سیاست

کیا اللہ کریم نے دوسرا کرکرے پیدا کر دیا

حفیظ نعمانی

ممبئی میں اے ٹی ایس نے وہی کیا ہے جو اسی شہر میں اس سے پہلے ایک بہت نیک نام پولیس افسر ہیمنت کرکرے نے کیا تھا۔ اے ٹی ایس نے بھی مسٹر کرکرے کی طرح دایاں بایاں دیکھ کر گردن پر ہاتھ ڈالا ہے۔ اور ایک مشہور تنظیم سناتن سنستھا کے پھیلے ہوئے جال کے تار ملانے کی کوشش کی ہے۔ اس نے جتنا پکڑا ہے اور جن منصوبوں کو ناکام بنایا ہے اس پر اگر اے ٹی ایس بروقت ہاتھ نہ ڈال دیتی تو نہ جانے کہاں کہاں کیا کیا ہوگیا ہوتا؟ اور ان دھماکوں کے الزام میں نہ جانے کتنے مسلمان پہلے جہنم کے عذاب سے گذر چکے ہوتے اور اب جیل میں زخموں کے اوپر سے مکھیاں اُڑا رہے ہوتے۔

ہم ہر مسلمان سے درخواست کریں گے کہ عید کی نماز کے بعد اور قربانی سے پہلے یہ دعا ضرور کرے کہ اللہ کیرالہ کے پریشان حال انسانوں کی مصیبت ختم کردے اور ممبئی کی اے ٹی ایس کے سربراہ کی پوری طرح حفاظت فرمائے۔ ہمارے دل سے مسٹر کرکرے کے قتل کا صدمہ اب تک نہیں گیا ہے اور زیادہ تکلیف اس کی ہے کہ حکومت کانگریس کی تھی چدمبرم وزیر داخلہ تھے اور ایک مرکزی وزیر ممبئی کے رہنے والے عبدالرحمن انتولے بار بار کہہ رہے تھے کہ کرکرکے کی موت کی تحقیقات ہونا چاہئے اور اس وقت ہم خود دیکھ رہے تھے کہ چدمبرم نے سور جیسا منھ بناکر انتہائی بدتمیزی کے انداز میں کہاکہ صوبائی حکومت کی رپورٹ آچکی ہے وہ دہشت گردوں کی گولی سے مارے گئے۔

ہم پھر اپنی بات کو دہرا رہے ہیں کہ سرکاری رپورٹیں اگر قتل کا یا فساد کا معاملہ ہو تو اس بیٹ کے سپاہی کی تیار کی ہوئی یا اس سے بنوائی ہوئی رپورٹ پر منحصر ہوتی ہے۔ اور اگر سیلاب بارش یا سوکھے سے متعلق ہو تو اس علاقہ کے لیکھ پال کی رپورٹ حرفِ آخر ہوتی ہے۔ وزیر داخلہ چدمبرم نے اپنے محترم وزیر کی ہی نہیں مانی بلکہ ان اخباروں اور ان تنظیموں کی بھی نہیں مانی جن کی غیرجانبداری کی ہر طرف شہرت ہے۔

آزادی کے بعد کوئی ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ہے جس میں ہندو نوجوانوں کو کھلی چھوٹ نہ دی ہو اورنگ آباد میں دس برس پہلے جو ہوا وہ سب کو یاد ہوگا۔ کان پور میں ایک ہندو اور ایک سکھ نوجوان ایک کمرہ میں بم بنا رہے تھے کسی غلطی سے وہ پھٹ گیا دونوں کے ٹکڑے بکھر گئے۔ بعد میں پولیس نے تفتیش کی تو ہندو لڑکے کے گھر سے جو سامان برآمد ہوا اس کے بارے میں پولیس کا بیان تھا کہ اس سے پورا کان پور اُڑایا جاسکتا تھا۔ لیکن گھر والوں میں سے کسی کو یہ کہہ کر نہیں پکڑا گیا کہ انہیں نہیں معلوم تھا کہ ان ڈبوں میں کیا ہے؟ اسی کان پور میں ایک سرکاری اسپتال میں کام کرنے والے وارڈ بوائے کے گھر میں دھماکہ ہوا جس سے وہ کمرہ بکھر گیا اور برابر والے مکان کی چھت اُڑگئی۔ وارڈ بوائے ڈیوٹی پر تھا اس لئے اس کا کیا قصور؟ اور گھر پر اس کے بہنوئی دیوالی کے پٹاخے بنا رہے تھے وہ پھٹ گیا ہوگا۔

