سیاستہندوستان

کرناٹک کا جشن: کھیل تو اب شروع  ہوا ہے

اپوزیشن کا اتحاد بھی دیکھنے کو ملا لیکن متحدہ محاز ابھی بھی مودی حکومت کے خلاف تحریک چلانے میں ناکام ہے۔

مشرّف عالم ذوقی

کرناٹک میں جے ڈی  ایس اور کانگریس کی حکومت بن گیی۔ اپوزیشن کا اتحاد بھی دیکھنے کو ملا لیکن متحدہ محاز ابھی بھی مودی حکومت کے خلاف تحریک چلانے میں ناکام ہے۔ پیٹرول ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں پر کانگریس کی حکومت میں مودی اور بی جے پی کے لوگوں نے جس طرح طوفان برپا کیا تھا، عوام کو بیدار کرنے کے لئے یہ طوفان اب بھی برپا کیا جا سکتا ہے لیکن اس حوصلے  کی کمی صاف نظر  آتی ہے جو بی جے پی کے لوگوں میں ہے۔ کمار سوامی کی تقریب میں راہل کویی کارنامہ نہیں کر سکے۔ کسی مسلمان لیڈر کو نہ بلایا جانا بھی تشویش میں مبتلا کرتا ہے۔

دلی کیتھو لک چرچ کے پادری انیل میٹو نے ہندوستان کے تمام چرچ اور پادریوں کو خط لکھا ہے کہ مودی حکومت ہندوستانی جمہوریت کا خون کر رہی ہے۔ ہمیں اپنی عبادت میں حکومت کی تبدیلی کے لئے د عا کرنی چاہیے۔ ۔عیسائیوں کی طرف سے اٹھنے والی یہ بڑی آواز ہے۔ یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ دلت، مسلم، عیسائ یہاں تک کہ سکھوں کے درمیان مودی حکومت کے لئے ناراضگی کس حد تک بڑھ چکی ہے۔ بغاوت کی یہ آگ یشونت سنہا، ارون شوری، شتروگھن سنہا سے ہوتی ہوئی شیو سینا تک پھیل چکی ہے۔ مودی اور امت شاہ کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ ہر طرح کی ناراضگی کو بھی کیش کر لیتے ہیں۔ ابھی حال میں مودی کی ایک گفتگو وائرل ہوئی۔ ایک گجراتی تاجر سے موبائل پر کی جانے والی گفتگو میں مودی ہنستے ہوئے جن سنگھ کا ذکر کرتے ہیں۔ گاندھی جی کے قتل کے بعد جب راشٹریہ سیوک سنگھ خلاف قانون قرار دی گئی تو اس کے لیڈروں نے ایک نئی سیاسی جماعت جن سنگھ قائم کر لی۔ ڈاکٹر شیاما پرشاد مکرجی اس کے پہلے صدر مقرر ہوئے۔ غور کریں تو جن سنگھ کا عروج نہیں ہو سکا۔ جن سنگھ ہمیشہ ایک اقلیتی پارٹی کے طور پر رہی۔ ہندوؤں کی اکثریت نے بھی جن سنگھ سے فاصلہ قایم رکھا۔ 1977ء کے عام انتخابات میں یہ اپنی علاحدہ حیثیت ختم کرکے جنتا پارٹی میں شامل ہو گئی۔ بھارتی جنتا پارٹی نے ان کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا۔یعنی جن سنگھ کو ہندو اکثریت کا ساتھ اس وقت ملا جب یہ پوری طرح بھارتیہ جنتا پارٹی بن گی۔ مودی اس نفسیات سے واقف ہیں کہ جن سنگھ کیوں ناکام ہوئی اور اقتدار میں آنے کے بعد بھی اٹل بہاری باجپیی کی آئیڈیا لوجی کیوں ناکام رہی۔ ٢٠٠٢ گجرات حادثے کے بعد ہندو اکثریت کو متحد کرنے کا ہر حربہ اس لئے کامیاب ہوا کہ مودی نے نام نہاد سیکو لرزم سے سمجھوتا نہیں کیا۔ نہ اٹل کے راستے پر چلے نہ اڈوانی کے۔ مسلم مخالفت کا کھلا اعلان کیا اور یہ راستہ اس لئے آسان ثابت ہوا کہ مودی ملک کی اکثریت کو یہ سمجھانے میں کامیاب رہے کہ کانگریس نے مسلم ہمدردی کی تاریخ میں ہندوؤں کے مفاد کا خیال نہیں رکھا۔ یہ تیر بہت حد تک اپنا کام کر گیا۔ لیکن کانگریس مکت بھارت کے ساتھ مودی مسلم مکت بھارت کا بھی خواب دیکھنے لگے۔ حکومت تو بن گیی۔ چار برس بھی پورے کر لئے۔ لیکن حکومت سازی سے قبل قرض کا بوجھ اس قدر زیادہ تھا کہ ادائیگی کرتے ہوئے ملک کی معیشت کھوکھلی ہوتی چلی گیی اور عوام بہت حد تک مودی کے ارادوں کو سمجھنے لگے۔ جو نہیں سمجھا تھا، وہ کرناٹک کے چناؤ نے سمجھا دیا۔ کرناٹک انتخاب کے نتائج پر گفتگو کرنے سے قبل یہ تمہید اس لئے ضروری ہے کہ مودی اور امت شاہ کی منشا اور ارادوں کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ کرناٹک کے نتائج نے بی جے پی کو اس حد تک حواس باختہ کر دیا ہے کہ اقتدار کی طاقت قایم رکھنے کے لئے یہ دونوں کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرینگے اور اس کا خمیازہ بہت حد مسلمانوں کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

