سیاست

کٹھوعہ رسانہ کیس کے وکیل مبین فاروقی کے خلاف مقدمہ 

ہے میرے چاروں طرف بھیڑ گونگے بہروں کی

ایم شفیع میر

جموں کے ہندو اکثریتی ضلع کٹھوعہ کے رسانہ نامی گائوں میں سنہ 2018ء کے جنوری میں پیش آئے آٹھ سالہ کمسن بچی کی وحشیانہ عصمت دری و قتل کیس معاملہ میں عدالت نے رواں ماہ کی 10تاریخکو فیصلہ سنایا۔ عدالت نے آٹھ میں سے چھ ملزمان کو مجرم قرار دیتے ہوئے تین کو تاحیات قید کی سزا جبکہ دیگر تین کو پانچ پانچ سال قید کی سنائی۔ اولذکر کو فی کس ایک ایک لاکھ روپے جبکہ آخرالذکر کو فی کس پچاس ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔کورٹ نے ساتویں ملزم وشال جنگوترا کو ٹھوس شواہد کی عدم موجودگی کی بناء پر بری کردیا۔کیس کے ملزمان میں عصمت دری و قتل واقعہ کے منصوبہ ساز و سابق سرکاری افسر سانجی رام، اس کا بیٹا وشال جنگوترا، سانجی رام کا بھتیجا (نابالغ ملزم)، نابالغ ملزم کا دوست پرویش کمار عرف منو، ایس پی او دیپک کھجوریہ، ایس پی او سریندر کمار، تحقیقاتی افسران سب انسپکٹر آنند دتا اور ہیڈ کانسٹیبل تلک راج شامل تھے۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج پٹھان کوٹ ڈاکٹر تجویندر سنگھ نے منصوبہ ساز سانجی رام، پرویش کمار اور ایس پی او دیپک کھجوریہ کو تاحیات قید کی سزا جبکہ دیگر تین بشمول ایس پی او سریندر کمار، سب انسپکٹر آنند دتا اور ہیڈ کانسٹیبل تلک راج کو پانچ پانچ سال قید کی سزا سنائی۔ جج موصوف نے سانجی رام کے بیٹے وشال جنگوترا کو ٹھوس شواہد کی عدم موجودگی کی بناء پر بری کردیا۔

یوں تو ابتدائی دور سے ہی اِس کیس میں سیاسی عمل دخل رہا ، یوں کہا جائے کہ پی ڈی پی بھاچپا کی طلاق کی اصل وجہ ’’رسانہ کیس‘‘ ہی رہا تو بیجا نہ ہوگا، ڈوگرہ سوابھیمان سنگٹھن کا قیام بھی اسی فکیس سے جڑی ایک کڑی ہے۔اب جب عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد متاثرہ آٹھ سالہ بچی کے والد کے ذاتی وکیل مبین فاروقی نے عدالت کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملوثین کو سزائیں ملنے سے سچ کی جیت ہوئی ہے۔اور یہ جیت تمام طبقوں ہندوئوں ، مسلمانوں ، سکھوں اور عیسائیوں کی جیت ہے۔تو شرپسندوں اور فسطائی ذہنیت کے لوگوں کو مرچی لگنی شروع ہو گئیں انہیں یہ سب برداشت نہیں ہوا۔ایڈوکیٹ مبین فاروقی کا اس طرح سے سب کے سامنے اس معاملے کو انسانیت کی جیت کہنے پر اُسی وقت سے شرپسندوں کی طوفان ِ بدتمیزی کا سامنا رہا ہے۔چونکہ مبین فاروقی ایک غیر سیاسی تنظیم ’’مسلم فیڈریشن پنجاب ‘‘کے صدر بھی ہیں جس وجہ سے اُنہیں ستائے جانے کی بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ چونکہ اب اِس دیش میں خاص طور پر مسلمانوں کا جینا یوں بھی محال ہے۔ غنڈوں کا راج ہے، ہندوستان میں مسلمان ہو کر جینا اب خطرے سے خالی نہیں ، بقول ِ شاعر

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
مشکل بہت ہے لیکن جینا یہاں ہمارا

