سیاست

کشمیر کے مسائل اور حکومت کا رویہ

ممتاز میر

اس سے پہلے بھی دو بار بی جے پی وطن عزیز پر حکومت کر چکی ہے مگر تب حکومت کی قیادت ایک برہمن یعنی اٹل بہاری باجپئی کے ہاتھوں میں تھی۔ وہ ایک برہمن تھے اور سنگھ برہمن مفادات کا محافظ ہے۔ یہ کیسے ممکن ہوتا کہ ایک برہمن سے منفی ریکارڈ بنوایا جاتا۔ اسی لئے دکھاوے کے لئے ہی سہی انھوں نے راج دھرم نبھانے کی نصیحت تو کی تھی۔ تاریخ میں ایک برہمن کے نام پر منفی ریکارڈ درج نہ ہوں اسلئے  اس بار ایک چائے والے کو وزیر اعظم بنا دیا گیا۔ اور ہر قسم کے منفی ریکارڈ اس کے کندھے پر بندوق رکھ کر بنوائے جارہے ہیں۔ اور وہ بے وقوف بڑی خوشی خوشی سب کر رہا ہے۔ نچلے طبقات کی ایسی ہی نفسیات ہوتی ہے۔

واقعی یہ حکومت یا وزیر اعظم تاریخ ساز ہے۔ یہ ملک کا پہلا وزیر اعظم ہے جس کا داخلہ برسوں برسوں امریکہ میں بند رہا۔ یہ پہلا وزیر اعظم ہے جسے وزیر اعظم بننے سے پہلے ہی عدالت نے پھٹکار لگاتے ہوئے روم کے نیرو سے تشبیہ دی تھی۔ یہ پہلا وزیر اعظم ہے جس نے وعدہ  کیا تھا وزیر اعظم بننے کے بعد ہر ایک کے اکاؤنٹ میں ۱۵۔ ۱۵لاکھ ڈلوائے گا مگر وزیر اعظم بنتے ہی ڈنکے کی چوٹ پر اپنے وعدے سے مکر گیا۔ یہ پہلا وزیر اعظم ہے جس نے انتہائی احمقانہ طریقے پر نوٹ بندی کرکے سوا سو لوگوں کو مار دیا GST  کانگریس کا Brain Child تھا مگر چانکیہ کی اولاد نے اس کو اس طرح نافذ کیا کہ سارا وبال اپنے سر لے لیا۔ خود اسلام اس بات کا قائل ہے کے کچھ مخصوص عہدوں پر مخصوص نسل کے لوگ ہی نامزد کئے جائیں۔ چائے والے نے وزیر اعظم بنتے ہی بیرونی دوروں کا ریکارڈ قائم کیا۔ اس لئے اسے بجا طور پر این آر آئی وزیر اعظم بھی کہا گیا۔

