سیاست

کیا سونیا اپنی اولاد کے کارنامے دیکھ رہی ہیں؟

حفیظ نعمانی

ہم نے اس کانگریس کو بھی دیکھا ہے جو آزادی سے پہلے تھی اور اسے بھی دیکھ رہے ہیں جو آزادی کے 71  سال کے بعد رہ گئی ہے۔ کانگریس کے سب سے بڑے مخالف وزیراعظم نریندر مودی جب جب مخالفت کے تیر چلاتے ہیں تو پارٹی سے زیادہ ان کا نشانہ نہرو گاندھی خاندان ہوتاہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک پارٹی کی کمان اس خاندان کے ہاتھ میں رہے گی اسے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اور یہ ہم بھی مانتے ہیں کہ 2014 ء میں جب پہلا کانگریس مکت بھارت کا نعرہ دیا گیا تو مرغی کی طرح اسے اپنے پروں میں اسی خاندان نے چھپا لیا تھا اور یہ اس کی قسمت تھی کہ نعرہ لگانے والے مودی ایک کے بعد ایک اپنی ہی غلطیوں کا شکار ہوکر کمزور ہوتے چلے گئے اور کانگریس بچ گئی۔

1957 ء کے الیکشن میں مچھلی شہر کے رہنے والے ایک کارکن آغا زیدی جو پنت جی اور سمپورنانند کی ناک کا بال تھے ایک حادثہ کا شکار ہوئے اور ان کے دو دانت ٹوٹ گئے انہوں نے پنت جی کو دکھاتے ہوئے کہا کہ پنڈت جی پارٹی کا کام کرتے کرتے دانت ٹوٹ گئے اب تو اسمبلی کا ٹکٹ دے دیجئے۔ پنت جی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ہاں ایسے تو جسے ٹکٹ لینا ہو وہ پتھر مارکر دو دانت توڑلے اور ٹکٹ لے جائے۔ جائو جائو جب سر کے آدھے بال سفید ہوجائیں تب سوچنا۔

آج اخبار کی ایک سرخی دیکھی جو کانگریس کی خبر تھی کہ پہلے آئو اور پہلے ٹکٹ پائو کو بنیاد بنارہی ہے کانگریس۔ اور یہ اس الیکشن کے ٹکٹ کے بارے میں ہے جس کے بارے میں ایک مہینہ پہلے چھپا تھا کہ مقبول پارٹی 20  کروڑ لے کر ٹکٹ دے رہی ہے۔ اور ایک امیدوار کے بارے میں ہمیں بھی معلوم ہوا تھا کہ انہوں نے کروڑوں روپئے کی ڈالی چڑھادی ہے اور جو درمیان میں ہیں انہوں نے یقین دلایا ہے کہ ٹکٹ مل جائے گا اور کروڑوں برباد کرنے کے بعد بھی ان کو نہیںملا۔ ایک طرف اسی طرح کی خبریں ہیں اور کانگریس کی طرف سے خبر آئی ہے کہ مراد آباد سے ایک نوجوان جذباتی شاعر عمران پرتاپ گڑھی کو اور متھرا سے ڈانسر سپنا چودھری کو اور کرکٹ کھلاڑی سنت کو کہیں سے ٹکٹ دے دیا گیا ہے۔ یہ اسی کانگریس کا اور لوک سبھا کا ٹکٹ ہے جس کانگریس کا اسمبلی کا ٹکٹ آدھے بال خدمت کرتے کرتے سفید ہونے کے بعد ملتا تھا۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ پرینکا اور راہل تو کیا ان کی والدہ سونیا گاندھی بلکہ اور بھی بزرگوں میں شاید ہی دو چار ایسے ہوں جنہوں نے دیکھا ہو کہ وہ کانگریس کیا تھی جسے نہرو خاندان نے اپنا خون پلایا تھا؟