اِن خطر ناک حالات سے گزرنے اور پولیس کے یکطرفہ کردار نبھانے پر مبین فاروقی اپنے فیس بک لائیو کے ذریعہ کچھ یوں کہتے ہوئے سنائی دے رہے ہیں ۔مجھے سچ کہنے اور سچ کا ساتھ دینے کا یہ انعام مل رہا ہے کہ میرے خلاف آج ایک جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا ہے کہ میں نے کسی کے گھر جا کر حملہ کیا ہے جبکہ جس شخص کی طرف سے یہ جھوٹی اور من گھڑت کہانیوں پر مبنی شکایت درج کی گئی ہے وہ گزشتہ کئی روز سے مجھے الگ الگ واٹس ایپ گرپوں میں ایڈ کر کے گندی گندی گالیاں دیتا ہے جس کی کم از کم دو سو ریکارڈ دنگ میرے پاس موجود ہیں ۔میں نے اس تمام صورتحال کو مد ِ نظر رکھتے ہوئے20جون کو پولیس کے پاس ایک شکایت درج کی تھی کہ اس طرح سے مجھے تنگ کیا جا رہا ہے اور مجھے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں مگر میری شکایت پر پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ میں نے اپنی شکایت مقامی ڈی ایس پی ملیر کوٹلا کو دی تھی اور اِس معاملہ کو لیکر متعلقہ ایس ایس پی سے بھی بات کی تھی۔چونکہ مجھے میرے خیر خواہوں نے سمجھایا کہ آپ انہیں ری پلائی نہیں کریں گے۔مبین فاروقی اپنے فیس بک لائیو میں صاف طور پر یہ کہتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں کہ جو بھی عناصر اس طرحکی حرکات انجام دے رہے ہیں اُن کے پیچھے سیاسی ناخدائوں کی زبردست اپروچ ہے تبھی جا کر اِن لوگوں کا رویہ اس قدر قاتلانہ ہے۔ مبین فاروقی اپنے لائیو میں یہ کہتے ہوئے بھی سنے جاتے ہیں کہ پولیس کا میری شکایت پر کسی قسم کی کارروائی نہ کرنا بھی ایک سیاسی عمل دخل کا ثبوت ہے وگرنہ پولیس کو چاہیے تھا کہ میری دی ہوئی درخواست پر کارروائی کرتے اور ایسے عناصر جو مکمل طور سے میری جان لینے کی فراق میں ہیں کے خلاف کڑی سی کڑی کارروائی عمل میں لاتے لیکن مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ پولیس پر بھی سیاسی پریشر میں ہے۔ کیونکہ میری شکایت پر پولیس ٹس سے مس نہیں ہوئی جبکہ میرے خلاف جو من گھڑت اور جھوٹی کہانیوں پر مبنی شکایت درج کی گئی ہے اُس پر پولیس سے بغیر تحقیقات کئے فوراً مقدمہ درج کر دیا ہے۔ مبین فاروقی مزید کہتے ہیں پولیس کی خاموشی اور لاپرواہی کا نتیجہ یہ ہے کہ دشمنوں کے حوصلہ اس قدر بلند ہو چکے ہیں 22جون کو اِن شر پسند عناصر نے میرے خلاف پوسڑچھپوا کر شہر میں لگائے جس بارے میں ایس ایس پی موصوف کو میں نے اطلاع دی اور یہ پوسٹر ہٹانے کیلئے مدد مانگی۔ ایس ایس پی موصوف نے پولیس اہلکار بھیجے جس کے بعد پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں ہم نے مختلف چوکوں اور دیواروں پر چسپاں گئے وہ پوسٹر اُتارے۔ افسوس کا مقام ہے کہ پولیس نے اتنا کچھ جاننے کے باجود بھی بغیر تحقیقات ایک من گھڑت کہانی پر میرے خلاف ایف آئی آر درج کیا۔ جبکہ جس شخص نے یہ شکایت درج کی ہے اُس کے گھر میں کمیرے لگے ہیں پولیس کو چاہیے کہ وہ مذکورہ شخص کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرتے تاکہ اُس میں مکمل طور سے یہ معلوم ہو جائے کہ میں نے اُن کے گھر جا کر حملہ کیا ہے یا نہیں ۔حد تو یہ ہے کہ جو شخص یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ 11بجے میرے گھر پر حملہ کیا گیا ہے اُسی شخص نے 11:49پر مجھے فون کال کی جس میں وہ خود مان رہا ہے کہ وہ خود گھر پر نہیں ہے اور نہ ہی کوئی حملہ ہوا ہے، جس کی میرے پاس ریکارڈنگ پڑی ہوئی ہے۔