کرناٹک میں خرید و فروخت کے کھلے کھیل کی جس طرح میڈیا نے ہمت افزائی کی، اس سے صاف ہے کہ نیی صدی میں ہم نے ایک ایسے عجب غضب ہندوستان میں قدم رکھ دیا ہے جہاں مجرموں کے ہاتھ میں سیاست کی باگ ڈور ہے اور آپ ان مجرموں سے اخلاقیات کے بارے میں کویی گفتگو نہیں کر سکتے۔ کرناٹک کے ڈرامے پر پہلے کچھ بیانات پر غور کیجئے۔ ۔

— کانگریسی اگر اپنے ایم ایل ایے کو ہوٹل میں بند نہیں کرتے تو جیت ہماری ہوتی ( امت شاہ )

کیا الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کو امت شاہ کے اس بیان کی نوٹس نہیں لینی چاہیے ؟

کانگریس کی طرف سے اس بیان کا جواب آنند شرما نے دیا۔ ۔

— ایک تڑی پار مجرم اتنا بے شرم ہو سکتا ہے، یہ سوچنا بھی مشکل ہے ( آنند شرما )

اس سے پہلے راہل گاندھی نے پریس سے خطاب کرتے ہوئے بھی امت شاہ کو قاتل اور مجرم ٹھہرایا۔ لیکن امت شاہ نے اپنے بیان میں اس کا کویی ذکر نہیں کیا۔ راہل کا بیان آنے کے بعد مودی کی پوری کیبنٹ مل کر بے شرمی کے ساتھ امت شاہ کی طرف سے صفایی دینے کی مہم میں لگ گیی۔ ملک کے عوام کے سامنے پہلی بار بی جے پی، آر ایس ایس، مودی اور امت شاہ کا وہ چہرہ سامنے آیا، جو آنے والے ٢٠١٩ کے الیکشن میں انکی خوش فہمیوں کو خاک میں ملانے کے لئے کافی ہے۔ لیکن اس خوش فہمی کے ختم ہونے کے بعد کا اندازہ آپکو نہیں ہے۔ ہر حال میں حکومت، کے راستے پر چلنے والی بی جے پی کو دنیا کی کویی بھی اخلاقیات چیلنج نہیں کر سکے گی۔ اگلا ہر قدم بھیانک ہوگا۔

سوشل ویب سائٹ پر کرناٹک کے گورنر وجو بھائی والا کو وفادار کتا کہنے والوں کی کویی کمی نہیں تھی۔ ۔جہاں جہاں بھی بی جے پی کی حکومت ہے، وہاں کے گورنر کو عوام اسی طرح کے ناموں سے یاد کر رہے ہیں۔ ابھی حال میں صدر جمہوریہ ہند اور انکے خاندان کو اجمیر کے برہما مندر کے اندر صرف اس لئے داخل نہیں ہونے دیا گیا کہ وہ ایک دلت ہیں۔ ملک کی تاریخ میں صدر جمہوریہ ہند، اور گوورنروں کی اس طرح بے عزتی کبھی دیکھنے کو نہیں ملی۔ ۔راہل گاندھی نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ بھی صاف کیا کہ اس وقت ملک کی تمام بڑی ایجنسیاں مودی کے دباؤ میں اپنا وجود کھو چکی ہیں۔

