سیاست

کس منھ سے اپنے آپ کو کہتے ہو عشق باز

کیا اب پاکستان کے معنیٰ کیا لاالہ الااللہ کہنے والے عمران خان کو امیرالمومنین اور خلیفۃ المسلمین بنائیں گے؟

حفیظ نعمانی

پاکستان کے بارے میں کوئی شرمناک خبر پڑھ کر دماغ میں 73 برس پرانا ٹیپ بجنے لگتا ہے۔ بریلی کے موتی پارک کے اور جگہ جگہ ہونے والے وہ جلسے جن میں ہندوستان کے ہندوئوں کو نہیں ، جمعیۃ علماء کو اور نیشنلسٹ مسلمانوں کو غدار اور اسلام کا دشمن قرار دیا جاتا تھا۔ اور پرجوش مقرر کہا کرتے تھے کہ ہندو کیا جانے حکومت کرنا حکومت تو ہم جانتے ہیں جنہوں نے آٹھ سو برس ہندوستان پر حکومت کی ہے۔ ان کاغذ کے شیروں نے اگر تاریخ پڑھی ہوتی تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ وہ کیسے مسلمان تھے اور جو پاکستان بنانے جارہے ہیں وہ کیسے مسلمان ہیں ؟

ہندوستان کی حکومت اور پاکستان کی حکومت نے ایک دن کے فرق سے حلف لیا، پاکستان میں پہلے وزیراعظم نواب زادہ لیاقت علی خاں کو گولی ماردی گئی اور مارنے والا یا والے ہندوستان کے ہندو نہیں تھے بلکہ ان مسلمانوں میں سے تھے جنہوں نے آٹھ سو برس ہندوستان پر حکومت کی ہے۔ ان کے بعد وزیراعظموں کی لائن لگ گئی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک آرہا ہے اور ایک جارہا ہے۔ اسی زمانہ میں چودھری محمد علی نے جو اس وقت وزیراعظم تھے پنڈت نہرو سے کہا کہ ہم لوگ آپس میں ایک ناجنگ معاہدہ کرلیں ۔ پنڈت نہرو نے جواب دیا کہ میں کس سے ناجنگ معاہدہ کروں ؟ جتنی دیر میں میں پیجامہ نہیں بدل پاتا اتنی دیر میں پاکستان میں وزیراعظم بدل جاتے ہیں ۔ ہم لاکھ پاکستان کے مخالف سہی لیکن ایک مسلمان کی حیثیت سے یہ جملے اور ایسے تبصرے وہی اثر کرتے تھے جو ہونا چاہئے۔

ہندوستان میں پنڈت نہرو کے بعد لال بہادر شاستری وزیراعظم بنے۔ پاکستان میں جمہوری تماشہ ختم ہوگیا تھا اور ایوب خاں نے فوجی حکومت قائم کرلی تھی۔ انہیں نہ معلوم کیا سوجھی کہ انہوں نے دبلے پتلے شاستری جی کو کمزور سمجھ کر ہندوستان پر حملہ کردیا۔ اور یہ بھول گئے کہ تلوار اور گھوڑوں کی جنگ کا زمانہ نہیں ہے ٹینک اور ہوائی جہاز کی جنگ کا زمانہ ہے۔ وہ تو خیریت ہوئی کہ روس اس وقت دنیا کی دو بڑی طاقتوں میں سے ایک تھا اس نے جنگ بند کرادی اور دونوں کو تاشقند بلاکر صلح کرادی۔ وہ جو اپنے باپ دادا کی آٹھ سو برس کی حکومت کی مالا جپا کرتے تھے انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ ہندوستان نے ان کے آدھے ملک کو مشرقی پاکستان کے بجائے بنگلہ دیش بنا دیا اور اس وقت جو مسٹر بھٹو وزیراعظم تھے جنہوں نے ایک ہزار برس ہندوستان سے جنگ کرنے کا اعلان کیا تھا وہ اپنے فوجی اور انتظامی افسروں کو جن کی تعداد سیکڑوں تھی دو سال کے بعد ہندوستان کی قید سے آزاد کرانے کیلئے شملہ آئے اور مسز اندرا گاندھی سے ان کی مرضی کے مطابق معاہدہ پر دستخط کرکے چھڑا لے گئے۔

