سیاست

کوئی پارٹی دودھ کی دھلی نہیں ہے صاحب!

کانگریس ہو یا بی جے پی، سماج وادی ہو یا بی ایس پی، سی پی ایم ہو یا دیگر سبھی کے دامن داغ دار ہیں جو مسلمانوں اور دیگر اقلیتی طبقات کے لہو سے رنگے ہوئے ہیں،

محمد قاسم ٹانڈوی

(رامپورروڈ ٹانڈہ بادلی ضلع رامپور)

کانگریس ہو یا بی جے پی، سماج وادی ہو یا بی ایس پی، سی پی ایم ہو یا دیگر سبھی کے دامن داغ دار ہیں جو مسلمانوں اور دیگر اقلیتی طبقات کے لہو سے رنگے ہوئے ہیں، میدان سیاست میں کوئی پارٹی اس لائق نہیں کہ وہ بھرے اسٹیج پر کھڑے ہو کر یا کھلے میدان میں آ کر اپنی سیاسی تاریخ کے اوراق پلٹ کر یہ ہمت و جرات کر سکے کہ کون کتنا پاک ہے اور کس کے ہاتھ لہو انسانی اور مسلم دشمنی سے مبرا ہیں؟ سرزمین ہندوستان میں آزادی کے بعد جتنا خون عوام کا سیاسی مفادات کے حصول کی خاطر بہا ہے یا جہاں جہاں بھی فرقہ وارانہ فسادات بھڑکائے گئے ہیں، ان سب میں اقتدار میں موجود سیاست دانوں کا ہاتھ ہوا ہے، فرقہ وارانہ فسادات کوئ معدود چند نہیں ہیں کہ بآسانی ان کو شمار کر لیا جائے اور دن تاریخ یا عہدحکومت دیکھ کر ان حکمرانوں سے منسوب کر دئیے جائیں جو اس وقت گدی نشیں تھے بلکہ فرقہ وارانہ فسادات کی فہرست بہت طویل ہے جن کو شمار میں لانا یا ان کی باضابطہ فہرست مرتب کرنا ناممکن نہیں تو کم از کم مشکل ترین امر ضرور ہے. یہی وجہ ہےکہ آج تک جہاں جہاں بھی فساد کی آگ بھڑکی اور اس میں ہونے والے جان و مال کے زیاں کو دیکھ کر جو انکوائری کمیشن قائم ہوئے، ان کی رپورٹس اور تحقیقات پر مبنی فائلیں آج تک منظر عام پر نہ لائی جا سکیں اور وہ سب سرکاری دفاتر میں گرد آب ہیں. ایک بعد ایک فساد ہوتا رہا بستیاں کی بستیاں خاکستر کر دی گئیں، زندوں کو مردہ اور مردوں کو زندہ تو قرار دیا جاتا رہا مگر حق انصاف کسی کو آج تک میسر نہیں ہوا اور موجودہ دور حکومت جہاں تمام آئینی اداروں میں ایک ہی سوچ رکھنے والوں کو متعین کیا جا رہا ہے، جس میں گدھے گھوڑے میں کوئی فرق و امتیاز نہ برتا جا رہا ہو، جہاں سانپ نیولے، چوہے چھچھوندر اور مور و مرغ کی تشبیہ دے کر مدت حکومت پوری کرنے میں قیمتی اوقات ضائع کئے جارہے ہوں، اصلی، بنیادی اور ضروری مسائل کی طرف سے توجہ ہٹاکر جہاں عوامی اذہان کو اقلیت و اکثریت میں تقسیم کرکے ملک میں انتشار پیدا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہوں، غیر ضروری بلوں کو پاس کرانے کی ضد میں پورا کا پورا پارلیمانی سیشن بحث و مباحثہ کی نذر کر دیا جاتا ہو؛ ایسے میں اس حکومت اور حکومت میں شامل افسران و افراد سے کسی کار خیر کی توقع رکھنا یا ملک و قوم کو ترقی کے منازل تک لے جانے کی امید رکھنا منگیری لال کے سپنے دیکھنے سے کم نہیں.

