سیاست

کرناٹک کا سبق!

کرناٹک کے انتخابی نتائج پر ایک نگاہ دوڑانے کے بعد موٹے طورپر ایک سوال ابھر تا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں بی جے پی کو شکست دینا کیا ناممکن ہے؟

محمدشرافت علی

آخرکار کانگریس کرناٹک میں منہ کے بل گر گئی!۔ بھارتیہ جنتاپارٹی نے یہاں سب سے بڑی سیاسی جماعت کے طورپر کامیابی درج کراتے ہوئے کانگریس اور جنتادل سیکولردونوں کو ایک طرح سے یہ بتادیاہے کہ زعفرانی طاقت کا دائرہ وسیع ہورہاہے، محدود ہرگزنہیں ہے۔ بھارتیہ جنتاپارٹی کی ریاست میں 100سے زائد نشستوں پر ملنے والی شاندارکامیابی اِس لحاظ سے اہم ہے کہ ایک بار پھر یہ واضح ہو گیا ہے کہ’ فرقہ پرستی‘ بہ نام’ سیکولر پسندی‘ کے نظریے پر (بہ ظاہر) لڑی جانے والی انتخابی جنگ میں اُن طاقتوں کوکیلئے سیاسی حالات ابھی سازگارنہیں ہیں،  جنہیں یہ شکوہ ہے کہ بی جے پی ملک کی یکجہتی اور فرقہ وارانہ خیرسگالی کے جذبوں کو ہر لحاظ سے کچل دینے پر آمادہ ہے۔  معلق اسمبلی وجود میں آجانے کے باوجودکرناٹک کے الیکشن میں کانگریس کی شکست اور بی جے پی کی کامیابی اِس وجہ سے اہم ہے کہ سیاسی لحاظ سے کانگریس کا مورل فطری طور پر ڈاؤن ہوگا اور کہیں نہ کہیں بی جے پی کیلئے یہ صورتحال سیاسی لحاظ سے آگے کے سیاسی سفرکیلئے اطمینان بخش بھی قرار پائے گی۔ کانگریس گوکہ یہ کہہ کر عزت بچانے کی ناکام کوشش کرے گی کہ یہ الیکشن راہل گاندھی کی شکست نہیں ہے کیونکہ کانگریس پارٹی نے کرناٹک کا الیکشن رخصت پذیر وزیر اعلیٰ سدا رمیاکی قیادت میں لڑا ہے،  جبکہ بی جے پی کلی طورپر یہ پیغام عام کرنے کی کوشش کرے گی کہ کرناٹک میں ’پپو‘فیل ہوگیا۔  یوں کہاجاسکتا ہے کہ کرناٹک کے انتخابی نتائج کو قومی سطح پرماحول سازی کے حوالہ سے بھی بہ طور سیاسی ہتھکنڈہ استعمال کیا جائے گااور یقینااِس ریزلٹ کا کہیں نہ کہیں اثر دوسری ریاستوں کی اسمبلیوں کے انتخابات پر بھی ہوگااورپھر آگے چل کر یہ صورتحال مودی کے ’سحر‘ یا’جادو‘ کو2019کے عام انتخابات میں بھی’برقرار‘ دکھانے میں مددگار ثابت ہوگی۔

کرناٹک میں بی جے پی کی جیت کے معنی کیا ہیں؟اگر اِس بنیادی سوال کا جواب تلاش کیاجائے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جنوبی ہند میں بی جے پی کا سیاسی لحاظ سے دوسری مرتبہ داخلہ دوسری پڑوسی ریاستوں کے سیاسی ماحول کو بھی اثر انداز کرے گا۔ خصوصاًتلنگانہ،  آندھراپردیش اور تمل ناڈو کی مقامی سیاست بھی کرناٹک کے تبدیل شدہ سیاسی منظر نامہ میں نیا سمت متعین کرے گی، جہاں الگ الگ جماعتوں کی حکومت قائم ہے۔ اسی طرح شمالی ہند کی جن تین اہم ریاستوں راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں اب الیکشن ہوں گے، وہاں بھی کرناٹک کے نتائج کی گونج سنا سنا کر بی جے پی ’اچھے دن‘ کی برقراری کی کوشش کرے گی۔ ماحول سازی کی اِن کوششوں کا حاصل ہوگاکیا، یہ تو وقت بتائے گا لیکن اِس وقت جو سیاسی تصویر کرناٹک سے ابھر کر سامنے آئی ہے، وہ صرف کانگریس کیلئے نہیں بلکہ پورے سیکولرکہلانے والے سیاسی طبقہ کیلئے یقیناًایک جھٹکا ہے۔

