سیاستہندوستان

کجریوال روبہ زوال

حفیظ نعمانی

ہم بھی ان لوگوں میں ہیں جن کا خیال تھا کہ پنجاب میں عام آدمی پارٹی ہاری نہیں بلکہ ہرائی گئی ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ نہیں تھی کہ ان کی ریلیاں یا اُن کے روڈ شو جتنے بھی ہوئے ان سے اندازہ ہوتا تھا کہ پنجاب ان کے ساتھ ہے اس کے علاوہ گذشتہ سال گرمیوں میں میرے بچے بسواں گئے ہوئے تھے وہاں پنجاب کے بہت لوگ گرمی گذارنے آتے ہیں ۔ میرے بیٹوں نے واپس آکر بتایا کہ کوئی پنجابی یا سکھ ایسا نہیں ملا جس نے یہ نہ کہا ہو کہ اس بار عام آدمی پارٹی کی حکومت بنے گی۔ اور کجریوال دہلی چھوڑکر پنجاب آجائے گا۔ اروند کجریوال نے اگر یہ اعلان کردیا ہوتا کہ میں پنجاب آرہا ہوں تو شاید وہ کامیاب ہوجاتے۔ لیکن انہیں اس کا خیال تھا کہ وہ 2015 ء میں دہلی والوں سے وعدہ کرچکے تھے کہ میں آپ کو چھوڑکر نہیں جائوں گا۔ یہ اعلان ان کے پائوں کی بیڑی بن گیا اور وہ یہی کہتے رہے کہ پنجاب کا وزیر اعلیٰ پنجابی ہوگا لیکن یہ نہیں بتا سکے کہ کون؟ اور یہی کہ کون اور کون نہیں نے انہیں کہیں کا نہ رکھا۔

دہلی میں کارپوریشن کے الیکشن کی حیثیت صرف ان کی وجہ سے امریکہ کے الیکشن کی ہوگئی۔ بی جے پی نے یہ سوچ کر کہ اگر کجریوال کو اب نہیں ختم کیا تو وہ گجرات میں بھی مقابلہ کرے گا جہاں اب بی جے پی کی حالت زیادہ اچھی نہیں ہے لیکن انہیں اطمینان یہ ہے کہ کوئی دشمن بھی ایسا نہیں ہے جو مقابلہ پر آکر ان کی کلائی موڑ سکے۔ بی جے پی کے پاس ایک ہی نسخہ ہے جو وہ آزماتے ہیں اور وہ پیسہ ہے۔ وہ نہ ووٹ خریدتے ہیں نہ اُمیدوار کو فروخت کرتے ہیں بلکہ وہ صرف ایک کام کرتے ہیں کہ ایک سیکولر کے مقابلہ میں پانچ سیکولر خریدکر کھڑے کردیتے ہیں اور سیکولر ووٹوں کو تبرک کی طرح تقسیم کرادیتے ہیں ۔ یہ صرف مسلمان ہی نہیں ہندو اور سکھ بھی ہیں جو کھڑے ہوجاتے ہیں اور کچھ پیشہ ور یہی کاروبار کرتے ہیں کہ مسلمان ووٹ مسلمان کو اور سکھ ووٹ سکھ کو۔

2015 ء کے اسمبلی الیکشن میں عام آدمی پارٹی کو وہ تمام ووٹ مل گئے تھے جو بی جے پی کے خلاف تھے اور وہ اکیلے اسمبلی میں راج کررہے ہیں ۔ کارپوریشن کے الیکشن میں ہم نے لکھنؤ میں بیٹھے بیٹھے سن لیا تھا کہ نتیش کمار، لالو یادو، ملائم سنگھ، ممتا بنرجی اور اویسی کی پارٹی کے پوسٹر بھی دہلی میں لگے ہوئے ہیں ۔ ظاہر ہے اویسی کے علاوہ کوئی لیڈر دہلی نہ آیا ہوگا لیکن اگرکوئی الیکشن لڑتا ہے اور اپنے صوبہ کے ووٹ اپنوں میں ہی تقسیم کرلیتا ہے تو کسی کو کیا پڑی ہے کہ وہ بیان دے؟

