سیاست

کیا اب ’ظلم‘ کے خلاف بولنا بھی ’جرم‘ ہے؟

نازش ہما قاسمی

نصیر الدین شاہ نے اپنی ایک  ویڈیو میں چند حقائق کو کیا بیان کردیا، ایسا لگتا ہے کہ کوئی طوفان برپا ہوگیا ہے؛ حالانکہ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو انہوں نے کوئی ایسی بات نہیں کہی ہے جس سے دیش کی یا کسی مذہب یا پھر کسی طرح بھی کسی کی کوئی تذلیل ظاہر ہورہی ہو۔ انہوں نے بلند شہر میں ہوئے پولس افسر کی موت اور واقعے کے پس منظر کی جانب اشارہ کیا ہے، اور آگے چل کر انہوں نے اپنی اولاد کے تئیں خوف اور فکر کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔

ظاہر سی بات ہے ہر شہری کو اپنی بات رکھنے کا قانون کے دائرہ میں مکمل اختیار حاصل ہے۔ یہ اختیار شاہ صاحب کو بھی حاصل ہے اور انہوں نے اپنے اسی اختیار اور حق کا استعمال کیا ہے، لیکن نہ معلوم کیوں کچھ لوگوں کو ان کی یہ بات اس قدر ناگوار گزری کہ انہیں غدار تک قرار دے دیا۔  نصیر الدین شاہ کی حیثیت ایک فلمی اسٹار کی ہے، لیکن سیاست یا مذہبی معاملات میں اب تک تو انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہے، پھر بھی بی جے پی کے ایک اہم ممبر جن پر خود کئی اقسام کے کیس درج ہیں، نے اس مسئلہ کو سیدھا سیاست سے جوڑ دیا، اور ان کے اس بیان کو 2019 کے الیکشن کے تناظر میں دیکھا جانے لگا۔ یہ کوئی پہلا معاملہ نہیں ہے؛ بلکہ اس سے قبل عامر خان اور دیگر کئی افراد کے خلاف احتجاج کیا گیا ہے۔

کیا ان حضرات کا قصور صرف یہ ہے کہ انہوں نے ملک کے شہری ہونے کی حیثیت سے اپنے دل کی بات زبان سے ادا کردی تھی۔ کیا اب اس ملک میں بولنے کے لیے اور وہ بھی سچ بولنے کے لیے یا پھر سوال کرنے کے لیے بھی کسی کی اجازت درکار ہے، یا پھر کسی دوسرے کو سوال کرنے یا اپنی بات رکھنے کا حق نہیں ہے۔ سرعام ایک بچی کو زندہ جلانے کی کوشش کی جاتی ہے؛ لیکن اس کے بچاؤ کے لیے کوئی باہر نکل کر نہیں آتا اور اس کے ساتھ انصاف کے لیے کوئی بات نہیں کرتا ہے۔ ایک 80 سالہ بوڑھے شخص کو زندہ جلا دیا جاتا ہے، لیکن اس پر کسی کی آواز نہیں نکلتی ہے، چہار سو مکمل خاموشی چھائی رہتی ہے، ایک معصوم بچی کی عصمت دری کے کیس میں جب مجرموں کو گرفتار کیا جاتا ہے تو ان مجرموں کی حمایت میں جلوس نکالے جاتے ہیں۔ قتل کے سزا یافتہ مجرموں کو ہار پہنایا جاتا ہے، تو یہ سب کچھ ٹھیک ہے، کیا یہی قانون ہے، کیا ہمارے ملک کا قانون ان باتوں کی اجازت دیتا ہے؟