کرناٹک کے انتخابی نتائج پر ایک نگاہ دوڑانے کے بعد موٹے طورپر ایک سوال ابھر تا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں بی جے پی کو شکست دینا کیا ناممکن ہے؟اس سوال کا جواب اگر کرناٹک کے انتخابی نتائج کے حوالہ سے تلاش کرنے کی کوشش کی جائے تو کہاجاسکتا ہے کہ جس انداز میں کرناٹک میں الیکشن لڑے گئے، اگر اِسی طرح دوسری ریاستوں میں بھی انتخابات لڑے جائیں گے تو یقیناًبی جے پی کی کامیابی کے رتھ کو روک پانا آسان نہیں ہوگا۔

کرناٹک میں پورے طورپر نہ سہی، لیکن اسمبلی کے اِس الیکشن میں سہ طرفہ مقابلہ آرائی کی کیفیت ضرور دیکھی گئی۔ 222اسمبلی حلقوں میں منعقد ہونے والے الیکشن کا اس حوالہ سے حلقہ وار تجزیہ کیا جانا لازمی ہے تاکہ یہ تصویر واضح شکل و صورت میں سامنے آسکے کہ جہاں جہاں بھارتیہ جنتاپارٹی نے کامیابی حاصل کی، وہاں وہاں بی جے پی کے سیاسی مخالفین کیوں اور کیسے ناکام ہوگئے؟جیت میں ووٹوں کا فرق بہ ظاہر کوئی معنی نہیں رکھتا کہ جیت تو بہر حال جیت ہے، لیکن جیت کتنے ووٹ سے ہوئی، اورہار کتنے فرق کے ساتھ؟اس نکتہ کو سمجھنا تب ضروری ہوجاتا ہے جب مقابلہ آرائی سہ طرفہ ہو، کیونکہ سہ طرفہ مقابلہ آرائی کے درمیان بہرحا ل ایک امید وار چند سو ووٹ کے فرق سے کامیابی تو حاصل کر لیتا ہے لیکن دوسری جانب مقابلہ آرائی میں’تیسرا سیاسی کھلاڑی‘50ہزار یا بعض اوقات اس سے بھی زیادہ ووٹ حاصل کرکے ہارنے والے امیدوارکی چند سوووٹوں سے شکست کو یقینی بناجاتا ہے۔  یوں پتہ یہ چلتا ہے کہ جس امیدوار نے کامیابی کا تمغہ حاصل کیا، اُسے جیت معمولی فرق سے حاصل ہوئی، لیکن جو دو امیدوار آپس کی پہلوانی کے چکر میں ہار گئے، اُن دونوں کے ووٹ کو اگر ملادیا جائے تو جیتنے والاامیدوار مقابلے سے پوری طرح باہر دکھائی دیتا ہے۔

کرناٹک کے موجودہ الیکشن میں جنتادل سیکولر کے امیدواروں نے کس حد تک کانگریس کیلئے نقصان پہنچانے کی عملی کوشش کی اور کس حد تک اُس کی سیاسی حکمت عملیاں بی جے پی کیلئے سامانِ راحت بن گئیں؟ یہ بھی اُن لوگوں کیلئے ایک اہم سوال ہے، جو اس الیکشن کو ’فرقہ پرستی‘بہ نام’ سیکولر نوازی‘کی ’سیاسی جنگ‘کے حوالہ سے دیکھ رہے تھے۔  چونکہ جنتادل سیکولرخود نام سے بھی ’سیکولر‘ ہے اور اپنے دعوؤں کے مطابق ایچ ڈی دیو گوڑا اور اُن کے فرزند کماراسوامی سیکولرزم کے علمبردار بھی ہیں، اِس لئے یہ سوال بھی کھڑا کیاجاسکتا ہے کہ دو سیکولر کہلانے والی جماعتوں کیلئے پہلے ’فرقہ پرستی‘ کو کچلنا ضروری ہونا چاہئے یا اپنی اپنی جماعتوں کے سیاسی تشخص کو بچانے کی فکرپہلے کرنی چاہئے؟

