کچھ اترپردیش الیکشن کے بارے میں

اترپردیش الیکشن کی آمد آمد ہے، چاروں  طرف تیاریاں  عروج پہ ہیں، زور توڑ اور سازشیں  بھی اپنا رنگ دکھا رہی ہیں، پارٹیاں  سانپوں  کی طرح اپنے بلوں  سے باہر آرہی ہیں، وعدوں  اور لبھاؤں  کی برسات ہورہی ہے، کوئی دلت مسلم کارڈ کھیل رہا ہے، کوئی ہندؤوں  کو اپنا رہا ہے، اور کوئی مذہب اور ذات پات کی سیاست سے اوپر اٹھ کر کام کرنے کی بات کر رہا ہے، موجودہ اترپردیش حکومت بھی اقلیتوں  کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے ان کو لیپ ٹاپ اور موبائل تقسیم کررہی ہے، غرضیکہ رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لئے جس کو جو طریقہ سمجھ میں  آرہا ہے، وہی وہ اپنا رہا ہے، اور اس کو وہ جمہوریت کا نام دے رہا ہے، حالانکہ حقیقت میں  یہ ان کے پیسے کی طاقت ہے جو ان کو رائے عامہ ہموار کرنے میں  مدد دے رہی ہے.

اس وقت اترپردیش میں  چھوٹی بڑی پارٹیوں  کو ملا کر تقریبا سینکڑوں  پارٹیاں  سرگرم عمل ہیں، جس میں  سے سب سے اہم تین چار پارٹیاں  ہیں، بقیہ پارٹیوں  کا وجود یا تو صرف کاغذ پر ہے، یا وہ صرف ووٹ کاٹنے اور اپنے بلیک منی کو وائٹ میں  تبدیل کرنے کے لئے عروج میں  آئی ہیں .

اترپردیش میں  سب سے اہم پارٹیاں  چار ہی ہیں . سپا، بسپا، کانگریس اور بی.جے.پی.

بی.جے.پی تو کھلم کھلا ہندؤوں  کو ووٹ کو یکجٹ کرنے میں  لگی ہوئی ہے، اس کے لئے وہ جگہ جگہ کروڑوں  روپئے خرچ کرکے ریلی کرا رہی ہے، جب کہ کانگریس کے پاس کوئی خاص ویژن نہیں  ہے، اور نہ ہی اس کے پاس کوئی بہترین قیادت، لہذا اس وقت میدان میں  مسلمانوں  کے نقطہ نظر سے دو ہی پارٹیاں  ہیں، سپا اور بسپا، سپا اپنے گھریلو لڑائیوں  کی وجہ سے امید و بیم کی آگ میں  جھلس رہی ہے، باپ کوئی اور لسٹ نکالتا ہے، بیٹا کوئی اور لسٹ، اگر باپ بیٹے کی یہ لڑائی ڈرامے بازی نہیں  ہے تو ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں  کہ ملائم کو اپنی کرنی کی سزا مل رہی ہے، اس نے مسلمانوں  کے ساتھ ہمیشہ وشواس گھات کیا ہے، ہمدرد بن کے ہمیشہ درد ہی دیا ہے، اب وہی درد اس کو اس کا بیٹا دے رہا ہے، حالانکہ اس بار اکھلیش نے بھی مسلمانوں  کافی درد دئیے ہیں، جس کو کہیں  نہ کہیں  ہمارے مسلمان بھائی بھول چکے ہیں، اور بھولنے کی وجہ شاید اکھلیش کے ترقیاتی کام ہیں، اس میں  کوئی شک نہیں  اس نے کچھ ترقیاتی کام کئے ہیں، مگر اس میں  بھی کوئی شک نہیں  کہ ان ترقیاتی کاموں  کی بنیاد مسلمانوں  کی لاشوں  پہ رکھی گئی ہے.

