سیاست

کیا جمہوریت صرف ایک نعرہ ہے؟

حفیظ نعمانی

عام طور پر تو یہی ہوتا ہے کہ شاہراہ سے پتلی سڑک اور پھر گلی میں داخل ہوتے ہیں لیکن اس کے برعکس بھی ہوتا ہے۔ بقل نواب اتنی چھوٹی شخصیت ہیں کہ مضمون کی ابتدا کے لئے وہ پتلی گلی سے زیادہ نہیں ہیں۔ یہ پڑھ کر ان کی تقدیر پہ رونا آیا کہ نماز بخشوانے بی جے پی میں گئے تھے روزے گلے پڑگئے۔ یہ معمولی بات نہیں ہے کہ 6  کروڑ 94  لاکھ کی ریکوری کا نوٹس انہیں ملا ہے اور یہ حکمراں پارٹی میں قدم رکھنے کے بعد ہی ملا ہے۔ بقل نواب جب ملائم حکومت کے جوتے اٹھائے اٹھائے پھر رہے تھے اس وقت بھی جیامئو کی زمین کا فریب کھل چکا تھا۔ بقل نواب کو شاید معلوم نہیں ہے کہ بی جے پی میں سودے امت شاہ کرتے ہیں اور ایم ایل اے کی قیمت ایک کروڑ ہے۔ اس وقت انہیں  ایم ایل سی کی ضرورت ہے وہ بقل نواب نے پوری کردی ورنہ دوسرا ایم ایل سی اگر 100  کروڑ میں بھی ملتا تو خرید لیا جاتا۔ لیکن بقل نواب یہ نہیں جانتے کہ امت شاہ منھ مانگے داموں میں خریدتے تو ہیں پھر کام نکلنے کے بعد اس کا کیا حشر کرتے ہیں ؟

اگر انہیں عقل ہوتی تو دیکھ لیتے کہ جس ڈاکٹر ایوب اور ان کی پیس پارٹی کے لئے اردو کے سب سے زیادہ چھپنے والے اور پورے صوبہ میں پڑھے جانے والے انقلاب کا پہلا صفحہ دو مہینے تک صرف ڈاکٹر ایوب اور پیس پارٹی کے اشتہار کے لئے وقف رہا اور آخری ہفتہ میں اس میں اردو صحافت کے بہت مشہور اور محترم سمجھے جانے والے عزیز برنی بھی ان کی حمایت میں اپنے فوٹو کے ساتھ نظر آئے اور انہوں نے ہی انہیں قائد اعظم بنایا جو منصب مسٹر جناح کے بعد سے خالی پڑا تھا۔

اور وہ میں میں میں اور میری پارٹی میری پارٹی میری پارٹی میں ایسے ڈوبے کہ بھول گئے کہ وہ ڈاکٹر ہیں اور سرجن ہیں قوم کے لیڈر ہیں نہ قائد۔ آخرکار الیکشن ختم ہوگیا امت شاہ نے دیکھا کہ کروڑوں روپئے پانی میں گئے اور کسی بھی سیٹ پر ان کے نمائندہ کو ووٹ دینا تو کیا گھاس بھی نہیں ڈالی یعنی وہ سیاست کا کوڑا ہیں اس لئے لونڈیا بازی کے الزام میں جیل میں ہیں ڈاکٹر ایوب کے پیچھے یہ مقدمہ بھوت کی طرح لگا ہوا تھا۔ اس سے بچنے کا طریقہ انہوں نے بھی اپنی بے وقوفی اور سیاسی دنیا سے ناواقفیت کی بناء پر ہی سمجھا تھا کہ جس کی سرکار ہو اس کے ہاتھ میں غلامی دے دو اور انہوں نے امت شاہ سے سودا کرلیا ڈاکٹر ایوب نے 2012 ء میں سنجیدگی سے الیکشن لڑا تھا وہ وزیر اعلیٰ خود بن رہے تھے ایک ٹھاکر کو وزیر داخلہ بنایا تھا ہندو مسلم مشترک حلقوں کے ٹکٹ ہندو اُمیدواروں کے ہاتھ فروخت کئے تھے کہ میں مسلمان ووٹ دے رہا ہوں یہ بعد کی بات ہے کہ وہ صرف خود جیتے اور تین دوسرے ساتھ، جو اپنے بل پر جیت کر آئے اور جب ملائم سنگھ کی حکومت بن گئی تو ڈاکٹر ایوب کو تینوں چھوڑکر بھاگ گئے لڑکی کا یہ قصہ اس وقت سے ان کا پیچھا کررہا ہے ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اس سے نہ میری دوستی تھی اور نہ دشمنی اور تحقیقات کی رپورٹ کہتی ہے کہ اس لڑکی نے تین سو کے قریب ڈاکٹر ایوب کو فون کئے اور 100  سے زیادہ ڈاکٹر نے اس مرنے والی لڑکی کو کئے۔