امت شاہ کے بیان کی طرف واپس آتے ہیں۔ گورنر واقف تھے کہ پندرہ دن کے اندر خرید و فروخت ممکن ہے۔ بقول آنند شرما، اس کے لئے چار ہزار کروڑ رکھے گئے تھے۔ کیا اسی لئے ایک ماہ قبل اے ٹی ایم سے پیسے غایب ہو گئے تھے ؟ یہ بھی سوال ہے۔ کیا امت شاہ کے بیان کے مطابق ہوٹل کے باہر روپیوں سے لدی وین کھڑی تھی کہ ایم ایل اے واپس نکلیں اور سو سے دو سو کروڑ میں انھیں خریدا جا سکے ؟ کیا دنیا کی کسی بھی جمہوریت، کسی بھی ملک میں ایسی کویی مثال ملتی ہے جہاں لوٹ کھسوٹ اور رشوت خوری کو سر عام پریس کی موجودگی میں سچ اور جائز ثابت کیا جا رہا ہے۔ کیا سپریم کورٹ یا الیکشن کمیشن کو امت شاہ کے بیان میں کہیں کسی کھلے فراڈ کی جھلک نظر نہیں آیی۔ غور کریں تو یہ دن اور مودی حکومت کا ہر دن ہمارے لئے یوم سیاہ کی حقیقت رکھتا ہے کہ آیین اور قانون کو بالا ئے طاق رکھ کر مجرمانہ ذہن کی نمائش، حوصلہ افزایی اور پرورش کی جا رہی ہے۔ الیکشن کمیشن سے لے کر سپریم کورٹ تک کا اس بیان پر خاموش رہنا ایک بڑے سنگین جرم کی حوصلہ افزایی کرنا ہے۔

اب کرناٹک کے ڈرامے پر غور کیجئے۔ اخلاقیات کی بات کرنے والی بی جے پی نے میگھالیہ، منی پور، بہار، گوا ہر جگہ سیاسی ہٹ دھرمی کے ساتھ حکومت بنایی ہے۔ میں خوفناک ماضی کو کھنگالنا نہیں چاہتا کیونکہ چار برسوں کی سیاست میں آیین اور قانون کا مذاق بنا کر رکھ دیا گیا۔ کانگریس دیر میں جاگی۔ وہ ہمیشہ دیر میں جاگتی ہے۔ اور اس نے وہی راستہ اپنایا جو مودی اور امت شاہ کا راستہ تھا۔ یہ راستہ اس نے ایک فرقہ پرست پارٹی کو حکومت بنانے سے روکنے کے لئے اپنایا جس کی موجودہ حالات میں ضرورت تھی۔ لیکن امت شاہ کی سیاسی فکر کو کانگریس کا حصہ بنا کر کانگریس نے اپنے پتے بھی صاف کر دئے کہ آنے والے وقت میں کانگریس بھی اب اسی غیر جمہوری راستے پر چلے گی۔ فرض کیجئے، کمار سوامی نے حکومت بنا لی، یہ سوال بھی ہے کہ یہ حکومت کب تک چلے گی ؟ کیا اس حکومت کا حشر آگے چل کر وہی ہوگا جو بہار کا ہوگا ؟ کیا جے ڈی ایس اپنے موقف پر قایم رھے گی ؟ کیا امت شاہ اس اتحاد کو ختم کرنے کے لئے وہی کھیل نہیں دہراینگے جو بہار میں نتیش حکومت کے ساتھ کھیلا گیا۔ کیا دیو گوڑا اور کمار سوامی جمہوریت اور سیکولرزم کی حفاظت کر پاینگے ؟ اس سے بھی بڑا سوال ہے کہ آگے کیا ہوگا ؟ کیا اس شکست کے بعد بی جے پی، مودی، آر ایس ایس اور امت شاہ خاموش رہ جایئنگے ؟ کیا ہو سکتا ہے، کی مثالوں پر غور کیجئے تو اس جنگلی جانور کا چہرہ نگاہوں میں ابھرتا ہے جو زخمی ہو چکا ہے۔ زخمی درندے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ ٢٠١٩ کے ہدف کو پورا کرنے کے لئے اب یہ پوری ٹیم پہلے سے کہیں زیادہ سفاک ہو کر سامنے اے گی۔ اسکی شروعات گاؤ کشی کے شک میں مسلمانوں کی ہلاکت اور دلتوں کو سر عام موت کی سزا دے کر کی جا چکی ہے۔ اب جو ہوگا، وہ اور بھیانک ہوگا۔

