سیاست

کیا اڈوانی جی کو مودی جھوٹا کہنا چاہتے ہیں

حفیظ نعمانی

ہر چند کہ یہ افسوسناک بات ہے لیکن حقیقت ہے کہ ملک کے وزیراعظم کو جھوٹ بولنا اور ہر سطح کے لوگوں کا ان کو جھوٹا کہنا برا نہیں لگتا۔ لیکن یہ کوئی سیاست ہے یا مصلحت کہ وہ دوسروں کو ہر معاملہ میں جھوٹا کہتے ہیں۔ اب تک وہ جو کہتے رہے اور جس وجہ سے کہتے رہے یہ وہ جانیں لیکن مہاراشٹر کے شہر واردھا میں تو انہوں نے یہ کہہ کر غضب ڈھادیا کہ ہندو کبھی دہشت گرد نہیں ہوسکتا۔ اور یہ اس کے باوجود کہا ہے کہ وہ خود ہندو دہشت گردوں کی پرورش کرتے ہیں اور ان کو برا لگے تو ہمیں معاف کریں کہ 2002 ء میں جو کچھ گجرات میں ہوا وہ دہشت گردی نہیں تو کیا تھی؟

ایک فرض شناس افسر آنجہانی ہیمنت کرکرے نے جب مالے گائوں بم دھماکے کے اصل ملزموں کو ننگا کرکے حکومت کے سامنے کھڑا کردیا تو پہلا موقع تھا جب اڈوانی جی نے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ورنہ وہ مستقل ایک ہی بات کہتے تھے کہ ہر مسلمان دہشت گرد نہیں ہوتا لیکن ہر دہشت گرد مسلمان ہوتا ہے۔ ان کے سامنے جب ایک سادھوی ایک فوج کا کرنل اور ایک درجن دوسرے ہندوئوں کو دہشت گرد کرکرے نے ثابت کردیا تب اڈوانی جی نے تسلیم کرلیا کہ ہندو بھی دہشت گرد ہوتا ہے۔

آج نریندر مودی نے پھر کہا ہے کہ ہندو دہشت گرد نہیں ہوسکتا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف ہندو دہشت گرد ہوتا ہے لیکن اس کی دہشت گردی پر پردہ ڈالنے کیلئے ہندو پولیس ہندو سی آئی ڈی ہندو جج اور ہندو حکومت ہر وقت کمربستہ رہتی ہیں اس لئے وہ ہوتا ہے جو سمجھوتہ ایکسپریس مکہ مسجد درگاہ اجمیر کا جرم قبول کرنے والوں کو باعزت بری کرنے کیلئے ایک جج کی گردن پر چھری رکھ دی گئی اور اس نے موت کے ڈر سے ان سب کو باعزت بری تو کردیا مگر جس قلم سے یہ گناہ کیا تھا اسی قلم سے اپنا استعفیٰ لکھ کر ثابت کردیا کہ لعنت ہے ایسی نوکری پر جس میں ظالم کو بے گناہ ثابت کرنا پڑے۔

اس ملک میں مسلمان اگر دہشت گرد بننا بھی چاہے تو اس لئے نہیں بن سکتا کہ اس نے 1993 ء کا ممبئی میں مسلمانوں کا قتل عام دیکھا ہے اور جسٹس کرشنا کے بیان کے ذریعہ 900  مسلمانوں کے قاتلوں اور ہماری تحقیق کے مطابق دو ہزار سے زیادہ مسلمانوں کے قاتلوں میں سے ایک کو بھی سزا نہیں دی گئی اور جب جواب میں مسلمانوں نے دہشت گردی کرنے کی کوشش کی اور 260  ہندو مار دیئے تو مسلمانوں کو پھانسی بھی ہوئی عمر قید کی سزائیں بھی ہوئیں دس دس سال کی سزا بھی ہوئی اس لئے کہ ہندوئوں کی دہشت گردی کے جواب میں انہوں نے دہشت گردی کرنے کی کوشش کیوں کی۔ یہ زمانہ نرسمہارائو اور شردپوار کی حکومت کا تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں حکومت چونکہ ہندو کی ہوتی ہے اس لئے مسلمان کے ساتھ رویہ بی جے پی اور کانگریس کا یکساں ہوتا ہے۔

ملک کے مسلمانوں نے چوڑیاں نہیں پہنی ہیں اگر پولیس اور حکومت دونوں کو ایک آنکھ سے دیکھنے کا وعدہ کرے تو مسلمان بھی دہشت گردی کرکے دکھائے گا اور پھر ایسی دکھائے گا کہ ہندو دہشت گردی بھول جائے گا۔ وزیراعظم نے اگر کالا چشمہ پہن کر ایسی بات کہی ہوتی تو شاید وہ بھی اڈوانی جی کی طرح قبول کرلیتے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا لیکن انہوں نے راہل کی دشمنی میں آنکھوں پر پٹی باندھ لی ہے اور وہ صرف ملک کے ہندوئوں کو تقسیم کرنے پر تلے ہیں انہوں نے زعفرانی کپڑے پہن کر دہشت گردی کرنے والوں کو مذہب کا امن پسند پیروکار کہہ کر اپنی چھترچھایا میں لیا ہے۔ وہ صرف ایک بات کہنا چاہتے ہیں کہ دہشت گردی کرنے والے ہندو راہل کو ووٹ نہ دیں اور امیٹھی میں اسمرتی ایرانی جیت جائیں۔ ہمیں اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ امیٹھی میں کون جیتے اور کون ہارے لیکن ایک ہندوستانی کی حیثیت سے اس پر شرم آتی ہے کہ ہمارے ملک کا وزیراعظم اتنا بڑا جھوٹ بولے۔

وزیراعظم تو ہر ہندو کیلئے کہہ رہے ہیں اور یہ نہیں دیکھ رہے کہ اترپردیش کے وزیراعلیٰ اور نائب وزیراعلیٰ پر ہی نہیں ان کے گرو ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، ان کی وزیر اوما بھارتی وغیرہ پر جو مقدمے چل رہے ہیں کیا ان کا تعلق دہشت گردی سے نہیں ہے؟ ہم جانتے ہیں کہ 2014 ء میں امیٹھی میں انہوں نے اسمرتی ایرانی کو اپنی بہن کہہ کر ووٹ مانگے تھے وہ ہر حال میں راہل کو ہرانا چاہتے تھے اور اب بھی انہوں نے یہی کہا ہے کہ ہندو کو آتنک وادی کہنے والے کانگریسی اب ہندو ووٹوں والا حلقہ چھوڑکر کیرالہ جارہے ہیں جہاں کی تفصیل پہلے دن آچکی ہے کہ وہاں ہندو 49  فیصدی ہے مسلمان 28  فیصدی ہے اور عیسائی 22  فیصدی جبکہ کرالہ میں ہندو کمیونسٹ ہیں مسلمان مسلم لیگی ہیں اور عیسائی کانگریسی یعنی وہ صرف 22  فیصدی کے بل پر لڑنے گئے ہیں۔ اب وہ ہاریں یا جیتیں مسلمان کو اُترپردیش، بنگال اور کیرالہ میں اس سے کوئی مطلب نہیں لیکن مودی جی کا صرف اسمرتی کو جتانے کیلئے ہر ہندو کو پارسا اور ہر مسلمان کو دہشت گرد کہنا، اُن کی شخصیت اور منصب کے اعتبار سے بہت چھوٹی بات ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close