اُترپردیش میں مایاوتی میونسپل بورڈ اور پنچایتوں کے الیکشن کا بائیکاٹ کردیتی ہیں وہ کہتی ہیں کہ یہ شہری مسائل کے ادارے ہیں ان کو سیاست سے نہ جوڑا جائے۔ وجہ اس کی صرف یہ ہے کہ ان کی ہارجیت کو بھی تھرمامیٹر کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ اور پارٹیوں کی مقبولیت کا پیمانہ بتایا جاتا ہے۔ اروند کجریوال کو معلوم تھا کہ بی جے پی اس الیکشن کو پارلیمنٹ کے الیکشن کی طرح لڑے گی۔ اس نے تمام حلقوں میں نئے چہرے اتارے اور اپنی مخالفت کا خطرہ مول لیا۔ لیکن اسے یقین ہے کہ جو اس کے ووٹ ہیں وہ کہیں نہیں جائیں گے۔ وہ ووٹ 2014 ء میں بھی تھے تو ساتوں سیٹیں اس نے جیت لیں ۔ لیکن 2015 ء میں اسے خیال تھا کہ مقابلہ کانگریس سے ہے اور اس کے لئے تیاری کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نے بس اتنا کیا کہ اروند کجریوال کے مقابلہ پر کرن بیدی کو لاکر کھڑا کردیا اور مقابلہ پر صرف کانگریس رہ گئی جو پہلے ہی گھٹ کر 8  رہ گئی تھی۔ بی جے پی نے ہر سیٹ پر اپنے ڈمی اُمیدوار کھڑے کرکے پیسے برباد کرنا فضول سمجھا اور ان کے صدر کے مطابق ان کے سارے ووٹ ان کے امیدواروں کو ہی مل گئے لیکن کجریوال کو تمام ووٹ کانگریس کے بھی مل گئے جو اُن کے تھے وہ بھی مل گئے اور جو لاخیرے کو ملا کرتے تھے وہ اس لئے مل گئے کہ لاخیرا کوئی کھڑا نہ ہوا نہ کیا گیا۔

کجریوال نے جب یہ دیکھ لیا تھا کہ ہر سیکولر سیٹ پربھو کے کتوں کی طرح اُمیدوار کھڑے ہورہے ہیں تو انہیں وہ راستہ اپنانا چاہئے تھا جو مایاوتی اپناتی ہیں اور اعلان کردینا چاہئے تھا کہ یہ انتظامی الیکشن ہیں ان میں سیاسی پارٹیاں شریک نہ ہوں ۔ اور اپنے بارے میں کہہ دیتے کہ ہم نہیں لڑیں گے۔ تو شاید یہ الیکشن بی جے پی اور کانگریس کا ہوجاتا۔ یہ الگ بات ہے کہ کانگریس بھی عام آدمی کی اتنی ہی بڑی دشمن ہے جتنی بی جے پی بلکہ اس لئے زیادہ بڑی ہے کہ حکومت کجریوال نے کانگریس سے چھینی ہے۔ اس معاملہ میں سونیا جی اور راہل گاندھی کو اپنا دل کشادہ کرنا چاہئے۔ کیونکہ کل کو جب جسٹس سچر کے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے تمام سیکولر پارٹیوں کو ایک پلیٹ فارم پر آنا ہوگا تو کجریوال کے ووٹ کی بھی انہیں ضرورت ہوگی اور اس میں کیا شک ہے وہ بہت بڑے سیکولر لیڈر کا کردار ادا کریں گے۔

