سیاست

کرسی کی ہوس

مدثراحمد

کرناٹک میں جب سے مخلوط حکومت اقتدار پر آئی ہے اس وقت سے ہر دن نیا ناٹک دکھائی دے رہا ہے اور اس ناٹک کی وجہ سے نہ صرف بر سر اقتدار سیاسی پارٹیاں پریشان ہیں بلکہ عوام بھی نالاں ہوچکی ہے، سیاسی پارٹیوں کی رسہ کشی کی وجہ سے جمہوری نظام پامال ہوچکا ہے اور ہماری ایوان داغدار ہوچکی ہے۔ ہارس ٹریڈینگ کے نام پر جس طرح سے اراکین اسمبلی کو خریدنے کی بات کی جارہی ہے وہ شرمناک بات ہے۔ عوام کی جانب سے منتخب کئے جانے والے ہمارے عوامی نمائندے محض چند روپیوں اور عہدوں کی خاطر جس طرح سے اپنا سودا کرنے کے لئے بے قرار ہیں اس سے وہ عورتیں بھی شرماجائیں جو پیسوں  کیلئے اپنے جسموں کا سودا کرتی ہیں۔ معاشرہ ایسی عورتوں کو دھندے والی عورتیں کہتاہے لیکن ہمارے سیاستدان تو ان دھندے والی عورتوں سے بدتر رویہ اختیار کررہے ہیں اور اپنے ضمیر کو بھی فروخت کرنے کے لئے تیار ہورہے ہیں۔

جمہوری نظام میں کوئی بھی پارٹی اپنی اکثریت حاصل کرنے پر اپنی حکومت بنا سکتی ہے اور کسی بھی پارٹی کو دوسری پارٹیاں تائید کرسکتی ہیں۔ اس نظام میں جہاں زیر اقتدار سیاسی جماعتوں کی اہمیت ہوتی ہے اتنی ہی اہمیت اپوزیشن پارٹی کی بھی ہوتی ہے۔ جمہوری نظام میں اپوزیشن پارٹی کا رتبہ بھی حکومت کے برابر ہی ہوتاہے اور وہ زیر اقتدار سیاسی جماعت کو ریاست کی فلاح و بہبودی کے لئے کام کرنے اور آئین کو بحال رکھنے کے لئے مسلسل کوشاں رہتی ہے مگر کرناٹک میں بی جے پی نے مخلوط حکومت کی سچائی کو قبول کرتے ہوئے اپوزیشن پارٹی کا کردار ادا کرنے کے بجائے اقتدار کی ہوس میں اتنی چور ہو چکی ہے کہ وہ چور راستے اختیار کرتے ہوئے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر بی یس یڈویورپا نے آپریشن کنول کے نام پر جو مہم شروع کی ہے وہ جمہوریت کے لئے شرمناک مہم ہے۔

 اپوزیشن جماعت کا جو وقار ہوتا ہے اس وقار کو یڈویورپا اور انکی جماعت نے ہر طریقے سے مجروح کرنے کی کوشش کی ہے اور کر بھی رہے ہیں۔ کروڑوں روپیے خرچ کرتے ہوئے ہندوستانی آئین اس ملک کی رعایا کو اپنی حکومت منتخب کرنے کے لئے الیکشن کرواتی ہے، کروڑوں روپیوں کی تنخواہ، سہولیات اور مراعات دیتے ہوئے اراکین اسمبلی کو عوام کی خدمت کرنے کا موقع دیتی ہے، کروڑوں روپیے خرچ کرتے ہوئے ان اراکین اسمبلی کو اپنے اپنے علاقوں میں فلاح و بہبودی کے کام کرنے کا موقع دیا جاتاہے لیکن فی الوقت کرناٹک میں جو حالات ہیں وہ پوری ریاست کے لئے شرمناک بات ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ عوام ایسے ہی نمائندوں کو منتخب کرتی ہے جو اپنے عہدوں کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ جو لوگ تعلیم یافتہ ہوں، انکا ضمیر جگا ہوا ہو اور جو حقیقت میں کام کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں ان لوگوں کو عوام منتخب کرنا ہی نہیں چاہتی۔ کرناٹک حکومت میں جو اتار چڑھائو دیکھے جارہے ہیں وہ بی جے پی کی کرسی کی ہوس ہے اور اس ہوس میں مبتلا ہونے والے بھاجپائی لیڈران جمہوریت کا سر عام خون کررہی ہیں۔ ان حالات میں عام لوگوں کا یہ سوچنا ہے کہ یہ سب تو حکومتی سرگرمیاں ہیں اس سے ہمارا کیا لینا دینا ہے ؟

 درحقیقت ان سرگرمیوں کا عام لوگوں سے لینا دینا ہے کیونکہ یہ ملک ہمارے اور آپ سے ہے، یہ ملک عوام کا ہے۔ یہ ملک عوام سے ہے ایسے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس ملک کی بقاء اور جمہوریت کے استحکامت کے لئے متحدہوجائیں۔ جس دور میں حکومت اور اپوزیشن اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوجاتی ہیں اور جب عوام خاموشی اختیار کرنے لگتی ہے اس وقت اس ملک کا، اس ریاست کا خاتمہ ہوجاتاہے۔ مہاتماگاندھی جی نے آزاد ملک میں اس طرح کی حکومتیں نہیں چاہی تھیں نہ ہی بھگت سنگھ نے سیاستدانوں کے غلام ہندوستان کا خواب دیکھا تھا، یہ ملک آزاد ملک ہے اور اس ملک کی آزادی ہمارے جمہوری اقدار کے برابر ہونے چاہئے۔ اسی طرح سے عوام کو بھی سوچ سمجھ کر اپنا ووٹ دینے کی ضرورت ہے۔

 جس وقت انتخابات آتے ہیں ہمارے درمیان دو طرح کے لوگوں کو اہمیت دی جاتی ہے پہلا تمام کو ساتھ لے کر، تمام کے حقوق کو ادا کرنے کی بات کرنے والے سیکولر امیدوار کو اہمیت دی جاتی ہے تو دوسرا مذہب، ذات پات کو بنیاد بناکر عوام کی جانب سے منتخب ہونے والا کمیونل امیدوار۔ مگر کیا کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ سیکولر اور کمیونل امیدوار کا کوئی ضمیر نہیں ہوتا۔ کتنے بی جے پی جیسی فرقہ پرست سیاسی جماعت میں رہنے والے کانگریس میں شامل ہوجاتے ہیں اور کتنے کانگریس جیسی سیکولر کہلانے والی سیاسی جماعت کے لیڈران وقت پڑھنے پر فرقہ پرست بی جے پی میں شامل ہوجاتے ہیں۔ یہاں سوال پارٹیوں کا نہیں ہے بلکہ سوال ضمیر کا ہے۔ سوال سوچ اور افکار کا ہے جو اپنے فائدے کے لئے کبھی بھی بدلے جاتے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مدثر احمد

ایڈیٹر، روزنامہ آج کا انقلاب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close