سیاست

کیا ’طلاق ثلاثہ‘ ہی ملک کا اہم ترین مسئلہ ہے؟

رشید انصاری

        نئی پارلیمان کا اجلاس شروع ہوتے ہی مودی حکومت نے پارلیمان میں ’طلاق ثلاثہ ‘ کا بل اس طرح پیش کیا جیسے یہ ملک کا اہم ترین مسئلہ ہے؟ اس کے ساتھ ہی میڈیا کا وہ حصہ جو مودی کے اثر سے قدر آزاد ہے وہ ملک میں مختلف علاقوں میں پانی کی شدید کمی اور ہار میں کسی وبائی بخار سے سینکڑوں بچوں کی ہلاکت کی خبر یں بھی آتی رہیں لیکن حکومت کے لئے انسان کی بنیادی ضرورت پانی کی کمی کوئی اہمیت نہیں رکھتی ہے اور نہ ہی کسی علاقے یا شہر میں کسی مخصوص بیماری سے بچوں کی اموات جبکہ ان اموات کا سبب علاقوں میں ہسپتالوں کی نہ صرف کمی بلکہ لاپرواہی بتائی جاتی ہے۔ دوسری طرف حکومت کی میڈیا کو ممتابنرجی کے خلاف جھوٹے سچے پروپیگنڈہ کا مشن بھی دے رکھا ہے۔ نئی حکومت کی یہ بے حسی قابل مذمت ہے لیکن اقتدار کے نشہ میں چور مودی حکومت کو کسی اعتراض یا کسی تنقید کی پرواہ کب ہے۔ اتفاق سے اس سے قبل یو پی کے کیا آر ایس ایس کے پسندیدہ وزیر اعلیٰ ادتیاناتھ ہیں اور بہار کے نتیش کمار بھی این ڈی اے حکومت کے لاڈلے وزیر اعلیٰ ہیں۔ جب مرکزی حکومت نے گورکھپور میں مرنے والے سینکڑوں بچوں کی پرواہ نہیں کی تو اب بہار میں مرنے والے سینکڑوں بچوں کی کیا پرواہ ہوسکتی ہے۔

        مودی حکومت نے مسلمان عورتوں کی بقول خود اس کے بھلائی اور اُن کو ظلم سے بچانے کے لئے پارلیمان میں طلاق ثلاثہ کا بل پیش کردیا۔ اِن سے سوال کیا جاسکتا ہے کہ کیا دیگر مذاہب کو ماننے والی عورتوں پر حکومت کی کسی توجہ کی ضرورت نہیں ہے؟ جبکہ سچ تو یہ ہے کہ طلاق ثلاثہ سے بدترغیر مسلم مردوں کا وہ ظلم ہے جس میں وہ اپنی بیویوں کو بے سہارا چھوڑ دیتے ہیں اور ان سے کوئی رابطہ نہیں رکھتے ہیں۔ یہ عورتیں کس طرح زندگی بسر کرتی ہیں اور اِن کے بچوں کی تعلیم کا کیا انتظام ہے؟ اِس کی فکر بھی تو مودی کو کرنی چاہئے۔ ہم ہی نہیں اور بھی لوگ احمد آباد میں مقیم ایک ایسی بدنصیب خاتون سے واقف ہیں جن کا شوہر اِن کو بے سہارا چھوڑ کر سیاست کی گلیاروں میں ترقی کی منزلیں طئے کرتا رہا ہے۔ پتہ نہیں احمد آباد کی اس مظلوم خاتون کا اس کے شوہر کو کبھی خیال بھی آتا ہے یا نہیں ؟ حال ہی میں کیرالا میں کسی مندر میں خواتین کے داخلے کے بارے میں سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ آیا ہے جس کے مطابق خواتین بھی اس مندر میں پوجا کیلئے جاسکتی ہیں لیکن شدت پسندوں نے سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ناکام بنادیا۔ کیا کیرالا کی اِن بے شمار عورتوں کا خیال کبھی مودی کو آیا؟ محض مردوں کے ظلم کی وجہ سے عدالت ِ عظمیٰ کے فیصلے کے باوجود مندر میں داخلے سے اب بھی محروم ہیں۔ اسی طرح ملک بھر میں خواتین خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتی ہوں کسی نہ کسی ظلم و زیادتی کا شکار ہیں کیا ان عورتوں کا حکومت پر کوئی حق نہیں ہے؟ کیا مودی کے لئے اِن عورتوں کا خیال کرکے اِن کو پہنچنے والی تکالیف کا انسداد کرنے کا کوئی خیال کبھی آیا؟ رہا مسئلہ طلاق ثلاثہ کا تو بظاہر مسلم خواتین پر ہونے والے ’من گھڑت اور مبالغہ آمیز مظالم‘ کے تدارک کا ہے۔ طلاق ثلاثہ کے پارلیمان میں اتنی جلدی پیش کئے جانے کی وجہ سے ہی یہ خیال پختہ ہوتا ہے کہ حکومت مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کا فیصلہ کرچکی ہے اور طلاق ثلاثہ کے بہانے وہ چور دروازے سے مسلم پرسنل لاء کو ختم کرنے پر دل ہی دل میں آمادہ بلکہ انتہائی پرعزم ہے۔