وطن عزیز کی تاریخ میں یہ بھی یاد رہے گا کہ دانشور طبقے نے اس حد تک جا کر کسی بھی سیاستداں کا بائیکاٹ  یا مخالفت نہیں کی۔ پہلی بار کسی حکوت کی مخالفت میں اتنے سارے دانشوروں اور فنکاروں نے اپنے اعزازات واپس کئے ہیں۔ یہ بھی  پہلی ہی بار ہو رہا ہے کہ خود کو چوکیدار کہنے اور کھاؤنگا نہ کھانے دونگا کا دعویٰ کرنے والے وزیراعظم کی نظروں کے سامنے سے لٹیرے ملک کی دولت لوٹ لوٹ کر لے گئے اور وہ خالی خولی من کی بات کرتا رہا۔ اب یہ حالت ہے کہ جن کھاتوں میں اس حکومت سے پہلے ۱۵ روپئے بھی پڑے ہوئے تھے اب حکومت وہ بھی لوٹنے کے منصوبے بنا رہی ہے۔ حکومت نے ہر اس شخص کو لوٹنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے جو مجبور و  بے بس ہے جو پلٹ کر ان پر وار کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ مذکورہ بالا تمام سہروں کے ساتھ ساتھ اس حکومت کے سر پر یہ سہرہ بھی سجے گا کہ جہاں جہاں بھی اس کے نامزد کردہ گورنر ہیں وہ پوری بے شرمی اور ڈھٹائی سے اپنے فرائض منصبی ادا کرنے کی بجائے پارٹی کیڈر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ یہ کانگریس کے دور میں بھی ہوا مگر اس بے شرمی کے ساتھ نہیں۔ کہتے ہیں کہ نقل کے لئے بھی عقل درکار ہوتی ہے جو ان کے پاس نہیں۔ ان کی بے شرمی و بد نیتی کا یہ عالم ہے کہ ایک اگر بے شرمی کا کوئی ریکارڈ توڑتا ہے تو ان میں کا کوئی دوسرااس سے بڑی بے شرمی کا کام کرکے پہلے کے نہلے پہ فوراً دہلا مارتا ہے۔ اس حکومت کے قائم ہونے کے بعد ایسا لگنے لگا ہے کہ ملک کے لئے کسی آئین کی ضرورت نہیں۔ آئینی اداروں کو ایک ایک کرکے مٹی میں ملایا جا رہا ہے۔ تازہ ترین کارنامہ کشمیر کے گورنرکا کشمیر میں اسمبلی تحلیل کئے جانے کا ڈرامہ ہے۔

ریاست جموں و کشمیر وہ بد قسمت ریاست یا خطہء زمین ہے جس کے تعلق سے آزادی کے بعد ہر سربراہ حکومت نے اٹوٹ انگ کا راگ الاپا مگر کشمیریوں کو آج تک کسی نے بھی گلے سے نہ لگایا۔ پنڈت جواہر لال نہرو جنھیں پیار سے سارا ملک چاچا نہرو کہتا ہے انھوں نے بھی اپنے کشمیری بھتیجوں کے لئے کچھ نہ کیا۔ حالانکہ ان پر سب سے زیادہ حق کشمیریوں کا ہی تھا۔ معلوم نہیں کیوں انھوں نے اقوام متحدہ کے فلور پر یہ کہہ دیا تھا کہ حالات سازگار ہوتے ہی کشمیریوں کو حق انتخاب دیا جائے گا۔ حالا ت ان کی زندگی میں تو سازگار ہوئے نہیں اور نہ اب ہونے کی امید ہے۔ کشمیر کا تازہ سیاسی واقعہ یہ بتاتا ہے کہ اب ان سے اپنے منتخب نمائندوں کی حکومت بنانے کا حق بھی چھینا جا رہا ہے۔

