سیاست

کشمیر میں سیاسی بازی گروں کی بازی گری!

ابراہیم جمال بٹ

واد یٔ کشمیر کی تازہ صورت حال جس میں نہ صرف یہاں کی نوجوان نسل کو ہی ختم کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں بلکہ جو نوخیز اور معصوم بچے ہیں انہیں بھی پچھلے کئی برسوں سے مسلسل نشانہ بنا کر ہمیشہ کے لیے ناخیز بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ایک طرف نوجوان نسل پر عسکریت اور مزاحمت کاروں کے نام پر مختلف طریقوں سے خون میں نہلایا جا رہا ہے اور دوسری طرف نوخیز اور معصوم بچوں کو بھی پیلٹ، بلٹ اور مختلف قسم کے مہلک ہتھیاروں کا شکار کر کے ناکارہ بنانے کی مذموم کوششیں ہو رہی ہیں۔ اب گذشتہ کئی ہفتوں سے ان سازشوں کے دوران ایک اور سوچی سمجھی سازش کے تحت یہاں کی خواتین کے بال کاٹ کر انہیں خوفزدگی کا شکار کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ اس سلسلے کو اب اس قدر عام کیا گیا ہے کہ اخباری بیانات کے مطابق اب تک لگ بھگ دو سو کے قریب واقعات رونما ہوئے ہیں۔ اس دوران اکثر مقامات پر احتجاج ہوئے جن میں خواتین وحضرات نے الزام لگایا کہ اس کے پیچھے ایک گہری سازش کارفرما ہے۔ تاہم مبینہ طور آج تک ٹھوس بنیادوں پر کسی گروہ کو بھی مورد الزام نہیں ٹھہرایا گیا، البتہ شکوک وشبہات، واقعات کے بعد لوگوں کی طرف سے پکڑ دھکڑ کے بعد عوامی بیانات میں پولیس اور فوج کا نام دیا جاتا ہے۔ بہر حال کون اس سازش کے پیچھے ہے اس کی جانکاری وقت پر سب کے سامنے عیاں ہو گی، کیوں کہ حالیہ تیس برسوں کے دوران وادی کشمیر میں جو بھی سازشیں رچی گئیں ان کا آخر کار پردہ فاش ہو ہی گیا، البتہ اس کے لیے ایک وقت درکار ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ’’آپریشن‘‘ بھی سابق آپریشنوں کی طرح ناکامی کا شکار ہو جائے گا، لیکن لوگوں کوصبر او تحمل سے کام لینے کی ضرورت ہے، انہیں مکمل آپسی تال میل اور ایک دوسرے کے غم میں برابر کا شریک ہو کر ہاتھیوں میں ہاتھ ڈال کر رہنے کی ضرورت ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جموں وکشمیر میں نہ صرف پچھلے تیس برسوں سے بلکہ ساٹھ برسوں سے یہاں ایسے ہی ہوتا رہا ہے۔ ہر دور میں کسی نہ کسی فتنہ میں مبتلا کر کے لوگوں کے اذہان کو منتشر کیا گیا، انہیں خوف کا شکار کیا گیا، اپنوں کے بھیس میں معروف راہنمائوں نے ان کے حقوق چھینے لیے جس سے وہ اس قدر آپسی انتشار کے شکار ہوئے کہ آج تک اس کا اثر باقی ہے۔ ایک وقت تھا جب لوگوں کو ٹھٹھرتی سردی میں گھروں سے باہر نکال کر انہیں دن بھر سڑکوں پر بٹھایا جاتا تھا، ان کے گھروں کی تلاشیاں ہوا کرتی تھیں، جس دوران کسی چیز کی حفاظت کی ذمہ داری کوئی نہیں لے سکتا تھا، نہ مال وزر کی اور نہ ہی گھروں میں موجود عزت مآب مائوں بہنوں کی عزتوں اور عصمتوں کی۔ یہ وقت بھی گزرا اور اپنی ناکامی کا منہ لے کر لگ بھگ چلا گیا۔ پھر بے تحاشا گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر دیاگیا، عسکریت پسندوں کے نام پر عام لوگوں کو بھی انٹراگیشن سینٹروں کا چکر لگانا پڑا جہاں انہیں مختلف قسم کی اذیتوں اور سختیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، جس دوران سینکڑوں لوگوں نے انہیانٹراگیشن سینٹروں میں ہی جان جانِ آفریں کے حوالے کر دی۔ یہ دور بھی وقت کے ساتھ گزر گیا اور پھر اس کے بعد کئی ادوار گزرے، کئی سازشیں ہوئیں، کئی آپریشن وجود میں لائے گئے تاہم ہر آپریشن اور ہر سازش کو آخر کار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