اب عدالت بتائے گی کہ جھوٹا کون ہے؟ بقل نواب بے وقوف تھے کہ چربی سے بھرے ہوئے مینڈھے کی طرح قدموں میں جاگرے۔ وہ اگر عقلمند ہوتے تو اپنے خلاف اٹھنے والے ہر ہتھیار کی دھار پہلے کند کراتے پھر استعفیٰ دیتے۔ وہ تو یہ سمجھے کہ ادھر میں نے جے شری رام کا نعرہ لگایا فوراً حکم ہوجائے گا کہ سب مقدمے واپس۔ انہیں یہ بھی سمجھنا چاہئے تھا کہ تاجپوشی میں 81  کروڑ روپئے خرچ ہوئے جو ایل ڈی اے نے کئے۔ اس میں کتنا خرچ ہوا اور کتنا کھایا گیا اور کس کس نے کھایا اس کی تحقیقات ہورہی ہے یا ہوگی جس وقت سے یہ خبر آئی ہے جمہوریت جسے لوک تنتر کہا جاتا ہے اس کی عمارت لرز رہی ہے۔ اور مزید یہ خبریں کہ وزیر اعلیٰ کو عدالت میں طلب کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ انہوں نے ایک سینا بنائی تھی جس کا کام ایک فرقہ کے لوگوں کو برباد کرنا تھا اور اس نے گورکھ پور اور متصل اضلاع میں فسادات کرائے۔ ان خبروں کے بعد لکھنؤ اور دہلی کو شرم سے پانی پانی ہوجانا چاہئے تھا۔ لیکن مودی جی نے جیسے اپنی اس تقریر کو بھلایا ہے جو پارلیمنٹ کی سیڑھی پر ماتھا ٹیکنے اور اسے طاقت کا مندر سمجھنے کے بعد سینٹرل ہال میں کی تھی اور کہا تھا کہ ایک سال میں ہر داغی ممبر جیل میں ہوگا اور ہر پاک صاف پارلیمنٹ میں ۔

انہوں نے اترپردیش کا وزیر اعلیٰ اسے بنایا ہے جس پر فساد اور مسلح سینا بنانے کے الزامات ہیں اور مقدمات زیرسماعت ہیں ۔ اور اب امت شاہ کو پارلیمنٹ کا ممبر بنا رہے ہیں جن پر فرضی انکاؤنٹر کی سازش کا الزام سی بی آئی نے عائد کردیا ہے اور وہ وزیر داخلہ ہوتے ہوئے جیل میں ایک لمبی مدت گذار کر ضمانت پر آئے ہیں ۔ ضمانت سپریم کورٹ نے دی تھی مگر اس شرط کے ساتھ کہ گجرات نہیں جائوگے۔ وہ دنیا کی سب سے بڑی اور حکمراں پارٹی کے صدر ہیں  اور اب راجیہ سبھا کی رونق بڑھانے آرہے ہیں ۔ جب مودی جی نے یہی فیصلہ کرلیا ہے کہ ہر بڑی کرسی پر داغی بٹھایا جائے اور نہ ہو تو ڈھونڈکر لایا جائے تو کوئی کیا کرسکتا ہے؟ اترپردیش میں سواتین سو ایم ایل اے ہیں لیکن وزیراعلیٰ ایم پی، نائب وزیر اعلیٰ ایم پی، دوسرا نائب وزیر اعلیٰ لکھنؤ کا میئر۔ وہ جو سوا تین سو اپنے دم پر جیت کر آئے ہیں ان بدنصیبوں میں نہ کوئی وزیر اعلیٰ بننے کے قابل ہے اور نہ نائب وزیر اعلیٰ۔ سب گنوار ہیں۔