مانا کہ کانگریس کا دامن بھی ہندوستانی عوام اور مسلمانوں کے لہو سے تر بتر ہے اور خون مسلم کے چھینٹوں سے کانگریس پارٹی کا دامن بھی محفوظ نہیں ہے مگر یہ وقت کانگریس کی کردار کشی یا اس کی تاریخ الٹنے کا ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ وہ وقت ہے جہاں فرقہ پرستوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی جا سکے اور چھوٹی بڑی تمام علاقائی پارٹیوں کو ساتھ لےکر کانگریس پارٹی کی سربراہی میں ملک کو توڑنے والی طاقتوں کے خلاف صف بستہ ہوا جا سکے. اس لئے کہ موجودہ سربراہان مملکت کا کوئی دن کوئی تاریخ اور کوئی قدم ایسا نہیں ہے جسے آنکھ کان بند کرکے منظور و تسلیم کر لیا جائے مگر چونکہ مرکزی حکومت اور اکثر ریاستی حکومتوں میں موجودہ اقتدار اکثریت یافتہ ہے اور اپوزیشن کمزور ہے جس کی وجہ سے من مانے طور پر حکمرانی انجام دی جا رہی ہے بلکہ یہ کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا کہ نظام جمہوریت کو بالائے طاق رکھ کر مطلق العنانی اور ڈکٹیٹر شپ سے کام لیا جا رہا ہے. مسئلہ صرف عوام کے جان و مال کے تحفظ اور مدارس و مساجد کی حرمت و استحکام یا مذہبی آزادی تک مربوط نہیں ہے بلکہ ملکی آئین و دستور کی حفاظت اور ملک میں رائج جمہوری اقدار و روایات کے تحفظ کا ہے اور یہ سب اسی وقت محفوظ و مستحکم ہو سکتے ہیں جبکہ کانگریس پارٹی اور اس کی ہم خیال پارٹیاں اقتدار میں ہوں گی بصورت دیگر ہندوستانی عوام اپنے اس پیارے ملک کو دن کے اجالے میں ہندو راشٹر سے تبدیل ہوتا بھی دیکھ لے تو؛ کوئی بڑی اور بعید چیز نہ ہو گی.

سلمان خورشید؛ جو مادری اور پدری دونوں واسطوں سے نہ صرف کانگریسی ہیں بلکہ خود آج کی اسی زوال پذیر کانگریس پارٹی کے پروردہ اور سابق عہدہ یافتہ ہیں جو کانگریس کی خامیاں شمار کرانے میں لگے ہیں یہاں لوگوں کو ان سے سوال کرنا چاہئے کہ جب کانگریس پارٹی کا دامن بھی خون مسلم کے چھینٹوں سے پاک نہیں ہے تو آپ خود ایک مرتبہ نہیں کئ مرتبہ اس کی دور حکمرانی کا مضبوط حصہ کیوں بنے رہے اور کیوں مفادات و مراعات حاصل کرتے رہے؟ آج جب کہ ہر طرف سے کانگریس پارٹی کےلئے اقتدار میں واپسی کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں اور موجودہ اقتدار سے عوام نالاں و پریشان ہے اور وہ کانگریس کی واپسی ہوتا دیکھنا پسند کر رہی ہے تو آپ بےفائدہ اور لاحاصل مدعوں کو ہوا دےکر اپنی فرقہ پرستی اور موقع پرستی کا ثبوت دینے میں لگے ہو؟ ایسا نہیں ہو سکتا ہندوستانی عوام کا ایک بڑا طبقہ اب بیدار ہو چکا ہے جو اپنے نفع نقصان کو بخوبی سمجھتا ہے وہ سلمان خورشید، ایم جے اکبر، نریش اگروال، نتیش کمار اور ان جیسے وہ تمام موقع پرست لیڈران جو کہ عہدہ و مناصب کی فکر اور سیاسی مراعات کے حصول میں جکڑے رہتے ہیں، اب باتوں میں آنے والا نہیں ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close