستان

کتنا دل سوز ہے، یہ سلسلۂ مرگ وحیات!

رمیض احمد تقی

ملک میں اقلیتوں کے خلاف ظلم وبربریت اور سفاکیت کی جب بھی کوئی نئی کہانی لکھی جاتی ہے،تودل پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے.پھروہی احساس آہستہ آہستہ دل کی دھڑکن بنتاہواانگلیوں کی پوروں میں چبھنے لگتاہے اور پھر انگلیاں غیرشعوری طورپرمسلسل حرکت میں آجاتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے انہی احساسات میں ڈوبا ہوا ایک مضمون آنکھوں کے سامنے جھلکنے لگتا ہے اور دل یہی تمنا کرتا ہے کہ اےکاش! ظالم ظلم کرتے وقت اس درد کی کسک کو محسوس کر سکتے اور شایدان کا ہاتھ ظلم سے باز آجاتااور  پھریہ سرزمین  کبھی کسی مظلوم کے خون سے رنگین نہیں ہوتی! مگردل کو اس وقت سخت صدمہ پہنچتاہے،جب ظالم درندگی کی ایک اور تاریخ رقم کرچکا ہوتاہے اور اس واقعہ کےدوسرے ہی دن بعد اس سے بھی زیادہ ہولناک، دل سوز اورغیرانسانی ایک نیا واقعہ اخبارورسائل کی شہ سرخیوں میں چھایارہتا ہے.

گذشتہ تین چار سالوں سے ہندوآستھا،بالخصوص گئو رکشااورگئو بھکتی کے نام پراقلیتوں پرظلم وستم کے جوپہاڑ ڈھائے جارہے ہیں ،اس کی نظیر کم از کم گذشتہ ساٹھ سالوں میں نہیں ملتی.ٹائمس آف انڈیا کے ایک حالیہ تجزیہ کے مطابق گئو بھگتی کے نام پر انسانی قتل عام کا باضابطہ آغاز ریاستِ پنجاب کے ضلع منسا کے شہر جوگاٹاؤن سے ہوا،جب10جون 2010کو وشوہندوپریشد اور گئوشالہ سنگھ کے کچھ نمائندوں نے ایک فیکٹری کے قریب پچیس گائیوں کے پائے جانے کی خبر سن کراس فیکٹری میں توڑپھوڑ مچائی تھی.تاہم 2010سے2017تک گئو بھگتی کے نام پر اقلیتوں کے خلاف ظلم وستم کےپورے ملک میں تقریباً 63 معاملات درج ہوئے ہیں ،جن میں 97 فیصد یعنی61 معاملات 2014 کے بعد مودی حکومت میں درج ہوئے  اوریہ بھی حقیقت ہےکہ ان 63 حادثات میں سے 32 حادثات ان ریاستوں میں رونما ہوئے ہیں ،جہاں بی جے پی کی حکومت ہے.ان حادثات نے اب تک تقریباً124 لوگ کو متاثرکیاہے،جن میں 28لوگوں کی موت ہوچکی ہے.ٹائمس آف انڈیا کی اسی رپورٹ کے مطابق ان 28 لوگوں میں 86 فیصد یعنی 24.8 متاثرین صرف مسلمان تھے.ان حملوں میں اجتماعی قتل،قتل کی کوشش،پھانسی،جنسی استحصال اوراجتماعی آبرو ریزی جیسے سنگین جرم شامل ہیں .

یہاں میری طرح آپ کے ذہنوں بھی یہ سوال ضرور کلبلاتاہوگاکہ جتنے لوگ بھی ان حادثات کے شکار ہوئے ہیں ،کیا ان کوانصاف مل گیا؟یا پھرجج صاحبان کے قلم کی روشنائی خشک ہوچکی تھی؟یا پھر ان ججوں پر حکومت کاکوئ دباؤتھا،اگر کسی دباؤ میں ان کا قلم حرکت نہیں کررہا تھا،توپھر اس کو آزاد عدلیہ کا نام دینا کہاں تک درست ہوگا؟

تواس کا جواب بھی سبھی کو معلوم ہے اور اگر معلوم نہیں ہے،تو سن لیجیےکہ آزادی کے بعد سے ہی ہماری عدلیہ کا یہ دستوررہا ہے کہ معاملہ اگر مسلمانوں کا ہے،تو تاریخ بڑھاؤ،مجرم ٹھہرا،توتختۂ دار پر لٹکاؤ اور اگر جرم کسی ہندو کا ہے،تو معاملہ کی کاروائی ملتوی کردواور پھر کلین چیٹ دے دو……واہ رے آزاد عدلیہ کے آزاد جج، قربان جاؤں تیرے انصاف پر!

حافظ جنید کی شہادت کے بعد جس شدت سے پورے ملک میں ‘موب لِنچینگ’ کے خلاف مظاہرے دیکھنے کوملے،محسوس ہواکہ شاید اب بھگوائی آگ سرد پڑ جائے گی،چونکہ دنیا کے مشغول ترین وزیرآعظم اور ”سیلفی مین” مودی جی نے بھی گئو بھگتی کے نام پر دہشت گردی کے خلاف اپنی چپی توڑدی تھی اور ملک کے باشندوں کوگاندھیائی اہنسا اور عدم تشدد کا درس دینے لگے تھے،مگر جب وہ بَک رہے تھے،تواسی وقت ان کے بھگت جھارکھنڈ کے رام گڑھ میں علیم الدین عرف اصغر کے اوپر قیامت ڈھارہے تھے؛بالآخروہ بھی جنید کی طرح بھگتوں کے ظلم وبریت کی تاب نہ لاکرمودی جی کے ‘اہنسا’ کا سبق سنے بغیر اس دنیا سے رخصت ہوگیا!