ابھی چند دنوں پہلے بدھ۲۱ نومبر کو بعد از خرابیء بسیار ریاست کی تین بڑی سیاسی پارٹیوں کو عقل آئی اور انھوں نے یہ طے کیا کہ بندر کا بھلا  کرنے سے بہتر ہے کہ تینوں مل کر روٹی کو بانٹ لیں۔ یہ تینوں پارٹیاں ہیں پی ڈی پی، این سی اور کانگریس۔ ان تینوں خصوصاً پی ڈی پی اور این سی کو یہ مشورہ ہم دو بار دے چکے ہیں کہ مل کر حکومت بنا لیں جموں و کشمیر میں نومبر ۲۰۱۴ میں اسمبلی انتخابات ہوئے تھے۔ جسمیں پی ڈی پی کو ۲۸، این سی کو ۱۵، کانگریس کو ۱۲۔ ۔ اور دیگر ۹ فتحیاب ہوئے تھے(اس وقت مفتی محمد سعید زندہ تھے )ریاستی اسمبلی میں کل ۸۹ نشستیں ہیں  جن کی مدت کار بقیہ ملک سے الگ یعنی ۶ سال ہے۔ نومبر ۲۰۱۴ میں الکشن کے بعد بھی ۵ ماہ تک حکومت نہ بن سکی تھی۔ ہم نے اس وقت پی ڈی پی اور این سی کو مشورہ دیا تھا کہ مل کر حکومت بنا لیں مگر ۵ ماہ کی ذہنی و جسمانی اٹھا پٹک کے بعد مفتی مرحوم بی جے پی کی گود میں بیٹھ گئے تھے۔ ہماری سمجھ میں نہیں آیا تھاکہ نیشنل کانفرنس کو کیوں بی جے پی سے خراب سمجھا گیا؟مفتی صاحب کو مرنے سے پہلے بی جے پی نے خوب خوب ستایا۔ بہرحال وہ تین سال بعد راہیء ملک عدم ہوئے اوراپنا  بوجھ اپنی ’’دختر نیک اختر‘‘ کے ناتواں کاندھوں پر ڈال گئے۔ محترمہ نے بھی دوبارہ حکومت بنانے کے لئے جی بھر کر وقت لیا مگر سیانے کوے کی طرح وہاں بیٹھیں جہاں انھیں نہیں بیٹھنا چاہئے تھا۔ اس وقت بھی ہم نے لکھا تھا کہ عمر عبداللہ کے ساتھ مل کر حکومت   بنا نا چاہئے تھا۔ گو کہ اس وقت عمر عبداللہ بھی بہت اونچی ہواؤں میں اڑ رہے تھے۔ وہ پیدائشی سیاستداں ہیں مگر موصوف کو اس وقت یہ احساس نہ ہو سکا ان کی اکڑ کے کیا نتائج نکلیں گے۔ کیا کریں، ابھی بالی عمر ہے انھیں معلوم نہ ہوکہ بی جے پی اور کانگریس دونوں ہی برہمن مفادات کی محافظ ہیں۔ اور دونوں ہی نے کشمیر ہی سے نہیں بلکہ ملک کی ہر ریاست سے علاقائی پارٹیوں کے صفائے کا مشن اپنا رکھا ہے۔

خیرمذکورہ تینوں پارٹیوں نے بدھ کو گورنر کو فیکس بھیجا کہ انھوں نے اتحاد کر لیا ہے اور وہ حکومت بنانا چاہتی ہیں۔ ایسے میں اگر گورنر ہاؤس کی فیکس مشین خراب نہ ہوتی تو سوچئے گورنر کا کیا ہوتا ؟تو جناب اس ’’حسن اتفاق ‘‘پر واری صدقے جائیے کے اس وقت گورنر ہاؤس کی فیکس مشین خراب تھی۔ اور گورنر ستیہ پال ملک کویہ الہام ہوا کہ فوراًاسمبلی تحلیل کردو ورنہ اپوزیشن تمھارے سرپرستوں کی طرح پاک نہیں ’’ناپاک گٹھ جوڑ بھی کرے گی اور گھوڑوں کی خرید و فروخت Horse Trading))بھی‘‘۔ اور معاملات تمھارے ہاتھ سے نکل جائیں گے۔ تو صاحب محترم ستیہ پال ملک نے درج بالا عذر پیش کرتے ہوئے اور آئین کو طاق پر رکھتے ہوئے اسمبلی تحلیل کردی۔ سچ یہ ہے کہ اس ملک میں ہر طرح کا ننگا ناچ ناچنے کا حق صرف برہمن مفادات کی محافظ پارٹیوں کو ہے۔ ان کو بالکل نہین جو سچے وطن پرست ہیں۔

اب گورنر ملک کے اس اقدام پر ملک میں ہر طرف تھو تھو ہو رہی ہے۔ گو کہ یہ تو سبھی جانتے ہیں کے تھو تھو کیا آخ تھو بھی ہو تو بی جے پی کے تربیت یافتہ لوگوں پر کوئی اثر پڑنے والا نہیں تو آخر کیا کیا جائے بس۔ یہ کوشش کریں کہ اب ریاستی انتخابات جلد سے جلد ہوں۔ اور تینوں پارٹیا ں مل کر انتخابات کی تیاریاں کریں۔ اگر مذکورہ تینوں پارٹیاں مل کر انتخابات لڑتی ہین تو بی جے پی کو جموں میں بھی دھول چٹا سکتی ہیں۔ اس طرح بہت ممکن ہے کہ بی جے پی کی ریاست جموں  و کشمیر سے جڑیں ہی کٹ جائیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close