        یہاں ہم اپنے قارئین کو یاد دلادیں مسلم پرسنل لاء میں مداخلت ہی نہیں بلکہ اس کی منسوخی آر ایس ایس کے ایجنڈے میں شروع سے شامل ہے۔ اس لئے طلاق ثلاثہ بل کے بہانے مودی حکومت نے آر ایس ایس کے ایجنڈے پر عمل درآمد شروع کردیا ہے۔ مودی حکومت اور اِن کی حلیف جماعتوں کو خوب معلوم ہے کہ ملک بھر میں بلا لحاظ مذہب و علاقہ لاکھوں عورتیں مردوں کے مظالم کا شکار ہیں۔ اتنی ہی نوبہاتا لڑکیاں سسرال والوں کا جہیز کے لانے کے بہانے مطالبہ پورا کرنے پر زندہ جلادی جاتی ہے۔ اِن زندہ جلائی جانے والی عورتوں میں ہر مذہب، ہر ذات اور علاقے کی خواتین شامل ہیں۔

        حکومت کو اگر طلاق ثلاثہ کے بارے میں پارلیمان میں کوئی ایسا بل پیش کرنا ہی تھا جس پر کوئی اعتراض نہ کیا جاسکے اور جو مذہب اسلام کی شریعت کے دائرے میں ہو تو اس کا فرض تھا کہ وہ مسلمانوں کے مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے جید علماء سے اس بارے میں مشورہ کرتی، رائے لیتی مگر حکومت کا تو یہ حال ہے اس کے 302 ممبران  پارلیمان میں کوئی مسلمان پارلیمان نہیں ہے اور کابینہ میں جو مسلمان وزیر شامل ہیں وہ اپنے ہی مسلک کے حلقوں میں کسی احترام کا حامل نہیں ہے اور نہ ہی دین اسلام کے بارے میں اس کے علم اور معلومات کی کوئی حیثیت ہے مطلب یہ کہ حکومت یہ پالیسی اختیار کررہی ہے کہ جو حکومت مسلمانوں کے لئے طئے کردے اس پر کسی لحاظ کے بغیر عمل کیاجائے۔ حکومت کی یہ پالیسی نہ صرف ناپسندیدہ ہے بلکہ ایک طرح سے فاشزم سے میل کھاتی ہے۔پارلیمان میں جس طرح یہ بل پیش کیا گیا وہ از خود قابل اعتراض ہے  اور اس سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ پارلیمان کے نئے 27مسلم ارکان میں سے صرف اسد الدین اویسی نے یہ جرأت دکھائی کے وہ بل کی مخالفت پوری شدت اور قابلیت سے کریں۔ جس طرح دوسری جماعتوں کے ارکان معمولی باتوں پر پارلیمان کے ایوانوں میں ہنگامہ برپا کرتے ہیں تو ایک طرح سے اس مسلم دشمن بل کی پیشکشیں کے وقت مسلمان ارکان کی خاموشی اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ اِن میں سے بہت سارے اپنی پارٹی کے غلام ہیں اور وہ مسلم مفادات کی حفاظت کے لئے شائد ہی کچھ کرسکیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پہلے کی طرح اس بار بھی راجیہ سبھا میں اِس بل کو ناکام بنایا جائے تاکہ حکومت کے عزائم کو ابتداء ہی میں ناکام کیا جاسکے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close