سیاست

کیا جسٹس کاٹجو ہندو نہیں ہیں؟

حفیظ نعمانی

کمبھ کے عظیم الشان میلہ کو بی جے پی لیڈر زیادہ سے زیادہ ووٹوں میں تبدیل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ وہیں یوپی حکومت کی کیبنٹ میٹنگ ہورہی ہے وہیں بابری مسجد جس زمین پر بنی تھی اس پر رام مندر بنانے کی آخری تاریخ بھی طے کی جارہی ہے۔ ملک کے اندر کے ماحول کو جیسا بنایا جارہا ہے وہ علی گڑھ میں ہندو مہاسبھا کے ان نیتائوں نے جو اسی رنگ کے کپڑے پہنتے ہیں جس رنگ کے یوپی کے وزیراعلیٰ پہنتے ہیں اور اسی ذہنیت کا مظاہرہ کیا کہ گاندھی جی کی تصویر پر تین گولیاں مارکر ناتھو رام گوڈسے بننے کا ڈرامہ کھیل لیا۔

جس ملک میں یہ کھیل تماشے اور جوکری ہورہی ہے اس کا حال یہ ہے کہ نیشنل سیمپل سروے کی رپورٹ کے مطابق بے روزگاری نے سارے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں اور 45  سال میں سب سے زیادہ بے روزگاری بتائی گئی ہے۔ دوسرے کیا کہتے ہیں وہ بھی سامنے ہے لیکن سپریم کورٹ کے سابق مشہور جج مارکنڈے کاٹجو نے لکھا ہے:

’’سنسکرت زبان میں والمیکی کی اصل رامائن میں رام بھگوان نہیں بلکہ ایک شہزادے ہیں جو بعد میں اجودھیا کے راجہ بنتے ہیں۔ دو ہزار سال بعد سولہویں (16)  ویں صدی میں تلسی داس کے رام چرت رامائن میں انہیں انسان سے خدا بنا دیا گیا چونکہ بیشتر افراد سنسکرت نہیں جانتے اس لئے وہ اس سچائی کو بھی نہیں جانتے کہ جب اصل رام صرف انسان ہیں تو ان کا مندر بنانے کیلئے اس قدر ہنگامہ کیوں؟ میری رائے میں مندر صرف بھگوان کیلئے بنائے جاتے ہیں۔‘‘

اور جسٹس کاٹجو نے ہی لکھا ہے کہ- یہ کہا جاتا ہے کہ رام کی پیدائش اسی خاص مقام پر ہوئی رام ایک دیومالائی شخصیت تھے تو یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ وہ ہزاروں سال پہلے اسی مقامِ خاص پر پیدا ہوئے؟

بات صرف اتنی ہے کہ بی جے پی کے سیاسی کھلاڑی زبان سے کہے بغیر ایک رام مندر اس جگہ بنانا چاہتے ہیں جہاں میرباقی نے بابری مسجد بنائی تھی۔ اور وہ عام ہندوئوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ مسلمان بادشاہ جب ہندوستان آئے تو انہوں نے مندروں کو توڑکر مسجدیں بنائیں۔ اور بابری مسجد پہلی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر حکومت کی کرسی کی طرف وہ جانا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد جب الیکشن آئے گا تو کوئی اور مسجد نشانہ ہوگی۔ یہ بات اونچی ذات والوں کی نئی نہیں ہے کہ وہ تعلیم عام کرنے کے اس لئے خلاف ہیں کہ اگر سب پڑھنا لکھنا جان جائیں گے تو وہ خود پڑھ لیں گے کہ مسلمان بادشاہوں نے ہندوستان کو ہی نہیں بنایا بلکہ مندروں کو گرایا نہیں بلکہ بڑے مندروں کو ہر طرح کی مدد دی وظیفے دیئے جائیدادیں دیں۔ اور ان کی حفاظت کی۔