ہم نے لکھا تھا کہ راہل گاندھی الیکشن لڑانا نہیں جانتے اور یہ بھی کہا تھا کہ ہم اس کھیل کے ماہر ہیں۔ 1977 ء میں ہم نے سنبھل کا کانگریس کا ٹکٹ بدلوایا تھا اس وقت محسنہ قدوائی کانگریس کی صدر تھیں ہمارا سارا خاندان بضد تھا کہ ٹکٹ تبدیل کرائو محسنہ جی نے اس شرط پر بدلا کہ ہم خود الیکشن کی نگرانی کریں گے۔ اس سال سب کو ہارنا ہی تھا لیکن سنبھل میں بہت کم ووٹوں سے ہارے۔ ہم نے شام کو سب کو جمع کیا اور 20  معزز آدمیوں سے کہا کہ کل دوپہر میں آجائیں اور جلوس بناکر بازار میں گئے اور ہر دوکاندار کا شکریہ ادا کیا کہ آپ نے تو ووٹ دیا مگر قسمت نے ہرا دیا 25  آدمیوں کے جلوس نے آدھا بازار بھی پار نہیں کیا تھا کہ سارے شہر میں دھوم مچ گئی ہر دوکاندار نے کہا کہ جو ہوا وہ ہوگیا اگلا ووٹ آپ کا ہے۔ اور 1980 ء کا الیکشن آیا تو بغیر مانگے ووٹ ملا اور جیت گئے۔ راہل گاندھی امیٹھی سے اس وقت بھی جیتے تھے جب مودی کی آندھی چل رہی تھی۔ اور سب ان کے ساتھ تھے ان کا فرض تھا کہ وہ ہر مہینہ امیٹھی جاتے۔ ان کے بجائے جو اسمرتی ایرانی ہاری تھیں وہ وزیر بھی تھیں مگر آئے دن امیٹھی میں بیٹھی رہتی تھیں اور یہ اس کا نتیجہ ہے کہ اب راہل کیرالہ سے بھی الیکشن لڑنے جارہے ہیں یعنی انہوں نے ہار مان لی اور امیٹھی ایرانی کو دے دی۔

ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ راہل گاندھی نے یہ سمجھ لیا ہے کہ بی جے پی کے بجائے علاقائی پارٹیوں سے مقابلہ کیا جائے اور ممتا بنرجی کے مقابلہ پر انہوں نے جاکر مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ کردیا ہے انہیں اندازہ نہیں ہے کہ ملک کے مسلمانوں کی اکثریت ممتا بنرجی کے ساتھ ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ ممتا نے ثابت کیا ہے کہ وہ اور لالو یادو صرف مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔ کانگریس پہلے بھی اپنی ضرورت کے لئے تھی اور اب بھی صرف ووٹوں کے لئے ہے۔ سلمان خورشید، غلام نبی آزاد اور ان جیسے مسلمان انہیں مبارک ہوں ہم اور ہمارے جیسے مسلمان پورے ملک میں ڈھول بجا بجاکر کہیں گے کہ اب اگر اترپردیش، بنگال اور ان صوبوں میں جہاں کانگریس کی حکومت ہے بی جے پی قابل ذکر سیٹیں جیت کر آئی تو وہ صرف کانگریس کی مہربانی ہوگی جو اس حال میں الیکشن لڑرہی ہے کہ لوک سبھا میں اس کی نمائندگی سیاسی سنجیدہ اور پرانے کانگریسیوں کے بجائے گلے باز ٹھمکے لگانے والیاں اور چھکے مارنے والے کریں گے اور یہ وہ کانگریس ہوگی جسے راہل اور پرینکا بنا رہے ہیں۔

یہ بات کسے یاد نہیں ہوگی کہ سونیا گاندھی نے کتنی بار حزب مخالف کو اپنے گھر بلایا اور ہر مرتبہ سب آئے جن میں ممتا ضرور ہوتی تھیں۔ اب جبکہ الیکشن کا زور شباب پر ہے اور سونیا گاندھی کے لخت جگر پورے حزب مخالف کی جڑیں کاٹ رہے ہیں تو محترمہ پردے میں بیٹھی ہیں۔ اور کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ راہل دو پارٹی نظام کیلئے بی جے پی کے مخالفوں کو ختم کرنے کیلئے مودی کی مدد کررہے ہیں تاکہ 2024 ء میں صرف کانگریس اور بی جے پی کے درمیان مقابلہ ہو اور علاقائی پارٹیاں صرف اسمبلی اور بلدیاتی اداروں تک محدود ہوجائیں۔

ہم اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ آج بھی اس کے بارے میں صحیح یا غلط کا فیصلہ کردیں لیکن یہ ضرور کہیں گے کہ اس مقصد کے لئے اس وقت اٹھایا ہوا یہ قدم قوم سے غداری ہے۔ مودی کے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی اور دوسرے غلط فیصلوں کے جواب میں جب پورا ملک مودی مکت بھارت کے موڈ میں آیا تو ہر جگہ کانگریس آگے آگے تھی اور مرتی ہوئی کانگریس میں عوام نے جو جان ڈالی وہ اس وجہ سے کہ ہم سب ایک ہیں اور اب کمر مضبوط ہونے کے بعد جو عوام کے ساتھ اور مسلمانوں کے ساتھ غداری کی جارہی ہے اور یہ اترپردیش کے متحد محاذ کے مسلم اُمیدواروں کے مقابلہ پر مسلمان اتارے جارہے ہیں اس کا انجام یہ بھی ہوسکتا ہے کہ 2024 ء میں 2014 ء سے بھی کم سیٹیں آئیں مسلمان کی بددعا لگی تو مانگنے سے موت بھی ملنا مشکل ہوجائے گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close