تبدیل شدہ سیاسی منظر نامہ میں مجموعی لحاظ سے یہی تصویر ابھرتی ہے کہ آئندہ لڑی جانے والی اسمبلیوں کے الیکشن کے ساتھ ہی ساتھ عام انتخابات میں بھی اگر بی جے پی مخالف قوتوں نے اجتماعی سیاسی حکمت عملیاں تیار نہیں کیں تو سیکولر کہلانے والی جماعتوں کی باہمی چپقلش اور سیاسی ریشہ دوانیوں کا سیدھا فائدہ بھارتیہ جنتاپارٹی کو اُسی طرح ملے گا،  جس طرح کی سیاسی تصویر کرناٹک کے اسمبلی انتخابات کے نتائج کی شکل میں دکھائی دے رہی ہے۔

کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ صورتحال سیکولرزم کا’سرخابی پر‘ لگا کر اُٹھتے بیٹھتے بھارتیہ جنتاپارٹی کی سیاست کو زہر آلود قرار دینے والی جماعتوں کیلئے نشانِ راہ متعین کرنے میں مددگار ہوسکتی ہے، بشکرطیکہ کرناٹک کے نتائج سے سبق سیکھنے کی کوشش کی جائے۔ کرناٹک کا سبق اِن سیکولرزم کی علمبردارجماعتوں کیلئے یہی ہے کہ اگر انہیں سیکولرنظریات کے تحفظ کی فکر واقعی ہے تو وہ آگے کیلئے’ اجتماعی ‘سیاسی حکمت عملی تیار کریں اور’متحدہ اپوزیشن‘کے سیاسی بینر تلے اگلے الیکشن کیلئے قدم بڑھائیں، ورنہ اِس بات کی ضمانت دی جاسکتی ہے کہ2019کے عام انتخابات میں مودی کا ’جادو‘اِن معنوں میں برقرار رہے گا کہ سیکولر نظریات کی حامل جماعتیں الگ الگ سیاسی پلیٹ فارم سے الیکشن لڑیں گی اور یوں اِن کے درمیان سیکولر کہلانے والے ووٹ کی تقسیم کی صورت میں بھارتیہ جنتاپارٹی کے’ اچھے دن‘ کا سورج ایک بارپھر طلوع ہوگا۔

’متحدہ اپوزیشن‘کا مفروضہ اور’مشترکہ سیاسی حکمت عملی‘ اختیار کرنے کا معاملہ فی الحال ایک خواب ضرور ہے، لیکن سچ تو یہ بھی ہے کہ خواب دیکھنا اور خوابوں میں رنگ بھرنے کی کوشش کرنا بھی زندگی کی ہی علامت ہے۔ کرناٹک کے انتخابی نتائج سے چونکہ بالکل بھی یہ واضح نہیں ہوتا کہ بی جے پی کا غیرمعمولی طورپر عروج ہوا ہے، اِس لئے بی جے پی مخالف قوتوں کیلئے کسی بھی طرح کے’ نظریاتی سیاسی اتحاد‘ کے حوالہ سے ابھی گنجائش موجودہے۔ کرناٹک کے انتخابی نتائج پر ایک طائرانہ نگاہ دوڑانے کے بعد یہ تصویر بھی ابھرتی ہے کہ کانگریس یہاں نمبر ایک سے نمبر دو پر ضرور کھسک کر آگئی ہے، لیکن ووٹنگ فیصد میں ابھی بھی یہاں بھارتیہ جنتاپارٹی نمبر دو پر ہی ہے۔ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پرشام کے پانچ بجے تک کی سیاسی صورتحال کی معکوسی جھلک دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ کرناٹک میں اقتدار گنوانے والی کانگریس نے شکست کے باوجود 37.9فیصد ووٹ حاصل کئے، جبکہ ریاست میں عددی لحاظ سے سب سے بڑی جماعت کے طورپر ابھرنے والی جماعت بھارتیہ جنتاپارٹی کاپولنگ فیصد کانگریس سے کم ہے۔ بی جے پی پر کرناٹک کے 36.2فیصد رائے دہندگان نے بھروسہ کیا اور یوں 36.2فیصد ووٹ کے حصول کی شکل میںیہ پارٹی نمبر ایک پر آگئی۔  ووٹنگ کے تناسب کو دکھانے والی یہ دلچسپ تصویراس حقیقت کو بھی منظرعام پر لاتی ہے کہ جنتادل سیکولرپرریاست کے18.5فیصد رائے دہندگان نے اعتماد کرتے ہوئے اُسے ووٹ دیا۔ یوں ووٹنگ کے تناسب کو دیکھنے کے بعد یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اگر کرناٹک میں کانگریس اور جنتادل سیکولر نے انتخابی سمجھوتوں کی شکل میں الیکشن لڑا ہوتا تو نہ صرف یہ کہ بی جے پی ریاست کی سیاست میں عملاًآج حاشیہ پر ہوتی بلکہ بھاجپائیوں کا آئندہ کا سفر بھی مشکلات میں گھرا ہواہے، یہ پیغام پورے ملک میں ابھر جاتا۔