جتنا بڑا مسلمانوں  کے لئے گجرات کا درد ہے، اس سے کہیں  بڑا مظفر نگر کا درد ہے، مگر مسلمانوں  نے اس سلسلے میں  ڈبل اسٹینڈرڈ اپنا لیا، ایک کے ذمہ دار کو پی.ایم بننے کے باوجود بھی معاف نہیں  کیا، جب کہ دوسرے کے ذمہ دار کے خلاف احتجاج تک نہیں  کیا، اس کے علاوہ اس کی حمایت میں  دن رات نعرے لگاتے ہیں .بہوجن سماج پارٹی کا بھی آپشن میرے نزدیک صحیح نہیں  ہے، یہی محترمہ ہیں  جو مسلمانوں  کو کٹرپنتھی کا لقب دے چکی ہیں، جب بھی اقتدار میں  آتی ہیں  صرف ہاتھی بنواتی ہیں، اور عوام کو بھوکے سونے پہ مجبور کرتیں  ہیں .

سپا اور بسپا دونوں  کی ایک تاریخ رہی ہے، ایک کے دور میں  ظلم و زیادتی عروج پہ ہوتی ہے، قانون کا ننگا ناچ ہوتا ہے، تو دوسرے کے دور میں  سیاست دانوں  کے منہ میں  سونے کا چمچ آجاتا ہے، اور کرپشن عروج پہ ہوتی ہے.

اس آنے والے الیکشن میں  مسلمانوں  کی پریشانیاں  عروج پہ ہیں، ان کو سمجھ ہی میں  نہیں  آرہا ہے کدھر جائیں، سپا کا دامن پکڑیں  یا بسپا سے لو لگائیں، کانگریس کو آزمائیں  یا خود کو قسمت کے فیصلے چھوڑ دیں، کہ جس کو جو سمجھ میں  آئے اسی کو چن لے.

مسلم قیادت بھی اس وقت فقدان کا شکار ہے، ہر کوئی اپنی اپنی ڈفلی بجا رہا ہے، ایک طرف پوروانچل کے علاقوں  میں  ڈاکٹر ایوب صاحب زور و شور سے تیاریاں  کرنے میں  لگے ہوئے ہیں، اور اس کے لئے انہوں  ایک دو چھوٹی چھوٹی پارٹیوں  سے اتحاد بھی کرلیا ہے، دوسری راشٹریہ علماء کونسل بھی اپنے پر کھولنے کی کوشش میں  لگی ہوئی ہے، حیدراباد کے ایم.پی اسد الدین اویسی کی آمد سے بھی سیاسی گلیاروں  میں  ہلچل ہے، قسم قسم کے قیاسات لگائے جارہے ہیں، مختلف اتحادوں  کی بات کی جارہی ہے، کبھی سپا اور کانگریس میں  اتحاد کا غلغلہ اٹھتا ہے، کبھی بسپا اور ایم.آئی.ایم میں، پر یہ صرف بے ہنگم آوازیں  ہی ہیں، جن کو ابھی تک صاف اور واضح طور پہ نہیں  سنا جا سکا ہے.

ایسے حالات میری رائے یہی ہے کہ مسلمانوں  کو اپنی قیادت مضبوط کرنی چاہیئے، کیونکہ دوسروں  کو آزماتے آزماتے بہت پیچھے جاچکے ہیں، اب بس بہت ہوچکا ہے، اب اپنی بھی ایک آواز ہونی چاہیئے، میں  اس بات کو مانتا ہوں  کہ ہندوستان جیسے ملک میں  مسلم سیاست کبھی کامیاب نہیں  ہوسکتی، مگر اس بات کو بھی مانتا ہوں  کہ جب دوسرے لوگ دلت مسلم یا یادو مسلم کا کارڈ کھیل سکتے ہیں  تو مسلمان کیوں  نہیں  مسلمان اور پچھڑی ذاتوں  اور سماج کے دیگر دبے کچلے لوگوں  کا کارڈ کھیل سکتے ہیں .

     مسلم سیاست کو مضبوط کرنے میں  سب سے اہم بات یہ ہے کہ جتنی چھوٹی چھوٹی مسلم پارٹیاں  ہیں،  ان کو آپس میں  انضام نہیں  تو اتحاد ضرور کرلینا چاہیئے، اور سب کو مل کے کسی ایک کو اپنا قائد اور رہنما چن لینا چاہیئے، اگر ان کے دلوں  میں  واقعی ملک اور قوم کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ ہے، تو ایک دوسرے پہ الزام تراشی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے بجائے ایک دوسرے سے قریب ہوکر مسلم فرنٹ بنانا ضروری ہے، ورنہ سارے مسلم ووٹ بکھر کے رہ جائیں  گے، اور بازی بی.جے.پی کے ہاتھوں  میں  چلی جائے گی.