وادی کشمیر کے لوگوں نے ہمیشہ پامردی اور استقامت کا سہارا لیا جس سے سازشوں کا اثر بھی دھیرے دھیرے ختم ہو گیا، تاہم حالیہ کئی برسوں سے جس قسم کی سازشیں رچی جا رہی ہیں ان کے انداز مختلف ہیں، ان میں بظاہر کسی مار دھاڑ کی کوئی شکل نہیں ہے لیکن وہ اس قدر خوفناک ہیں کہ ایک عام انسان سنتے ہی اپنے اندر کپکپی محسوس کرتا ہے۔ ’’آپریشن کیچ اینڈ کل‘‘ نام ہی موت تھا لیکن آپریشن بھوت موت کا نہیں خوف کا منظر سامنے لا رہا تھا، موت ایک بار آتی ہے لیکن خوفگی کا ماحول قائم کر کے خوف زدہ انسان موت سے نہ صرف لڑتا ہے بلکہ اپنے نفس پر طاری خوف سے دن میں کئی بار بظاہرمرتا ہے لیکن مرتا نہیں۔ اس آپریشن ’’جن یا بھوت‘‘ کا بھی خاتمہ ہونا تھا اور اس کی پول کھلنا کہ اس کے پیچھے کون سے لوگ ملوث ہیں یہ سب لوگوں پر وقت نے عیاں کر دیا، تاہم حالیہ جو تیس برسوں کا سلسلہ چل رہا ہے اس میں ایک نسل کے بعد اب دوسری نسل نے قدم ڈال دئے ہیں جن کی عمر بیس سے لے کر تیس سال ہے، انہیں اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ ان حالیہ تیس برسوں کے دوران کیا کیا سازشیں رچی گئیں، اب جب کہ وہ سمجھ بوجھ رکھنے والے بن کر قوم کی آواز کا ایک اہم حصہ بن گئے تو انہیں بھی اس خوف کا شکار کر کے ان سے اپنے ذہنی ہتھیار کو چھین لینے کا پروگرام چل رہا ہے۔ یہ ذہنی ہتھیار جو ان میں اب اس قدر عام ہو چکا ہے کہ انہیں صرف اور صرف اپنی منزل کی تلاش کی جستجو کی فکر رہتی ہے۔ اگرچہ نئی نسل سے خوف نام کی چیز باقی نہیں رہی بلکہ وہ خوف سے عاری نسل پائی جاتی ہے ، ایک طرف انہیں آپریشن آل آئوٹ‘‘ کے نام پر ختم کرنے کی کوشش ہو رہیں اور دوسری طرف ان میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک طرف اس نسل نو کو مختلف طریقوں سے کچلنے کے پروگرامات ترتیب دئے جا رہے ہیں اور دوسری جانب یہی نسل بار بار سڑکوں پر نکل کر آنکھوں میں آنکھ ڈالنے کی ہمت کرتے ہیں۔ ایک طرف ان پر راست گولیاں چلائی جاتی ہیں اور دوسری طرف یہی نسل ان کے مقابلے میں کھڑی ہو کر پرامن احتجاج اور پتھر بازی کرتے دکھائی دیتے ہیں، ان کی آنکھوں کی بصارت چھیننے اور ہمیشہ کے لیے ناکارہ بنانے کے لیے ان پر پیلٹ اور پیپر گیس کا استعمال کیا جاتا ہے اور یہ نسل نو سینہ تان کر مقابلہ کرتے ہیں۔ اسی نسل کو آج خوف زدہ کرنے کی سازشیں رچی جا رہی ہیں، یہ نسل نہ صرف نوجوان لڑکوں پرمشتمل ہے بلکہ اس نسل میں نوجوان لڑکیاں بھی برابر کی شریک ہیں، ہماری ان مائوں بہنوں کو خوف زدہ کرکے شاید وہ سازشی ذہن رکھنے والے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ نوجوان طبقہ اپنے حقوق کی جنگ سے منہ موڑ دیں گے ۔ایں خیال است ومحال است۔

