سیاست

کرناٹک کی حکومت، راہل کا امتحان

حفیظ نعمانی

کرناٹک میں کانگریس نے وزیراعظم نریندر مودی کو نیچا دکھانے کے لئے چھوٹی پارٹی جنتادل سیکولر کے ایچ ڈی کمار سوامی کو وزیراعلیٰ بنا دیا اور یہ فیصلہ انہوں نے کسی دبائو کے تحت نہیں کیا بلکہ اپنی مرضی سے کیا اور اس کی ہر طرف تعریف ہوئی۔ کرناٹک میں بی جے پی کہیں یا مودی جی کی پارٹی کو ضرورت سے آٹھ سیٹیں کم ملی تھیں ۔ وزیراعظم اس کمی کو پورا کرنے کرنے کیلئے جتنا گرسکتے تھے وہ گرے۔ انہوں نے گورنر سے وہ کرایا جس نے ان کے منھ پر کالک مل دی لیکن سپریم کورٹ نے ثابت کیا کہ اگر جمہوریت کی کشتی ڈوبنے لگے تو اسے بچانے کے لئے وہ ہیں ۔ اور وزیراعظم منھ دیکھتے رہ گئے۔ سب سے زیادہ گرا ہوا اور غیرمعیاری تبصرہ امت شاہ نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کانگریس کے ممبروں کو ہوٹل میں بند نہ کیا ہوتا تو جیت ہماری ہوتی۔ ہمیں نہیں معلوم اس تبصرہ کو سن کر وزیراعظم پر کیا گذری؟ لیکن سیاسی سماج میں امت شاہ دو کوڑی کے ہوگئے۔

اس پس منظر کے بعد ضرورت اس کی تھی کہ مسٹر راہل گاندھی کرناٹک کی حکومت کو مثالی حکومت بنادیتے وہ اپنے تمام ممبروں پر دبائو ڈالتے کہ انہیں کمار سوامی کے فیصلوں سے اختلاف ہو یا اتفاق وہ اسے اپنا فیصلہ تسلیم کریں گے اور کمار سوامی کو یہ محسوس نہیں ہونے دیں گے کہ آپ ہمارے رحم و کرم پر ہیں ۔ 2019 ء ابھی کس نے دیکھا ہے لیکن کانگریس اور اپوزیشن کی کوشش یہ ہے کہ ملک کو مودی کے چنگل سے آزاد کرالیا جائے۔ اگر ایسا ہوجاتا ہے اور قسمت کانگریس پر مہربان ہوجاتی ہے تو راہل کو بہت کم ممبروں کے بل پر زیادہ ممبروں کے تعاون سے حکومت چلانا پڑے گی اور اس کی شکل وہی ہوگی جو آج کرناٹک کی ہے۔ اس لئے راہل گاندھی کو اپنے ممبروں کے ذریعے وہ نمونہ پیش کرنا چاہئے جس کا حوالہ وہ لوک سبھا میں دے سکیں ۔

کرناٹک کے وزیراعلیٰ کا یہ کہنا کہ اتحادی حکومت کا درد میں جانتا ہوں یہ کسی زہر سے کم نہیں ہے۔ کانگریس نے 2004 ء سے 2014 ء تک وہی کیا ہے جو اب کمار سوامی کو کرناٹک میں کرنا پڑرہا ہے۔ یا اگر اپوزیشن اپنے منصوبہ میں کامیاب ہوگئی تو اس حکومت کو کرنا پڑے گا جو 2019 ء میں بنے گی۔ ابھی وہ لوگ موجود ہیں جنہوں نے جنتا پارٹی کا وہ زمانہ دیکھا تھا جب مرارجی ڈیسائی ہٹادیئے گئے گجرال صاحب بھی چلے گئے اور پھر مسز اندرا گاندھی نے اپنی ڈگڈگی پر سب کو نچانا شروع کیا وہ اپنے 72  ممبروں کے بل پر وزیراعظم بنواتی تھیں اور پھر حمایت واپس لے کر دوسرے کو بلاتی تھیں ۔ یہ ان کا ہی کارنامہ تھا کہ انہوں نے چودھری چرن سنگھ کو بھی سابق وزیراعظم بنا دیا اور چندر شیکھر کی بھی حسرت پوری کردی اور آخر میں سب کو ان کے دربوں میں بند کردیا۔