اس کے علاوہ ایک اہم بات یہ ہے کہ جتنی مسلم تنظیمیں  ہیں، جیسے مسلم پرسنل لاء بورڈ، جمیعت علماء، جماعت اسلامی، جماعت اہلیحدیث، اور اس کے علاوہ دیگر ملی تنظیمیں، ان سب کو سر جوڑ کے بیٹھنا چاہیئے، اور کسی ایک قائد کے پرچم تلے آنے کا عندیہ دینا چاہیئے، اور پورے عزم اور حوصلہ کے ساتھ مسلم قیادت کو مضبوط کرنی چاہیئے.

اور میرے خیال سے اس وقت پورے مسلم قائدین میں  ایک ہی چہرہ نظر آتا ہے، جو حقیقت میں  تنظیمی صلاحیتوں  کا بھی مالک ہے، قانون کا ماہر عالم بھی ہے، ہر مسلم مسئلے پہ اظہار خیال بھی کرتا ہے، اور مسلمانوں  سے متعلق ہر بحث و مباحثے میں  شریک بھی ہوتا ہے، وہ کوئی اور نہیں  اسد الدین اویسی ہے، اگر اس کے نام پہ مسلم متحد ہوجائیں، تو بھلے ہی اس الیکشن میں  وہ حکومت میں  نہ آپائے، مگر دوسرے لوگوں  کو مسلمانوں  کو بطور ووٹ بینک استعمال کرنے کا خواب ضرور ٹوٹ سکتا ہے، سیاست کی تاریخ میں  بھونچال آ سکتا ہے، ہر کوئی مسلمانوں  کے خلاف فیصلہ لیتے وقت ضرور سوچے گا کہ اب مسلمان بھیڑ بکریوں  کی طرح نہیں  ہیں، اب وہ بھی ایک مضبوط متحدہ سیاسی قوت کی شکل میں  موجود ہیں، پھر آنے والے الیکشنوں  میں  کوئی بھی پارٹی ہوگی، اس کو جیتنے کے لئے اتحاد کرنا ضروری ہوگا، اس طرح مکمل طور پہ نہ سہی، مگر حکومت میں  شراکت دار تو ضرور بن جائیں  گے.

ابھی یہ حالت ہے کہ مسلمانوں  کے تقریبا 65 یا 66 مسلم ایم ایل اے موجود ہیں، مگر ان لوگوں  کا وجود عدم کے برابر ہے، یہ کسی بھی مسلم ایشو پہ بول نہیں  پاتے ہیں، اپنی ہی پارٹی سے اپنے قوم والوں  کے لئے حقوق نہیں  مانگ سکتے ہیں، مظفر نگر جل جاتا ہے، مگر یہ بے حسی کی چادر اوڑھے پارٹی واہ واہی میں  لگے رہتے ہیں، ان کو اتنی بھی توفیق نہیں  ملتی کہ یہ مذمت ہی کردیں، اخلاق قتل ہوجاتا ہے، تو یہ اس کے اہل خانہ کو حفاظت فراہم نہیں  کرپاتے، اور جب اخلاق کا قاتل مرجاتا ہے تو حکومت اکھلیش پورے ادب و احترام کے ترنگے میں  اس کو لپیٹ کر آخری رسومات ادا کرتی ہے، اور اس کے اہل خانہ کو پچیس لاکھ معاوضہ بھی دیتی ہے، مگر یہ ذرہ برابر بھی لب کشائی نہیں  کرپاتے، حکومت سے پرزور آواز میں  نہیں  کہہ پاتے "جب قاتل تھا تو پھر معاوضہ کیسا، اس کو ترنگا میں  لپیٹنا کیونکر”، ایسے لوگ جو اپنے حق کے لئے نہ لڑ پائیں، اپنی کمیونٹی کو حفاظت نہ فراہم کرپائے ان کے ہونے سے نہ ہونا بہتر ہے.