مودی جی کی اس خاموش قیادت میں مجھے نہیں لگتاکہ یہ سلسلہ کہیں جاکر رک پائے گا،کیونکہ مودی جی نے اپنا ایک جڑوا بھائی یوگی کو جوڈھونڈھ نکالاہے،جو جسم وہیولیٰ اور کارکردگی کے اعتبارسے احمق کے چھوٹے بھائ ھبنق سے کسی درجہ کم نہیں ہیں .ایسے میں اس مظلوم قوم سے میرایہ سوال ہے کہ آخر یہ لاچارگی وبے چارگی اور بے بسی کب تک؟ مودی جی نے تو اپنی چپی توڑدی،تم اپنی چپی کب توڑوگے؟کب تمہارااقبال بلند ہوگا؟توکمینٹس باکس میں دوستوں کے کمینٹس آنا شروع ہوجاتے ہیں کہ ان کاغذی باتوں سے کچھ نہیں ہوتا،میدان میں آکر کام کرنے کی ضرورت ہے، پھر یہ تنظیم رجسٹرڈ کروائیں ،تو اس گروپ کی بنیاد رکھیں …..وغیرہ وغیرہ،مگر سوال یہ ہے کہ کیا کام کرنے کے لیے واقعی کسی تنظیم وادراہ کی ضرورت ہے؟کیا اسلام اور مسلمانوں کے نام سے ملک میں رجسٹرڈ کوئی تنظیم نہیں ہے؟

جہاں تک کام کی بات ہے،تو اس کے لیے نہ تو کسی شور شرابے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی تنظیم کی؛جو اب ہماری عادت بن چکی ہے.کیونکہ جو قوم کسی کو ٹارگیٹ بنا کر کام کرتی ہے،وہ ان ہفوات سے پرے صرف اپنے ھدف پر توجہ دیتی ہے.کیاآرایس ایس اور اس جیسی دیگرہندتواتنظیمیں ہماری مثال کے  لیے کافی نہیں ہیں ؟کون کہتا ہے کہ  اس تنظیم کی بنیاد 1925 میں پڑی تھی؟ 1925 میں تو ڈاکٹر مونجے اور کیشو بلیرام کے دماغ میں ہندوراشٹر کا جو کیڑہ پل رہا تھا وہ باہر نکلا تھا،ورنہ توہندوراشٹر کے لیے ہندوستان کی زمین کئی سالوں سے ہموار کی جارہی تھی.اس کی زمین دوز کارروائیوں ہی کا تو نتیجہ  ہے کہ آج ملک میں شاید ہی ایسا کوئی ہندوآبادی والا گاؤں ہو اوروہاں اس کا ‘ہاف ننگا’ سپاہی نہ ہو. وہ انتہائی دیدہ وری سے پورے ملک کے ہندؤوں کو آستھاکے نام پر جوڑتے رہے اور ان کے سامنے مسلمانوں کواپنا دشمن باورکراتے رہے اور پھرہندوراشٹرکاقیام کا خواب دکھاتے رہے،یہاں تک کہ آج مودی اور یوگی کی شکل میں ان کاوہ کیڑہ بڑا ہوچکا ہے،جو دیمک کی طرح ملک کی جمہوریت کو چاٹے جارہاہے اور ہم دفاعی حالت کے قابل بھی نہ رہے.

جہاں تک بات تنظیمیوں کی ہے،تو ماشاء اللہ حروفِ تہجی کے اعتبار سے ہمارے یہاں ہزاروں کی تعداد میں سیاسی،سماجی،تعلیمی اوررفاہی ادارے ہیں ،مزید ادارے رجسٹرڈ کروانے کی کیا ضرورت،تو ہزاروں میں ایک اور سہی،مگرنتیجہ پھربھی صفرہی ہوگا،جو ہمارے ان ہزاروں کاہے.

القصہ کام نہ تو شور شرابے سے ہوگا اور نہ ہی تنظیم سے.ہم ان حالات سے اسی وقت نبردآزما ہوسکتے ہیں ،جب سبھی مکتبۂ فکر کے لوگ  اپنی اپنی جگہ انفرادی طور کوششیں کریں ،کیونکہ تمام جماعتوں کا کسی ایک متحدہ پلیٹ فارم پر جمع ہوجانا،تو شاید ممکن نہیں ،اور نہ ‘ہم’ ہونے دیں گے،توپھر اس صورت میں مسلم اتحاد کی بات کرنا،ہوا میں تیر چھوڑنے کے مترادف ہوگا.البتہ اگر ہر جماعت سے صرف دس نوجوان ہی قہوہ خانوں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے اس پہلو پر غور کرلیں ،تو بہت ممکن ہے کہ بھگواکے ٹڈی دل بغلیں جھانکتے نظرآئیں ،ورنہ ملک کو ان خطرناک صورت حال سے باہر نکالنا تقریباًناممکن ہوگا.کیونکہ اب تو کوئ خالد بن ولید،محمد بن قاسم،طارق بن زیاد اورصلاح الدین ایوبی پیدا ہونے والا نہیں ،ہمیں ہی ان کا کردار نبھانا ہوگا،کیونکہ تاریخ کسی کے نام سے رقم نہیں ہوتی،ہرشخص اپنے اخلاق و کرداراور قربانیوں سے تاریخ رقم کرتا ہے اور پھر دنیا اس پر رشک کرتی ہے!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رمیض احمد تقی

رمیض احمد تقی معروف نوجوان کالم نگار ہیں۔ rameeztaquee@mazameen.com

متعلقہ

Close