امت شاہ کرناٹک ڈرامے کو نیا موڑ اس وقت تک دیتے رہینگے جب تک حکومت گر نہیں جاتی۔ آگے راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ میں بھی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس کے بعد ٢٠١٩ کا لوک سبھا الیکشن ہے۔ اگر تمام اپازیشن متحد ہو جاتا ہے تو ایک نیوز چینل کے مطابق بی جے پی کی شکست یقینی ہے۔ تو کیا مودی اور امت شاہ آرام سے شکست قبول کر لیں گے ؟ چار برسوں میں انتخاب کے نام پر ایک گھنونا کھیل کھلا گیا۔ میگھالیہ میں محض دو سیٹ جیت کر حکومت بنانے والی بی جے پی کانگریس اور متحدہ اپازیشن کو آرام سے جینے نہیں دے گی۔ کیا تمام پارٹیاں مل کر اس بات کے لئے تیار ہو جایئنگے کہ راہل گاندھی ہی اگلے پرائم منسٹر ہوں گے ؟ ممتا بنرجی، مایا وتی اور دیو گوڑا بھی تو پرائم منسٹر کے امیدوار ہو سکتے ہیں ؟ سیکولرزم اور جمہوری اقدار کی حفاظت کرنے والی پارٹیوں کا اتحاد کتنے دنوں تک قایم رہے گا۔ ؟ کیا پاسبان، نتیش بی جے پی سے بغاوت کرینگے ؟ ہزاروں سوالوں کا ایک بڑا جواب یہ ہے کہ بی جے پی سب کچھ آسانی سے نہیں ہونے دے گی۔ کیا تمام پارٹیاں مل کر اس بات پر لڑ سکیںگی کہ انتخاب بیلٹ پیپر سے ہو ؟ ابھی بھی شیو سینا نے یہ بیان دیا ہے کہ کرناٹک میں بھی ای وی ایم کا جلوہ رہا۔ ای وی ایم کو نہیں روکا گیا تو تمام پارٹیوں کے ملنے کے باوجود بھی ٢٠١٩ کی فتح کو یقینی نہجی بنایا جا سکتا۔ یہ رہی ایک بات، دوسری بات کا تعلق مسلمانوں سے ہے۔ ابھی گجرات اور کی ریاستوں میں، دلتوں پر تشدد ہو رہے ہیں۔ پچھلی بار دلتوں نے یک مشت ووٹ بی جے پی کو دیا تھا۔ بی جے پی دلتوں کے ووٹ بینک کو نہیں توڑے گی۔ چار برسوں کی نا کامیوں کو بھلانے کے لئے، اکثریت کو دوبارہ متحد کرنے کے لئے وہ سب سے بڑا ہندو کارڈ کھیلے گی۔ یہ کارڈ بابری مسجد کارڈ نہیں ہوگا۔ یہ کارڈ پوری طرح مسلمان قوم کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا کارڈ ہوگا۔ اس کارڈ میں مسلمانوں کو پوری طرح غدار ثابت کیا جائے گا۔ ابھی جے این یو کے نصاب میں اسلامی دہشت گردی پر ایک باب پڑھایا جا رہا ہے۔ اس پر مولانا انصار رضا نے آواز اٹھایی ہے۔ آپ غور کریں کہ کرناٹک ڈرامے کے بعد آگے کیا ہوگا تو ہندوستان کے مسلمان امت شاہ اور آر ایس ایس کے نرغے میں نظر آتے ہیں۔ جیت کے لئے امت شاہ کے پاس سب سے بڑا داؤ صرف مسلمان ہیں۔ اور امت شاہ جانتے ہیں کہ ہندو راشٹر کی تعمیر کے لئے اور بی جے پی کی فتح کے لئے صرف ایک ہی نسخہ کام آ سکتا ہے۔ کرناٹک میں بے شرمی کی تمام حدوں کو پار کرنے والے مسلمانوں کے لئے کس حد تک جا سکتے ہیں، اسکے بارے میں غور کرنے کی ضرورت ہے۔

آگے شکار مسلمان ہوں گے۔ اسکی شروعات ہو چکی ہے۔ کانگریس اور دیگر پارٹیوں میں ابھی بھی اس جذبے کی کمی ہے، جس سے فتح کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ آج کی تاریخ میں، ہر حد سے تجاوز کرتے ہوئے جیت کو یقینی بنانے کا عزم صرف مودی اور امت شاہ کے پاس ہے۔ ان چار برسوں میں تمام ایجینسیوں، سرکاری اداروں کی کمزوریاں ہم دیکھ چکے ہیں۔ کرناٹک کا ڈرامہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ اس ڈرامے نے بے شرمی کو نیا راستہ دیا ہے۔ یہ راستہ کانگریس کے لئے بھی خطرناک ہوگا۔ لیکن اس پر ضرور غور کیجئے کہ آنے والا وقت مسلمانوں کے لئے بے رحم ہو سکتا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مشرف عالم ذوقی

ڈاکٹر مشرف عالم ذوقی اردو کے معروف نقاد، ادیب اور فکشن نگار ہیں۔ موصوف کم و بیش تین درجن کتابوں کے مصنف ہیں۔

متعلقہ

Close