ہندوستان میں بھی وزیراعظم 1977 ء سے 1980 ء تک ضرور جلدی جلدی تبدیل ہوئے لیکن نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد ’تو چل میں آیا‘ کا ڈرامہ ہوا۔ دوسری بات یہ کہ پاکستان میں ایوب خاں ہی نہیں ضیاء الحق نے بھی پھر اس کے بعد پرویز مشرف نے پاکستان کو فوج کی مٹھی میں رکھا اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ اسی مہینے میں ہونے والے جنرل الیکشن میں نواز شریف کے بعد صرف سامنے عمران خاں ہیں ۔ نام تو زرداری کا بھی سننے میں آتا ہے پرویز مشرف اور بلاول بھٹو زرداری کا بھی ہے۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ دور سے کھڑے تماشہ دیکھ رہے ہیں ۔ وہ ہندوستان جہاں کے بارے میں جناح کے ماننے والے کہا کرتے تھے کہ وہ کیا جانیں حکومت کرنا وہاں جب 1977 ء میں جنتا پارٹی نے حکومت ہاتھ میں لی تو سب کو یقین تھا کہ اربوں کھربوں روپیہ ملے گا۔ اس لئے اندراجی کا سارا گھر کچن تک کھود ڈالا مگر ایک روپیہ بھی نہیں ملا پھر 1998 ء میں جب کانگریس کی حکومت ختم ہوئی اور اٹل بہاری باجپئی وزیراعظم بنے تک خیال تھا کہ ہزاروں کروڑ ملیں گے۔ اور جب 2014 ء میں مودی جی وزیراعظم بنے تو وہ بار بار کہتے تھے کہ اسّی لاکھ کروڑ سوئزرلینڈ کے بینکوں میں جمع ہے جسے میں وزیراعظم بنتے ہی 100  دن میں لے آئوں گا اور چار سال گذر گئے 100  روپئے نہ لاپائے۔ ہندوستان میں ایک درجن سے زیادہ وزیراعظم بنے کسی کو نہ سزا ہوئی نہ جرمانہ ہوا اور نہ کسی کو جلاوطن کیا گیا۔ اور وہ جن کے باپ دادا نے آٹھ سو برس حکومت کی تھی ان کے سب سے محبوب لیڈر نواز شریف ہیں جن کے اوپر الزام ہے کہ لندن میں انہوں نے اربوں روپئے کے فلیٹ خریدے ہیں ۔ یہ وہ فلیٹ ہیں جن کا شہرہ ہندوستان میں بھی ہے۔ اور جب پرویز مشرف ان کو بھیانک سزا دینے والے تھے تو سعودی عرب نے رحم کھاکر مشرف سے کہا کہ مارو نہیں انہیں ہمارے پاس بھیج دو اور مشرف نے دس سال کیلئے جلاوطن کرکے سعودی عرب بھیج دیا تھا جہاں جدہ میں ہماری بیٹی اور مدینہ میں بڑا بیٹا رہتا ہے۔ ہم نے بھی انہیں مدینہ میں دیکھا تھا وہ عصر سے مغرب تک مسجد نبویؐ میں دربار لگاکر بیٹھا کرتے تھے۔ اور آخر میں ہمارے بچوں نے بتایا کہ صرف ایک پولیس والا ان کے ساتھ رہتا تھا اور اکیلے نظر آتے تھے۔ یہ بات سچ ہے کہ انہوں نے جدہ میں شاہزادوں کی شرکت میں لوہے کے کارخانے لگوائے ہیں ان میں ان کا کتنا حصہ ہے یہ نہیں معلوم ہوسکا؟ ان کی بیٹی مریم نواز نے کہا ہے کہ جن 70  برس کی تخریبی طاقتوں سے ان کے والد لڑرہے ہیں اس کو دیکھتے ہوئے یہ سزا بہت کم ہے۔ اور اس سزا کو قربانی کا نام دیا ہے۔ سبحان اللہ۔

ہم ہندوستانی مسلمان جب پاکستان کی خبریں پڑھتے ہیں تو شرم سے گردن جھک جاتی ہے۔ زندگی کے ہر شعبہ میں ہندوستان کے ہندو پاکستان کے مسلمانوں سے ممتاز ہیں ہندوستان میں بھی سیاسی لیڈروں پر دولت جمع کرنے کا الزام ہے اور لالو یادو کو سزا بھی دی گئی ہے لیکن یہ بھی کہا جارہا ہے کہ وزیراعظم کی دشمنی کام کررہی ہے۔ لیکن مشرف، بے نظیر اور زرداری، جنرل یحییٰ خاں ، ذوالفقار علی بھٹو وغیرہ وغیرہ کی طرح بدنام کوئی نہیں ہے۔ پاکستان کے بڑے لیڈر عمران خان کہے جاتے ہیں کون نہیں جانتا کہ وہ کرکٹ کے شہنشاہ ہیں لیکن ان کی جنسی ڈائری ہر مسلمان کو شرمندہ کرنے کیلئے کافی ہے۔ ہندوستان میں سنیل گواسکر اور سچن تندولکر بھی آسمان کے تارے ہیں لیکن ان کی زندگی اتنی بے داغ ہے کہ دنیا میں کوئی انگلی نہیں اٹھا سکا۔ اور عمران خان کی تیسری بیوی جو بہت دیندار اور پارسا تھیں اور انتہائی عبادت گذار بھی تھیں عمران خاں ان کو بھی برداشت نہ کرسکے اور ان کو رخصت کرکے اپنے کتوں کو بلا لیا۔ کیا اب پاکستان کے معنیٰ کیا لاالہ الااللہ کہنے والے عمران خان کو امیرالمومنین اور خلیفۃ المسلمین بنائیں گے؟ ہر کسی کو اولاد سب سے پیاری ہوتی ہے لیکن ایک وقت ایسا آتا ہے کہ باپ پروردگار سے کہتا کہ مولا اسے اٹھالے۔ اللہ اس وقت سے بچائے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close