بات صرف یہ ہے کہ ہندوستان ہو یا پاکستان نام ضرور جمہوریت کا ہے مگر بدترین ڈکٹیٹر شپ ہے۔ پنڈت نہرو نے ہندوستان کو جمہوری ملک بنایا تھا لیکن صرف اتنی سی بات پر کہ ان کی مرضی کے خلاف سی بی گپتا اترپردیش کانگریس کے صدر ہوگئے انہوں نے پھر صدر کے الیکشن کا نام ہی نہیں لیا۔ اور جب ان کی مرضی کے خلاف پرشوتم داس ٹنڈن صدر آل انڈیا کانگریس ہوگئے تو وہ بقول مولانا آزاد کانگریس کو ہی توڑ دینا چاہتے تھے۔ اس کے بعد اگر ہم کہیں کہ ہمارے ملک میں جمہوریت ہے تو اس کا مطلب اس کے علاوہ کیا ہے کہ ہم جو بھی کریں وہی جمہوریت ہے۔

پاکستان میں مسٹر جناح نے  دو سال کوشش کی کہ ملک جمہوری ہوجائے۔ لیکن جب الیکشن اسلامی حکومت اور پاکستان کے نام کے ساتھ لڑا جائے گا تو عوام کا جمہوریت سے کیا مطلب؟ دنیا نے دیکھ لیا کہ پاکستان کی جمہوریت کیا نکلی۔ آدھا زمانہ فوج نے حکومت کی لیاقت علی خاں کو گولی ماری گئی بھٹو کو پھانسی دی گئی ضیاء الحق کا ہوائی جہاز ہی اُڑا دیا بے نظیر کو بم سے اُڑا دیا۔ اس کے بھائیوں کو ختم کردیا۔ وہ نواز شریف جو ایک تاجر تھے وزیر اعظم بن گئے۔ پرویز مشرف نے ان کا حشر بھٹو جیسا کرنا چاہا شاہ سعودی عرب نے گود لے لیا اور 9 برس پالا جس مسلمان کو فرصت کے 9  سال ملیں اور وہ مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ میں رہے وہ پھر وزیر اعظم بننے کے بعد اتنا بے ایمان نکلے کہ اربوں روپئے کی کوٹھیاں انگلینڈ میں اپنے بیٹوں کے نام سے خریدے اور پناما اسکینڈل میں نام آنے کے بعد اس کا یہ حشر ہو جو میرے ایک دوست نے بتایا کہ وہ پاکستان گئے تھے آکر بتایا کہ جیسے 1947 ء سے پہلے مسلمان لڑکوں کی ٹولیاں یہ نعرہ لگاتی گھوماکرتی تھیں کہ پاکستان کے معنیٰ کیا؟ لاالہ الااللہ۔

ایسے ہی اب کراچی میں جگہ جگہ لڑکے نعرے لگاتے گھوم رہے تھے کہ ’’ماں شریف نہ باپ شریف؛ نواز شریف نواز شریف۔‘‘ آخرکار سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کی بنچ کو متفقہ فیسلہ دینا پڑا کہ استعفیٰ دو اب اسے جمہوریت کہئے یا فوج کا اور عوام کا ڈر کہ نواز شریف نے استعفیٰ دے دیا مگر ضد ہے کہ حکومت گھر میں رہے اور اسی کو آمریت کہتے ہیں ۔ کیا دونوں ملک آج بھی ایک ہی طرح سوچتے ہیں ؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close