یہ سب کچھ اس ملک میں ہورہا ہے جہاں نصیر الدین شاہ اور ان جیسے دیگر افراد کو لب کشائی پر بھی غدار قرار دے دیا جاتا ہے۔ اسی بات کو تو نصیر صاحب نے بیان کیا ہے، انہوں نے یہی تو کہا ہے کہ نفرت کا یہ جن اس قدر بے قابو ہوگیا ہے کہ اسے اب بند کرنا مشکل ہوگیا ہے، اور یقینا اس قدر مشکل ہوگیا ہے کہ اجمیر میلہ کا افتتاح موصوف کے ہاتھوں ہونا تھا، موصوف کا صدارتی خطاب بھی تھا اور ان کی اپنی کتاب کا اجرا بھی ہونا تھا، لیکن اس قدر عدم رواداری اور نفرت کا ثبوت پیش کیا گیا، ان کے خلاف اس قدر نعرے لگائے گئے کہ مجبورا منتظمین کو شاہ صاحب سے معذرت کرنی پڑی۔ نفرت اس کا نام نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ عدم رواداری کی اس سے بہتر مثال اور کیا پیش کی جاسکتی ہے۔

نصیرالدین شاہ کے بیان کے بعد انہیں ٹرول کیے جانے کا سلسلہ ابھی تک رکا نہیں ہے مسلسل انہیں سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے ٹرول کیاجارہا ہے کل ہی انہوں نے ٹرول کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’مجھے اپنے بیان پر افسوس نہیں ہے، میں یہ بھی نہیں کہتا کہ مجھے مس کوٹ کیاگیا، میں ڈرا نہیں ہوں، لیکن غصے میں ہوں، پہلے ماب لنچنگ نہیں ہوتی تھی، آج کل یہ چیزیں عام ہورہی ہیں، میں اپنی تشویش کا اظہار کررہا ہوں، میں اپنے بچوں کے لیے پریشان ہوں‘‘۔ واقعی انہیں اپنے بیان پر افسوس کا اظہار کرنے کی ضرورت نہیں ہے جو چیز حق ہے اسے کہنا ضروری ہے؛ تاکہ دنیا کو بھی معلوم پڑ جائے کہ ملک عزیز میں فرقہ پرستوں کی چیرہ دستیاں کیا گل کھلارہی ہیں۔ انہیں ڈرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے شرپسند عناصر تو یہی چاہتے ہیں کہ ہم ڈرے سہمے رہیں، ہم اپنے اوپر ہورہے مظالم کے خلاف آواز بلند نہ کریں، انوپم کھیر کی طرح ہاں میں ہاں ملائیں۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ جب سے بی جے پی کی حکومت آئی ہے ماب لنچنگ شروع ہوئی ہے، جنونی بھیڑ کے ذریعے اقلیتوں کو مارے جانے کا سلسلہ شروع ہوا ہے جس میں اب تک معصوم لڑکے سے لے کر عمر دراز بوڑھوں تک اس کا شکار ہوئے ہیں، کیا اس سچ کو بیان کرنا گناہ ہے۔؟

اگر سونونگم یہ کہے کہ ’’بعض اوقات میں خواہش کرتا ہوں کہ میں پاکستان سے ہوتا تو مجھے بھی گانے کے لیے بھارت سے آفرز ملتیں‘‘ تو یہ غداری نہیں ہے اسے کوئی ۱۴؍ اگست کی ٹکٹ نہیں بھیجتا؛ تاکہ ایک غدار وطن کم ہو۔ ملک کے وزیر اعظم اگر کہیں کہ مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے تو انہیں سیکوریٹی مہیا کی جائے، بی جے پی کے فائر برانڈ ساکشی مہاراج اگر کہیں کہ مجھے خوف ہے تو  انہیں زیڈ پلس سیکوریٹی دی جائے؛ لیکن اگر یہی کوئی فلمی اسٹار جن کے نام سے صرف مسلمان ہونے کا اندازہ ہوجائے وہ کہے تو غدار وطن ہے۔ اس نے ملک میں رہتے ہوئے کیوں ظلم کے خلاف آواز اُٹھائی، یہی اس کی سب سے بڑی غلطی ہے۔

ملک کے وزیر اعظم کو اپنی  جان کا خطرہ تو ہوسکتا ہے؛ لیکن ظلم سہنے والی اقلیتوں کو ان کی جان ومال کا خطرہ نہیں ہونا چاہئے، اگر ہے بھی تو آواز نہیں اُٹھا سکتے ۔ ظلم کے خلاف نہیں لکھ سکتے۔ اگر لکھے اور بولے تو دابھولکر، پنسارے، گوری لنکیش، روہت ویمولا کی فہرست طویل کردی جائے گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close