مودی جی اپنے اقتدار کے پہلے دن سے آج تک ایک دن کے لئے بھی پورے وزیراعظم نہیں رہے وہ صرف آر ایس ایس کے پرچارک اور بھاجپا کے ترجمان رہے اور الیکشن تک رہیں گے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ملک پوری طرح برباد ہوگیا اور اب پورے ملک پر صرف بھیڑ کی حکومت ہے اور صوبوں کے وزیراعلیٰ سے ملک کے وزیراعظم تک کسی میں ہمت نہیں ہے کہ اس بھیڑ پر قابو پاسکے۔ برسوں سے جنگل راج کا لفظ سن رہے تھے دیکھا کسی نے نہیں تھا اب ہر ہندوستانی کہہ سکتا ہے کہ ملک میں جنگل راج ہم نے دیکھا ہے۔

مودی نام کے وزیراعظم ایک جملے کو پکڑے بیٹھے ہیں کہ راہل نے کہہ دیا کہ کانگریس مسلمانوں کی پارٹی ہے۔ وہ اعظم گڑھ میں ایک دھوکہ کا پتھر زمین پر رکھ کر جو تقریر کرتے ہیں اس میں یہ کم بتاتے ہیں کہ اس پتھر کے بعد کیا ہوگا اور راہل گاندھی سے یہ معلوم کرتے ہیں کہ کانگریس مسلمان مردوں کی پارٹی ہے یا عورتوں کی بھی ہے۔ ہم ہوتے تو مودی جی کو یاد دلاتے کہ یہ بھی معلوم کرلیں کہ مسلمان زنخوں کی بھی ہے یا نہیں ہے؟ ہندوستان نے آج تک سیکڑوں حکمراں دیکھے ہیں لیکن ایسے حکمراں کے بارے میں تو شاید اس نے سوچا بھی نہ ہو کہ سواسو کروڑ آدمیوں کے ملک میں ہر طرف ہاہاکار مچی ہے مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے اور روپیہ کی حیثیت گرتے گرتے جوتوں کو چھو رہی ہے اور ملک کا حاکم صرف اس فکر میں لگا ہے کہ بنگال میں کیسے اس کی حکومت قائم ہو اور اس کے لئے وہ سینہ پیٹ رہا ہے کہ ہائے ممتا نام کی مسلمان حکمراں نے بنگال میں ہندوئوں کا جینا حرام کردیا ہے۔

ملک میں ایک زمانہ میں ہندو گھرانوں میں مسلمانوں کو ترک کہا جاتا تھا۔ جو ہندو مودی کی مالا نہ جپے وہ مسلمان ہے۔ اس وقت سو کروڑ ہندو رو رہا ہے کہ اگر یہ اچھے دن ہیں تو مودی جی کے برے دن کیسے ہوں گے؟ 2014 ء میں جب مودی جی نے کہا تھا کہ اچھے دن آئیں گے تو اس وقت اتنے برے دن نہیں تھے۔ اور مودی جی کے پاس اس کا جواب یہ ہے کہ کانگریس مسلمانوں کی پارٹی ہے مگر مردوں کی اور مسلمان عورتیں ان کی پارٹی میں ہیں ۔ اور بنگال میں ہندو کمیونسٹوں کے راج میں بھی اتنا پریشان نہیں تھا جتنا اب ہے۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ 2014 ء سے اب تک جو جھوٹے وعدوں کی جھڑی لگائی ہے وہ پاگل کتوں کی طرح مودی کا پیچھا کررہی ہے ہر جگہ جہاں وہ تقریر کرنے کھڑے ہوتے ہیں یاد آجاتا ہے کہ یہاں میں پہلے کیا کیا کہہ چکا تھا؟ اور وہ ان کے جواب سے بھاگنے کیلئے مسلمان کی پناہ لے لیتے ہیں اور ممتا بنرجی کے مظالم کو یاد کرکے رونے لگتے ہیں اس لئے کہ انہیں صاف نظر آرہا ہے کہ میرا کھیل ختم ہوگیا۔ اور یہ موقع ایسا ہے کہ راہل گاندھی کرناٹک میں مثالی حکومت کا نمونہ ملک کو دکھادیں جہاں کے بارے میں مودی جی کہہ چکے ہیں کہ اب حکومت کو خود گرنے دو اور یہ راہل کو دکھانا چاہئے کہ ایسی حکومت بھی پانچ سال پورے کرے گی۔ ان کو صرف اپنے ممبروں کو سمجھانا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close