اپوزیشن کے درمیان اتحادکی ماضی میں دو ایسی کوششیں ہوچکی ہیں،  جو نظیرکہلاسکتی ہیں۔ یہاں یہ تذکرہ بے موقع نہیں کہ ماضی میں اول اول بہار کے اسمبلی انتخابات میں اور پھر یوپی کی دو پارلیمانی نشستوں کے ضمنی الیکشن میں یہ تجربہ کامیاب بھی ہوا۔ بہار میں گرچہ نتیش کمار نے آگے چل کر اُسی بی جے پی کا دامن تھام لیا، جس بی جے پی کو وہ ملک کی یکجہتی اور امن کیلئے خطرہ بتارہے تھے،  لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں نکالا جاسکتا ہے کہ اپوزیشن کے درمیان نظریاتی ہم آہنگی قائم کرنا اور مشترکہ سیاسی حکمت عملیاں وضع کرنا نا ممکن ہے۔

ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کا سیاسی منظرنامہ حال کے دنوں میں کس طرح تبدیل ہوا ہے، یہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔  گورکھپور اور پھول پور میں اگر اجتماعیت کا مظاہرہ بی جے پی کا راستہ روک سکتی ہے تواگلے عام انتخابات میں یہی نسخہ آخر کیوں نہیں آزمایاجا سکتا ہے؟یہ سوال اہم ضرورہے لیکن اِس سوال کا جواب دینے کی بجائے یہ دیکھنااہم ہوگا کہ جو سیاسی جماعتیں خود کو سیکولرزم کی علمبر دار کہتی ہیں اورجن کی سیاست پورے طورپربی جے پی کے فرقہ وارانہ نظریات کی مخالفت پر ٹکی ہوئی ہے، کیا وہ باہمی نفع و نقصان سے بلند ہو کر ملک کی سیکولر شبیہ کو باقی رکھنے کی خاطر متحدہونے کو تیارہیں؟اثبات میں اس سوال کا جواب دینے کی بہ ظاہر گنجائش دکھائی نہیں دیتی۔ سچ تو یہ بھی ہے کہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی زیادہ تر جماعتیں اپنی اپنی دفلی بجا رہی ہیں،  اپنا اپنا’ راگ‘سنارہی ہیں۔ ملک کی وحدت،  سیکولرزم کی حفاظت اورفرقہ پرستی کی سرکوبی کی خاطر کسی بھی طرح کی قربانی دینے کا جذبہ اِن میں ہے ہی نہیں۔ مختصراًیہ کہاجاسکتاہے کہ اِس وقت 2019 کے عام انتخابات کے حوالہ سے جو تصویر ابھر رہی ہے، وہ یہی ظاہر کرتی ہے کہ مرکز کی مودی سرکاربھلے ہی’ اچھی حکمرانی‘ کے تعلق سے فیل ہوچکی ہے، لیکن اس کے باوجودبی جے پی سیاسی لحاظ سے میدان مارنے کی صلاحیت اب بھی رکھتی ہے۔ اب ایسے میں اپوزیشن کو یہ طے کرنا ہے کہ وہ بی جے پی کی پیش قدمی کے سلسلوں کو روکنے میں عملاًکہاں تک سنجیدہ ہے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close