حالیہ کئی ہفتوں سے وادیٔ کشمیر کی خوفناک صورت حال پر کوئی تبصرہ کرنا بے وقت ہو گا تاہم یہ بات علی الاعلان کہی جا سکتی ہے کہ اس آپریشن میں سیاسی بازی گر ہی بازی گری کر رہے ہیں۔ چاہے وہ کرسیوں پر براجمان بازی گر ہوں یا اپوزیشن میں لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر بیٹھنے والے ہوں، یا وہ لوگ جو ان دونوں کے علاوہ نہ اِدھر نہ اُدھر والے لوگ ہیں، جنہیں مسئلہ کشمیر کے حل میں کبھی مفاد نظر آتا ہے تو اسی کے ہو جاتے ہیں اور کبھی مسئلہ کشمیر کے حل میں اپنا نقصان دکھائی دیتا ہے تو اس کے برخلاف ہو جاتے ہیں۔ دراصل یہ سیاسی بازی گری بھی ایک پرانا کھیل ہے جسے ہر سازش کے ناکام ہونے کے بعد نئی شکل دی جاتی ہے۔ بازی گر تو وہی ہوتے ہیں لیکن پرانی شراب نئی بوتل کے مصداق کھیل کی شکل وصورت میں تبدیلی لائی جاتی ہے، اور مقصد صرف لوگوں میں خوف ودہشت پھیلانا ہے۔ ہر سال بازی گر مختلف قسم کے ’’ایڈیشن‘‘ لوگوں کے سامنے لاتے ہیں۔ 2008سے لے کر آج تک مختلف ناموں کے خوفناک ایڈیشن پیش کئے گئے۔ ہر ایڈیشن پرانے ایڈیشن سے مختلف لیکن شکل میں اختلاف کے باوجود مقصد میں ایک جیسی صورت نظر آتی ہے۔

ان حالات میں وادی کے لوگ کریں تو کیا کریں والا معاملہ بن چکا ہے۔ چنانچہ تجربہ کار ،جانکار لوگ اور ہمارے دینی وسیاسی رہنمااچھی طرح سے سیاسی بازی گروں سے واقف ہیں اس لیے آج ان پر ایک اہم ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے آئیں اور سابق تجربات رکھیں، لوگوں کو ان کی ذمہ داریوں کی نشان دہی کے ساتھ ساتھ انہیں خوفناکی صورت حال سے نکالنے کی کوشش کریں۔ کیوں کہ یہاں کی مزاحمتی قیادت میں موجود جو لوگ بیٹھے ہیں انہیں اس بات کا اچھی طرح سے عملی اندازہ ہے کہ آج تک کیا ہوا، کن لوگوں نے کیا کیا، کب کس انداز میں کیا ، اور کیوں کیا؟ یہ سبھی تجربات ان کے پاس ہیں انہیں فی الوقت لوگوں کو باخبر کرنے کے لیے حتی المقدور کوششیں کرنی چاہیے تاکہ نئی نسل جسے آج تک ایسے خوفناک ماحول کا سامنا نہیں کرنا پڑا اس سے باخبر ہو جائے۔

چنانچہ نئی نسل بہادر نسل ہے اور اس نسل کو بہادروں کی قیادت درکار ہے۔ بہادر قیادت بہادری کا تقاضا کرتی ہے اور بہادری بیانات سے نہیں بلکہ نئی نسل کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر چلنے سے دکھائی دیتی ہے۔ آج اس بہادر نسل کوصحیح اور بہادر قیادت کی ضرورت ہے جو اس نسل کو خوف زدگی سے نکالنے کا سامان کر سکتے ہیں۔

اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

Close