سیاست

کیادفعہ 377 آر ایس ایس نے ختم کرائی ہے؟

حفیظ نعمانی

سابق چیف جسٹس دیپک مشرا صاحب سے پہلے بھی جو چیف جسٹس سبکدوش ہوئے ان کے بارے میں یاد نہیں کہ انہوں نے جاتے جاتے دو چار سنسنی خیز فیصلے کئے ہوں یا اپنے جانے کے بعد پیش آنے والے معاملات کی تاریخ مقرر کی ہو اور اُن کی بینچ بھی بنادی ہو؟ دیپک مشرا صاحب کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ ان کا جانے کو جی نہیں چاہتا تھا مگر مجبور تھے کہ مزید رہ بھی نہیں سکتے تھے۔ پھر بھی انہوں نے اجودھیا کی متنازعہ زمین کی ملکیت کے مقدمہ کی 29 اکتوبر تاریخ مقرر کردی اور اس کی سماعت کی بینچ بھی بنادی۔ یہ بات قانون کے ماہر ہی جانتے ہوں گے کہ موجودہ چیف جسٹس رنجن گوگوئی جی اس کے پابند ہوگئے یا وہ اپنے طور پر فیصلہ کریں گے۔

دیپک مشرا صاحب نے دفعہ 377 کو ختم کردیا اور جن لوگوں نے ہم جنسی کو جائز کرنے کا مطالبہ کر رکھا تھا ان کے مطالبہ کو مان لیا۔ ہم نے پہلے بھی عرض کیا تھا اور پھر عرض کررہے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد اتنی ہے جتنی بڑے ملکو ں کی کل آبادی کی ہوتی ہے اور جن کی شریعت میں اس کی سزا دفعہ 376 سے بھی زیادہ بھیانک ہے۔ آج دنیا میں آسمان سے نازل ہونے والی کتابوں میں صرف قرآن عظیم وہ واحد کتاب ہے جس میں ایک نقطہ کا فرق بھی نہیں ہوا ہے۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ (جو بات) کہ ہم نے ہی اسے نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے وہ کسی آسمانی کتاب کے لئے نہیں کہا گیا تھا۔ اور اس کی حفاظت کا اس سے زیادہ کیا انتظام ہوسکتا تھا کہ وہ نہ جانے ایسے کتنے سینوں میں بھی محفوظ ہے جہاں مروجہ علوم میں سے ایک علم بھی محفوظ نہیں ہے اور کروڑوں حافظ قرآن وہ ہیں جن کی زبان نہ عربی ہے اور نہ انہوں نے عربی پڑھی ہے۔ اس آسمانی کتاب میں 377 کو بدترین گناہ کہا گیا ہے اور اس کی عبرت ناک سزا کا تین بار سے زیادہ ذکر کیا ہے۔

ہندوستان کی آبادی میں مورتی پوجا کرنے والوں کی تعداد بھی کافی ہے۔ ان کے مذہب میں اس فعل کی کیا حیثیت ہے اس نے مسئلہ کو الجھا دیا ہے۔ آر ایس ایس کے کل ہند پرچارک ارون کمار نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم جنس پرستی جرم تو نہیں لیکن غیرفطری عمل ہے اور ہم اس کے فروغ کے حق میں بھی نہیں ہیں۔ آر ایس ایس کوئی مذہبی تنظیم نہیں ہے لیکن ملک پر اس وقت حکومت اس کی ہے اور وزیراعظم اور صوبوں کے وہ وزیراعلیٰ جہاں بی جے پی کی حکومت ہے وہ سب آر ایس ایس کے ماننے والے ہیں۔ اور تری پورہ بالا سندری دیوی مندر ٹرسٹ کے صدر پنڈت ستندر شرما نے کہا کہ یہ فیصلہ کسی بھی تہذیب کے لئے ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے ہم جنسی شادیوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہندو تہذیب میں ناقابل قبول ہے اور شاستروں کے بھی خلاف ہے۔