دہلی کارپوریشن کے الیکشن کے بعد دہلی سے ہمارے دو صحافی دوست لکھنؤ آئے تھے وہ ملنے آئے تو ہر طرح کی باتوں کے علاوہ ہم نے معلوم کیا کہ الیکشن کا کیا اندازہ ہے؟ اس کا جواب یہ دیا کہ شور چاہے جو مچائے اکثریت کجریوال کی ہی آئے گی اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ دہلی جس کی زندگی بجلی سے چلتی ہے اسے کجریوال نے اتنا سستا کردیا ہے کہ پورے ملک میں کوئی مقابلہ پر نہیں ہے اور اس احسان کو دہلی والے کیسے بھول سکتے ہیں ؟ اخبارات اور ٹی وی جو ایگزٹ پول دے رہے تھے وہ ایسے تھے کہ ہر طرف بی جے پی ہی نظر آرہی تھی۔ آج نتیجہ آیا تو ماننا پڑا کہ اندازے درست تھے اور دہلی والے بجلی کے اتنے بڑے احسان کو بھول گئے۔

یہ بات بہار میں بھی دیکھی تھی کہ لالو، نتیش اور راہل پوری دیانت داری سے ساتھ ساتھ آئے تو شاندار کامیابی ملی۔ اور اترپردیش میں مایاوتی کسی طرح نہ مانیں بلکہ وہ تو ہر تقریر میں حکومت بناتی رہیں اور نتیجہ جو آیا کہ وہ اب 19  ممبروں کو لئے بیٹھی ہیں اور اب کہہ رہی ہیں کہ جس سے کہو ہم ہاتھ ملالیں ۔

بیشک کارپوریشن کا الیکشن انتظامی الیکشن ہے لیکن سب نے دیکھا ہے کہ اسی کارپوریشن نے کجریوال کی زندگی اجیرن کردی تھی۔ ہر تین مہینے کے بعد سارا کوڑا سڑکوں پر اور کجریوال کے دفتر اور گھر پر۔ اور نعرے کہ تنخواہ لائو۔ اب کجریوال کو فیصلہ کن لڑائی کا موڈ بنا لینا چاہئے اور یہ طے کرلینا چاہئے کہ وہ اب دبائو میں نہیں آئیں گے اور کوڑا بھی مودی اور امت شاہ سے اٹھوائیں گے۔ الیکشن کے بعد انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ نتیجہ کیا ہوگا اس لئے نتیجہ آنا شروع ہوا تو ان کے آفس میں کوئی نہیں تھا جو آنے والے کو جواب دیتا کہ یہ بھی مشین کی حرکت ہے یا دہلی والے احسان فراموش ہوگئے۔

کجریوال کے پاس ابھی تین برس اور ہیں وہ غصہ اور گرمی کے بجائے اگر اپنا رویہ دہلی والوں کے ساتھ وہی رکھیں جو بجلی اور پانی یا دوسرے معاملات میں رکھا ہے تو وہ بہت بڑے ہوجائیں گے۔ 2019 ء کا جو قیامت خیز الیکشن آئے گا وہ اس وقت اپنی کرسی پر ہوں گے۔ انہیں یہ نہ بھولنا چاہئے کہ دہلی سے آدھے سے کم اختیار ان کا ہے۔ اور یہ بات کہ دہلی کو پورے اختیارات دیئے جائیں یہ کوئی نہیں کرے گا۔ اور یہ بات وہ جانتے تھے کہ دہلی کی حکومت اس وقت موتی چور کا لڈو ہے جب مرکز میں بھی اسی پارٹی کی حکومت ہو۔ اور کجریوال کی حکومت کی صرف مخالف نہیں مرکزی حکومت کچھ ان کی دشمن تھی بھی اور اس پر دھار انہوں نے رکھ لی وہ یہ سمجھتے رہے کہ عوام ان سے خوش ہوجائیں گے۔ وہ اگر اپنا رویہ بجلی پانی کے لئے وہی رکھیں گے تو انہیں اُمید رکھنا چاہئے کہ آگے بھی اچھے دن دیکھیں گے۔ بس یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کہاں ایک آنچ کی کیا کسر رہ گئی؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close