سناتن سنستھا کے جن ذمہ داروں کو گرفتار کیا گیا ہے وہ ہوں یا ہندو تنظیم کا کوئی بھی ذمہ دار ہو گرفتار کرنے والوں سے ان کا ایک رشتہ ہوتا ہے جس کا انجام دس برس کے بعد ہو یا بیس برس کے بعد وہی ہوتا ہے جو سادھوی پرگیہ ٹھاکر، کرنل پروہت وغیرہ کا اور بعد میں ان سب کا ہوا جنہوں نے سمجھوتہ ایکسپریس کی دو بوگیاں اُڑائیں مکہ مسجد حیدر آباد اور نہ جانے کہاں کہاں دھماکوں کا جرم قبول کیا عدالت میں بیان دیا اور آخر میں سب باعزت بری ہوگئے۔ یہ الگ بات ہے کہ جس قلم سے جج نے بری کیا اسی قلم سے اپنا استعفیٰ بھی لکھ کر اس قلم کو توڑ دیا۔

حکومت مرکزی ہو یا صوبائی دونوں نے کان بند کرکے آنکھوں پر پٹی باندھ لی ہے۔ یاد کیجئے کہ احمد آباد میں کتنے معصوم اور بھولے بھالے لڑکوں کو فرضی انکاؤنٹر کے نام پر مارا اور ایک ہی الزام کہ یہ نریندر مودی کو مارنے کے لئے آرہے تھے۔ جس دن سے عشرت اور اس کے تین ساتھی لڑکوں کے انکاؤنٹر کا پردہ فاش ہوا اور ڈی جی ونجارہ نام کا مودی جی کا پالتو اور اس کے ساتھی پکڑے گئے اور سہراب الدین کے فرضی انکاؤنٹر کے الزام میں ہوم منسٹر امت شاہ کو سی بی آئی نے جیل میں ڈالا اس دن کے بعد کوئی نریندر مودی کو مارنے نہیں آیا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ مارنے والے بزدل ہوگئے یا نریندر مودی خطرناک ہوگئے؟

ملک کے وزیر داخلہ اور دوسرے وزیروں سے یہ کہنا ضروری ہے کہ جب کوئی بڑا یا چھوٹا دھماکہ ہو تو آنکھ بند کرکے پولیس کے کہنے کے مطابق مسلمانوں کی گردن میں پھندہ ڈالنے کے بجائے تحقیق تو کرلیا کریں کہ کیا مسلمان اس قابل ہیں؟ انہیں کوئی فوجی تباہ کرنے والا سامان دے دے گا؟ کیا ان کے پاس ایسے مکان ہیں کہ پستول، رائفل اور دوسرے ہتھیار وہ بنا سکیں۔ اور کیا ان کی معاشی حالت ایسی ہے کہ وہ اتنا خطرناک کھیل کھیل سکتے ہیں؟ اب اگر یوم آزادی یا یوم جمہوریہ یا دیوالی میں کچھ ہوجائے تو کان اور آنکھوں سے دیکھ کر فیصلہ کیا جائے۔ اور آخر میں پھر اے ٹی ایس کا شکریہ ادا کریں گے کہ اس نے نہ جانے کتنے مسلمانوں کو بچا لیا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close