لیکن فکر کی بات یہ ہے کہ جیسے مسلمانوں کے ہر مسلک نے کھل کر مخالفت کی ہے ہندو سماج نے نہیں کی آر ایس ایس کا صاف صاف اسے جرم نہ ماننا یہ ثابت کرتا ہے کہ جیسے وزیراعظم آر ایس ایس کے پروردہ ہیں یا اٹل جی کہا کرتے تھے کہ میری آتما وہیں ہے دیپک مشرا بھی یہ ذہن وہیں سے لائے ہوں گے اور انہوں نے دفعہ 377 ختم کرنے میں جلد بازی اس لئے کی کہ انہیں یہ گمان ہوگا کہ ان کے بعد ہوسکتا ہے کہ کوئی ہمت نہ کرے۔ اب حکومت تو جب تک مودی جی یا آر ایس ایس کی ہے اسے کوئی چھیڑ نہیں سکتا اور یہ بات قانون کے ماہر بتائیں گے کہ پانچ رُکنی بینچ کے فیصلہ کے خلاف اگر کوئی ہمت کرے تو جسٹس گوگوئی صاحب کچھ کرسکتے ہیں یا نہیں؟ آر ایس ایس والے ہوں یا وہ دوسرے تعلیم یافتہ ہندو جو اسے جرم نہیں مانتے ان سے عرض کرنا ہے کہ انسان اور جانور میں صرف یہی فرق نہیں ہے کہ جانور بولتا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ جانور جسم کے کسی حصہ کو چھپانے کے قابل نہیں ہے اور انسان کمر کے نیچے اور گھٹنوں کے اوپر کے حصہ کو پردہ میں رکھتا ہے اور ہر عورت وہ کسی طبقہ کی ہو اپنے سینہ کو بھی جیسے بھی ہو چھپاکر رکھتی ہے۔ جو ہم جنسی کے بعد ممکن نہیں اور ان کی غیرفطری شادی کو کوئی مذہب قبول نہیں کرسکتا۔

یہ ایسا مسئلہ ہے جس کا تعلق مذہب اور دھرم سے ہے اور مسلمان اس میں اکیلا پڑگیا ہے۔ لیکن یہ اسلام کا اعجاز ہے کہ ایک گھاس کاٹنے والے مسلمان سے لے کر دینی مدرسوں میں حدیث پڑھانے والوں تک ہر کوئی اسے حرام کہے گا اور وہ بھی کہیں گے جو خود اس مرض میں مبتلا ہیں۔ اور یہ بات تو عام ہے کہ جسے یہ شوق یا مرض ہوجاتاہے اس کی خانگی زندگی برباد ہوجاتی ہے اور شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے لئے غیرہوجاتے ہیں۔

کئی برس سے ملک کی صورت حال ایسی ہوگئی تھی کہ مسلمانوں کو یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ ان کی آخری پناہ گاہ سپریم کورٹ ہے۔ ہم جنسی کا مقدمہ یا کسی بھی عورت کو کسی بھی مرد سے ملنے کی آزادی کا معاملہ حکومت اور مسلمانوں کا مسئلہ نہیں تھا لیکن یہ دونوں مسئلے ایسے ہیں کہ ان سے اسلام کے واضح احکامات پر زبردست چوٹ پڑی ہے اور ہم جیسے یا ہم سے بڑے مسلمانوں سے کہہ رہے ہیں کہ تم جس ملک میں رہو اس کے قانون کی پابندی کرو ان کی زبان سے کیسے نکلے گا کہ ملک کے قانون کی کھل کر مخالفت کرو اور اگر نہیں کہیں گے تو حرام کو حلق سے کیسے اتاریں گے؟ اب یہ قانون کے مسلمان ماہروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جسٹس گوگوئی اور دوسرے ججوں کے سامنے مسئلہ رکھیں اور ان سے معلوم کریں کہ ہم قرآن کے اتنے واضح احکامات کے ہوتے ہوئے ملک کے قانون کی مخالفت کیسے نہ کریں اور اپنے ہندو دانشوروں اور مذہبی سنتوں سے کہیں کہ اتنی گندی حرکت کو صرف غیرفطری کہہ کر نہ ٹالیں اس لئے کہ ہم جنسی تو جانور بھی نہیں کرتے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close