مبین فاروقی نے اپنی فیس لائیو کے آخر میں ہندوستان کے ہر خیر خواہ باشندے سے اپیل ہے کہ اگر انصاف دلانے والوں کے ساتھ اس قدر کا رویہ اختیار کیا جارہا ہے تو صاف طو ر سے یہ سمجھ جانا چاہیے کہ اب کے اِس دیش میں جینا بہت ہی کٹھن ہے،بہت مشکل ہے، بہت دشوار ہے۔ کیونکہ آٹھ سالہ معصوم بچی کی عصمت دری اور قتل کیس کا عدالت نے جونہی فیصلہ سنایا تب سے ہی شرپسندوں نے میرا جینا حرام کر دیا ہے۔ انھوں نے عدم تحفظ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے یہاں پنچاب میں کانگریس کی سرکار ہے اور ہم سوچ رہے تھے کہ کانگریس ایک سیکولر جماعت ہے لیکن یہاں دیکھئے کہ کون لوگ اِن شرپسندوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں ۔مبین فاروقی کا یہ کہنا تھا کہ میں کسی کا نام نہیں لوں گا مگر آپ یہ سمجھ گئے ہونگے کہ آخر یہ سب کہانی کیا ہے اور اِس دیش میں جینے کا حق کن لوگوں کو ہے۔میں حیران ہوں کہ پولیس پر اس قدر سیاسی دبائو بنا ہوا ہے کہ بغیر تحقیقات کے پولیس نے میرے خلاف دفعہ458کے تحت مقدمہ درج کر دیا ہے۔

لہٰذا میرے، بھائیو! بہنو! بزرگو! اور ساتھیو یہ ظلم کی انتہا ہے اب وقت ہے باطل کے خلاف سینہ سپر ہونے کا ،حق کی آواز بلند کرنے کا ، جانوں کی پرواہ کئے بغیر سچائی کی جیت کیلئے سامنے آنا ہوگا، وگرنہ ایسے جانیں زندہ لاشوں کی مانند ہیں جو حق و باطل کی اِس جنگ میں راہ ِ فرار اختیار کریں ۔یہ وقت آواز اٹھانے کا ہے ، آواز کی لَے اونچی کرنا ہوگی ، اُن رہبروں سے جواب مانگنا ہوگا جو ہمارے تحفظات کے نام پر ہم سے ووٹ بٹورتے ہیں اور پھر ہمارے ہی خلاف سازشوں کا جل بچھاتے ہیں ۔میرے ہم وطنو!خواب غفلت سے جاگنے کا وقت آگیا ہے۔میرے بھائیو! برباد ہوجانے سے قبل بے باک ہو جائو!وقت کے جبر و استبداد کے خلاف حق و صداقت کا پرچم اٹھائو۔ اپنے پیام سے لوگوں کے دلوں میں عزم و ولولہ پیداکرو۔یہ وقت صرف احتجاج کا نہیں بلکہ زبردست چیلنج کا ہے جس کا ڈٹ کا مقابلہ کرنا اشد ضروری ہے۔

مبین فاروقی کے لائیو پیغام سے یہ صاف طور سے عیا ں ہو رہا ہے کہ سیاستداں ہے جو سارے فتنہ و فساد کی جڑ ہیں ۔ ماب لنچنگ، ظلم و جبر اورمخصوص نظریئے کی تکمیل سب سیاستدانوں کی کارستانیاں ہیں ۔ سیاست دان یہ ہر گز نہیں چاہتے کہ اِ س ملک کے لوگوں ایک قوم بن کر جئیں ۔ اقتدار کی ہوس نے سیاست دانوں کو پاگل پن کی اِس کگار پر پہنچایا ہے کہ اب ’’ایک ملک ،ایک انتخاب‘‘ کی رٹ شروع ہو گئی ہے۔ تاکہ کوئی منہ نہ کھولے، ظلم کے خلاف جو مدہم مدہم اور دھیمی سی آوازیں بلند ہو رہیں وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاموش ہو جائیں ۔پھر ملک ایک طبقے کی جاگیر بن جائے گا۔اس لئے اٹھو!اور ملک کے نام نہاد رہبروں سے سوال کرو……

جمہور سے یوں دامن نہ چھڑا
اے رہبر ملک و قوم بتا
یہ کس کا لہو ہے کون مرا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close