آزادی کے بعد سے آج تک ہم مسلم قیادت کے فقدان پہ نالاں  ہیں، مسلمانوں  کو سیکولرزم کا پاٹھ اتنا پڑھایا گیا کہ انہیں  مذہب اور ملک و ملت کے نام پہ سیاست کرنا جرم لگنے لگا، اور دوسرے لوگ سیکولرزم کی دہائی دیکر حکومتیں  بناتے رہے، اور سارے کام غیر سیکولر والے کرتے رہے، میں  1947 کے بعد سے لیکر اب تک کے واقعات اور حالات پہ غور کرتا ہوں، تو مجھے ایک ہی بات سمجھ میں  آتی ہے کہ سیکولرزم وہ گھنٹا ہے جسے ہر پارٹی اپنے اپنے مفاد کے لئے بجاتی ہے، اور اس کا استعمال صرف اور صرف مسلمانوں  کو احمق بنانے کے لئے کیا جاتا ہے، "ہمیں  ووٹ نہیں  دوگے تو سیکولرزم کو خطرہ لاحق ہوجائے گا، ملک ٹوٹ جائے گا، بی جے.پی آجائے گا” وغیرہ وغیرہ، جب اس قسم کے نعرے لگتے ہیں، مسلمان خوش ہوجاتے ہیں، ان کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ اگر ہم نے خود کی پارٹی کو مضبوط کیا تو واقعی سیکولرزم کا خطرہ لاحق ہوجائے گا، حالانکہ وہ اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں  کہ سیکولرزم کی دہائی دیتے دیتے ہر کاسٹ اور ہر مذہب کے ماننے والوں  نے اپنی اپنی الگ دوکان سجالی ہے، اپنا پولیٹیکل گراؤنڈ مضبوط کرلیا ہے اور مسلمان  صرف سیکولرزم کی ڈگڈگی بجاتے رہ گئے ہیں .

آج حالت یہ ہوگئی کہ کسی پارٹی میں  ساٹھ ستر ایم.ایل.اے، ایم.پی ہوتے ہیں، مگر کبھی بھی وہ اپنی پارٹی کے طے کردہ اصولوں  سے بغاوت نہیں  کرپاتے ہیں، چاہے مسلمانوں  کے ساتھ کچھ بھی نہ ہوجائے، اور اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ قیادت ان کی نہیں  ہوتی، تعداد سے کبھی کچھ نہیں  ہوتا ہمیشہ سرداری اور قیادت ہی اصل ہوتی ہے.

اسی وجہ سے میرا ماننا یہی ہے کہ دوسروں  پارٹیوں  کو بہت آزما لیا، اب ایک بار خود کو بھی آزما لیا جائے، دوسروں  کی قیادت مضبوط کرتے کرتے ہم خود کی قیادت کھو چکے ہیں، اب اسے پھر سے واپس لایا جائے، ویسے بھی اللہ کے رسول نے کہا تھا کہ اگر تم تین آدمی بھی ہو تو کسی ایک کو قائد منتخب کرلو، یہاں  تو کروڑوں  لوگ ہیں، پھر بھی کوئی قائد نہیں، یہ نہایت ہی افسوس اور محرومی کی بات ہے.

مسلم قیادت کو مضبوط کرنے کے سلسلے میں  ایک اہم بات یہ ہے کہ ہمیں  بالکل بھی نہیں  سوچنا چاہیئے کہ اگر اس الیکشن میں  ایم.آئی.ایم لڑتی ہے تو بی.جے.پی کے لئے راہیں  ہموار ہوجائیں  گی، ایسا سوچنا بالکل غلط ہے، بی.جے.پی کی راہیں  تو بہت پہلے ہموار ہوچکیں  ہیں، وہ پوری اکثریت کے ساتھ مرکزی حکومت کو اپنا بناچکی ہے، اب اس سے زیادہ اور کیا اس کے لئے راہیں  ہموار ہوں  گی، اس لئے اس وہم کو دل سے نکال کے اپنی قیادت کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کیجئے، یقین مانئے ہندوستانی سیاست میں  زلزلہ آجائے گا.



⋆ عزیر احمد

عزیر احمد
Student of Arabic language and litreture at Jawaharlal Nehru University, New Delhi.