آج پوری دنیا میں تعلیم پر زور دیا جاتا ہے ہندوستان جیسے غریب ملکوں کو اربوں روپئے تعلیم اور علاج کیلئے دیئے جارہے ہیں۔ اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ سرکاری اسکولوں میں بچوں کو کتابیں یونیفارم جوتے موزے سب دیئے جاتے ہیں بس تعلیم نہیں دی جاتی اور وہ اس لئے نہیں دی جاتی کہ اگر لڑکے لڑکیاں پڑھ لیں گے تو کون یقین کرے گا کہ لاکھوں برس پہلے جو پیدا ہوا وہ کس شہر کس بستی اور کس جگہ پیدا ہوا؟ آج پورا ملک چیخ رہا ہے کہ ہر اسکول میں درجہ پانچ تک پڑھائی ہوتی ہے دوپہر کو کھانا بھی ملتا ہے لیکن کسی اسکول میں دو سے زیادہ پڑھانے والے نہیں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک بلاک میں یا ایک محلہ میں ایک اسکول ہے اور تھوڑی دور کے بعد دوسرے اسکول ہیں تو ہر اسکول میں دو-دو ہیں۔ یہ نہیں کہ تین اسکولوں کو ایک بنا دیا جائے اور اسکول میں چھ ٹیچر ہوجائیں۔ یہ اس لئے نہیں کیا جائے گا کہ پھر بچے اور بچیاں پڑھنے لگیں گے جبکہ حکومت بس ایسی پڑھائی چاہتی ہے کہ آٹھویں کا بچہ تیسرے درجہ کی کتاب بھی نہ پڑھ سکے۔

وزیراعظم مودی جی کے بننے کے بعد تعلیم کی اور زیادہ بری گت بن رہی ہے سب سے پہلے انہوں نے وزیرتعلیم اسمرتی ایرانی کو بنایا جن کے بارے میں یہ بھی ثابت نہیں ہوسکا کہ وہ بی اے بھی ہیں یا نہیں۔ اس کے اوپر مضمون نہیں کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ اور ان کی پانچ سالہ حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ ملک کے سیکڑوں ڈگری کالجوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے جس میں جتنے پڑھانے والوں کی ضرورت ہے اتنے ہوں اور جو ہیں وہ سنا ہے کہ جو دس اور پندرہ برس سے پڑھا رہے ہیں وہ آج بھی عارضی ہیں مستقل نہیں کیا جاتا۔ اور نہ جانے کتنے ٹھیکہ پر پڑھا رہے ہیں۔ حکومت کا مقصد صرف یہ ہے کہ لڑکے پڑھ کر اتنے قابل نہ ہونے پائیں کہ اونچی ذات والوں سے حکومت چھین لیں۔

اور یہ اسی تعلیم کا نتیجہ ہے کہ اپنی پڑھنے لکھنے کی 75  سالہ عمر میں کسی اخبار میں کبھی کسی بھی حکومت میں ایسی خبر نہیں پڑھی کہ چار تعلیم یافتہ خوبصورت صحتمند نوجوان ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ یہ بتائو کہ کیا کریں؟ نوکری تلاش کرتے کرتے تھک گئے نہیں ملتی اور کھیتی ہم سے ہوگی نہیں ماں باپ نے وہ سب کیا جو ہم نے مانگا اب کس پر بوجھ بنیں۔ میں تو زندگی ختم کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں اور پھر چاروں نے یہی فیصلہ کیا اور ٹرین کے سامنے کود کر جان دے دی۔ اگر قارئین کرام نے کبھی ایسی خبر پڑھی ہو تو مجھے فون کردیں۔ یہ صرف اس لئے ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے صرف اپنے دماغ سے نوٹ بندی کا فیصلہ کیا اور ایک کروڑ دس لاکھ نوکریاں ختم ہوگئیں ہزاروں کارخانے بند ہوگئے پوری دنیا میں نمبر ایک اور نمبر دو دونوں طرح کا روپیہ چلتا ہے نوٹ بندی نے ایک ٹانگ توڑ دی تو ایک ٹانگ کا روپیہ رک کر کھڑا ہوگیا۔ یہ فیصلہ ان کے جس دماغ کا تھا وہ اسی دماغ کے ساتھ پھر حکومت کی لگام چاہتے ہیں اور ملک جاہلوں اور عقل کے اندھوں کی اکثریت کا ہے جو وزیراعظم کی اسکیموں کی وجہ سے بھوکے مررہے ہیں مگر جب ان سے کہا جائے گا کہ ہمارا مودی مسلمانوں کے بابر کو ہرانے اور مسجد کی جگہ رام مندر بنانے جارہا ہے تو عقل کی بات کون سمجھائے گا۔ اس وقت ملک میں جو کچھ ہورہا ہے وہ صرف حکومت بنانے کیلئے ہورہا ہے وہ سادھو سنتوں کی فوج ہو یا کمبھ کے نام پر اربوں روپئے کا خرچ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں
Close